National Democratic Foundation

National Democratic Foundation The first & only NGO licensed under Section 42 of Companies Ordinance, 1984 by SECP, Govt. of Pakistan; with the mission to enable mindsets for democracy.

National Democratic Foundation (NDF) is the first and only national NGO in its category licensed under section 42 of Companies Ordinance, 1984 by SECP Government of Pakistan, having the mandate to work dedicatedly on the growth and strengthening of democracy in Pakistan. It has flexibility that makes it possible to work in some of the most difficult circumstances, and to respond quickly when there is an opportunity for political change. NDF is dedicated to fostering the growth of a wide range of democratic institutions; including political parties, trade unions, free markets and business organizations, as well as the many elements of a vibrant civil society that ensure human rights, an independent media, and the rule of law. NDF is guided by the belief that freedom is a universal human aspiration that can be realized through the development of democratic institutions, procedures, and values. Democracy cannot be achieved through a single election and need not be based upon the model of Pakistan or any other particular country. Rather, it evolves according to the needs and traditions of diverse political cultures. By supporting this process, NDF helps strengthen the bond between indigenous democratic movements for the people of Pakistan — a bond based on a common commitment to the representative government and freedom as a way of life. From its beginning, NDF will remain steadfastly bipartisan. Created jointly by philanthropists and democrats, NDF operates with a high degree of transparency and accountability reflecting our founders’ belief that democracy promotion should be conducted openly. Democracy involves the right of the people to freely determine their own destiny. The exercise of this right requires a system that guarantees freedom of expression, belief and association, free and competitive elections, respect for the inalienable rights of individuals and minorities, free communications media, and the rule of law.

آزاد کشمیر بحران کا حل آئین کے آرٹیکل 257 میں موجود ہے۔اصل بحران دھاندلی کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔جب اعتماد خت...
19/06/2026

آزاد کشمیر بحران کا حل آئین کے آرٹیکل 257 میں موجود ہے۔

اصل بحران دھاندلی کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔

جب اعتماد ختم ہو جائے تو اعداد و شمار نہیں بلکہ کردار گواہی دیتے ہیں۔

فارم 47-45 کا بحران ریٹرننگ افسران کی وجہ سے ہے۔

آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم کا اصل مقصد مہاجرین کی 12 نشستوں کا ہے۔ اس کا درمیانی راستہ نکالے جانے کا طریقہ کالم میں موجود ہے۔
کالعدم تنظیم "پاکستان" کے لفظ کی بجائے "آزاد کشمیر" لکھوانا چاہتی ہے جو ناپسندیدہ فعل ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی پراسراریت کشمیر کے بارے میں نظر تب آئی جب انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ان کیمرہ ہال میں خطاب کرتے ہوئے جیو اکنامکس اور جیو پولیٹکس کی نئی تصویر پیش کرتے ہوئے نیا کشمیر فارمولا پیش کیا تھا۔ تفصیل کالم میں۔

جنرل باجوہ بھارت سے تجارت بحال کرنے کے لیے اس وقت کی حکومت پر ڈ ڈالتے رہے۔

رزاق داؤد نے بھارت سے تجارت کی بحالی کا اعلان کیا۔ بھارت نے اگست 2019 میں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا۔

کشمیر کے بارے میں جنرل باجوہ کی حکمت عملی پر کالم میں تفصیل درج ہے۔ اسی بنیاد پر عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔

پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی سفارتی سطح پر پذیرائی کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر میں ایک نیا داؤ کھیلا ہے۔ اس کا حل آزاد کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے کروانا ہوگا۔




















حاصل کلام یہ ہے کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات یہ ہیں کہ نیم صدارتی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ پوری ...
24/05/2026

حاصل کلام یہ ہے کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات یہ ہیں کہ نیم صدارتی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے ۔
پوری ریاست کو ایک مربوط قوم میں تبدیل کیا جائے گا صحت تعلیم اور آ بادی کو مشترکہ وفاقی و صوبائی مضامین قرار دینا ، قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی از سر نو تشکیل ، بلدیاتی نظام کو وفاق کے حوالے کر کے ایک مربوط بلدیاتی سسٹم نافذ کرنا ہے۔ اس 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کراچی اور گوادر کو وفاقی علاقے قرار دینا، آئین کے ارٹیکل 239 میں اہم ترین ترامیم کر کے نئے صوبے بنانے کے ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات وفاق کو دینا، وفاقی ائینی عدالت کو گورنرز گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار دینا، تمام صوبائی سول سروسز کو ضم کر کے متحدہ پاکستان سول سروس قائم کر کے 1973 کی انتظامی اصلاحات کو بروئے کار لانا، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نافذ کی تھی۔

اہم محکموں میں پرانے چہروں کے بیوروکریٹس کو ریٹائر کر کے مہر افسران کی خدمات حاصل کرنا ہے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 25 سال کرنا ہے۔

افواج پاکستان کا حلف نامہآئین کے آرٹیکل 244 کا آخری پیراگراف بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 18 آئینی ترمیم میں تبدیلی پاکستان میں...
22/05/2026

