15/12/2023
سنابل
ازقلم انیتا راجہ
Ep7
کافی ٹائم گزر گیا تھا لیکن سنابل ابھی بھی کانپ رہی تھی۔۔۔
اشکان کی قربت کا خوف اسے کھائے جا رہا تھا۔۔
اچانک دروازہ ناک ہوا اس کے ہاتھ میں موبائل تھا جو ایک دم سے اس نے بیڈ پہ گرایا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔
ویسے تو وہ ڈرتی کسی سے نہیں تھی۔پر یہ پہلی بار تھا جو اتنی خوفزدہ ہوئی تھی۔۔
اشکان نے لڑکی کو ٹرے بیڈ پہ رکھنے کا کہا تو وہ رکھ کر باہر جا چکی تھی۔۔۔
پہلے بھی دو تین دفعہ وہ کھانا بھیج چکا تھا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔
مجھے کچھ نہیں کھانا۔دوپٹے کو ہاتھوں میں فولڈ کرتے اس نے کہا۔۔۔
لے جاؤ اس نے ٹرے کو تھوڑا اگے گھسیٹا۔۔۔۔
اشکان نے ایک نظر ٹرے کو پھر اسے دیکھا۔۔
وہ دروازے کے پاس کھڑا تھا دو قدم اٹھا کر اگے ایا۔۔
اس کے احتجاج کا اشکان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
تم خود کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔
لہجہ کافی سرد تھا۔
پر اشکان پر شاید کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔
گرین شرٹ تھی لائننگ والی نیچے وائٹ چینز جس سے نیچے سے فولڈ کیا ہوا تھا۔شرٹ کے کالر دونوں طرف سے کھڑے تھے۔
بیڈ پہ جگہ بنا کر بیٹھا۔اور بنا تکلف نوالہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالنے ہی لگا تھا کہ اس نے رخ بدلا۔۔۔
تم نے زہیب بھائی کو ایسا کیا کہا ہے کہ وہ میری کال بھی نہیں اٹھا رہے۔ذہن میں گردش کرتے سوالوں کو اس نے زبان دی۔۔۔
لہجہ حاصہ سخت تھا۔ہر لفظ کو کھینچ کے کہا تھا اس نے۔
میں نے کہا ہے سنابل میری بیوی۔۔
اور اگر میری بیوی کو کسی نے انکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں۔۔۔
اس نے دانتوں تلے زبان کو دبایا اور ہنسی کو مشکل سے کنٹرول کیا۔۔۔
وہ شاید اس کا موڈ اچھا کرنا چاہتا تھا۔وہ دیکھ سکتا تھا کہ کیسا اترا ہوا منہ لیے بیٹھی ہے۔
دیکھو میں نے تمہیں فورس نہیں کیا تھا۔
تم نے خود حامی بڑی تھی اس ٹریکٹر کے سامنے۔
میں نے تو بس مدد کی ہے تمہاری۔
اس کے بدلتے ری ایکشن دیکھ کر سنابل تھوڑا پریشان ہوئی۔۔۔۔
اور کتنی اسانی سے وہ کلیئر کر رہا تھا اتنی بڑی بات کو۔
اشکان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
اشکان نے زبردستی اسے کھانا کھلایا۔۔
اور ضرورت سے زیادہ ہی کھلایا تھا اس نے۔
____
زہیب بھائی سنابل کی کتنی کالز ائی ہیں۔
اپ نے اٹھائی نہیں۔
اس نے حیرانگی سے ایک نظر موبائل کو دیکھا پھر زہیب کو۔
زہیب سلے سے زیادہ سنابل سے پیار کرتا تھا۔بہنوں سے بھی بڑھ کر۔۔
لگتا ہے میری کل والی باتیں تم لوگوں کو سمجھ میں نہیں ائی احمد تھوڑے فاصلے پہ بیٹھا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔
زہیب کے سرد لہجے نے اسے بی چونکایا۔۔۔
کچھ ٹائم کے لیے سنابل کو اس کے حال پہ چھوڑ دو۔۔
ان دونوں کو سپیس دو۔موبائل کو لہراتے ہوئے دونوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
کیونکہ اسے یقین تھا وہ پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔
