Ministry of Industries and Production, Government of Pakistan

Ministry of Industries and Production, Government of Pakistan The Official page of the Ministry of Industries and Production, Government of Pakistan.

ہارون اختر کو وزیراعظم کے مشیر کے طور پر وفاقی وزیر کا درجہ دینے کا نوٹیفکیشن جاریصدرِ مملکت نے ہارون اختر خان کو وزیراع...
11/08/2026

ہارون اختر کو وزیراعظم کے مشیر کے طور پر وفاقی وزیر کا درجہ دینے کا نوٹیفکیشن جاری

صدرِ مملکت نے ہارون اختر خان کو وزیراعظم کا مشیر مقرر کر دیا,

ہارون اختر کو وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہوگا، کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن

ہارون اختر وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہوں گے

ہارون اختر فوری طور پر وزیراعظم کے مشیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے

وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے ہارون اختر صنعت و پیداوار کا قلمدان سنبھالیں گے

کابینہ ڈویژن نے ہارون اختر کی بطور وزیراعظم کے مشیر تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا

معاونِ خصوصی وزیراعظم ہارون اختر خان کا چینی کاروباری وفد کا خیرمقدم، پاکستان چین اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر...
10/08/2026

معاونِ خصوصی وزیراعظم ہارون اختر خان کا چینی کاروباری وفد کا خیرمقدم، پاکستان چین اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر زور

اسلام آباد، 10 اگست 2026: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ڈونگ گوان گانژو چیمبر آف کامرس کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات میں ڈونگ گوان گانژو چیمبر آف کامرس کے صدر، اسپیشل سیکریٹری صنعت احسان علی منگی اور جوائنٹ سیکریٹری فریدون اکرم شیخ نے شرکت کی۔

چینی وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ چین پاکستانی عوام کے دلوں میں خصوصی مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اپنی دوراندیش قیادت کے تحت جو شاندار ترقی حاصل کی ہے، وہ پاکستان کیلئے قابلِ قدر تجربات اور مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دوراندیش قیادت اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور چین پہلے سے کہیں زیادہ قریب آئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان چین کے ساتھ بزنس ٹو بزنس شراکت داری، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عوامی روابط کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

معاونِ خصوصی نے بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر اور قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک وہیکلز اور مصنوعی ذہانت سے منسلک جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی تعاون اور صنعتی ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں اور اب ان معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ معاہدوں اور وعدوں کو حقیقی سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صنعتی تبدیلی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور چینی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مینوفیکچرنگ ہب اور پرکشش سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں متعارف کرائی گئی ریگولیٹری گِلّوٹین اصلاحات کا خصوصی طور پر ذکر کیا، جن کا مقصد غیر ضروری ضوابط کا خاتمہ، سرخ فیتے میں کمی اور پاکستان میں کاروبار کو مزید آسان بنانا ہے۔

چینی وفد نے معاونِ خصوصی کو مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع اور ڈونگ گوان گانژو چیمبر آف کامرس کی سرگرمیوں اور اقدامات سے متعلق بریفنگ دی۔ وفد نے پاکستان کے ساتھ کاروباری اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

ہارون اختر خان نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے وفد کو مکمل تعاون اور سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور چینی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔

ملاقات کے اختتام پر معاونِ خصوصی وزیراعظم ہارون اختر خان نے چینی وفد کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔

پاکستان آٹو شو 2026 کے لیے سمیڈا اور پاپام کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائملاہور (یکم اگست) — چھوٹے اور درمیانے درجے ک...
03/08/2026

پاکستان آٹو شو 2026 کے لیے سمیڈا اور پاپام کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم

لاہور (یکم اگست) — چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے ادارے (سمیڈا) نے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے ساتھ 21ویں پاکستان آٹو پارٹس شو (PAPS) 2026 کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شراکت داری قائم کر لی ہے۔

