19/06/2026
آزاد کشمیر بحران کا حل آئین کے آرٹیکل 257 میں موجود ہے۔
اصل بحران دھاندلی کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔
جب اعتماد ختم ہو جائے تو اعداد و شمار نہیں بلکہ کردار گواہی دیتے ہیں۔
فارم 47-45 کا بحران ریٹرننگ افسران کی وجہ سے ہے۔
آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم کا اصل مقصد مہاجرین کی 12 نشستوں کا ہے۔ اس کا درمیانی راستہ نکالے جانے کا طریقہ کالم میں موجود ہے۔
کالعدم تنظیم "پاکستان" کے لفظ کی بجائے "آزاد کشمیر" لکھوانا چاہتی ہے جو ناپسندیدہ فعل ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی پراسراریت کشمیر کے بارے میں نظر تب آئی جب انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ان کیمرہ ہال میں خطاب کرتے ہوئے جیو اکنامکس اور جیو پولیٹکس کی نئی تصویر پیش کرتے ہوئے نیا کشمیر فارمولا پیش کیا تھا۔ تفصیل کالم میں۔
جنرل باجوہ بھارت سے تجارت بحال کرنے کے لیے اس وقت کی حکومت پر ڈ ڈالتے رہے۔
رزاق داؤد نے بھارت سے تجارت کی بحالی کا اعلان کیا۔ بھارت نے اگست 2019 میں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا۔
کشمیر کے بارے میں جنرل باجوہ کی حکمت عملی پر کالم میں تفصیل درج ہے۔ اسی بنیاد پر عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔
پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی سفارتی سطح پر پذیرائی کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر میں ایک نیا داؤ کھیلا ہے۔ اس کا حل آزاد کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے کروانا ہوگا۔