وہ تو اشکان کی کوٹھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
اب تم دونوں بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کرو گے۔۔۔
موبائل کو بیک پاکٹ میں ڈالا اور سیڑھیوں کا رخ کیا۔
چھوڑو اسے سلے ذرا یہاں انا۔۔۔
اچھا وہ تو تمہاری بیسٹ فرینڈ تھی تمہیں بھی فکر نہیں ہے۔
اسے پہلے زہیب کی باتوں پہ غصہ تھا پھر احمد کی لیکن پھر بھی وہ اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی تھی۔
یہ دیکھو ذرا اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین سلے کی طرف کی جہاں پہ ایک لڑکی کی ائی ڈی کھلی تھی۔۔۔۔
یہ کون ہے لہجہ تھوڑا سرد ہوا۔
یہ میری کلاس فیلو ہے۔۔۔
نیو کمر۔۔۔
دیکھو تو کتنی خوبصورت ہے وہ موس سے تصویروں کو اگے کر رہا تھا۔۔۔
سلے ایک نظر تصویروں کو پھر اسے دیکھتی۔۔۔
اچھا کیا دادی اسے بہو بنا لے گی اس گھر کی اس کے فیشن تو دیکھو۔ہاتھ لیپ ٹاپ کی طرف کرتے وہ بولی
وہ اچھی خاصی جالس ہوئی تھی۔۔۔
غصے سے لیپ ٹاپ کو فولڈ کیا۔
گھر میں اگے ہی بہت ٹینشن ہے اب تم یہ نہیں مصیبت مت لے کر انا۔۔۔
اور ویسے بھی وہ چپ ہو گئی تھی۔
احمد اس کے بدلتے لہجے کو دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا۔
ویسے کیا سلیپر پہنتے ہوئے وہ کھڑا ہوا اور لیپ ٹاپ کو اٹھایا۔۔
لہجہ کافی سرد تھا۔۔
کچھ نہیں بس اس سے دور رہو ایک قدم اگے ہو کر پھر اس رخ بدلا۔۔۔
احمد ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا۔
عجیب لڑکی ہے۔۔۔۔
وہ اس کی محبت سے لا علم اس کی جلسے کو کوئی اور یہ رنگ دے رہا تھا۔
___
رات کے دو بجے تھے۔۔۔۔
سنابل جو مشکل سے سوئی تھی ابھی پھر نیند میں مچل رہی تھی۔وجہ اس کا بخار تھا جو تیز ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ۔کبھی اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتا۔۔۔
کبھی اس کے بالوں کو سرہاتا۔۔۔
اسے میڈیسن دی تھی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
سنابل۔۔۔۔شائستگی سے پکارا اور ہاتھ کی انگلیاں اس کے بالوں میں پیار سے پھیری۔۔
ہمممممم۔۔۔۔۔۔ بحار کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں پا رہی تھی۔انکھوں کو میچتے ہوئے بولی۔۔۔
اواز بھی کافی باری ہو چکی تھی۔۔۔۔
میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔
جو دو تین چہرے پہ ا رہے تھے۔۔
نظر مسلسل اس کے چہرے پر تھی۔
نہ ۔۔۔۔۔۔۔نیند اور میڈیسن کی وجہ سے وہ ادھا لفظ بول پائی۔۔۔۔
میری جان۔۔۔
ابھی پوری رات پڑی ہے۔
اس کی حالت دیکھ کر اسے خود پر غصہ ا رہا تھا اور شدید غصہ۔۔
اور وہ بول کیا رہا تھا اسے یہ بھی اندازہ نہیں تھا۔
وہ پوری طرح سے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔
بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائیں۔۔
سنابل نے بھی اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا۔۔
اور خود کو اس کے سینے میں چھپایا ہوا تھا۔۔۔۔
