02/06/2026
پاکستانی فلمی دنیا کے مشہور اور سریلے گلوکار مجیب عالم 4 فروری 1948 کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کی آواز بچپن ہی سے بہت خوبصورت اور اثر انگیز تھی۔ ان کی اسی خوبی کو دیکھتے ہوئے مشہور موسیقی کار حسن لطیف نے انہیں اپنی فلم ’نرگس‘ میں گانے کا موقع دیا، لیکن یہ فلم کسی وجہ سے ریلیز نہ ہو سکی۔ اس کے بعد فلم ’مجبور‘ ریلیز ہوئی، جو مجیب عالم کی آواز میں سامنے آنے والی پہلی فلم بنی۔
مجیب عالم نے اپنی گائیکی سے فلم انڈسٹری پر گہرے نقوش چھوڑے۔ 1966 میں انہوں نے فلم ’جلوہ‘ کے لیے گانے گائے اور پھر 1967 میں فلم ’چکوری‘ کا وہ مشہور گیت ریکارڈ کروایا جس کے بول تھے ’وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں‘۔ یہ گانا اس قدر مقبول ہوا کہ اس پر مجیب عالم کو فلمی دنیا کا معتبر ’نگار ایوارڈ‘ بھی دیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک کے بعد ایک کئی سپر ہٹ گانے گائے۔
انہوں نے بہت سی مشہور فلموں کے لیے اپنی آواز کا جادو جگایا، جن میں دل دیوانہ، گھر اپنا گھر، جان آرزو، ماں بیٹا، لوری، تم ملے پیار ملا، سوغات، شمع اور پروانہ، قسم اس وقت کی، آوارہ، میرے ہمسفر، انجان، حاتم طائی اور میں کہاں منزل کہاں جیسی فلمیں سب سے نمایاں ہیں۔ موسیقی کی دنیا کا یہ چمکتا ہوا ستارہ 2 جون 2004 کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