Aneeta Raja

Aneeta Raja السلام علیکم اپ یہاں میرے تمام ناولز پڑھ ki information ly skty hai

25/07/2025

novel pdf m available h jisy chiye inbox

03/01/2024
New
24/12/2023

New

23/12/2023

My

22/12/2023

T

20/12/2023

Y

19/12/2023

Aira

17/12/2023

.

15/12/2023

سنابل
ازقلم انیتا راجہ
Ep7

کافی ٹائم گزر گیا تھا لیکن سنابل ابھی بھی کانپ رہی تھی۔۔۔

اشکان کی قربت کا خوف اسے کھائے جا رہا تھا۔۔
اچانک دروازہ ناک ہوا اس کے ہاتھ میں موبائل تھا جو ایک دم سے اس نے بیڈ پہ گرایا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔

ویسے تو وہ ڈرتی کسی سے نہیں تھی۔پر یہ پہلی بار تھا جو اتنی خوفزدہ ہوئی تھی۔۔

اشکان نے لڑکی کو ٹرے بیڈ پہ رکھنے کا کہا تو وہ رکھ کر باہر جا چکی تھی۔۔۔
پہلے بھی دو تین دفعہ وہ کھانا بھیج چکا تھا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔

مجھے کچھ نہیں کھانا۔دوپٹے کو ہاتھوں میں فولڈ کرتے اس نے کہا۔۔۔

لے جاؤ اس نے ٹرے کو تھوڑا اگے گھسیٹا۔۔۔۔
اشکان نے ایک نظر ٹرے کو پھر اسے دیکھا۔۔

وہ دروازے کے پاس کھڑا تھا دو قدم اٹھا کر اگے ایا۔۔

اس کے احتجاج کا اشکان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
تم خود کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔
لہجہ کافی سرد تھا۔
پر اشکان پر شاید کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔
گرین شرٹ تھی لائننگ والی نیچے وائٹ چینز جس سے نیچے سے فولڈ کیا ہوا تھا۔شرٹ کے کالر دونوں طرف سے کھڑے تھے۔

بیڈ پہ جگہ بنا کر بیٹھا۔اور بنا تکلف نوالہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالنے ہی لگا تھا کہ اس نے رخ بدلا۔۔۔

تم نے زہیب بھائی کو ایسا کیا کہا ہے کہ وہ میری کال بھی نہیں اٹھا رہے۔ذہن میں گردش کرتے سوالوں کو اس نے زبان دی۔۔۔
لہجہ حاصہ سخت تھا۔ہر لفظ کو کھینچ کے کہا تھا اس نے۔

میں نے کہا ہے سنابل میری بیوی۔۔
اور اگر میری بیوی کو کسی نے انکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں۔۔۔

اس نے دانتوں تلے زبان کو دبایا اور ہنسی کو مشکل سے کنٹرول کیا۔۔۔
وہ شاید اس کا موڈ اچھا کرنا چاہتا تھا۔وہ دیکھ سکتا تھا کہ کیسا اترا ہوا منہ لیے بیٹھی ہے۔
دیکھو میں نے تمہیں فورس نہیں کیا تھا۔
تم نے خود حامی بڑی تھی اس ٹریکٹر کے سامنے۔
میں نے تو بس مدد کی ہے تمہاری۔
اس کے بدلتے ری ایکشن دیکھ کر سنابل تھوڑا پریشان ہوئی۔۔۔۔
اور کتنی اسانی سے وہ کلیئر کر رہا تھا اتنی بڑی بات کو۔

اشکان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
اشکان نے زبردستی اسے کھانا کھلایا۔۔
اور ضرورت سے زیادہ ہی کھلایا تھا اس نے۔

____
زہیب بھائی سنابل کی کتنی کالز ائی ہیں۔
اپ نے اٹھائی نہیں۔
اس نے حیرانگی سے ایک نظر موبائل کو دیکھا پھر زہیب کو۔
زہیب سلے سے زیادہ سنابل سے پیار کرتا تھا۔بہنوں سے بھی بڑھ کر۔۔

لگتا ہے میری کل والی باتیں تم لوگوں کو سمجھ میں نہیں ائی احمد تھوڑے فاصلے پہ بیٹھا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔
زہیب کے سرد لہجے نے اسے بی چونکایا۔۔۔

کچھ ٹائم کے لیے سنابل کو اس کے حال پہ چھوڑ دو۔۔
ان دونوں کو سپیس دو۔موبائل کو لہراتے ہوئے دونوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
کیونکہ اسے یقین تھا وہ پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔
وہ تو اشکان کی کوٹھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

اب تم دونوں بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کرو گے۔۔۔
موبائل کو بیک پاکٹ میں ڈالا اور سیڑھیوں کا رخ کیا۔

چھوڑو اسے سلے ذرا یہاں انا۔۔۔
اچھا وہ تو تمہاری بیسٹ فرینڈ تھی تمہیں بھی فکر نہیں ہے۔

اسے پہلے زہیب کی باتوں پہ غصہ تھا پھر احمد کی لیکن پھر بھی وہ اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی تھی۔

یہ دیکھو ذرا اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین سلے کی طرف کی جہاں پہ ایک لڑکی کی ائی ڈی کھلی تھی۔۔۔۔

یہ کون ہے لہجہ تھوڑا سرد ہوا۔

یہ میری کلاس فیلو ہے۔۔۔
نیو کمر۔۔۔
دیکھو تو کتنی خوبصورت ہے وہ موس سے تصویروں کو اگے کر رہا تھا۔۔۔

سلے ایک نظر تصویروں کو پھر اسے دیکھتی۔۔۔

اچھا کیا دادی اسے بہو بنا لے گی اس گھر کی اس کے فیشن تو دیکھو۔ہاتھ لیپ ٹاپ کی طرف کرتے وہ بولی
وہ اچھی خاصی جالس ہوئی تھی۔۔۔

غصے سے لیپ ٹاپ کو فولڈ کیا۔
گھر میں اگے ہی بہت ٹینشن ہے اب تم یہ نہیں مصیبت مت لے کر انا۔۔۔

اور ویسے بھی وہ چپ ہو گئی تھی۔
احمد اس کے بدلتے لہجے کو دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا۔
ویسے کیا سلیپر پہنتے ہوئے وہ کھڑا ہوا اور لیپ ٹاپ کو اٹھایا۔۔
لہجہ کافی سرد تھا۔۔
کچھ نہیں بس اس سے دور رہو ایک قدم اگے ہو کر پھر اس رخ بدلا۔۔۔
احمد ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا۔
عجیب لڑکی ہے۔۔۔۔
وہ اس کی محبت سے لا علم اس کی جلسے کو کوئی اور یہ رنگ دے رہا تھا۔

___
رات کے دو بجے تھے۔۔۔۔

سنابل جو مشکل سے سوئی تھی ابھی پھر نیند میں مچل رہی تھی۔وجہ اس کا بخار تھا جو تیز ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ۔کبھی اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتا۔۔۔
کبھی اس کے بالوں کو سرہاتا۔۔۔
اسے میڈیسن دی تھی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

سنابل۔۔۔۔شائستگی سے پکارا اور ہاتھ کی انگلیاں اس کے بالوں میں پیار سے پھیری۔۔
ہمممممم۔۔۔۔۔۔ بحار کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں پا رہی تھی۔انکھوں کو میچتے ہوئے بولی۔۔۔
اواز بھی کافی باری ہو چکی تھی۔۔۔۔

میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔
جو دو تین چہرے پہ ا رہے تھے۔۔
نظر مسلسل اس کے چہرے پر تھی۔

نہ ۔۔۔۔۔۔۔نیند اور میڈیسن کی وجہ سے وہ ادھا لفظ بول پائی۔۔۔۔

میری جان۔۔۔
ابھی پوری رات پڑی ہے۔
اس کی حالت دیکھ کر اسے خود پر غصہ ا رہا تھا اور شدید غصہ۔۔
اور وہ بول کیا رہا تھا اسے یہ بھی اندازہ نہیں تھا۔