اس اینگل سے بیٹھنے سے اس کی کمر میں شدید درد تھا پر اس کی تکلیف کے اگے اسے اپنا درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
بلکہ خود پہ غصہ تھا اور وہ بھی شدید غصہ۔۔۔
بلینکٹ کو اس کے اوپر کھینچا جو نیچے کر رہی تھی وہ اور لب اس کے ماتھے پہ رکھے۔۔
_____
صبح کی کرنیں کمرے میں پڑتے ہی سنابل کی انکھ کھلی۔۔
ایک ہاتھ سے انکھ کو مچھتے ہوئے اس نے نم الود انکھوں سے اس کو دیکھا۔۔۔
جو اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ہاتھ ابھی بھی اس کے بالوں میں تھا۔ابھی ہی انکھ لگی تھی س کی
سنابل نے کروٹ بدلنا چاہی ۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ کمر سے اٹھا کر پیچھے کیا۔۔
س۔۔۔۔۔سنابل۔۔۔۔
جیسے ہاتھ سے کوئی کھینچ کے لے جا رہا ہے اسے۔۔۔
وہ زور سے چلاتا اٹھا تھا۔۔۔
اور گرفت اس کی کمر پے مضبوط کی۔۔۔
سنابل نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اس کے دیکھتے ہی اسے احساس ہو گیا تھا۔اپنی غلطی کا۔۔
سوری۔۔۔۔
مجھے لگا۔۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوا۔صبح کی بیداری سے اس کی اواز بھی باری تھی۔لہجہ بھی الجھا الجھا تھا۔۔
سنابل کو احساس تھا۔ کے وہ ساری رات اس کے سرہانے بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سنابل نے نظر اٹھا کر اس کو دیکھا۔
مجھے اتنی محبت کی عادت نہیں ہے۔۔
اس نے رخ بدلا ہی تھا کہ اس نے کمر پہ گرفت اور مضبوط کی اور ٹانگیں بھی بیڈ پر کر لی۔۔۔
تو اب عادت ڈال لو میری جان۔۔
وہ جان لفظ پہ خفاہوئی اور ہاتھ کھولنے لگی۔جو اس نے اس کے کمر پہ جکڑے ہوئے تھے۔۔
ا۔۔۔شکان۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔
اب طبیعت کیسی ہے۔
بتاتی ہوں پہلے۔
اس نے رخ پیچھے کیا۔وہ جو اس کے بالوں کو سمیل کر رہا تھا اس کے پیچھے دیکھتے ہی سمائل کی اس نے۔۔۔۔۔۔
یہ ہاتھ کھولو۔۔۔
نہ کھولوں تو۔۔۔
اس نے تنزیہ لہجہ اپنایا۔۔۔
جب اس نے غصے کی نگاہ ڈالی تو اس نے بھی ہاتھ پیچھے کر لیے
جس طرح اشکان نے ساری رات بیٹھ کر اس کے سرہانے اس کی خدمت کی تھی اس کے دل میں بھی کہیں سوفٹ کارنر کا دروازہ کھل گیا تھا لیکن وہ ویڈیو والی بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔جس کی وجہ سے یہ ساری تباہی ائی تھی۔
___
ویسے تو تم لوگ بڑے گن گاتے رہتے ہو میرشکان علی میر اشکان علی۔۔
لیکن دو تین دنوں سے جو نیوز ہیڈ لائن بنی ہوئی ہے مجھے لگتا ہے کسی کا دھیان نہیں ہے۔
یہ دیکھو زہیب مناہل چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لیے اس کے پاس ائی اور موبائل اس کی طرف کیا۔
یہ فروا ہے ان دونوں کی نیوز ٹاپ پہ چل رہی ہے۔
اس کے اور اشکان کے بارے میں کافی نیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
کہ دونوں میں کچھ چل رہا ہے۔۔
اور لاسٹ ٹائم اشکان نے شوٹ پر اس کی کافی انسلٹ کی لگتا ہے بریک اپ ہو گیا۔
لیکن یہ تو ایک کیس ہے جو سامنے ایا ہے اور نہ جانے کتنے ہوں گے۔
ایسے بندے کریکٹر لیس ہوتے ہیں۔
جن کے پیچھے لوگوں کا ہجوم ہونا۔پھر انہیں بھی ٹیسٹ کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔کسی ایک پہ ٹکٹے نہیں مائی ڈیئر کزن۔۔
