29/03/2025
کن صورتوں میں عورت خلع لے سکتی ہے اور کن صورتوں میں عورت خلع نہیں لے سکتی؟
پاکستان میں عورت خلع کے ذریعے اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔ مسلم عائلی قوانین اور 1939 Dissolution of Muslim Marriage Act میں خلع کا حق دیا گیا ہے, شرط یے ہے کے عورت کے پاس خلع کے لیے جائز وجوہات ہوں.
خلع کے لئے جائز وجوہات
اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا ناممکن سمجھتی ہے، تو وہ درج ذیل وجوہات پر خلع لے سکتی ہے۔
1. شوہر کی گمشدگی – اگر شوہر ایک سال یا زیادہ عرصے سے لاپتہ ہو۔
2. نان و نفقہ کی فراہمی میں ناکامی – اگر شوہر ایک سال یا زیادہ عرصے تک بیوی کو نان و نفقہ نہ دے۔
3. شوہر کی نامردی– اگر شوہر نکاح کے وقت سے اب تک نامرد ثابت ہو اور اب بھی ایسا ہو۔
4. شوہر کی ذہنی بیماری یا لاعلاج مرض – اگر شوہر کو دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے ذہنی بیماری، کوڑھ، یا کوئی لاعلاج بیماری لاحق ہو۔
5. ظلم و زیادتی – اگر شوہر بیوی پر جسمانی یا ذہنی تشدد کرے، جیسے کہ:
- بار بار مار پیٹ کرنا
- بدکردار لوگوں سے تعلق رکھنا
- بیوی کو بے جا دباؤ میں رکھنا
- دوسری بیویوں کے ساتھ زبردستی رہنے پر مجبور کرنا
6. نابالغی میں شادی– اگر لڑکی کی شادی 16 سال کی عمر سے پہلے ہو جائے اور وہ 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے نکاح ختم کرنا چاہے۔
7. شوہر کا غیر اخلاقی کردار – اگر شوہر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔
8. میاں بیوی میں ناموافقت – اگر دونوں کے درمیان مزاج میں سخت اختلاف ہو اور ساتھ رہنا ممکن نہ ہو۔
9. عدالت کے نزدیک دیگر معقول وجوہات – اگر بیوی کوئی ایسی وجہ ثابت کر دے جو شریعت اور قانون میں تسلیم شدہ ہو۔
کب عورت خلع نہیں لے سکتی؟
اگر اس کے پاس کوئی معقول شرعی یا قانونی وجہ نہ ہو۔
اگر شوہر اور بیوی عدالت میں صلح کرنے پر راضی ہو جائیں۔
اگر بیوی کی طرف سے لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہو جائیں تو اس صورت میں عورت خلع نہیں لے سکتی
خلع اور طلاق میں فرق
خلع بیوی عدالت کے ذریعے حاصل کرتی ہے جبکہ طلاق شوہر خود دیتا ہے۔
خلع کے لیے عدالت جانا ضروری ہوتا ہے جبکہ طلاق کے لیے نہیں۔
خلع میں اکثر صورتوں میں بیوی کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے جبکہ طلاق میں نہیں۔
ابراہیم کھوسہ.