وہ پوری طرح سے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔
بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائیں۔۔

سنابل نے بھی اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا۔۔

اور خود کو اس کے سینے میں چھپایا ہوا تھا۔۔۔۔
اس اینگل سے بیٹھنے سے اس کی کمر میں شدید درد تھا پر اس کی تکلیف کے اگے اسے اپنا درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
بلکہ خود پہ غصہ تھا اور وہ بھی شدید غصہ۔۔۔

بلینکٹ کو اس کے اوپر کھینچا جو نیچے کر رہی تھی وہ اور لب اس کے ماتھے پہ رکھے۔۔

_____
صبح کی کرنیں کمرے میں پڑتے ہی سنابل کی انکھ کھلی۔۔
ایک ہاتھ سے انکھ کو مچھتے ہوئے اس نے نم الود انکھوں سے اس کو دیکھا۔۔۔
جو اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ہاتھ ابھی بھی اس کے بالوں میں تھا۔ابھی ہی انکھ لگی تھی س کی
سنابل نے کروٹ بدلنا چاہی ۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ کمر سے اٹھا کر پیچھے کیا۔۔
س۔۔۔۔۔سنابل۔۔۔۔
جیسے ہاتھ سے کوئی کھینچ کے لے جا رہا ہے اسے۔۔۔
وہ زور سے چلاتا اٹھا تھا۔۔۔

اور گرفت اس کی کمر پے مضبوط کی۔۔۔
سنابل نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اس کے دیکھتے ہی اسے احساس ہو گیا تھا۔اپنی غلطی کا۔۔
سوری۔۔۔۔
مجھے لگا۔۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوا۔صبح کی بیداری سے اس کی اواز بھی باری تھی۔لہجہ بھی الجھا الجھا تھا۔۔
سنابل کو احساس تھا۔ کے وہ ساری رات اس کے سرہانے بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سنابل نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا۔
مجھے اتنی محبت کی عادت نہیں ہے۔۔
اس نے رخ بدلا ہی تھا کہ اس نے کمر پہ گرفت اور مضبوط کی اور ٹانگیں بھی بیڈ پر کر لی۔۔۔

تو اب عادت ڈال لو میری جان۔۔
وہ جان لفظ پہ خفاہوئی اور ہاتھ کھولنے لگی۔جو اس نے اس کے کمر پہ جکڑے ہوئے تھے۔۔
ا۔۔۔شکان۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔
اب طبیعت کیسی ہے۔
بتاتی ہوں پہلے۔
اس نے رخ پیچھے کیا۔وہ جو اس کے بالوں کو سمیل کر رہا تھا اس کے پیچھے دیکھتے ہی سمائل کی اس نے۔۔۔۔۔۔
یہ ہاتھ کھولو۔۔۔
نہ کھولوں تو۔۔۔

اس نے تنزیہ لہجہ اپنایا۔۔۔
جب اس نے غصے کی نگاہ ڈالی تو اس نے بھی ہاتھ پیچھے کر لیے

جس طرح اشکان نے ساری رات بیٹھ کر اس کے سرہانے اس کی خدمت کی تھی اس کے دل میں بھی کہیں سوفٹ کارنر کا دروازہ کھل گیا تھا لیکن وہ ویڈیو والی بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔جس کی وجہ سے یہ ساری تباہی ائی تھی۔
___
ویسے تو تم لوگ بڑے گن گاتے رہتے ہو میرشکان علی میر اشکان علی۔۔
لیکن دو تین دنوں سے جو نیوز ہیڈ لائن بنی ہوئی ہے مجھے لگتا ہے کسی کا دھیان نہیں ہے۔
یہ دیکھو زہیب مناہل چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لیے اس کے پاس ائی اور موبائل اس کی طرف کیا۔
یہ فروا ہے ان دونوں کی نیوز ٹاپ پہ چل رہی ہے۔
اس کے اور اشکان کے بارے میں کافی نیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
کہ دونوں میں کچھ چل رہا ہے۔۔
اور لاسٹ ٹائم اشکان نے شوٹ پر اس کی کافی انسلٹ کی لگتا ہے بریک اپ ہو گیا۔
لیکن یہ تو ایک کیس ہے جو سامنے ایا ہے اور نہ جانے کتنے ہوں گے۔
ایسے بندے کریکٹر لیس ہوتے ہیں۔
جن کے پیچھے لوگوں کا ہجوم ہونا۔پھر انہیں بھی ٹیسٹ کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔کسی ایک پہ ٹکٹے نہیں مائی ڈیئر کزن۔۔
اخری جملے کو کھینچتے ہوئے اس نے کہا۔۔

زہیب پہلے سے ہی اس نیوز کے بارے میں جانتا تھا۔اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ فروا اس کے پیچھے پڑی ہے۔
مائی ڈیئر کزن یہ نیوز تم نے دیر سے سنی ہے۔وہ جو اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں کو موڑ رہا تھا۔ ٹیبل پہ پڑے موبائل کو اٹھایا۔۔
مناہل نے واقع غور کیا تو نیوز کچھ دن پہلے کی تھی۔۔۔

تم جو مجھ سے شادی کرنے کےخواب سجائے بیٹھے ہو نا میری ایک بات یاد رکھنا۔۔
اس نے موبائل کو پیچھے کیا۔
شاید پہلی بات میں مٹی ڈالنا چاہتی تھی۔

اس کے ادھے لفظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ زہیب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔
اس کی غصے سے اوجھل نگاہیں اسے جواب دے رہی تھی۔
وہ جو بولنے لگی تھی وہ بھول گئی تھی اور غصے سے زمین پر پاؤں مارے باہر کی طرف گئی۔۔
یہی بچی ہے ایک شادی کے لیے۔۔
زہیب نے پھر سے رخ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف کیا۔اور بالوں اخری ٹچ دے کر باہر اگیا۔۔۔۔
مناہل جو اس کے کمرے کے باہر ہی کھڑی موبائل کے ساتھ لگی تھی پھر سے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔۔۔
عجیب تماشہ ہے یار۔۔
نہ خود سکون سے بیٹھتی ہے نہ کسی کو بیٹھنے دیتی ہے۔
زوہیب اس کی ہر چال کو بہت اچھے سے جانتا تھا۔اور سنابل کے لیے نفرت کو بھی۔۔

__
اس گھر میں بڑوں کے فیصلوں کو کچھ نہیں سمجھا جاتا۔
فحرت بیگم دونوں ہاتھ سٹک پر جمائی سٹیٹ کھڑی ایک نظر محرو اور پھر خدیجہ کو دیکھتی بولی۔۔
اماں جان مناہل ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔
خدیجہ اسی بات پر اٹل تھی۔۔
میں کچھ نہیں سننا چاہتی۔۔
بس کچھ دنوں میں ہم ایک چھوٹا سا فنکشن رکھیں گے۔
یہ ہماری روایات ہیں۔
جب تک گھر میں ساتھی موجود ہے تو گھر کی بیٹی کو باہر نہیں جانے دیا جاتا۔
تم دونوں اب جا کے فنکشن کی تیاری کرو۔۔
پہلے اس سنابل سے اللہ اللہ کر کے جان چھڑوائی ہے۔
وہ غصے سے بولتی بیٹھ گئی۔۔
مہرو تو کبھی بھی ان کے سامنے نہیں بولی تھی۔
پر اج خدیجہ کی زبان کو بھی تالا لگ گیا تھا۔کیونکہ اگر اج وہ کچھ بولتی تو پہلے کی کی ساری محنت پہ پانی پھر جاتا۔۔
____
تو تم کھانا بھی بنا لیتے ہو۔۔
سنابل جیسے ہی کچن میں ائی تو وہ اسے سبزی کاٹتا ہوا نظر ایا۔ٹھنڈ کی وجہ سے سنابل نے خود کو شال میں لپیٹا ہوا تھا۔سرخ کلر کی شال تھی اور وائٹ کلر کی بوڑھوں والی کپ وہ بہت ہی کیوٹ لگ رہی تھی کسی ڈول کی طرح۔۔
اس نے جو جواب دینے کے لیے نظر اٹھائی ہی تھی کہ نظر اس پر رک گئی۔۔۔
ہممممممم۔
گلا صاف کرنے کی سستی ایکٹنگ کی اس نے۔۔
میں سب کر لیتا ہوں۔۔
لیکن اج سپیشل تمہارے لیے بریک فاسٹ بنا رہا ہوں۔اسے گھورتے ہوئے وہ بول رہا تھا۔۔۔
میرے لیے کیوں میں سپیشل نہیں ہوں۔۔۔
وہ ذہن میں الجھے سوالوں کو زبان دینا چاہتی تھی۔

تم بہت سپیشل ہو مس سنابل۔۔۔۔
اس کے پاس ایا اسے ایک جھٹکے میں اٹھا کے اس نے ٹیبل پہ بٹھایا۔
اش۔۔۔۔
اتنی جلدی میں ہوا تھا کہ اس کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔
ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔

پہلے سے بہتر ہو لیکن ابھی اور ارام کرنا ہے۔۔۔۔
ساری رات بڑا تنگ کیا ہے تم نے مجھے۔۔۔
ویسے کیا میں نے کچھ زیادہ ہی برا کیا تھا۔
وہ اس کی انکھوں میں دیکھتا بولا۔۔
تم ایسی گندی فلمیں کرتے ہو۔۔
جس میں یہ سب ہوتا ہے اس نے بھی منہ پہ جواب دیا۔۔
اس کے بعد سنتے ہی وہ ہنس پڑ رہا تھا۔تھوڑی ہنسی اسے اپنی حرکت پر ائی تھی۔وہ جو خود سکرپٹ تیار کیا تھا۔

ساری رات جیسے اس نے اس کی حفاظت کی تھی۔تھوڑا اپنا سا لگنے لگا تھا اسے۔۔۔

سر میں ائی کم ان۔۔۔۔
سفید شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس ایک لڑکی جو دروازہ کے پاس کھڑی تھی لیپ ٹاپ ہاتھ میں تھا نے دروازہ نوک کیا۔
وہ اس کی پرسنل سیکٹری تھی جو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور باقی سب کچھ بھی سنبھالتی تھی۔
یس اجاؤ۔۔
ایک نظر سنابل کو دیکھنے کے بعد اس نے انے کی اجازت دی۔
اس لڑکی نے بھی سنابل کو سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا۔گھر میں موجود سبھی ملازموں کے ذہن میں سوال بنا ہوا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے۔میر اشکان علی کے غصے کی وجہ سے کسی میں ہمت نہیں تھی سوال کرنے کی۔۔
سر وہ اپ کے اور فروا کے متعلق کافی نیوز وائرل ہو رہی ہیں کچھ دنوں سے اپ کے ریلیشنز کو لے کر بھی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ شاید اپ دونوں ریلیشن میں تھے۔
سنابل نے جو پانی کا گلاس اٹھایا تھا پینے کے لیے ابھی گھونٹ بڑا ہی تھا کہ پانی حلق میں اٹک گیا۔۔۔

وہ اس سے پہلے اسے جواب دیتا سنابل کی طرف بڑا دھیان سے ہاتھ اس کی پشت پہ رکھا۔۔۔۔
اگر اپ سٹیٹمنٹ دے دیں۔۔۔
فیفا صبح صبح تم مجھے یہ بتانے ائی ہو۔۔
کم ان۔۔۔۔۔۔ یہ پہلی نیوز ہے جو وائرل ہو رہی ہے۔۔۔
لوگوں کو تو بس باتیں چاہیے وہ غصے سے بولا۔۔۔
اور میں اس پہ کوئی بات نہیں کرنے والا۔۔

ہم بعد میں دیکھتے ہیں اس نے انکھوں سے جانے کا اشارہ کیا۔
تو وہ بھی لیپ ٹاپ فولڈ کیے باہر چلی گئی۔۔۔
___
میں مناہل سے شادی نہیں کر سکتا بابا میں صاف بتا چکا ہوں۔۔
اپ ایک ہی بات کو۔۔۔۔
اس نے غصے سے ہاتھ کمر پہ ٹکائے وہ تھوڑی دیر پہلے جو سمیر کے مقابل بیٹھا تھا ایک دم سے کھڑا ہوا ۔
اگر اپ یہ چاہتے ہیں کہ میں گھر چھوڑ کر جاؤں۔
تو مجھے صاف لفظوں میں بتا دیں لیکن مناہل سے شادی ہرگز نہیں کر سکتا۔
دادی جان کو بھی یہ بات سمجھا دیں۔۔
__
سلے کی محبت کے بارے میں صرف سنابل جانتی تھی۔
گھر میں پھیلتی اس نوک چوک سے وہ بہت ڈسٹرب ہو رہی تھی۔
ہاں اس نے کبھی احمد کو بتایا نہیں تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے لیکن وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔
اپنی محبت کو چھپایا تھا۔اس نے۔۔۔۔
اور میرا ماننا ہے۔کہ اگر محبت کو راز کی طرح رکھا جائے۔تو وقت کے ساتھ ساتھ شدت پکڑتی ہے۔اور ایسی محبتوں کی شدتوں میں کبھی کمی نہیں اتی۔سلے بھی اسی شدت کی لپیٹ میں اگئی تھی۔۔۔
__
کون ہے یہ فروا۔۔۔
خاموشی کو توڑتے ہوئے اس نے پوچھا دونوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے امنے سامنے۔۔۔
یہ لاسٹ پروجیکٹ میں نے اس کے ساتھ کیا تھا ماڈل ہے۔املیٹ کو توڑتے ہوئے اس کی پلیٹ میں ڈالا۔۔
اور جو بچا تھا وہ اپنی پلیٹ میں۔۔
اور جو نیوز۔۔۔
تو کیا تم جیلس ہو رہی ہو۔۔۔۔
اس کی اس بات سے سنابل کو بھی تھوڑا ہوش ایا۔کہ وہ کیسے ٹیپیکل بیویوں کی طرح سوال کیے جا رہی ہے۔۔۔
ویسے تھی تو وہ بیوی ہی۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی میں کیوں جیلس ہوں گی۔۔۔
بیوی ہو میری تم جلس نہیں ہوگی تو کون ہوگا۔۔
لیکن میں نے تمہیں شوہر نہیں مانا ابھی۔اشکان نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
تو رات کو کیا سمجھ کیا مجھ کے قبضہ جمایا تم نے ۔۔
تم خود ائے تھے میں نے دعوت نہیں دی تھی۔۔۔
____

کچھ ایسا کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔
کیا مطلب ہے ماما اپ کی اس بات کا میں ہرگز شادی نہیں کرنے والی۔مناہل نے لہجہ سرد کیا۔وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔اور بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بولی۔
مجھ سے اچھی تو سنابل رہ گئی۔۔
اپ نے دیکھا بھی ہے میر اشکان علی کا گھر۔۔
لاکھوں لڑکیوں کا خواب ہے وہ جو اس سنابل کو مل گیا غصے سے بیڈ سے اٹھی اور سلیپر پہننے لگی۔
پر میرا نام بھی مناہل ہے مناہل ماما۔۔۔
جیسے حویلی سے بعثت ہو کر نکلی تھی نا ویسے ہی میر اشکان علی کے گھر سے بعثت ہو کر نکلے گی۔
اور یہ بہت جلد ہوگا ماما۔۔
بیڈ پہ پڑی کیپ شال اٹھائی اور اسے پہننے لگی۔
خدیجہ جو سنجیدگی سے اسے سن رہی تھی۔
اسے اپنے ہی ٹینشن تھی کہ اگر مناہل نہ مانی تو کیا ہوگا۔
دیکھو اب اس سنابل کو اس کے حال پہ چھوڑ دو جو حویلی میں چل رہا ہے اس کا کوئی حل نکالو۔۔
دیکھو تم فی الحال ہاں کر دو میں کچھ ایسا کروں گی کہ زہیب سب کے سامنے انکار کرے۔
ماما اپ کا ہر پلان فیل ہوتا ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی ہوں۔
اور میری بات کان کھول کر سن لے۔
وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے خود کو سنوار رہی تھی دونوں ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی ہوئی۔
لفظوں کو گھسیٹتے ہوئے اس نے جملہ کمپلیٹ کیا تھا۔
اس سلے کو اپنی بھابی کبھی نہیں بناؤں گی۔۔
کبھی نہیں موم کبھی نہیں۔۔۔
ایک لفظ کو کئی دفعہ دہراتے وہ غصے سے باہر گئی۔۔
خدیجہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

______
میں اس کا انتظار کیوں کر رہی ہوں۔۔۔
سنابل کیا ہو گیا ہے تمہیں وہ غصے سے چلائی۔۔۔
کیا وہ ابھی بھی فروا کے ساتھ ہوگا۔۔۔۔

وہ نہ جانے کب سے اشکان کا انتظار کر رہی تھی۔جو ایک ٹی وی شو کے لیے نکلا تھا۔۔۔۔۔
لاسٹ پروجیکٹ تو اس نے اسی کے ساتھ کیا تھا اسی کے ساتھ ہوگا۔۔

وہ دونوں ہاتھوں سے کھیلتی کبھی دروازے کی طرف دیکھتی تو کبھی کھڑکی کی طرف۔۔۔

کہ ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ ایا اتے ہی اس نے اس کا دروازہ ناک کیا تھا۔۔
سنابل جو تھوڑی تھوڑی نیند میں جا رہی تھی ایک دم سے چونکی۔۔

بلو پینٹ کوٹ سفید شرٹ بالوں کو ایک سائیڈ پہ موڑا ہوا تھا۔۔
بیئر کو بلیچ کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔
شیپ تھوڑی بڑی تھی۔جو اس کے چہرے پہ کافی سوٹ کرتی تھی۔۔

یہ کیا ہے سنابل اس نے غصے سے کہا ۔۔۔
اور نظروں سے اس کا معائنہ کرنے لگا۔۔۔
اشکان نے اس کا سارا سامان اپنے روم میں شفٹ کروا دیا تھا لیکن وہ پھر بھی گیسٹ روم میں بیٹھی تھی جو دیکھ کر اسے شدید غصہ ایا تھا۔
یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
میں یہیں رہنے والی ہوں۔۔۔
مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا۔۔
اور تم زبردستی بھی نہیں کر سکتے

وہ دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے پہلے اسے دھیان سے سنتا رہا پھر اگے بڑھا۔کوٹ اتار کر اس نے پاس پڑی چیر پر رکھا۔۔۔

اور ایک جھٹکے میں اسے باہوں میں اٹھا لیا۔
اش۔۔۔۔۔کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل ساری رات تم نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔اور مجھے اپنے کمرے کے سوا کہیں نیند نہیں اتی۔اور اج رات پھر تمہاری ڈیوٹی نہیں دے سکتا میں۔اس لیے اپنے ساتھ لے کے جا رہا ہوں۔۔۔
اج بہت تھک گیا ہو۔۔۔۔
تمہیں خود میں چھپا کر سکون سے سونا چاہتا ہوں میں۔۔۔

اسے سمجھاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا وہ مسلسل احتجاج کر رہی تھی اس کے سینے پہ مکوں کی برسات کر رہی تھی۔۔
کمرے میں اتے ہی اسے بیڈ پہ لٹایا اس نے پیار سے۔۔۔
اسے قریب سے دیکھ کر مشکل سے کنٹرول کیا تھا اس نے
اور اپنی ٹائی کو ڈیلا کیا ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھ۔
سنابل نے فورا سے بلینکٹ اپنے اوپر کھنجا۔۔
اس کے ایسے دیکھنے سے وہ ان کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھی۔۔
میں یہاں نہیں سو سکتی۔۔۔
مجھے اکیلے سونے کی عادت ہے اٹھ کر بیٹھی وہ۔بلیکٹ کو زور سے پکڑا ہوا تھا کہ کہیں وہ کھینچ نہ لے۔۔۔
اچھا کل رات تو بڑے سکون سے سو رہی تھی میرے ساتھ۔۔۔
بلکہ میرے اوپر۔۔۔۔
اشکان نے ٹائی اتار کر ایک طرف پھینکی۔۔۔
تمہارے اوپر کب سوئی میں جھوٹے۔۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں کہا تھا۔۔
کہہ تو وہ منہ پہ بھی سکتی تھی۔پر لفظوں کو پی گئی۔۔
بڑے دھیان سے اس کی ایک ایک چال کو نوٹ کر رہی تھی۔۔
اشکان منہ سے تو محبت کا اظہار نہیں کیا تھا۔پر کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی تھی۔اسے یہ احساس دلانے میں کہ وہ کتنی ضروری ہے اس کے لیے۔
سو جاؤ بیگم۔۔۔
ابھی اپنی جان پہ کوئی زیادتی کرنے کا ارادہ نہیں ہے میرا۔
اس کے ڈر کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔

سنابل کے ذہن میں یہ چل رہا تھا کہ وہ فریش ہونے جائے گا تو وہ بھاگ جائے گی۔۔۔

12/12/2023

سنابل
ازقلم انیتا راجہ
Episode 5
سنابل کے احتجاج کے باوجود احمد اور سلے نے اسے دادی کے سامنے انے سے روکا وہ اب اپنے ہی کمرے میں تھی جو اس کا اور سلے کا تھا۔۔
کل سے اس نے ایک ہی سوٹ پہنا ہوا تھا سب سے پہلے اس نے وہ چینج کیا۔
یلو کلر کی شارٹ فراک پہنی تھی اس نے ساتھ میں یلو ہی دوپٹہ تھا۔

اسے تو کوئی ڈر نہیں تھا دادی کے سامنے سے۔
۔پر احمد اور سلے کی جان پہ بنی ہوئی تھی۔۔۔.
ان دونوں کو موت نظر ارہی تھی۔۔۔

اسے کمرے میں بند کر کے وہ کھانے کی ٹیبل پر ائے تھے۔۔۔
پردھیان پیچھے ہی اٹکا ہوا تھا۔۔
وہ ا جائے گی۔ سلے۔۔
ہاں احمد وہ ا جائے گی۔۔۔
وہ دونوں سرگوشی میں لگے ہوئے تھے ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے تھے۔

سنابل کو بھی یقین تھا کہ اب سب کھانے کی میز پر ہوں گے کیونکہ حویلی کے رولز کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔۔
جس کا نہیں بھی من ہو وہ بھی کھانے کی ٹیبل پر موجود ہوتا ہے۔۔

تو وہ بھی اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
شائستگی سے قدم اٹھاتی وہ دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی۔

سنابل۔۔۔
مناہل جو ابھی ہی افس سے ائی تھی کمرے کا رخ کرنے لگی تھی کہ اس کی نظر سنابل پر پڑی۔دونوں ہاتھ باندھے وہ اسے گھور رہی تھی۔۔۔
دونوں کے کمرے امنے سامنے تھے۔

لیکن یہ پہلی بار تھا کہ اسے حویلی میں دیکھ کر وہ خوش ہوئی تھی۔۔
اس کے من میں یہی چل رہا تھا کہ اشکان نے اسے واپس بھیج دیا۔ اتنا بڑا سپر سٹار اس کو اپنی ایز ا وائف کبھی بھی ایکسیپٹ نہیں کر سکتا۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو وہ قدم بڑھاتی اس کے پاس ائی ایک بازو میں بیگ لٹکایا ہوا تھا۔شال کو دونوں بازوں میں جکڑا ہوا تھا۔شفون کے کالے کپڑے پہنے تھے اس نے۔۔۔۔