اخری جملے کو کھینچتے ہوئے اس نے کہا۔۔
زہیب پہلے سے ہی اس نیوز کے بارے میں جانتا تھا۔اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ فروا اس کے پیچھے پڑی ہے۔
مائی ڈیئر کزن یہ نیوز تم نے دیر سے سنی ہے۔وہ جو اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں کو موڑ رہا تھا۔ ٹیبل پہ پڑے موبائل کو اٹھایا۔۔
مناہل نے واقع غور کیا تو نیوز کچھ دن پہلے کی تھی۔۔۔
تم جو مجھ سے شادی کرنے کےخواب سجائے بیٹھے ہو نا میری ایک بات یاد رکھنا۔۔
اس نے موبائل کو پیچھے کیا۔
شاید پہلی بات میں مٹی ڈالنا چاہتی تھی۔
اس کے ادھے لفظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ زہیب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔
اس کی غصے سے اوجھل نگاہیں اسے جواب دے رہی تھی۔
وہ جو بولنے لگی تھی وہ بھول گئی تھی اور غصے سے زمین پر پاؤں مارے باہر کی طرف گئی۔۔
یہی بچی ہے ایک شادی کے لیے۔۔
زہیب نے پھر سے رخ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف کیا۔اور بالوں اخری ٹچ دے کر باہر اگیا۔۔۔۔
مناہل جو اس کے کمرے کے باہر ہی کھڑی موبائل کے ساتھ لگی تھی پھر سے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔۔۔
عجیب تماشہ ہے یار۔۔
نہ خود سکون سے بیٹھتی ہے نہ کسی کو بیٹھنے دیتی ہے۔
زوہیب اس کی ہر چال کو بہت اچھے سے جانتا تھا۔اور سنابل کے لیے نفرت کو بھی۔۔
__
اس گھر میں بڑوں کے فیصلوں کو کچھ نہیں سمجھا جاتا۔
فحرت بیگم دونوں ہاتھ سٹک پر جمائی سٹیٹ کھڑی ایک نظر محرو اور پھر خدیجہ کو دیکھتی بولی۔۔
اماں جان مناہل ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔
خدیجہ اسی بات پر اٹل تھی۔۔
میں کچھ نہیں سننا چاہتی۔۔
بس کچھ دنوں میں ہم ایک چھوٹا سا فنکشن رکھیں گے۔
یہ ہماری روایات ہیں۔
جب تک گھر میں ساتھی موجود ہے تو گھر کی بیٹی کو باہر نہیں جانے دیا جاتا۔
تم دونوں اب جا کے فنکشن کی تیاری کرو۔۔
پہلے اس سنابل سے اللہ اللہ کر کے جان چھڑوائی ہے۔
وہ غصے سے بولتی بیٹھ گئی۔۔
مہرو تو کبھی بھی ان کے سامنے نہیں بولی تھی۔
پر اج خدیجہ کی زبان کو بھی تالا لگ گیا تھا۔کیونکہ اگر اج وہ کچھ بولتی تو پہلے کی کی ساری محنت پہ پانی پھر جاتا۔۔
____
تو تم کھانا بھی بنا لیتے ہو۔۔
سنابل جیسے ہی کچن میں ائی تو وہ اسے سبزی کاٹتا ہوا نظر ایا۔ٹھنڈ کی وجہ سے سنابل نے خود کو شال میں لپیٹا ہوا تھا۔سرخ کلر کی شال تھی اور وائٹ کلر کی بوڑھوں والی کپ وہ بہت ہی کیوٹ لگ رہی تھی کسی ڈول کی طرح۔۔
اس نے جو جواب دینے کے لیے نظر اٹھائی ہی تھی کہ نظر اس پر رک گئی۔۔۔
ہممممممم۔
گلا صاف کرنے کی سستی ایکٹنگ کی اس نے۔۔
میں سب کر لیتا ہوں۔۔
لیکن اج سپیشل تمہارے لیے بریک فاسٹ بنا رہا ہوں۔اسے گھورتے ہوئے وہ بول رہا تھا۔۔۔
میرے لیے کیوں میں سپیشل نہیں ہوں۔۔۔
وہ ذہن میں الجھے سوالوں کو زبان دینا چاہتی تھی۔
تم بہت سپیشل ہو مس سنابل۔۔۔۔
اس کے پاس ایا اسے ایک جھٹکے میں اٹھا کے اس نے ٹیبل پہ بٹھایا۔