افواج پاکستان کا حلف نامہ

آئین کے آرٹیکل 244 کا آخری پیراگراف بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 18 آئینی ترمیم میں تبدیلی پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قائم آہنی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔

18ویں ترمیم کے حوالے سے بادالنظر میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ اس سے وفاق کے مالی اختیارات محروم ہوئے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے مشترکہ کا نون ساز فہرست کو ختم کیا،متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے۔

تعلیم، صحت، ثقافت، بلدیاتی نظام، معدنیات، قدرتی وسائل، انرجی اور واٹر پاور کے صوبائی اختیارات وفاق کو دوبارہ منتقل کئے جائیں۔

آج کا کالم 18ویں ترمیم اور 28ویں ترمیم کے بارے میں تکنیکی، آئینی، قانونی طور پر موازنہ پیش کرتا ہے۔ اس کا گہری نظر سے مطالعہ کریں۔

ووٹروں کی عمر کا تعین کا پس پردہ موازنہ بھی موجود ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 18 سال کا تعین کیا گیا تھا اس کا پس منظر کالم میں تفصیل سے درج ہے۔

28ویں ترمیم بمقابلہ 18ویں ترمیم
18ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قائم آئینی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ 18ویں ترمیم کو 1973ء کے آئین کے بعد صوبائی خودمختاری کی سب سے مضبوط آئینی ضمانت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس ترمیم کے ذریعے مرکز سے متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔اب اٹھائیسویں ترمیم میں اکثر اختیارات دوبارہ مرکز کو منتقل کرنے کی تیاریاں ہیں۔ 18ویں ترمیم کے حوالے سے بادی النظر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس سے وفاق کے مالی اختیارات محدود ہوئے‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے مشترکہ قانون ساز فہرست کو ختم کیا‘ متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے‘ مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط بنایا۔ تعلیم‘ صحت‘ ثقافت‘ بلدیاتی نظام‘ معدنیات اور مختلف انتظامی شعبوں پر صوبائی اختیار میں اضافہ کیا۔ قدرتی وسائل اور بجلی سے متعلق معاملات میں صوبوں کی شرکت کو زیادہ مؤثر بنایا۔ صدر کے اختیارات محدود کیے گئے اور پارلیمانی وفاقی نظام کو بحال کیا گیا۔ اس طرح یہ ایک بڑی غیرمرکزی آئینی اصلاح ثابت ہوئی۔
ممکنہ 28ویں ترمیم کے تحت مشترکہ قانون ساز فہرست کی بحالی زیرِ غور ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز بھی سامنے آ رہی ہے جس کے بعد وفاق چاروں صوبوں میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کر سکتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی 18ویں ترمیم کے بعد بنیادی اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے‘ اگر شعبۂ صحت دوبارہ وفاق کے پاس جاتا ہے تو اس شعبے کے سبھی امور مرکز کے زیرِ انتظام آ سکتے ہیں۔ اس صورت میں بجٹ سازی‘ منصوبہ بندی‘ ریگولیشن اور قومی سطح کی صحت پالیسیوں کا کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔ معدنیات کا شعبہ ایک حساس سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس وقت صوبوں کے پاس قدرتی وسائل پر نسبتاً مضبوط آئینی دعوے موجود ہیں۔ اگر صوبائی اختیارات واپس لیے گئے تو معدنیات‘ گیس‘ پن بجلی اور دیگر وسائل پر صوبائی کنٹرول کمزور پڑ سکتا ہے۔ پن بجلی کے منافع‘ بجلی منصوبوں پر مشاورتی اختیارات‘ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی فنڈنگ اور قدرتی وسائل میں صوبائی شرکت جیسے معاملات دوبارہ تنازع کا باعث بن سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 157کے عملی اختیارات پر بھی نظرثانی ناگزیر تصور کی جا رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کا ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے بھی گہرا تعلق ہے جس کے تحت صوبوں کے مالی حصے میں اضافہ کیا گیا تھا۔ ممکنہ 28ویں ترمیم میں صوبوں کی مالی خودمختاری محدود ہو سکتی ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے لیکن موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو حاصل خودمختاری کی وجہ سے بعض حلقوں کے نزدیک وفاق نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ اختیارات واپس لیے گئے تو نظام دوبارہ وفاقیت کی طرف جا سکتا ہے جہاں بڑے شعبوں پر وفاق کا غلبہ ہوگا۔ اگرچہ 28ویں ترمیم میں چند شقوں کی تبدیلی کے باوجود پاکستان بدستور 1973ء کے آئین کے تحت ایک وفاقی ریاست ہی رہے گا‘ تاہم انتظامی خودمختاری‘ پالیسی سازی کے اختیارات‘ آئینی قوت اور آزادانہ صوبائی پالیسیوں پر مرکز کا اثر بڑھ جائے گا۔ بعض حلقوں کے مطابق 18ویں ترمیم نے فیڈریشن کو بتدریج کنفیڈریشن کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کی جبکہ صوبوں کو ملنے والے وسیع اختیارات کے باوجود عام آدمی کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ خصوصاً سندھ کے حوالے سے یہ تاثر موجود ہے کہ وہاں جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ کا غلبہ زیادہ مضبوط ہوا ہے اور اداروں پر مخصوص سیاسی جماعتوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا 28ویں سے پہلے یہ طے کرنا نہایت ضروری ہو گا کہ کون سی آئینی دفعات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔نئے صوبے بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم کر کے صوبوں سے بعض اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور بتائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ووٹرز کی عمر 18 برس سے بڑھا کر 25برس کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ 2002ء سے قبل ووٹر کی عمر 21سال تھی اور یہی حد 1973ء کے آئین میں بنیادی حیثیت رکھتی تھی‘ تاہم جنرل پرویز مشرف نے آئین کی معطلی کے دوران ووٹر کی عمر 18سال مقرر کر دی تھی۔ اس سے قبل پانچ نومبر 1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت برطرف کرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ووٹرز کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت کے نگران وزیر قانون جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے اس آرڈیننس کے مسودے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت 28ویں ترمیم کے مختلف مسودات پسِ پردہ تیاری کے مراحل میں بتائے جا رہے ہیں۔
اگر سیاسی منظر کا جائزہ لیا جائے تو سفارتی محاذ پر حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر نسبتاً سازگار فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی حالات جس انداز میں پاکستان کے حق میں ہموار ہو رہے ہیں ان میں مقتدر حلقوں کو داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ کرپشن اب بھی قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں کرپشن کو ناسور قرار دیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود یہ اعتراف کر چکے کہ گزشتہ تین برسوں میں تقریباً سو ارب ڈالر غیرقانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیے گئے۔ ملک کو کرپشن کی لعنت نے بہت مضبوطی سے جکڑ رکھا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کیلئے حکومت کو سخت اور جارحانہ انسدادِ کرپشن پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں پنجاب میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا ذکر سامنے آ چکا ہے جبکہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جنرل (ر) نذیر بٹ 13 کھرب روپے کی ریکوری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بھارت میں چار برس بعد پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا باعث بنا ہے جبکہ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ شاید پہلی بار ہے کہ جہازوں کیلئے استعمال ہونے والا ایندھن سستا ہے اور موٹر سائیکلوں میں ڈلنے والا پٹرول مہنگا ہے۔ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ میں بااثر اشرافیہ کی موجودگی کے باعث پہلی مرتبہ جہازوں کا ایندھن پٹرول سے سستا ہو چکا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 244 کے تھرڈ شیڈول کے آخری پیراگراف میں ''Will of People‘‘ کے مطابق عملدرآمد کی بات کی گئی ہے۔ بعض حلقے اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ اگر عوام کی اکثریتی رائے یہ ہو جائے کہ حکومت عوامی خواہشات کے برخلاف پالیسیاں بنا رہی ہے تو ریاستی مداخلت کا جواز پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی دلیل کو بنیاد بنا کر پانچ جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا کیونکہ مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاجی تحریکیں شروع ہو گئی تھیں۔ اسی طرح 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال کر آئین معطل کیا تھا تو اس وقت جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پرویز مشرف کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان‘ میجر جنرل شاہد عزیز‘ میجر جنرل احسان الحق کے علاوہ شریف الدین پیرزادہ اور عبدالحفیظ پیرزادہ بھی موجود تھے۔
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے سفارتی سطح پر بھرپور سرگرم ہے اور بظاہر یہ کوششیں کچھ نتائج بھی دے رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے آنے والے بیانات سے مذاکرات کے نئے دور کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ تاہم اس کشیدگی نے عالمی منظر نامے پر پہلے ہی تبدیلیوں کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں ایک نیا سفارتی کردار ملا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اسی تناظر میں اپنی جغرافیائی سیاست کو ازسرِ نو ترتیب دے رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے محض جزوی تبدیلیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ موجودہ حکمتِ عملی کا جامع جائزہ لینا ہوگا۔




#پاکستان

























بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحاتسیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اند...
15/05/2026

بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحات

سیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ نشستیں نہ جیت پانے اور پھر سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں شکست نے لیبر پارٹی کو شدید سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل جب لیبر پارٹی نے سکاٹ لینڈ کی 57 میں سے 37 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا تو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ سکاٹش نیشنل پارٹی کی سیاست قصۂ پارینہ بننے والی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے لندن کا اقتدار سنبھالا اور سکاٹ لینڈ میں بھی اس کے امیدواروں کے چراغ روشن ہو گئے۔ لیکن اب بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لیبر پارٹی 1400 سے زائد کونسل نشستیں ہار گئی ہے‘ ویلز اور سکاٹ لینڈ میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گرین پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق بلدیاتی اور علاقائی انتخابات میں پارٹی کی بڑی شکست کے بعد وزیراعظم سٹارمر شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے استعفے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بلدیاتی ادارے زیادہ تر غیرجمہوری ادوار ہی میں فعال اور کامیاب رہے اور انہی ادوار میں ان کے انتخابات کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا۔ صدر ایوب خان نے امریکی انتخابی نظام کی پیروی کرتے ہوئے 1962ء میں بنیادی جمہوریتوں کا طریقۂ کار اختیار کیا۔ متحدہ پاکستان میں تقریباً 80 ہزار بنیادی جمہوریت ( بی ڈی) کے ارکان منتخب ہوئے مگر بعد ازاں اس ادارے کو الیکٹورل کالج کا درجہ دے کر سیاسی آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا جس کے باعث یہ نظام سیاسی نفرت کا شکار ہو گیا۔ اگر صدر ایوب خان اس نظام کو ترقیاتی منصوبوں‘ یونین کونسل سے لے کر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطح تک مضبوط کرتے اور انہیں انتظامی و مالیاتی خودمختاری فراہم کر دیتے تو یہ نظام ایک مثالی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ اس نظام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر سکارنو نے 1963ء میں پاکستان کے دورے کے دوران بلدیاتی اداروں کے نظام کے بارے میں صدر ایوب خان سے باقاعدہ بریفنگ لی۔ ایوب خان کی معاشی ٹیم‘ جس میں وزیرخزانہ محمد شعیب‘ پلاننگ کمیشن کے غلام فاروق‘ اور بعد ازاں وزیرخارجہ بننے والے ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے‘ نے صدر سکارنو کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ صدر سکارنو اس نظام کا بلیو پرنٹ اپنے ساتھ انڈونیشیا لے کر گئے اور وہاں یہ نظام نافذ کیا۔ جولائی 2009ء میں جب مجھے انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کا جائزہ لینے کیلئے حکومتِ انڈونیشیا کی دعوت پر جکارتہ جانے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے انتخابی نظام کا مشاہدہ کیا۔ جب انڈونیشیا کے وزیرخارجہ نے بتایا کہ ان کے ملک کے بلدیاتی نظام کا بنیادی خاکہ صدر سکارنو پاکستان سے لے کر آئے تھے اور گزشتہ 55 برس سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ نافذ العمل ہے‘ تو مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی ۔
اس کے برعکس پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی ادارے ہی ختم کر دیے۔ بعدازاں صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں جنرل تنویر حسین نقوی کی معاونت سے لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کی حیثیت سے میں نے 2001ء اور 2006ء میں بلدیاتی انتخابات کرائے‘ جن میں ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ارکان منتخب ہوئے۔ اس دور میں بیورو کریسی کے کئی اختیارات ناظمین کو منتقل کر دیے گئے تھے‘ تاہم جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر 2008ء میں مارچ 2009ء کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا تو اُس وقت کی حکومت کے دباؤ پر یہ شیڈول واپس لینا پڑا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت لوکل گورنمنٹ انتخابات کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔آج وفاق اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب سے انتخابی قوانین کے حوالے سے کئی مرتبہ رجوع کیا لیکن وفاق اور پنجاب کی عدم دلچسپی کے باعث چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو یہ کہنا پڑا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء نافذ کرنے کی بھی کوشش کی مگر متنازع شقوں کے باعث اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ 7 کلب روڈ لاہور میں بلدیاتی قوانین میں ترامیم کیلئے اجلاس ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کیلئے ماہرین موجود ہیں مگر نیت اور سیاسی ارادے کے فقدان کے باعث جمہوری انداز میں قانون سازی نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر زرداری خرابیٔ صحت کے باعث مستعفی ہو سکتے ہیں اور شنید ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کووہ اپنے جانشین کے طور پر آگے لانا چاہتے ہیں‘ جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران امریکہ کشمکش‘ خلیجی ریاستوں کے غیر یقینی مستقبل‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی حکومتی ساکھ بچانے کی حکمتِ عملی کے حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت بن کر ابھرے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ ایران‘ ترکیہ‘ مصر اور دیگر مسلم ممالک کی قیادت بھی ان کی جانب دیکھ رہی ہے جبکہ روس اور چین بھی ان کی دوراندیشی اور وژن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صدرِ پاکستان کے اختیارات تقسیم کرنے کی تجاویز زیر بحث آ سکتی ہیں۔ اس ضمن میں آئینی ترمیم سے قبل وفاقی آئینی عدالت سے رائے لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
8 جون سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی ازسرِنو تشکیل پر بھی غور ہو رہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبے دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم کیلئے مختص اربوں روپے کے فنڈز صوبائی گورننس پر سوالیہ نشان ہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیاں صوبائی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور فنڈز کے استعمال میں کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب میں سرکاری محکموں کے متبادل درجنوں کمپنیاں قائم کر دی گئی ہیں اور حکومت کے پسندیدہ بیوروکریٹس کو اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں جن کے ماہانہ تنخواہ ملینز میں ہے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ حکومتی کمیٹیوں کے اخراجات اور مراعات کا بوجھ بھی سرمایہ کاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ملک میں کرپشن اور بیڈ گورننس کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی وسیع مالیاتی اور انتظامی خودمختاری نے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گڈ گورننس کے حوالے سے مزید تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیب کو مزید بااختیار بنانے‘ لوکل گورنمنٹ اداروں کو وفاق کے ماتحت کرنے اور آئین کے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
اس وقت سیاسی نظام اپنی افادیت کھو چکا۔ صوبائی حکومتوں کو احتساب کے دائرے میں لا کر ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے ایک ایسا قومی روڈمیپ ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت غریب اور پسماندہ طبقے کی حالت جنگی بنیادوں پر بہتر بنائی جائے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ ایسی مستحکم معیشت ناگزیر ہے جس کے ثمرات پاکستان کے غریب ترین طبقے تک پہنچیں اور وہ خود کو معاشی و سماجی طور پر محفوظ محسوس کریں۔

بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحاتسیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اند...
15/05/2026

بلدیاتی نظام اور سیاسی ترجیحات

سیاست میں عوامی رائے سمندر کی لہروں کی مانند ہوتی ہے جو کب اور کس سمت رخ بدل لے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں مطلوبہ نشستیں نہ جیت پانے اور پھر سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں شکست نے لیبر پارٹی کو شدید سیاسی دھچکا پہنچایا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل جب لیبر پارٹی نے سکاٹ لینڈ کی 57 میں سے 37 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا تو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ سکاٹش نیشنل پارٹی کی سیاست قصۂ پارینہ بننے والی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے لندن کا اقتدار سنبھالا اور سکاٹ لینڈ میں بھی اس کے امیدواروں کے چراغ روشن ہو گئے۔ لیکن اب بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لیبر پارٹی 1400 سے زائد کونسل نشستیں ہار گئی ہے‘ ویلز اور سکاٹ لینڈ میں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گرین پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق بلدیاتی اور علاقائی انتخابات میں پارٹی کی بڑی شکست کے بعد وزیراعظم سٹارمر شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے استعفے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں بلدیاتی ادارے زیادہ تر غیرجمہوری ادوار ہی میں فعال اور کامیاب رہے اور انہی ادوار میں ان کے انتخابات کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا۔ صدر ایوب خان نے امریکی انتخابی نظام کی پیروی کرتے ہوئے 1962ء میں بنیادی جمہوریتوں کا طریقۂ کار اختیار کیا۔ متحدہ پاکستان میں تقریباً 80 ہزار بنیادی جمہوریت ( بی ڈی) کے ارکان منتخب ہوئے مگر بعد ازاں اس ادارے کو الیکٹورل کالج کا درجہ دے کر سیاسی آلودگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا جس کے باعث یہ نظام سیاسی نفرت کا شکار ہو گیا۔ اگر صدر ایوب خان اس نظام کو ترقیاتی منصوبوں‘ یونین کونسل سے لے کر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کونسل کی سطح تک مضبوط کرتے اور انہیں انتظامی و مالیاتی خودمختاری فراہم کر دیتے تو یہ نظام ایک مثالی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ اس نظام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈونیشیا کے صدر سکارنو نے 1963ء میں پاکستان کے دورے کے دوران بلدیاتی اداروں کے نظام کے بارے میں صدر ایوب خان سے باقاعدہ بریفنگ لی۔ ایوب خان کی معاشی ٹیم‘ جس میں وزیرخزانہ محمد شعیب‘ پلاننگ کمیشن کے غلام فاروق‘ اور بعد ازاں وزیرخارجہ بننے والے ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے‘ نے صدر سکارنو کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ صدر سکارنو اس نظام کا بلیو پرنٹ اپنے ساتھ انڈونیشیا لے کر گئے اور وہاں یہ نظام نافذ کیا۔ جولائی 2009ء میں جب مجھے انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات کا جائزہ لینے کیلئے حکومتِ انڈونیشیا کی دعوت پر جکارتہ جانے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے انتخابی نظام کا مشاہدہ کیا۔ جب انڈونیشیا کے وزیرخارجہ نے بتایا کہ ان کے ملک کے بلدیاتی نظام کا بنیادی خاکہ صدر سکارنو پاکستان سے لے کر آئے تھے اور گزشتہ 55 برس سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ نافذ العمل ہے‘ تو مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی ۔
اس کے برعکس پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی ادارے ہی ختم کر دیے۔ بعدازاں صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں جنرل تنویر حسین نقوی کی معاونت سے لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کی حیثیت سے میں نے 2001ء اور 2006ء میں بلدیاتی انتخابات کرائے‘ جن میں ملک بھر سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ارکان منتخب ہوئے۔ اس دور میں بیورو کریسی کے کئی اختیارات ناظمین کو منتقل کر دیے گئے تھے‘ تاہم جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر 2008ء میں مارچ 2009ء کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا تو اُس وقت کی حکومت کے دباؤ پر یہ شیڈول واپس لینا پڑا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت لوکل گورنمنٹ انتخابات کے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے۔آج وفاق اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات التوا کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب سے انتخابی قوانین کے حوالے سے کئی مرتبہ رجوع کیا لیکن وفاق اور پنجاب کی عدم دلچسپی کے باعث چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو یہ کہنا پڑا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء نافذ کرنے کی بھی کوشش کی مگر متنازع شقوں کے باعث اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا۔ اب اطلاعات ہیں کہ 7 کلب روڈ لاہور میں بلدیاتی قوانین میں ترامیم کیلئے اجلاس ہو رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کرانے کیلئے ماہرین موجود ہیں مگر نیت اور سیاسی ارادے کے فقدان کے باعث جمہوری انداز میں قانون سازی نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صدر زرداری خرابیٔ صحت کے باعث مستعفی ہو سکتے ہیں اور شنید ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کووہ اپنے جانشین کے طور پر آگے لانا چاہتے ہیں‘ جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران امریکہ کشمکش‘ خلیجی ریاستوں کے غیر یقینی مستقبل‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی حکومتی ساکھ بچانے کی حکمتِ عملی کے حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شناخت بن کر ابھرے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے علاوہ ایران‘ ترکیہ‘ مصر اور دیگر مسلم ممالک کی قیادت بھی ان کی جانب دیکھ رہی ہے جبکہ روس اور چین بھی ان کی دوراندیشی اور وژن سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صدرِ پاکستان کے اختیارات تقسیم کرنے کی تجاویز زیر بحث آ سکتی ہیں۔ اس ضمن میں آئینی ترمیم سے قبل وفاقی آئینی عدالت سے رائے لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
8 جون سے قبل 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ کی ازسرِنو تشکیل پر بھی غور ہو رہا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبے دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت اور تعلیم کیلئے مختص اربوں روپے کے فنڈز صوبائی گورننس پر سوالیہ نشان ہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیاں صوبائی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور فنڈز کے استعمال میں کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب میں سرکاری محکموں کے متبادل درجنوں کمپنیاں قائم کر دی گئی ہیں اور حکومت کے پسندیدہ بیوروکریٹس کو اعلیٰ عہدے دیے جا رہے ہیں جن کے ماہانہ تنخواہ ملینز میں ہے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ حکومتی کمیٹیوں کے اخراجات اور مراعات کا بوجھ بھی سرمایہ کاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ملک میں کرپشن اور بیڈ گورننس کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے‘ اس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والی وسیع مالیاتی اور انتظامی خودمختاری نے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے گڈ گورننس کے حوالے سے مزید تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیب کو مزید بااختیار بنانے‘ لوکل گورنمنٹ اداروں کو وفاق کے ماتحت کرنے اور آئین کے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
اس وقت سیاسی نظام اپنی افادیت کھو چکا۔ صوبائی حکومتوں کو احتساب کے دائرے میں لا کر ازسرِنو تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے ایک ایسا قومی روڈمیپ ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت غریب اور پسماندہ طبقے کی حالت جنگی بنیادوں پر بہتر بنائی جائے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ ایسی مستحکم معیشت ناگزیر ہے جس کے ثمرات پاکستان کے غریب ترین طبقے تک پہنچیں اور وہ خود کو معاشی و سماجی طور پر محفوظ محسوس کریں۔