سمیڈا کا یہ تعاون وزارتِ صنعت و پیداوار اور ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے طے کردہ اسٹریٹجک سمت کے مطابق مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSMEs) کی معاونت کے تسلسل کا حصہ ہے تاکہ قومی اقتصادی اہداف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
پاکستان آٹو پارٹس شو 2026 کا انعقاد 18 سے 20 ستمبر 2026 تک ایکسپو سینٹر لاہور میں ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے سمیڈا اور پاپام کے مابین تعاون کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، سمیڈا کے بورڈ اراکین، چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہاں گیر سیٹھ، پاک سوزوکی کے سربراہ ہیروشی کاوامورا اور پاپام کے نمائندوں نے شرکت کی۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے ایم ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا اور صنعتی ویلیو چینز کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستان کی آٹوموٹیو صنعت نے غیرمعمولی استحکام اور ترقی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان آٹو شو جیسے پلیٹ فارمز مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ، جدت کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ آئندہ آٹو شو کو ایک "عالمی معیار کی شاندار نمائش" بنایا جانا چاہیے، جس میں بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط، مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجی شعبے کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس نمائش کو تاریخی کامیابی بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرے۔
ہارون اختر خان نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ وہ پاپام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے اور مختلف سفارت خانوں اور ایم ایس ایم ایز کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے نمائش کے دوران مؤثر بزنس میچ میکنگ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، "ہم ایم ایس ایم ایز کو بہتر مارکیٹ رسائی، مضبوط کاروباری روابط اور علاقائی و عالمی ویلیو چینز میں شمولیت کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم نے کہا کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانا اور انہیں بین الاقوامی صنعت سے روابط استوار کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا، پاپام، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کو مشترکہ طور پر اس تقریب کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنا چاہیے۔
سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہاں گیر سیٹھ نے اپنے بیان میں کہا کہ سمیڈا آٹوموٹیو شعبے کو پاکستان کے متحرک ترین صنعتی شعبوں میں شمار کرتی ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی قیادت میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، "پاکستان کی آٹو پارٹس اور انجینئرنگ صنعت کی بنیاد بڑی تعداد میں ایم ایس ایم ایز پر مشتمل ہے۔ پاپام کے ساتھ اس اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے سمیڈا ان اداروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور ملکی و بین الاقوامی کاروباری مواقع تلاش کرنے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔"

تاریخ: 30/07/2026معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان اور بنگلہ دیش کی رینکون گروپ کے درمیان...
31/07/2026

تاریخ: 30/07/2026

معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان اور بنگلہ دیش کی رینکون گروپ کے درمیان گاڑیوں کی برآمد کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کے پاکستان کو برآمدات پر مبنی اور صنعتی طور پر مسابقتی معیشت بنانے کے وژن کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان، نے ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان اور بنگلہ دیش کی رینکون گروپ کے درمیان بنگلہ دیش کو گاڑیوں کی برآمد کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

یہ معاہدہ پاکستان کی آٹوموٹیو صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور ملک کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان رواں سال بنگلہ دیش کو مقامی طور پر تیار کی گئی 100 گاڑیاں برآمد کرے گا، جبکہ آئندہ چار برسوں میں مجموعی طور پر 5,800 گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا اور یہ حکومت کے برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کے ایجنڈے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جو برآمدات کے فروغ، مقامی مینوفیکچرنگ کے استحکام، سرمایہ کاری کے حصول اور صنعتوں کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک جامع آٹو پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کا مقصد گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعت کے فروغ اور پاکستان کی آٹوموٹیو مینوفیکچرنگ بنیاد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ پاکستان کی آٹوموٹیو صنعت نے معیار، مقامی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے، جس کے باعث پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ان تمام صنعتوں کی بھرپور معاونت جاری رکھے گی جو برآمدات، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس موقع پر رینکون گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، محمد مصطفیٰ الرشید بھوئیاں نے کہا کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی آٹوموبائل مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کو فروغ دے گا اور صارفین کو پاکستان میں تیار ہونے والی اعلیٰ معیار کی گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آٹوموٹیو صنعت بین الاقوامی مینوفیکچرنگ معیار پر پورا اترتی ہے اور برآمدات کے وسیع امکانات رکھتی ہے۔

ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جیان چیانگ شاؤ نے اس شراکت داری کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان سے علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں میں گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تقریب میں ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر عامر نذیر، اعلیٰ سرکاری حکام، دونوں کمپنیوں کے نمائندگان اور کاروباری برادری کے ارکان نے بھی شرکت کی۔

