12/03/2026
پریس ریلیز :- جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن
احسان علی ایڈووکیٹ کی آدھی رات کو کی گئی گرفتاری محض ایک فرد کی گرفتاری نہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ ایک ایسے بزرگ وکیل اور سیاسی رہنما کو، جو 65 برس سے زائد عمر میں بھی آئینی اور پُرامن جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں، بغیر وارنٹ اور واضح قانونی جواز کے گھر سے اٹھا لینا ریاستی طرزِ عمل پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ قانون کا تقاضا یہ ہے کہ طاقت نہیں بلکہ ضابطہ اور انصاف غالب ہوں، مگر جب قانون کے محافظ ہی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے دکھائی دیں تو عوام کے اندر اعتماد کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن اس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ سینئر قانون دان اور سیاسی رہنما کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ سمیت گرفتار کیے گئے تمام ساتھیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار پر بھی حملہ ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام دہائیوں سے آئینی شناخت، سیاسی نمائندگی اور بنیادی حقوق کے مطالبات کر رہے ہیں، اس لیے اس طرح کی گرفتاریاں اور سیاسی کارکنوں کے گھروں پر رات کے چھاپے مسائل کے حل کے بجائے بے چینی اور عدم اعتماد کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور آئینی جدوجہد کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ اسے خوف اور دباؤ کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کرنا۔
اگر ریاست واقعی استحکام، انصاف اور جمہوری روایات کی داعی ہے تو اسے چاہیے کہ قانونی شفافیت کو یقینی بنائے، سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور گلگت بلتستان کے عوام کو وہی وقار اور آئینی حیثیت دے جس کے وہ دہائیوں سے منتظر ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سنجیدہ سیاسی مکالمہ اور آئینی راستہ ہی مسائل کا حقیقی حل فراہم کر سکتا ہے۔
شعبہ نشرواشاعت :-
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن