Social Truth-STBU

Social Truth-STBU ہر حقیقت، ہر واقعہ، اور معاشرتی مسائل کی بے باک تصویر

پیاری فوج پر ہمیشہ یہ الزام لگایا گیا کہ آفیسرز ریٹائیرڈ منٹ کے بعد ملک سے باہر چلے جاتے ہیں لہٰذا اب آپ کیسے چپ رہتے۔۔۔...
10/03/2026

پیاری فوج پر ہمیشہ یہ الزام لگایا گیا کہ آفیسرز ریٹائیرڈ منٹ کے بعد ملک سے باہر چلے جاتے ہیں

لہٰذا اب آپ کیسے چپ رہتے۔۔۔

اب پھر بد نصیب قوم کا فضول واویلہ کے جنرل شمشاد جس دن ریٹائیرڈ ہوئے، کینیڈا روانہ ہوگئے

یہ شرم کا مقام ہے کہ اس دھرتی کی حفاظت کرنے والے واحد مخلص ادارے پر آندھی آنکھوں سے جو دل کرے الزام لگایا جائے اور بے وقوف بد نصیب قوم اس پر یقین بھی کرلیتی ہے

کیا بلکل ہی اندھے ہو۔۔۔۔؟؟؟

یہ بتاؤ کہ کوئی ایک ہستی اس دھرتی پر ایسی بتادو جو تم سے مخلص ہو۔۔۔۔؟؟؟
جسے تمہاری پروا ہو۔۔۔۔؟؟؟
جو صرف تمہارا بھلا سوچتی ہو۔۔۔۔؟؟؟

کوئی ایک بھی نہیں سوائے اس پاگل فوج کے۔۔۔۔🇵🇰💞

ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپ کو بہکایا جاتا ہے اور آپ شعور و سمجھ سے عاری یقین بھی کرلیتے ہو

آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ یہ آفیسر کس طرح آپ کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔۔۔؟؟

آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کے یہ بہت ظالم جنرل جرنلز ریٹائیرڈ منٹ کے بعد بھی گھر نہیں بیٹھتے، ملک سے باہر جانا تو بہت دور کی بات، یہ اپنی فیملی اور اپنے بچوں کو بھی مہینوں وقت نہیں دے پاتے۔۔۔۔

اور یہ اول روز کی طرح اپنی فوج سے ہی وابستہ رہتے ہیں

سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے جنرل کیانی کی ہے۔۔۔۔
جن پر سب سے ذیادہ تم کم ظرفون نے الزامات لگائے
وہ جنرل کیانی ایک دن بھی فوج سے الگ نہیں ہوئے۔۔۔
اور آج بھی پہلے روز کی طرح فوج کے لئے کام کر رہے ہیں۔۔۔
اور آج بھی لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔۔۔۔

اسی طرح جنرل باجوہ کے بارے میں کہا گیا کہ بیلجئیم میں جزیرہ خرید کے وہاں چکے گئے

اففف ۔۔۔🤦

حالانکہ وہ آج بھی اسلام آباد میں ہی ہیں
وہ ریٹائیرڈ منٹ کے بعد فرانس گئے تھے اپنے بیٹے سے ملنے اور واپس اپنے اصل ٹھکانے پاک دھرتی پر آگئے تھے اور آج بھی یہیں ہیں

بلکل اسی طرح دیگر جنرلز و دیگر آفیسرز بھی ریٹائیرڈ منٹ کے بعد فوج کے لئے ہی کام کر رہے ہیں

فوج میں ریٹائرمنٹ صرف ایک آفیشل روٹین ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک فوجی آفیسر دراصل اسلام کا ایک سچا مجاہد ہوتا ہے اور آخری سانس تک فوجی ہی رہتا ہے اور پیاری فوج کے لئے ہی زندگی گزار دیتا یے۔۔۔۔

وہ اپنے ہر عمل کے لئے اس بہت بری فوج کو جوابدہ ہوتا ہے۔۔۔

حیرت ہے کہ اپ کو یہ تک نہیں معلوم کہ فوجی آفیسرز ریٹائیرڈ ہوکر پاکستان سے باہر کیوں نہیں جاتے

چلیں ہم بتاتے ہیں۔۔۔۔!!!!!

اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں ملکی راز جاننے کے لیے استعمال کیا جانے لگے
کہیں دشمن انہیں مجبور کرکے کسی طرح پاکستان کو نقصان نہ پہنچادے۔۔۔۔

صرف اس مٹی کے لئے یہ دیوانے اس دنیا کو تج کردیتے ہیں۔۔۔۔😰

ایک دو نہیں ایسی سیکٹروں مثالیں موجود ہیں کہ ہمارے آفیسرز موقع ملنے کے باوجو ملک سے باہر نہیں گئے۔۔۔۔

اہم عہدوں سے ریٹائیرڈ آفیسرز شدید علالت پر بھی علاج کی غرض سے باہر نہیں گئے اور ملک میں ہی رہ کر جان اللہ کے سپرد کردی۔۔۔۔

خاص کر جنزلز یا دیگر ہائی رینک آفیسرز کسی قیمت پر بھی ملک سے باہر نہیں جاتے

یہ بھی اپ کو نہیں معلوم کہ ایک ہائی رینک آفیسر ریٹائیرڈ ہوکر بھی اپنے ادارے سے الگ نہیں ہوتا بلکہ کسی نہ کسی صورت اپنے ادارے کے لئے کام کرتا رہتا ہے۔۔۔۔

اس کے علاؤہ آفیسرز کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ جگہ تبدیل کرے تو اپنے ادارے کو لازمی آگاہ کرے

کیا واقعی آپ بلکل بے خبر ہو کہ چند سال پہلے کرنل حبیب ظہیر ریٹائرڈ منٹ کے بعد خاموشی سے جاب کے لئے نیپال چلے گئے تھے
ان کے باہر جانے کا ان کی فیملی کے علاؤہ کسی کو نہیں معلوم تھا
اور وہاں "را" نے انہیں ا غوا کرلیا ان سے پیاری فوج کے راز معلوم کرنا چاہے اور ان کی خاموشی سے تنگ آکر انہیں شہید کر دیا گیا تھا

آپ کو کیا پتہ کہ ایک آفیسر پاک فوج کا جوان ہونے کی کیا کیا قیمت ادا کرتا ہے۔۔۔۔😰

آپ بس بہتان لگائے جاؤ۔۔۔۔۔

بغیر سچ جانے جس طرف اپ کو دش من ہانک دے، اسی جانب دوڑے جاؤ

جنرل شمشاد جیسے سچے پاکستانی کبھی نہ پاکستان چھوڑتے ہیں نہ فوج چھوڑتے ہیں💞

ان جیسے قیمتی پاک لوگ ہمیشہ آپنے ادارے سے منسلک رہتے ہیں ۔۔۔ 💞

اور اپنے ادارے کو آپنے تجربات سے فیضیاب کرتے رہتے ہیں۔۔۔💞🇵🇰💯

ماشاءاللہ 💞💞🇵🇰

10/03/2026

دجالی نظام، میڈیا اور سوشل میڈیا الگورتھمز — ذہنوں پر قبضے کی جنگ

موجودہ دور میں میڈیا صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ رائے بنانے، سوچ کو تبدیل کرنے اور معاشروں کو ایک خاص سمت میں لے جانے کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ بہت سے مفکرین کے مطابق یہ وہی طرزِ عمل ہے جسے دجالی نظام کی بنیاد کہا جاتا ہے، یعنی حقیقت کو اس انداز میں پیش کرنا کہ حق اور باطل کے درمیان فرق دھندلا جائے۔

روایتی میڈیا جیسے ٹی وی چینلز، اخبارات اور فلمی صنعت پر پہلے ہی چند بڑے عالمی کارپوریشنز اور مفاداتی گروہوں کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ یہی طاقتور حلقے یہ طے کرتے ہیں کہ کون سی خبر نمایاں ہوگی، کس واقعے کو عالمی مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے گا اور کون سی حقیقت مکمل طور پر دبائی جائے گی۔ اس طرح ایک مخصوص بیانیہ آہستہ آہستہ عوام کے ذہنوں میں حقیقت کے طور پر بٹھا دیا جاتا ہے۔

لیکن موجودہ زمانے میں اس نظام کی سب سے بڑی طاقت سوشل میڈیا اور اس کے الگورتھمز بن چکے ہیں۔ فیس بک، یوٹیوب، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اس طرح ڈیزائن کیے جاتے ہیں کہ وہ انسان کی توجہ، جذبات اور ردِعمل کو مسلسل مانیٹر کرتے رہتے ہیں۔ پھر اسی بنیاد پر وہی مواد بار بار دکھایا جاتا ہے جو صارف کو زیادہ دیر تک اسکرین کے ساتھ جوڑے رکھ سکے۔

اس عمل کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ الگورتھمز صرف معلومات نہیں دکھاتے بلکہ انسان کی سوچ کو آہستہ آہستہ ایک مخصوص زاویے میں محدود کر دیتے ہیں۔ اسے "Echo Chamber" یا "Information Bubble" کہا جاتا ہے، جہاں انسان کو صرف وہی نظریات اور خبریں دکھائی دیتی ہیں جو پہلے سے اس کے سامنے پیش کیے گئے بیانیے کو مزید مضبوط کریں۔

اس کے نتیجے میں حقیقت کی مکمل تصویر عام انسان تک نہیں پہنچتی بلکہ ایک فلٹر شدہ دنیا اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ یوں سچ، آدھا سچ اور جھوٹ اس انداز میں ملا دیے جاتے ہیں کہ حقیقت کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہی وہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے معاشرتی اقدار، سیاسی نظریات اور عالمی بیانیے کو آہستہ آہستہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ فلمیں، تفریحی مواد، وائرل پوسٹس، ٹرینڈز اور انفلوئنسر کلچر سب اس بڑی تصویر کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں سب سے بڑی ضرورت تنقیدی سوچ، تحقیق اور شعور کی ہے۔ ہر خبر، ہر وائرل ویڈیو اور ہر ٹرینڈ کو بغیر تحقیق کے قبول کرنے کے بجائے اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر انسان اپنی سوچ کی حفاظت نہ کرے تو جدید میڈیا اور الگورتھمز اس کے ذہن کو اس طرح تشکیل دے سکتے ہیں کہ اسے خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ اس کی رائے کس طرح تبدیل ہو رہی ہے۔

آج کی دنیا میں اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ذہنوں، معلومات اور بیانیوں کی جنگ ہے — اور اسی جنگ میں میڈیا اور سوشل میڈیا سب سے اہم میدان بن چکے ہیں۔

09/03/2026

*آخری زمانے کی بڑی نشانیاں (احادیث کی روشنی میں)*
Sahih Muslim میں حضرت Hudhayfah ibn al-Yaman سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس بڑی نشانیاں نہ دیکھ لو۔"
پھر آپ ﷺ نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا۔
1️⃣ دخان (بڑا دھواں)
ایک ایسا دھواں ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے:
Quran (سورۃ الدخان 44:10)
"پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان کھلا ہوا دھواں لے آئے گا۔"
علماء کے مطابق یہ دھواں مومنوں کے لیے ہلکا اثر رکھے گا جبکہ کافروں کے لیے شدید عذاب جیسا ہوگا۔
2️⃣ دجال کا خروج
Al-Masih ad-Dajjal آخری زمانے کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"آدم علیہ السلام سے قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں۔"
(روایت: Sahih Muslim)
وہ لوگوں کو دھوکہ دے گا، جھوٹی خدائی کا دعویٰ کرے گا اور بہت سے لوگ اس کے فریب میں آجائیں گے۔
3️⃣ حضرت عیسیٰؑ کا نزول
جب دجال کا فتنہ بڑھ جائے گا تو Isa ibn Maryam آسمان سے نازل ہوں گے۔
حدیث کے مطابق وہ Umayyad Mosque کے قریب اتریں گے اور پھر دجال کو قتل کریں گے۔
4️⃣ یأجوج و مأجوج کا خروج
پھر Gog and Magog نکلیں گے۔
یہ ایک بہت بڑی قوم ہوگی جو زمین میں تباہی پھیلائے گی۔
آخرکار اللہ تعالیٰ انہیں ایک بیماری کے ذریعے ہلاک کر دے گا۔
5️⃣ دابۃ الارض
Dabbat al-Ard زمین سے نکلے گی اور لوگوں سے بات کرے گی۔
یہ لوگوں کو بتائے گی کہ کون ایمان والا ہے اور کون نہیں۔
6️⃣ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
یہ سب سے حیران کن نشانی ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو لوگ ایمان لائیں گے لیکن اس وقت ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا۔"
(روایت: Sahih Bukhari)
اس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
7️⃣ زمین میں تین بڑے خسف
زمین تین جگہوں پر دھنسے گی:
ایک مشرق میں
ایک مغرب میں
ایک جزیرہ العرب میں
یہ بڑے پیمانے پر تباہی کی صورت ہوگی۔
8️⃣ یمن سے آگ کا نکلنا
آخر میں یمن کی طرف سے ایک بڑی آگ نکلے گی جو لوگوں کو میدانِ محشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔
یہ قیامت سے پہلے آخری بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔

08/03/2026

مہینے کے آخر میں آپ کی تنخواہ کبھی ختم نہیں ہو گی
اگر آپ صرف ایک حکمت عملی اپنا لیں
جب آپ کو پہلی تاریخ کوتنخواہ ملے تو آپ اسے 3 تاریخ تک ایک روپیہ بھی خرچ نہ کریں, یہ سمجھیں کہ آپ کو تنخواہ ملی ہی نہیں.
ہوتا یہ ہے کہ جب آپ کو پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے تو
آپ کے اندر اپنی ضروریات ، بلز اور گھر کا سامان خریدنے کے لیئے ایک Exitment ہوتی ہے
اس طرح آپ وہ اشیاء بھی خرید لیتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی تنخواہ ملنے کے تین دن اگر آپ وہ پیسے خرچ نہیں کرتے تو دو دنوں بعد آپ کے اندر سے خرچ کرنے کا Craze ختم ہو چکا ہوتا ہے

اس وقت تک آپ نارمل ہو چکے ہوتے ہیں اور صرف وہی اشیاء خریدتے ہیں جن کی آپ کو اشد ضرورت ہوتی ہے
یہ ایک نفسیاتی سوچ ہے. آپ مہینے کی پہلی یا کسی بھی تاریخ کو ملنے والی تنخواہ صرف تین دن روک لیں
آپ اسی تنخواہ میں امیر ہو جائیں گے
آزمائش شرط ہے

08/03/2026

Social Truth-STBU

08/03/2026

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد چھوٹا ہو گا اوردونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی
،رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا
دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر
ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا،
جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دلجاگتا رہے گا
شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا
، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے
وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا
۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا،
اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے۔
جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے
،درختوں پر پھل آجائیں گے۔کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں
تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟
لوگ اثبات میں جواب دیں گے۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔
دجال کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی
، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔
وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہریداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا
اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا
،اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا
۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے،
باہر نکلتے ہی دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا۔
آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی
لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے
،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی اجازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے
،چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔
اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی
۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے
۔دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا
۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں،
البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا
۔دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے
اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا
لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا
لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی۔
اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے
۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا
بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے،امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے
لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی
،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میں دھاک بٹھا چکا ہو گا
اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اﷲ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا
۔
حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے۔
تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے۔
ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔
اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے۔ مصلے کیطرف بڑھیں گے عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا
،نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا
جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے
اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اﷲ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔
پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیااور جو کچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہو گا

Address

Islamabad
47000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Social Truth-STBU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category