حکومتِ پاکستان وزیراعظم کے وژن کے مطابق صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کو خطے کا ایک اہم مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

معاونِ خصوصی وزیراعظم ہارون اختر خان اور فاروق ستار کے درمیان ایم ایس ایم ایز کے فروغ اور صنعتی ترقی پر تبادلۂ خیالاسلا...
30/07/2026

معاونِ خصوصی وزیراعظم ہارون اختر خان اور فاروق ستار کے درمیان ایم ایس ایم ایز کے فروغ اور صنعتی ترقی پر تبادلۂ خیال

اسلام آباد، 29 جولائی 2026: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی (وزیرِ مملکت) برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کے فروغ اور ترقی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط بنانے، صنعتی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے سے متعلق مختلف امور پر گفتگو کی۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور روزگار کی فراہمی، صنعتی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور وژن کے مطابق حکومت ایم ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات اور مؤثر پالیسی اقدامات پر عمل پیرا ہے تاکہ ملک بھر میں کاروباری برادری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے سے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ، برآمدات میں وسعت اور صنعتی پیداوار میں بہتری آئے گی، جو طویل المدتی معاشی خوشحالی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاروباری برادری، خصوصاً مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو کاروبار دوست پالیسیوں، آسان مالیاتی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ مضبوط ایم ایس ایم ای سیکٹر ہی پائیدار معاشی ترقی، صنعتی مسابقت اور جامع قومی ترقی کی ضمانت ہے۔

فاروق ستار نے ایم ایس ایم ای سیکٹر کے فروغ کے لیے حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لیے حکومتی پالیسیوں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اسلام آباد، 28 جولائی 2026: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ...
30/07/2026

اسلام آباد، 28 جولائی 2026: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی جانب سے 13 اگست 2026 کو استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس اپرچونٹی کانفرنس اینڈ ایکسیلینس ایوارڈز وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ سیاسی اور برادرانہ تعلقات کو اب سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروبار سے کاروبار (B2B) تعاون کے ذریعے مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پاکستانی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے ترکیہ جائیں گے اور پاکستانی و ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے درمیان مؤثر روابط اور ملاقاتوں کو فروغ دیں گے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان سیاسی اور معاشی استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو بااختیار بنانے، صنعتی ترقی کو تیز کرنے اور پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع قومی صنعتی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد صنعتی مسابقت کو فروغ دینا، برآمدات پر مبنی ترقی کو تیز کرنا اور چین، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں (CARs) سے سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے، ضوابط کو سادہ بنانے، ٹیرف کو مؤثر بنانے اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔

اہم پالیسی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت جدید صنعتی، آٹو موبائل اور الیکٹرک وہیکل پالیسیوں کو متعارف کرا رہی ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور برآمد کنندگان کی معاونت کیلئے آسان مالیاتی سہولیات، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، طویل المدتی فنانسنگ اسکیموں اور ہدفی ٹیکس مراعات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے چیمبر کی بین الاقوامی سرگرمیوں کی مسلسل حمایت پر ہارون اختر خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس اپرچونٹی کانفرنس پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرے گی، اعلیٰ سطح کے کاروباری روابط (B2B) کو فروغ دے گی، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرے گی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنائے گی اور رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، صحت، فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، سیاحت، انجینئرنگ اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

اسلام آباد میں ترکیہ کے سفارت خانے کے کمرشل قونصلر اینیس ملک چیتن نے بھی آئی سی سی آئی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس اور کاروباری روابط (B2B Matchmaking) کے سیشنز پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

پریس کانفرنس میں آئی سی سی آئی کے فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر عرفان چوہدری، چیمبر کے سابق صدور، ایگزیکٹو ممبران اور اسلام آباد کی کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

"ایکسپو فیصل آباد 2026" مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لیے ترقی کا مؤثر پلیٹ فارم ہے: ہارون اختر خانلاہور (25 ج...
26/07/2026