کیوں میں یہاں نہیں ا سکتی۔سنابل کوئی خوفزدہ نہیں ہوئی۔وہ بھی دو قدم بڑھا کر اگے ائی۔۔

ا سکتی ہو میں نے ایسا کب کہا لیکن کیا اشکان بھی ایا ہے۔
اس نے نظر اگے پیچھے گھمائی۔
سنابل تھوڑا حیران ہوئی تھی۔

وہ دماغ میں لگی گڑھوں کو کھولنا چاہتی تھی۔اسے ابھی بھی سر سے لے کے پاؤں تک گھور رہی تھی۔۔

نہیں وہ نہیں ائے۔۔
میں ائی ہوں اور اب میں یہیں رہوں گی میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔

سنابل۔۔۔۔
دادی کی روب دار اواز نے دونوں کو ان کی طرف متوجہ کیا۔
دونوں پلٹی۔

سٹک کو انہوں نے زمین پہ زور سے مارا۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
وہ پاس اتے ہوئے پوچھ رہی تھی چہرے سے غصہ صاف نما تھا۔۔
میں نے پوچھا کیوں ائی ہو۔۔
شدید غصے میں انہوں نے پوچھا تھا۔۔
وہ پہلے تو سہمی لیکن پھر سے ایٹیٹیوڈ میں ائی۔

اس حویلی میں میرا بھی حق ہے میں ا جا سکتی ہوں۔اور میں اب اگئی ہوں اور میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔

دادی کی اواز سن کر باقی سب بھی جمع ہو گئے تھے۔
سلے اور احمد دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے کہ اب ان کی بھی شامت ہے۔

مناہل اسے حویلی میں ہی رکھنا چاہتی تھی۔وہ اگے بڑھی دادی جان کو تھامنے کے لیے پردادی جان نے اسے بھی زور سے جھٹکا۔
میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی۔

تم نہیں جاؤ گی۔۔۔فرحت بیگم نے تنزیہ انداز میں کہا۔
اور غصے سے اس کی طرف بڑی۔۔

فرحت بیگم نے اسے بازو سے پکڑا۔۔۔
مناہل نے بھی روکنے کی کوشش کی۔۔

دادی جان۔۔فرحت بیگم کی گرفت بہت مضبوط تھی تو اسے درد محسوس ہوا۔
دادی جان اپ یہ کیا کر رہی ہیں سلے اور احمد بھی بھاگے ائے تھے۔۔
دونوں نے اگے بڑھ کر اسے چھڑوانے کی کوشش کی تھی۔

سمیر اور زوہیب کہیں کام کے لیے باہر گئے تھے۔
وہ بالکل ٹھیک کر رہی ہیں احمد کو خدیجہ نے پکڑا اور پیچھے کیا۔۔
تم اس معاملے میں مت پڑھو۔تمہارا باپ گھر نہیں ہے اگر ایا تو بہت پٹو گے۔خدیجہ نے شائستگی سے کہا۔اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے پیچھے کیا۔۔
اس کی شادی ہو گئی ہے اسے جانے دو۔اشکان کا گھر ہی اب اس کا گھر ہے۔
سنابل کا احتجاج کسی کام نہیں ایا تھا۔۔۔
پلیز چھوڑ دیں دادی جان پلیز۔۔اس کا دوپٹہ ایک طرف لٹک گیا تھا۔۔
دادی جان نے اسے بازو سے پکڑ کر حویلی سے باہر پھینکا۔۔

تمہارے جیسی بدچلن لڑکی کی اس حویلی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔
میں نہیں چاہتی تمہارا اثر میری باقی پوتیوں پر بھی پڑے

سنابل کی انکھ میں انسو اگئے تھے۔ انسوؤں سے تر انکھوں سے وہ سوالیاں نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔زمین پر زور سے پٹاہا گیا تھا اسے ماتھے پہ گہری چوٹ لگی تھی۔۔۔

سلے اور احمد بھی اس کے درد کو اس جیسا ہی محسوس کر رہے تھے۔ان کا احتجاج بھی کسی کام نہیں ایا تھا دادی نے حویلی کا دروازہ بند کر دیا تھا۔۔
اور ملازموں کو بھی تنقید کر دی کہ حویلی کا دروازہ اب نہ کھلے۔

پلیز دروازہ کھولیں سنابل نے بہت دفعہ ناک کیا تھا۔
دروازے کو زور زور سے پیٹا تھا۔
پر کسی پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

پر اس نے نوٹس کیا تھا کہ اب وہ تماشہ بن رہی ہے سب کے سامنے اتے جاتے لوگ عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

____
زہیب کو فون کرو۔۔
کمرے میں اتے ہی سلے نے احمد کو کہا۔وہ بھی پریشان تھی۔۔

لیکن اس کے کہنے سے پہلے ہی احمد نے فون ملایا تھا۔۔

پر وہ شہر سے باہر تھے۔
وہ بتانے والا تھا کہ زہیب نے اسے بتایا تھا کہ وہ اج رات نہیں ا پائے گا۔۔

تو وہ بھی کہتے کہتے رک گیا کہ پھر وہ ٹینشن لے گا۔
اور کیونکہ وہ شہر سے باہر تھا۔تو پھر انے میں جلدی کرے گا۔

__
وہ ویڈیو تم نے نیٹ پہ ڈالی تھی نا۔
کیوں۔۔۔
تمہاری اس جیپ حرکت نے کسی کی زندگی تباہ کر دی ہے وہ چیخا تھا۔۔
میرب تھر تھر کانپ رہی تھی۔
کیونکہ وہ میر اشکان علی کے غصے سے اچھے سے واقف تھی۔۔۔

ا۔۔۔ش۔۔
اسے بالوں سے پکڑ کر اسے قریب کیا تھا۔پر لڑکی تھی اسی لیے شاید پھر سے زمین پر پٹہا دیا۔۔
تین مہینے جیل میں سڑو گی تو اکل ٹھکانے ا جائے گی۔۔
اسے شدید غصہ تھا اس پر اگر لڑکا ہوتا تو ابھی تک اوپر ہوتا۔
وہ پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔۔
وہ لڑکی میرب بس روئے جا رہی تھی۔۔
غصے سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر باہر اگیا۔
اس نے وائٹ شرٹ کے اوپر گرے واسکوٹ پہنی تھی۔
کوٹ اوپر سے اتارا ہوا تھا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینکا ہوا تھا۔

مجھے فون کرنا چاہیے اسے۔۔
وہ صبح سے اسی کشمکش میں تھا۔
لیمر گنی میں سوار وہ ہینڈل پہ ہاتھ جمائے بیٹھا تھا۔۔

ذہن میں وہی سوار تھی۔
اپنی فیلنگز کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
ایسا فکر مند پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
بلکہ عورت ذات میں اس کی کبھی دلچسپی رہی ہو نہیں تھی۔
فروا جیسی نہ جانے کتنی ماڈلز اس کے پیچھے منڈلاتی تھی۔اور فرینڈز کا تو حساب کتاب نہیں تھا۔
_______

ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد۔۔
سنابل کو اب
اشکان کے گھر کے علاوہ کوئی منزل نہیں دکھ رہی تھی۔۔
اور رات بھی بہت ہو گئی تھی۔

وہ بس اب سونا چاہتی تھی۔اور جاگے رہنے کی ہمت نہیں تھی شاید اس میں۔۔۔
اس کا موبائل بند ہو چکا تھا ورنہ وہ زہیب کو کال کرتی ۔

وہ بالکل اشکان کے گھر کے باہر کھڑی تھی۔پر اندر جانے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ وہ تو کافی باتیں سنا کر گئی تھی۔۔
اب اگر ایسے جائے گی۔تو اسے سیلف رسپیکٹ کی دھجیاں اڑتی نظر ارہی تھی۔۔