اش۔۔۔۔
اتنی جلدی میں ہوا تھا کہ اس کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔
ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔
پہلے سے بہتر ہو لیکن ابھی اور ارام کرنا ہے۔۔۔۔
ساری رات بڑا تنگ کیا ہے تم نے مجھے۔۔۔
ویسے کیا میں نے کچھ زیادہ ہی برا کیا تھا۔
وہ اس کی انکھوں میں دیکھتا بولا۔۔
تم ایسی گندی فلمیں کرتے ہو۔۔
جس میں یہ سب ہوتا ہے اس نے بھی منہ پہ جواب دیا۔۔
اس کے بعد سنتے ہی وہ ہنس پڑ رہا تھا۔تھوڑی ہنسی اسے اپنی حرکت پر ائی تھی۔وہ جو خود سکرپٹ تیار کیا تھا۔
ساری رات جیسے اس نے اس کی حفاظت کی تھی۔تھوڑا اپنا سا لگنے لگا تھا اسے۔۔۔
سر میں ائی کم ان۔۔۔۔
سفید شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس ایک لڑکی جو دروازہ کے پاس کھڑی تھی لیپ ٹاپ ہاتھ میں تھا نے دروازہ نوک کیا۔
وہ اس کی پرسنل سیکٹری تھی جو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور باقی سب کچھ بھی سنبھالتی تھی۔
یس اجاؤ۔۔
ایک نظر سنابل کو دیکھنے کے بعد اس نے انے کی اجازت دی۔
اس لڑکی نے بھی سنابل کو سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا۔گھر میں موجود سبھی ملازموں کے ذہن میں سوال بنا ہوا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے۔میر اشکان علی کے غصے کی وجہ سے کسی میں ہمت نہیں تھی سوال کرنے کی۔۔
سر وہ اپ کے اور فروا کے متعلق کافی نیوز وائرل ہو رہی ہیں کچھ دنوں سے اپ کے ریلیشنز کو لے کر بھی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ شاید اپ دونوں ریلیشن میں تھے۔
سنابل نے جو پانی کا گلاس اٹھایا تھا پینے کے لیے ابھی گھونٹ بڑا ہی تھا کہ پانی حلق میں اٹک گیا۔۔۔
وہ اس سے پہلے اسے جواب دیتا سنابل کی طرف بڑا دھیان سے ہاتھ اس کی پشت پہ رکھا۔۔۔۔
اگر اپ سٹیٹمنٹ دے دیں۔۔۔
فیفا صبح صبح تم مجھے یہ بتانے ائی ہو۔۔
کم ان۔۔۔۔۔۔ یہ پہلی نیوز ہے جو وائرل ہو رہی ہے۔۔۔
لوگوں کو تو بس باتیں چاہیے وہ غصے سے بولا۔۔۔
اور میں اس پہ کوئی بات نہیں کرنے والا۔۔
ہم بعد میں دیکھتے ہیں اس نے انکھوں سے جانے کا اشارہ کیا۔
تو وہ بھی لیپ ٹاپ فولڈ کیے باہر چلی گئی۔۔۔
___
میں مناہل سے شادی نہیں کر سکتا بابا میں صاف بتا چکا ہوں۔۔
اپ ایک ہی بات کو۔۔۔۔
اس نے غصے سے ہاتھ کمر پہ ٹکائے وہ تھوڑی دیر پہلے جو سمیر کے مقابل بیٹھا تھا ایک دم سے کھڑا ہوا ۔
اگر اپ یہ چاہتے ہیں کہ میں گھر چھوڑ کر جاؤں۔
تو مجھے صاف لفظوں میں بتا دیں لیکن مناہل سے شادی ہرگز نہیں کر سکتا۔
دادی جان کو بھی یہ بات سمجھا دیں۔۔
__
سلے کی محبت کے بارے میں صرف سنابل جانتی تھی۔
گھر میں پھیلتی اس نوک چوک سے وہ بہت ڈسٹرب ہو رہی تھی۔
ہاں اس نے کبھی احمد کو بتایا نہیں تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے لیکن وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔
اپنی محبت کو چھپایا تھا۔اس نے۔۔۔۔
