06/03/2026
سیاست چمکانے کے بجائے عوامی جوش و خروش کا احترام کریں!
آج اپر مکین میں اخروٹ کے پودوں کی تقسیم کے حوالے سے رحمت گل محسود (فوکل پرسن زبیر خان) کا بیان حقیقت سے نظریں چرانے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ناکام کوشش ہے۔
ہمارا موقف درج ذیل حقائق پر مبنی ہے:
عوام کا والہانہ جوش: شجر کاری مہم میں لوگوں کا کثیر تعداد میں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیرستان کی عوام ایم پی اے آصف خان محسود کے ترقیاتی ویژن پر اعتماد کرتی ہے۔ ہجوم کا ہونا بدنظمی نہیں بلکہ عوام کی پودوں اور علاقے کی ہریالی سے "محبت" کا اظہار ہے۔
تنقید برائے تنقید: جو لوگ آج "مس مینجمنٹ" کا راگ الاپ رہے ہیں، وہ دراصل اس تاریخی مہم کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں۔ 40 ہزار پودوں کی تقسیم کوئی معمولی کام نہیں، اگر یہ پودے عوام کے ہاتھوں میں گئے ہیں تو یہ کامیابی ہے، ناکامی نہیں۔
پودوں کی تعداد پر شک کرنا مضحکہ خیز: محکمہ زراعت کے ریکارڈ اور گراؤنڈ پر موجود ہزاروں افراد گواہ ہیں کہ پودے حقداروں تک پہنچے ہیں۔ شک کرنے والے پہلے اپنے حلقے میں عوامی خدمت کی کوئی ایک مثال پیش کریں، پھر دوسروں پر انگلیاں اٹھائیں۔
منفی سیاست کا خاتمہ: رحمت گل صاحب کو چاہیے کہ وہ فوکل پرسن ہونے کے ناطے تعمیری کاموں میں حصہ لیں، نہ کہ ہر اچھے کام میں کیڑے نکال کر اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی کوشش کریں۔
آخری بات: وزیرستان کی مٹی بانجھ نہیں رہی، یہاں اب اخروٹ کے درخت بھی اگیں گے اور خدمت کی سیاست بھی چلے گی۔ تنقید کرنے والے کرتے رہیں، ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔✔️💪