قدم بڑھاتی وہ دروازے کے پاس ائی تھی۔۔۔
یہ گارڈ ابھی تک نہیں سویا۔اس نے غصے سے پاؤں زمین پر مارا تھا۔

کیونکہ ٹھنڈ بہت زیادہ تھی اور باہر رہنا اس کے لیے مشکل ہو رہا۔اور پھر ماتھے کی چوٹ بھی۔
اس نے ایک گہری سانس لی۔

تم یہاں سے گئی تو وہ دیکھ لے گا۔یا پھر گارڈ اس کو بتا دے گا سنابل وہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔ا تنی دیر میں اس کا دھیان اسی دیوار پہ گیا جہاں سے وہ پہلے بھی کودی تھی۔۔۔
اس کے چہرے پہ خوشی کی لہر ائی تھی۔

۔
بنا کچھ سوچے سمجھے اس نے دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے پہلے وہ جوتے اندر گرا چکی تھی۔
اونچائی کے لیے نیچے اس نے کچھ اینٹیں رکھی تھی۔اسی دن جب وہ پہلی دفعہ کودی تھی وہ ابھی تک وہیں پڑی تھی۔اگلے ہی لمحے وہ دیوار پر چڑھ گئی تھی۔
اس نے ایک نظر گارڈن کا معائنہ کرتے ہوئے۔رخ باہر کی سائیڈ کیا زمین پر پاؤں رکھنے کے لیے اس نے پاؤں لٹکائے ہی تھے کہ اسے اپنی کمر پہ کسی کے ہاتھ محسوس ہوئے۔اگلے ہی لمحے اس نے رخ اگے کیا۔اب اس کے دونوں ہاتھ اشکان کے کاندھے پہ تھے۔اشکان نے بھی نظر بھر کر دیکھا اس نے مضبوطی سے اس کی کمر کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔

کیا بدتمیزی ہے یہ نیچے اتارو مجھے ۔۔۔
اس کے کاندھے پہ دو مکے برساتے اس نے کہا۔۔
پراشکان مسلسل اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
اس کے بال کھلے تھے تو دونوں طرف سے اگے اگئے تھے۔اس کا یہ سراپہ اسے پاگل کر رہا تھا۔یہ قاتل نگاہیں یہ گنیں زلفیں۔۔۔۔۔

اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح داخل ہونے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔اسے نیچے اتارتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔
بے خودی میں بہکنے سے روک لیا تھا اس نے خود کو۔

اپنا ہی گھر۔۔۔۔
اس کے نیچے اتارتے ہی اس نے شرٹ کو ٹھیک کیا۔
کچھ زیادہ ہی غلط فہمیاں ہو رہی ہیں تمہیں۔۔۔
میں کسی میں انٹرسٹڈ ہوں۔
وہ اس کے اشارے کو سمجھتے ہوئے بولی۔
تو یہ بیکار کی امیدیں پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس کی بات پہ وہ تھوڑا حفا ضرور ہوا تھا لیکن اگلے ہی لمحے چہرے کے تاثرات بدل چکے تھے۔۔
اخر کار وہ بھی میرشکان علی تھا۔
اتنی جلدی ہتھیار نہیں پھینکنے والا تھا۔

مس سنابل سلطان۔۔۔
دو قدم بڑھا کے وہ اگے ایا تھا دونوں ہاتھ کمر پہ ٹھکائے۔
میر اشکان علی ویسے تو فالتو کی امیدیں نہیں پالتا۔۔۔

لیکن اگر پال لے۔تو اسےحقیقت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔۔اس کے قریب جھکتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔
ماتھے پہ بل ڈالتے وہ اس کی بات سن رہی تھی۔۔

یہ تمہاری فلم یا ڈرامہ نہیں ہے جو ڈائیلاگ مار کے امپریس کر لو گے۔
اس نے تیزی سے رخ بدلا ہی تھا کہ ایک دم سے جھٹکا لگا۔سر کی چوٹ کی وجہ سے۔
اور وہ پھر سے اس کے ساتھ ٹکرائی۔۔۔۔

سنابل وہ جو اسے جواب دینے والا تھا ایک دم سے گھبرایا اور اسے باہوں میں تھاما۔۔۔
پرسنابل نے اگلے ہی لمحد کو سنبھال لیا تھا۔
ٹھیک ہوں میں چھوڑو اس کے بازوں کو جھٹکے اس نے اپنا رخ پھر اس کی طرف کیا تھا۔
کہاں ٹھیک ہو تم
۔
یا اللہ۔۔ہونٹوں کو دانتوں کے بیچ پیستے ہوئے اس نے کہا۔
دھیان اس کے ماتھے کی چوٹ پہ گیا تھا۔۔
یہ کس نے کیا اسے ایک جھٹکے میں قریب کرتا بالوں کو پیچھے کیا۔تمہیں ضرورت کیا تھی وہاں جانے کی۔۔
اس کے بتائے بغیر وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کس کا کام ہو سکتا ہے۔

سنابل اس کے اچانک بدلاؤ پہ حیران ہوئی تھی۔۔۔
شششش(اس کے ہاتھ لگاتے ہی سنابل نے انکھیں بند کر کے ہونٹوں کو دانتوں تلے میچا)
یا اللہ اگلے ہی لمحے اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔

____

تم لوگوں نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔
اگر ماما فون نہ کرتی مجھے تو کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ سنابل کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔

گاڑی کو ایک سائیڈ پہ پارک کر کے وہ گاڑی سے باہر ایا تھا کیونکہ گاڑی میں اس کے چچا بھی موجود تھے۔۔

سنابل کہاں گئی ہے تم گھر میں چوڑیاں ڈال کر بیٹھ گئے احمد میں صبح پہنچوں تو وہ مجھے گھر ملے۔۔۔

زہیب نے غصے سے موبائل کاٹا اور جیب میں ڈال لیا۔
اس کے ماتھے کے بل واضح تھے۔بلیک کاٹن کی قمیض کے نیچے اس نے بلو جینز پہنی تھی۔استینوں کو کونیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔
ایک نظر موبائل کو پھر ایک نظر دور کھڑی گاڑی کو دیکھا۔جہاں سمیر اور ریحان منتظر تھے۔پھر گاڑی کی طرف پلٹا۔
___
چوٹ زیادہ گہری نہیں ہے۔
تھوڑی دیر ارام کریں گی تو انشاءاللہ بہتر محسوس کریں گی۔
وہ اشکان کا فیملی ڈاکٹر تھا۔جسے اس نے فورا ہی بلا لیا تھا۔
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر کو سی اف کر کے وہ دوبارہ پلٹا۔۔

وہ سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
تم نے مجھے ابھی تک جواب نہیں دیا۔
تم نے اج جھوٹ کیوں بولا میرے اور تمہارے ریلیشن کے بارے میں۔۔
کمرے میں اتے ہی اس نے سوال کیا۔
یہ بات صبح سے اس کے ذہن میں کھٹک رہی تھی۔
یا وہ اپنے اندر اٹھتے سوالوں کا جواب چاہتا تھا۔

کیا میں سو سکتی ہوں۔
میں بہت ڈسٹرب ہو۔۔۔
اس نے بلینکٹ کو اوپر کھینچا۔۔

اور اپنا رخ بدل لیا۔۔
وہ کمرے سے بالکل بھی نہیں جانا چاہتا تھا۔
شاید اس کے پاس ہی رہنا چاہتا تھا۔۔
ویسے تھی تو وہ اس کی بیوی پر حق کیسے جمائے نہیں پتہ تھا اسے۔

۔
__
میری بیوی کو ہاتھ کیوں لگایا میں نے بس یہی پوچھا ہے۔
گستاخانہ انداز میں فرحت بیگم سے مخاطب تھا وہ۔۔