28th Amendment, Pakistan Politics.
15/05/2026

28th Amendment, Pakistan Politics.

Pakistan’s political landscape may be heading toward massive constitutional and structural changes. Discussions regarding a possible presidential system, tra...

معرکۂ حق10 مئی کے حوالہ سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خطاب سے مستقبل قریب کا سٹریٹیجک بھی نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کی بین ا...
12/05/2026

معرکۂ حق

10 مئی کے حوالہ سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خطاب سے مستقبل قریب کا سٹریٹیجک بھی نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو یورپی ممالک، خلیج کی ریاستوں اور ساؤتھ ایشیا کے ممالک نے تسلیم کر کے ان ممالک کا اہم ترین ملک بن چکا ہے۔

ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کی بحالی، کرپشن کے ازالہ کے لئے اور ایران امریکہ کے مابین سنگین کشیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں محدود عرصے کے لیے صدر مملکت کے اختیارات ان کی موجودہ پوزیشن سمیت سپرد کر دیے جائیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لئے 28 ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے صدر مملکت کا منصب پیش کیا جا سکتا ہے۔

کنور محمد دلشاد




















ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو کے اصل محرک حفیظ پاشا کا ٹیکسٹائل انڈسٹری میں وسیع تجربہ رہا ہے۔ صدر پرویز مشرف نے ون کانسٹیٹیوشن...
07/05/2026

ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو کے اصل محرک حفیظ پاشا کا ٹیکسٹائل انڈسٹری میں وسیع تجربہ رہا ہے۔ صدر پرویز مشرف نے ون کانسٹیٹیوشن ٹاور کی زمین کی مخالفت کی تھی لیکن حفیظ پاشا نے وزیراعظم شوکت عزیز کے فرنٹ مین کے ذریعے سی۔ ڈی۔ اے سے پرائم جگہ پر 13 ایکڑ کے لگ بھگ زمین پونے پانچ ارب روپے میں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جنرل حامد جاوید اور طارق عزیز نے اس کی مخالفت کی تھی۔