اور میرا ماننا ہے۔کہ اگر محبت کو راز کی طرح رکھا جائے۔تو وقت کے ساتھ ساتھ شدت پکڑتی ہے۔اور ایسی محبتوں کی شدتوں میں کبھی کمی نہیں اتی۔سلے بھی اسی شدت کی لپیٹ میں اگئی تھی۔۔۔
__
کون ہے یہ فروا۔۔۔
خاموشی کو توڑتے ہوئے اس نے پوچھا دونوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے امنے سامنے۔۔۔
یہ لاسٹ پروجیکٹ میں نے اس کے ساتھ کیا تھا ماڈل ہے۔املیٹ کو توڑتے ہوئے اس کی پلیٹ میں ڈالا۔۔
اور جو بچا تھا وہ اپنی پلیٹ میں۔۔
اور جو نیوز۔۔۔
تو کیا تم جیلس ہو رہی ہو۔۔۔۔
اس کی اس بات سے سنابل کو بھی تھوڑا ہوش ایا۔کہ وہ کیسے ٹیپیکل بیویوں کی طرح سوال کیے جا رہی ہے۔۔۔
ویسے تھی تو وہ بیوی ہی۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی میں کیوں جیلس ہوں گی۔۔۔
بیوی ہو میری تم جلس نہیں ہوگی تو کون ہوگا۔۔
لیکن میں نے تمہیں شوہر نہیں مانا ابھی۔اشکان نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
تو رات کو کیا سمجھ کیا مجھ کے قبضہ جمایا تم نے ۔۔
تم خود ائے تھے میں نے دعوت نہیں دی تھی۔۔۔
____
کچھ ایسا کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔
کیا مطلب ہے ماما اپ کی اس بات کا میں ہرگز شادی نہیں کرنے والی۔مناہل نے لہجہ سرد کیا۔وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔اور بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بولی۔
مجھ سے اچھی تو سنابل رہ گئی۔۔
اپ نے دیکھا بھی ہے میر اشکان علی کا گھر۔۔
لاکھوں لڑکیوں کا خواب ہے وہ جو اس سنابل کو مل گیا غصے سے بیڈ سے اٹھی اور سلیپر پہننے لگی۔
پر میرا نام بھی مناہل ہے مناہل ماما۔۔۔
جیسے حویلی سے بعثت ہو کر نکلی تھی نا ویسے ہی میر اشکان علی کے گھر سے بعثت ہو کر نکلے گی۔
اور یہ بہت جلد ہوگا ماما۔۔
بیڈ پہ پڑی کیپ شال اٹھائی اور اسے پہننے لگی۔
خدیجہ جو سنجیدگی سے اسے سن رہی تھی۔
اسے اپنے ہی ٹینشن تھی کہ اگر مناہل نہ مانی تو کیا ہوگا۔
دیکھو اب اس سنابل کو اس کے حال پہ چھوڑ دو جو حویلی میں چل رہا ہے اس کا کوئی حل نکالو۔۔
دیکھو تم فی الحال ہاں کر دو میں کچھ ایسا کروں گی کہ زہیب سب کے سامنے انکار کرے۔
ماما اپ کا ہر پلان فیل ہوتا ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی ہوں۔
اور میری بات کان کھول کر سن لے۔
وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے خود کو سنوار رہی تھی دونوں ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی ہوئی۔
لفظوں کو گھسیٹتے ہوئے اس نے جملہ کمپلیٹ کیا تھا۔
اس سلے کو اپنی بھابی کبھی نہیں بناؤں گی۔۔
کبھی نہیں موم کبھی نہیں۔۔۔
ایک لفظ کو کئی دفعہ دہراتے وہ غصے سے باہر گئی۔۔
خدیجہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
______
میں اس کا انتظار کیوں کر رہی ہوں۔۔۔
سنابل کیا ہو گیا ہے تمہیں وہ غصے سے چلائی۔۔۔
کیا وہ ابھی بھی فروا کے ساتھ ہوگا۔۔۔۔
وہ نہ جانے کب سے اشکان کا انتظار کر رہی تھی۔جو ایک ٹی وی شو کے لیے نکلا تھا۔۔۔۔۔
لاسٹ پروجیکٹ تو اس نے اسی کے ساتھ کیا تھا اسی کے ساتھ ہوگا۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے کھیلتی کبھی دروازے کی طرف دیکھتی تو کبھی کھڑکی کی طرف۔۔۔