اگر بیوی ہے نا تو اسے گھر کی چار دیواری میں رکھو۔
ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا میں نے۔
جس دن یہ ہاتھ اٹھ گیا نا۔تو اگلی سانس نصیب نہیں ہوگی۔ سٹک کے اشارے سے انہوں نے روبدار لہجے میں کہا۔۔۔
احمد اور سلے حیرانگی سے اشکان کو دیکھ رہے تھے۔کہ ایک ہی دن میں کیا جادو کر دیا اس پہ سنابل نے۔
اللہ جی ایسا چاہنے والا ہر لڑکی کو ملے اس نے تنزیہ انداز میں احمد کی طرف دیکھا۔
اسے سگنل دیے تھے اس نے۔

اپ کی عمر کا لحاظ کر رہا ہوں۔
سنابل بیوی ہے میری۔۔۔
ائندہ بس دھیان کیجیے گا نیکسٹ ٹائم میں عمر نہیں دیکھوں گا۔اس کے لہجے میں انتہا کا غصہ تھا۔۔۔
لگتا ہے تم اپنی بیوی کے ماضی کو نہیں جانتے۔
مناہل نے تنز کرتے ہوئے کہا اور ایک قدم اگے بڑھی۔
اس کے پیدا ہوتے ہی۔اس کی ماں ۔۔۔
بس۔۔۔۔۔
اشکان نے غصے سے ہاتھ اوپر کیا۔
مجھے اس کے ماضی سے کوئی غرض نہیں ہے۔

اور کوٹ کو زور سے اگے کی طرف کھینچا اس نے۔ایک ایک نظر سب پہ گھمائی۔انکھوں میں شدید غصہ تھا۔

گاڑی کے پاس اتے ہی اس نے زور سے مکہ گاڑی پہ مارا تھا اور پھر سے ایک دفعہ حویلی کی طرف دیکھا تھا۔اس بے بسی سے اسے بہت نفرت تھی۔یہ بے بسی ہی تو تھی۔جس نے اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا تھا۔اور ابھی لحاظ صرف اس نے عمر کا کیا تھا۔
______
تم ابھی تک سیٹ پر نہیں ائے۔
فروا نے فون کان کے ساتھ لگایا۔اور ٹہلنے لگی جیسے لمبی بات کی امید ہو۔۔۔

تم ڈائریکٹر ہو یا پردیو سر۔۔۔
اشکان سیٹ کے لیے ہی ریڈی ہو رہا تھا۔صبح کے پانچ بجے تھے پر مارننگ شوٹ تھی تو اس لیے۔۔
تم تو غصہ ہی کر گئے۔
پھر اسے بنا کوئی جواب دیے اشکان نے فون کاٹ دیا۔
پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے یہ خود کو۔
فروا کو شدید غصہ ایا تھا۔۔
لیکن اس نے بھی ایک جاسوس عاشقان کے گھر میں چھوڑا ہوا تھا۔صفدر جو ملازم تھا اشکان کا۔
لیکن ابھی تک اسے خبر نہیں ملی تھی سنابل کی۔
__________

یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔
سنابل کی اواز باری ہو چکی تھی۔صبح صبح کی بیداری سے۔اچانک انکھ کھلی تھی اس کی۔

تقریبا پانچ بجے تھے جب سلے کالز پہ کالز کیے جا رہی تھی۔
کالز تو وہ رات سے کر رہی تھی پر وہ ٹیبلٹ لے کر سوئی تھی تو بالکل بے ہوش ہو چکی تھی۔
اشکان حویلی ایا تھا اور اس نے تماشہ کیا۔
اور اب پوری حویلی میں بات پھیل چکی ہے کہ وہ پہلے ہی تمہاری زندگی میں تھا۔اور دادی جان کی تو بات ہی مت پوچھو اتنا غصہ۔۔۔۔
اور مناہل تو
اس نے بلینکٹ کو ایک جھٹکے میں پیچھے گرایا۔
ہاں اور دادی جان کو یقین ہو گیا ہے کہ تمہارا اور اس کا پہلے سے افیئر تھا۔اتنی سی بات سن کر سنابل نے فون بیڈ پہ گرایا تھا اور باہر کی طرف بھاگی۔

__
وہ شرٹ لیس ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا باڈی سپرے سپرے کر رہا تھا۔پردھیان اسی کی طرف تھا۔۔۔
جب اس نے اچانک دروازہ کھولا۔۔۔
اسے شرٹ لسں دیکھ کر وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی اور اپنا رخ پیچھے کی طرف موڑا۔۔۔
غصہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈا ہوا تھا۔

اشکان کے لیے یہ بات اتنی عجیب نہیں تھی لیکن اس کی گھبراہٹ اور شرم کو دیکھتے ہوئے اس نے پیچھے سے شرٹ اٹھائی اور اسے پہننے کے بعد بٹن بند کرنے لگا۔
کسی کے کمرے میں داخل ہونے کے کچھ رولز ہوتے ہیں۔۔
انہیں فالو کر لو گی۔تو اتنا شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔
اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا تھا اس نے۔
وہی رات والی فراک پہنی تھی۔۔۔۔

پہن چکا ہوں۔۔۔۔
وہ ابھی تک رخ بدلے کھڑی تھی تو اس نے بتانا مناسب سمجھا۔
وہ اسے اہٹ اہٹ محسوس کر رہی تھی۔پر اس کی بات پر یقین نہیں تھا اسے جب اسے احساس ہوا کہ وہ شرٹ پہن چکا ہے تو ایک دم سے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔
کسی کی زندگی میں داخل ہونے کے بھی کچھ رولز ہوتے ہیں۔جو تمہیں بھی فالو کرنے چاہیے۔

تم کیوں گے حویلی اسی لیے تاکہ سب کو یقین ہو جائے کہ اس سے پہلے بھی میں تمہارے ساتھ ریلیشن میں تھی۔

شرٹ کا اخری بٹن بند کرتے ہوئے وہ اس کی طرف مڑا۔
سنابل کو لگا کہ وہ اس کے پاس ا رہا ہے۔پر وہ اسے کراس کر گیا ۔ اس نے اپنا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پہ رکھا اور پھر اگلے ہی لمحے اسے لوک کر دیا۔۔۔

یہ ۔۔ک۔۔کیا۔۔
وہ گھبراتے ہوئے بولی یہ کیا کر رہے ہو۔
اب وہ گھبرا گئی تھی بہت زیادہ
پر بات یہاں ختم نہیں ہوئی تھی وہ قدم بقدم پھر اس کے قریب جا رہا تھا اور وہ بھی پیچھے پیچھے ہو رہی تھی۔۔

ایک دیوانہ پاگل۔جس طرح صبح اس نے اشارے سے کہا تھا اس نے اسی طرح کا کہا۔
جس نے زبردستی اس سے شادی کی ہو۔۔
بے پناہ محبت کرنے والا
اس کی انکھوں میں دیکھتا وہ بول رہا تھا۔

اس کے اشارو پہ ناچنے والا۔
جب اسے پتہ لگے گا۔
کے اس کی محبوبہ کو کسی نے تکلیف پہنچائی ہے۔
اس کا ری ایکشن ایسا ہی ہوگا نا وہ جو دیوار کے ساتھ جا کے لگی تھی اس نے بھی اپنا ایک ہاتھ دیوار پہ رکھا۔
اس کی گرم سانسیں محسوس کر رہا تھاوہ۔۔۔

سنابل کو یقین ہو گیا تھا کہ اس نے طنز کیا ہے۔
پراس کی حرکت اسے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔
۔
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔
ہٹو ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر اس نے اسے پیچھے کرنا چاہا۔پراس پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
یہ ۔۔۔کیا کر رہے ہو۔
کمرے میں انے سے پہلے سوچنا تھا نا۔کہ اپنے شوہر کے کمرے میں جا رہی ہو وہ بھی بنا ناک کیے ۔کچھ بھی ہو سکتا۔۔
ہے۔۔وہ بس بے خودی میں بولتا جا رہا تھا۔۔۔