حفیظ پاشا اور دیگر پارٹنرز میں خواجہ سعد رفیق بھی شامل تھے۔

ڈائریکٹر جنرل حساس ترین ادارے نے اس پروجیکٹ کی سیکیورٹی نقطہ نظر سے مخالفت کی تھی۔

اصل حقائق جاننے کے لیے سی۔ ڈی۔ اے کے 2005 سے 2015 تک کے چیئرمینوں کو شامل تفتیش کیا جائے انہوں نے اس منصوبے کی تکنیکی بنیادوں پر اعتراضات لگائے تھے۔

سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان نے کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرا دیا تھا تو ان ٹاورز کے بارے میں انکوائری ٹیم بنانے کا مقصد عدالت کے معاملے میں مداخلت کرنا ہے تو پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کو توہین عدالت کا نوٹس ارسال کرنا چاہیے۔

کیونکہ ون کانسٹیٹیوشن خوبصورت ترین معیاری ٹاور ہے لہذا اس کو پاکستان ہاؤس کا درجہ دے کر وزارت خارجہ کی نگرانی میں دیا جائے تاکہ بین الاقوامی کانفرنسز اور مہمانوں کے تصرف میں دیا جائے۔

صدر آصف علی زرداری کو ایران اور امریکہ کے اہم ترین مذاکرات سے لا تعلق رکھا گیا اس کا پس منظر ان کی صحت کی خرابی ہی تصور کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان نازک ترین معاشی بحران کا شکار ہے تمام ترقیاتی کام محض اشتہاروں میں ہی نظر آرہے ہیں۔ بیوروکریٹس جن کی دوہری شہریت ہے ان کے خلاف تاریخی کاروائیوں کے بغیر ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔


























"کیا یہ عمارت واقعی پاکستان ہاؤس بننی چاہیے؟
05/05/2026

"کیا یہ عمارت واقعی پاکستان ہاؤس بننی چاہیے؟










حالیہ دنوں میں عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ریجن (MENA) میں شامل...
04/05/2026