کہ ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ ایا اتے ہی اس نے اس کا دروازہ ناک کیا تھا۔۔
سنابل جو تھوڑی تھوڑی نیند میں جا رہی تھی ایک دم سے چونکی۔۔
بلو پینٹ کوٹ سفید شرٹ بالوں کو ایک سائیڈ پہ موڑا ہوا تھا۔۔
بیئر کو بلیچ کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔
شیپ تھوڑی بڑی تھی۔جو اس کے چہرے پہ کافی سوٹ کرتی تھی۔۔
یہ کیا ہے سنابل اس نے غصے سے کہا ۔۔۔
اور نظروں سے اس کا معائنہ کرنے لگا۔۔۔
اشکان نے اس کا سارا سامان اپنے روم میں شفٹ کروا دیا تھا لیکن وہ پھر بھی گیسٹ روم میں بیٹھی تھی جو دیکھ کر اسے شدید غصہ ایا تھا۔
یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
میں یہیں رہنے والی ہوں۔۔۔
مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا۔۔
اور تم زبردستی بھی نہیں کر سکتے
وہ دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے پہلے اسے دھیان سے سنتا رہا پھر اگے بڑھا۔کوٹ اتار کر اس نے پاس پڑی چیر پر رکھا۔۔۔
اور ایک جھٹکے میں اسے باہوں میں اٹھا لیا۔
اش۔۔۔۔۔کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل ساری رات تم نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔اور مجھے اپنے کمرے کے سوا کہیں نیند نہیں اتی۔اور اج رات پھر تمہاری ڈیوٹی نہیں دے سکتا میں۔اس لیے اپنے ساتھ لے کے جا رہا ہوں۔۔۔
اج بہت تھک گیا ہو۔۔۔۔
تمہیں خود میں چھپا کر سکون سے سونا چاہتا ہوں میں۔۔۔
اسے سمجھاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا وہ مسلسل احتجاج کر رہی تھی اس کے سینے پہ مکوں کی برسات کر رہی تھی۔۔
کمرے میں اتے ہی اسے بیڈ پہ لٹایا اس نے پیار سے۔۔۔
اسے قریب سے دیکھ کر مشکل سے کنٹرول کیا تھا اس نے
اور اپنی ٹائی کو ڈیلا کیا ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھ۔
سنابل نے فورا سے بلینکٹ اپنے اوپر کھنجا۔۔
اس کے ایسے دیکھنے سے وہ ان کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھی۔۔
میں یہاں نہیں سو سکتی۔۔۔
مجھے اکیلے سونے کی عادت ہے اٹھ کر بیٹھی وہ۔بلیکٹ کو زور سے پکڑا ہوا تھا کہ کہیں وہ کھینچ نہ لے۔۔۔
اچھا کل رات تو بڑے سکون سے سو رہی تھی میرے ساتھ۔۔۔
بلکہ میرے اوپر۔۔۔۔
اشکان نے ٹائی اتار کر ایک طرف پھینکی۔۔۔
تمہارے اوپر کب سوئی میں جھوٹے۔۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں کہا تھا۔۔
کہہ تو وہ منہ پہ بھی سکتی تھی۔پر لفظوں کو پی گئی۔۔
بڑے دھیان سے اس کی ایک ایک چال کو نوٹ کر رہی تھی۔۔
اشکان منہ سے تو محبت کا اظہار نہیں کیا تھا۔پر کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی تھی۔اسے یہ احساس دلانے میں کہ وہ کتنی ضروری ہے اس کے لیے۔
سو جاؤ بیگم۔۔۔
ابھی اپنی جان پہ کوئی زیادتی کرنے کا ارادہ نہیں ہے میرا۔
اس کے ڈر کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔
سنابل کے ذہن میں یہ چل رہا تھا کہ وہ فریش ہونے جائے گا تو وہ بھاگ جائے گی۔۔۔