ایک ہاتھ اس کا دیوار پہ تھا دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو پیچھے ہٹا کر اس کی چوٹ کو دیکھا۔
پہلے سے کافی بہتر ہے۔۔
اور پھر اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا۔
اسے بہکانے کا ڈر تھا۔
یہ گہری نشیلی انکھیں جن میں کہیں نیند چھپی تھی اور بھی دلکش لگ رہی تھی۔
خوف سے نکھرتی رنگت

اتنی سی بات کر کے وہ فورا دور ہوا اور استین کے بٹن بند کرنے لگا۔
اور رہی بات حویلی کی۔اس نے رخ بدلا
تو اپنی حویلی والوں کو سمجھا دو کہ ایسی گستاخیوں کی عادت ڈال لے۔میں پہل نہیں کرتا سنابل بٹن تسلی سے بند کر کے وہ اس کے مقابل کھڑا ہوا۔

۔پر اگر کوئی پہل کر لے۔تو پھر میں اسے باری نہیں دیتا۔۔

میری بات سنو وہ بھی غصے سے بڑکی۔۔
زہیب بھائی صبح ائیں گے۔اور سمیر چاچو بھی میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی۔تمہیں میں نے پہلے بھی سمجھایا تھا۔
کہ زیادہ امیدیں مت باندھو مجھ سے میں کسی میں انٹرسٹڈ ہوں اور میں شادی بھی اسی سے کروں گی۔
اچھا۔۔۔
ویسے سنگل میں بھی نہیں ہوں۔۔۔
وہ جب تنزیاں ہنستا تھا تو اس کی ایک سائیڈ پر ڈمپل پڑتا تھا۔جو دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔

سنابل نے دلچسپی لیتے ہوئے کان اس کی طرف درے۔
اچھا تو کیا کوئی گرل فرینڈ ہے تمہاری۔

استین کے بٹنوں کو تسلی سے بند کرتے ہوئے اس نے روخ اس کی طرف کیا۔۔
نہیں ایک عدد بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔ سنابل سلطان۔۔۔
سنابل کو شدید غصہ ایا تھا اس پہ۔۔۔
میں نہیں ہوں تمہاری بیوی ڈیورس دینی پڑے گی تمہں۔۔۔
زہیب بھائی تمہارا حساب کریں گے۔
اس نے ہاتھ ڈور ہینڈل پہ رکھا ہی تھا۔
کے اشکان نے اسی ہاتھ سے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔
اب وہ دروازے کے ساتھ لگی تھی اور وہ بالکل اس کے قریب۔۔
میرے اور اپنے معاملے میں کسی تیسرے کو لانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اپنی سائیکو حویلی سے دور رہو تو اچھا ہے۔
بیوی ہو میری۔

میں کوئی حق نہیں جتا رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم بالکل ہی لاپروا ہو جاؤ۔۔
سمجھنے کے لیے بس ٹائم دے رہا ہوں۔
تمہیں بھی اور خود کو بھی۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس نے اپنا رخ بدلا تھا۔وہ اس کی پشت کے پیچھے تھی۔
یہ سب بہت اچانک ہوا ہے سمجھنے میں ٹائم لگے۔بس اسی لیے چھوٹ دے رہا ہوں۔اس کا لہجہ سرد تھا بہت ہی زیادہ۔
تمہاری ساری باتوں کے جواب تمہں صبح مل جائیں گے اس نے غصے سے دروازہ کھولا اور باہر گئی ۔۔۔

____

اپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا دادی جان۔۔
یہ گھر سنابل کا بھی ہے۔
اپ کیسے اسے بے گھر کر سکتی ہیں۔۔
کیا وہ اپ کے بیٹے کی نشانی نہیں ہے۔
نہیں ہے نہیں ہے نہیں ہے۔۔
میرا اس لڑکی سے بس نفرت کا رشتہ ہے۔صرف اور صرف نفرت کا۔دوبارہ اس گھر میں اس کا نام نہیں سنو گی میں۔
میرے بیٹے کو کھا گئی ہیں یہ ماں بیٹیاں۔

اماں جان۔۔۔۔
سمیر کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ فرحت بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا حکم دیا۔
___
ایک تو اماں جان کے رولز بہت زیادہ سٹک ہیں۔
جیسے گھر نہ کوئی ہوسٹل ہو۔

مناہل غصے سے اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی خدیجہ بھی وہیں موجود تھی۔
امی جان وہ سب میں ڈیزرو کرتی ہوں جو اس سنابل کے پاس ہے۔میں تو اس لمحے کو کوس رہی ہوں جب میں نے دادی جان کو ویڈیو دکھائی تھی۔اور تو اور پتہ نہیں کیا جادو کر دیا ہے اس نے۔وہ ٹیلتی ہوئی ان کے مقابلہ کے بیٹھی۔میر اشقان علی نے مجھے باتیں سنائی۔۔
اسے یہی صدمہ تھا۔

میری جان تم فکر کیوں کرتی ہو۔۔
بس ایک دفعہ یہ گھر اور پراپرٹی تمہارے ابو کے نام ہو جائے۔پھر اس دادی کو بھی ٹھکانے لگا دیں گے۔۔

اور رہی بات سنابل کی۔۔۔
تو اس کے لیے بھی میرے پاس بہت اچھی پلاننگ ہے۔
اس کی ماں بھی اسی جیسے تھی۔
تمہاری نانی مجھے اس گھر کی بہو بنانا چاہتی تھی۔
پر اس نے میرے حق پہ ڈاکا مار لیا تھا۔۔

لیکن میں بھی سکون سے نہیں بیٹھی تھی۔
اس کے پرانی عاشق کو اس کے پیچھے لگا دیا تھا۔
لیکن اسے یہ حویلی مل گئے تھی۔تو عاشق کی باتیں بھی اس پر اثر نہیں کی تھی۔

اور وہ جب اسے اغوا کر کے لے گیا۔تو وہ بیوقوف پھر سے حویلی میں انا چاہتی تھی۔پر اس کے عاشق کو کہہ کے میں نے اسے مروا دیا۔۔
لیکن اس کی نحوست پھر بھی میری زندگی سے نہیں گئی تھی۔سلطان سے میری شادی ہونے ہی والی تھی کہ اسے ساری حقیقت کا پتہ لگ گیا۔پھر تمہاری نانی نے اسے بھی لمبی نیند سلا دیا تھا۔پھر میری شادی تمہارے باپ سے کر دی گئی۔اس سے پہلے کہ سلطان کچھ بولتا یا کسی کو بتاتا۔اس سے پہلے ہی میں نے سنابل کو یتیم کر دیا تھا۔
اور یہ سب تمہاری نانی نے میرے لیے کیا تھا۔
میں بھی اپنی بیٹی کو بے چین کرنے والے کو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دوں گی۔

وہ بہت دلچسپی سے سن رہی تھی۔
امی جان اگر کبھی بابا کو یہ سب پتہ لگ گیا۔
بیٹا 20 سال سے میں نے کسی کو کانو کان خبر نہیں ہونے دی۔تو اب کوئی کیسے جان سکتا ہے۔اس کہانی کے سارے کرداروں کو میں بہت پہلے ہی اوپر پہنچا چکی ہوں۔
اب رہی بات دادی کی اور سنابل کی تو ان کا بھی وقت جلدی ا جائے گا۔
_____
زوہیب پہلے تو شدید غصے میں تھا لیکن جب سلے اور احمد نے بتایا کہ میر اشکان علی یہاں ایا تھا۔سنابل کے لیے۔
تو اسے تھوڑا سکون ملا تھا۔
پر پھر بھی وہ جا کر اسے ایک دفعہ دیکھنا چاہتا تھا۔
سمیر بھی شدید غصے میں تھا۔پر وہ اس کی ماں تھی کیا کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
گھر کا سارا بزنس ریحان کے ہاتھ میں تھا۔سمیر کو کچھ نہیں سمجھا جاتا تھا گھر میں۔۔۔
حالانکہ وہ بڑا تھا۔
____

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aneeta Raja posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category