حالیہ دنوں میں عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ریجن (MENA) میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا‘ جس کا باقاعدہ اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ایک انتظامی و تجزیاتی تبدیلی ہے۔ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے اپنے رکن ممالک کو ایسے خطوں میں تقسیم کرتے ہیں جہاں ان کے معاشی مسائل‘ ترقیاتی ترجیحات اور علاقائی روابط زیادہ مماثلت رکھتے ہوں تاکہ پالیسی سازی‘ فنڈنگ اور ڈیٹا اینالیسز بہتر انداز میں ہو سکے۔ اس لیے کسی ملک کا ایک سے دوسرے ریجن میں منتقل ہونا لازمی طور پر سیاسی اتحاد یا خارجہ پالیسی کی تبدیلی کی علامت نہیں ہوتا؛ یہ زیادہ تر ادارہ جاتی ضروریات اور انتظامی حکمتِ عملی کے تحت کیا جانے والا اقدام ہوتا ہے۔تاہم پاکستان کے معاملے میں اس تبدیلی کی علامتی اہمیت بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات کا مرکز تیزی سے خلیجی ممالک کی طرف منتقل ہوا ہے۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری‘ مالی معاونت اور افرادی قوت کی برآمد جیسے شعبوں میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ اس رجحان کی ایک ادارہ جاتی توثیق کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ براہِ راست پاکستان کی معیشت میں کوئی بہتری نہیں لا سکتا۔ معیشت کی بنیادیں بدستور اندرونی اصلاحات‘ برآمدات میں اضافے اور سیاسی استحکام سے منسلک رہیں گی۔ البتہ اس تبدیلی سے یہ امکان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایسے ترقیاتی پروگرامز اور منصوبوں تک رسائی ملے جو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئے ترتیب دیے جاتے ہیں‘ خصوصاً توانائی‘ انفراسٹرکچر اور آبی وسائل کے شعبوں میں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کیلئے یہ ایک اہم موقع ہو سکتا ہے۔ اگر اسے مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں بلکہ علاقائی سیاست میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب پالیسی ساز اس تبدیلی کو محض علامتی کامیابی کے بجائے عملی اقدامات میں ڈھالیں۔ اس پیشرفت کو نہ تو غیرمعمولی کامیابی سمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض ایک معمولی انتظامی تبدیلی‘ حقیقت ان کے درمیان کہیں موجود ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بنیادی طور پر ادارہ جاتی نوعیت کا ہے مگر اس میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ اگر اسے درست سمت میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس اقدام کا مقصد دراصل ایک عالمی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کم کرنے کے لیے اسے شمالی افریقہ کے خطے میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان حقیقی طور پر برصغیر کا حصہ ہے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب صدر ذوالفقار علی بھٹو نے اپریل 1972ء میں روس کا دورہ کیا تو سوویت یونین حکومت نے انہیں ریڈ کارپٹ پروٹوکول نہیں دیا اور ملاقات کے دوران یہ باور کرایا کہ چونکہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو چکا ہے لہٰذا اب پاکستان برصغیر کا حصہ نہیں رہا۔ اصولی طور پر پاکستان وسطی ایشیا کے بجائے مشرق وسطیٰ کے قریب ہے لہٰذا پاکستان کے سامنے روسی قیادت نے یہ آپشن رکھی کہ وہ یا تو مشرقِ وسطیٰ کا حصہ بن جائے یا پھر جنوبی ایشیا میں شامل ہو جائے۔ بھٹو صاحب روسی قیادت کے مؤقف کو جھٹلا نہ سکے کیونکہ روسی وزیراعظم الیگزے کوسیگن معاہدۂ تاشقند میں بھٹو صاحب کی جانب سے اختیار کیے گئے معاندانہ رویے سے باخبر تھے‘ لہٰذا بھٹو صاحب نے لامحالہ پاکستان کے برصغیر کی جغرافیائی حدود سے نکلنے کے اس اشارے کو قبول کر لیا۔ دراصل اس وقت کی سوویت حکومت نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں شامل کر کے ریاست جموں و کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو کمزور کیا تھا۔ صدر بھٹو نے مئی 1972ء میں شملہ جانے سے پیشتر پاکستان ٹائمز میں مضامین لکھوانے کا سلسلہ شروع کرایا‘ جن میں کشمیر کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے بجائے کشمیریوں اور بھارتی حکومت کا مسئلہ ہے۔ جب عسکری حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آیا تو صدر بھٹو نے سیکرٹری اطلاعات نسیم احمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس کے روبرو وضاحت پیش کی گئی کہ یہ مضامین صدر بھٹو کی ہدایت پر شائع کیے گئے تھے۔
اب عالمی بینک نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے ریجن میں شامل کر دیا ہے تو اس کے پسِ پردہ ایک گہری سازش کا تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے مؤقف سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو مسئلہ کشمیر سے براہِ راست دلچسپی نہیں ہے۔ لہٰذا وزارتِ خارجہ کو اس فیصلے کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق عالمی بینک کے اس اقدام کے اثرات جموں و کشمیر کے مسئلے اور سندھ طاس معاہدے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔دوسری جانب اگر ایران‘ امریکہ جنگ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بات کی جائے تو یہ ہماری جغرافیائی مجبوری اور دانائی کا تقاضا ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری رہتی ہے تو پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرے گا اور پاکستان کو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کے باوجود بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان دونوں فریقوں کیلئے فیس سیونگ کا راستہ بنتا ہے تو یہ عمل ہماری طاقت بھی بن سکتا ہے کہ پاکستان میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُدھر ایران کی حکمتِ عملی اور فیصلے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور روحانی سطح پر استوار دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت واضح طور پر پریشانی کا شکار نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کیلئے اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں رہا؛ بظاہر وقت گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی کا رخ متعین نہیں ہو پا رہا‘ اور یہی ابہام اشارہ ہے کہ مقابلہ صرف طاقت کا نہیں بلکہ سوچ اور اندازِ عمل کا بھی ہے۔
قدرت نے ملکی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے‘ اب ان کی توجہ ملک کی معاشی صورتحال کی طرف بھی مبذول ہونی چاہیے۔ کرپشن نے ملک کو زہر آلودہ دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ مقتدر حلقوں کو سٹیٹ بینک آف پاکستان‘ قومی احتساب بیورو‘ وفاقی وزارتِ خزانہ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر سے ملکی معیشت کی حقیقی رپورٹ حاصل کرنی چاہیے تاکہ اس کے مطابق مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ اسی طرح منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کا بے احتساب بھی یقینی بنانا چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد مرکز کمزور جبکہ صوبے مالی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں کرپشن کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اربوں کھربوں روپے بیرونِ ملک جائیدادوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ مقتدرہ کو اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کی پالیسی کمزوریوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی اور صوبوں میں کرپشن کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ قومی مفاد کے پیش نظر سابق بیورو کریٹس کو بھی فعال کردار دینا چاہیے‘ جیسا کہ بھارت میں سینٹرل سیکرٹریٹ کے تحت ایک وسیع پول قائم ہے جہاں سینئر بیوروکریٹس اپنے تجربے کی بنیاد پر حکومت کی معاونت کرتے ہیں۔ اس نظام کے تحت پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں پر بھی ایک مؤثر نگرانی قائم رہتی ہے‘ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان بیوروکریٹس کو کوئی اضافی اعزازیہ نہیں دیا جاتا بلکہ وہ اپنی پنشن کے عوض ہی یہ قومی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔

Address

22-A, Main Nazimmudin Road, F-7/1
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:30 - 16:00
Tuesday 09:30 - 16:00
Wednesday 09:30 - 16:00
Thursday 09:30 - 16:00
Friday 09:30 - 16:00

Telephone

+92512654699

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Democratic Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to National Democratic Foundation:

Shortcuts

Share