"ایکسپو فیصل آباد 2026" مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لیے ترقی کا مؤثر پلیٹ فارم ہے: ہارون اختر خان
لاہور (25 جولائی) – وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کے لیے مضبوط، مسابقتی اور سازگار کاروباری ماحول کی تشکیل کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
لاہور ایکسپو سینٹر میں 24 سے 26 جولائی تک جاری "ایکسپو فیصل آباد 2026" سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سیکٹر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے پائیدار معاشی ترقی، صنعتی فروغ اور برآمدات میں اضافے کے وژن کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو اپنی عسکری صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کر دکھایا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی معاشی مضبوطی، استحکام اور ترقی کا بھی عملی ثبوت پیش کریں۔
انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FCCI) کی جانب سے اس شاندار نمائش کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا صنعتی اور ٹیکسٹائل کا مرکز ہے، جو ملکی برآمدات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ایکسپو فیصل آباد جیسے پلیٹ فارم کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کی نمائش، نئے کاروباری روابط قائم کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔"
,وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی نے کہا کہ حکومت نے کاروباری شعبے کو مالی سہولیات تک بہتر رسائی، کاروباروں کی باضابطہ رجسٹریشن، برآمدات کے فروغ اور ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے جہاں کاروباری افراد جدت، سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کی توسیع کے مواقع حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کاروباری برادری کے ساتھ سمیڈا کے فعال رابطوں اور ملک بھر میں نمائشوں اور آگاہی سرگرمیوں کے ذریعے کاروباری افراد کو حکومتی معاونتی پروگراموں سے منسلک کرنے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
اس سے قبل چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کہا کہ سمیڈا کاروباری افراد کی معاونت کے لیے تزویراتی شراکت داریوں اور مارکیٹ پر مبنی اقدامات کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دینے کے لیے پرعزم ہے۔

سمیڈا نے نمائش میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیا ہے جہاں کاروباری افراد اور مہمانوں کو ادارے کے نمایاں اقدامات، حکومتی معاونتی پروگراموں اور کاروباری ترقی کی خدمات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ہیلپ ڈیسک کے ذریعے غیر رسمی کاروباروں کی ایس ایم ای رجسٹریشن پورٹل (SMERP) پر مفت رجسٹریشن بھی کی جا رہی ہے، جس سے کاروباروں کو باضابطہ حیثیت اختیار کرنے اور ترقی، مالی سہولیات اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کے مواقع سے استفادہ کرنے میں مدد ملے گی۔
اپنے استعداد کار بڑھانے کے پروگرام کے تحت سمیڈا "ایس ایم ایز کے لیے مارکیٹنگ حکمتِ عملیاں" اور "برآمدی منڈیوں کے لیے مصنوعات کے معیار میں بہتری" کے موضوعات پر تربیتی سیشنز بھی منعقد کر رہی ہے، تاکہ کاروباری افراد کو اپنی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں مؤثر موجودگی یقینی بنانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

Government of PakistanMinistry of Industries and ProductionIslamabad, July 25, 2026: The Ministry of Industries and Prod...
25/07/2026

Government of Pakistan
Ministry of Industries and Production

Islamabad, July 25, 2026: The Ministry of Industries and Production has strongly refuted a news report published in the Daily Jang on July 23, which incorrectly linked the alleged delay in Pakistan’s Auto Policy with the National Tariff Policy. The statement attributed to the Special Assistant to the Prime Minister on Industries and Production, Haroon Akhtar Khan, is entirely false, misleading, and contrary to the facts.

Haroon Akhtar Khan clarified that the Auto Policy is currently under preparation and is being formulated in alignment with the National Tariff Policy to establish a comprehensive, forward-looking, and sustainable policy framework for the development of Pakistan’s automotive industry.

The Special Assistant to the Prime Minister, Haroon Akhtar Khan, further clarified that the National Tariff Policy has no connection whatsoever with the International Monetary Fund (IMF).

Haroon Akhtar Khan reaffirmed that, under the visionary leadership of Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif, the Government remains fully committed to accelerating economic growth, promoting local manufacturing, making industries more stable and competitive, reducing the cost of production, enhancing industrial competitiveness, and creating greater ease of doing business across the country.

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اسلام آباد میں مفاہمتی یاد...
23/07/2026

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت کی تقریب سے خطاب کیا

پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور این ای ڈی یونیورسٹی کے درمیان صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کے مرکز کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان کا پہلا صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے، ہارون اختر خان

قومی صنعتی پالیسی کے تحت صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط حکومت کی اولین ترجیح ہیں، ہارون اختر خان

صنعتی جدت اور مصنوعی ذہانت کا مرکز پاکستان کی صنعتی ترقی میں انقلابی کردار ادا کرے گا، ہارون اختر خان

یہ مرکز جدید صنعت، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا، ہارون اختر خان

مصنوعی ذہانت کے ذریعے صنعتی پیداوار، معیار اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا، ہارون اختر خان

پاکستان کو جدید صنعت اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام سے ہم آہنگ کرنا حکومت کا عزم ہے، ہارون اختر خان

صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط اشتراک ہی جدید معیشت کی بنیاد ہے، ہارون اختر خان

جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے پاکستان کی صنعت کو عالمی مسابقت کے قابل بنایا جائے گا، ہارون اختر خان

صنعتی جدت کا یہ مرکز نوجوان انجینئرز، محققین اور صنعتکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا، ہارون اختر خان

یہ منصوبہ صنعت، تحقیق اور تعلیم کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے کی جانب تاریخی پیش رفت ہے، ہارون اختر خان

پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن صنعتی ترقی کے نئے دور کی قیادت کر رہی ہے، ہارون اختر خان

صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال قومی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بنے گا، ہارون اختر خان

جدید صنعت ہی مضبوط معیشت اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، ہارون اختر خان

حکومت صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور تحقیق کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، ہارون اختر خان

یہ مرکز پاکستان کو جدید صنعتی ٹیکنالوجی اور سہ جہتی تیاری کے عالمی نظام میں مؤثر مقام دلانے میں معاون ثابت ہوگا، ہارون اختر خان

صنعتی ترقی، اختراع اور مصنوعی ذہانت کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ہارون اختر خان

معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے اسٹارچارج، اسٹارچارج انرجی پاکستان اور باہم گلوبل لمیٹڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخ...
22/07/2026

معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے اسٹارچارج، اسٹارچارج انرجی پاکستان اور باہم گلوبل لمیٹڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کے صنعتی ترقی، صاف توانائی اور پائیدار معاشی نمو کے وژن کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان، نے اسٹارچارج، اسٹارچارج انرجی پاکستان اور باہم گلوبل لمیٹڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

یہ معاہدہ بین الاقوامی تعاون، مقامی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو الیکٹرک موبیلٹی کے فروغ کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم پالیسی پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کے انقلاب کی بنیاد رکھے گی، جو مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور ایک پائیدار صنعتی ماحولیاتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کی جانب منتقلی سے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر کم ہوگا، جس سے درآمدی بل میں کمی آئے گی، ماحول کا تحفظ ممکن ہوگا اور توانائی کے تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔

معاونِ خصوصی نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر کے قیام میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارجنگ اسٹیشنز کے جال کی توسیع سے صارفین کے لیے الیکٹرک موبیلٹی مزید آسان اور قابلِ رسائی بن جائے گی۔

ہارون اختر خان نے الیکٹرک وہیکلز کو مستقبل کی ٹرانسپورٹ اور پاکستان کی صنعتی تبدیلی کا اہم محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ معروف چینی کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکتu داریاں پاکستان میں ای وی بیٹریوں کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ملکی صنعتی صلاحیت میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے، خصوصاً جدید مینوفیکچرنگ اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں، جو پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی اور صنعتی مسابقت کو مزید مستحکم کرے گا۔

معاونِ خصوصی نے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدت، سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن پاکستان کو روزگار، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی علاقائی مینوفیکچرنگ ہب میں تبدیل کرنا ہے۔

تقریب میں سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، جوائنٹ سیکرٹری فریدون اکرم شیخ، حکومتی حکام، اسٹارچارج، اسٹارچارج انرجی پاکستان، باہم گلوبل لمیٹڈ کے نمائندگان، کاروباری برادری کے ارکان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

Address

Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 16:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+92519212164

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ministry of Industries and Production, Government of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ministry of Industries and Production, Government of Pakistan:

Shortcuts

Share