27/08/2026
نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر کا ایک حصہ ٹوٹا، چند منٹوں میں دریا بپھر گئے
نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن فلیش فلڈ محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا، بلکہ بظاہر گلیشیئر، چٹان، برف اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ تھا۔
ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس دوران برف کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹانیں، مٹی اور تلچھٹ بھی شامل ہو گئی، جس نے چند لمحوں میں ایک طاقتور برفانی و چٹانی تودے کو سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔
سیٹلائٹ تصاویر میں تباہی کی شدت واضح دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک روز پہلے تک پہاڑی ڈھلوانیں سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی تھیں، وہاں اگلے ہی روز وسیع علاقہ بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آیا۔
ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ واقعے سے کچھ دیر پہلے آنے والے زلزلے نے گلیشیئر یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔
ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ تباہی سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران بعض گلیشیئرز پر موجود برف تیزی سے پگھلتی دکھائی دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ البتہ ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔
اس سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، چٹانوں، برف اور تلچھٹ کا ایک انتہائی طاقتور ریلا نیچے کی طرف بڑھا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں بعض مقامات پر پانی کی سطح صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی ہلاکتوں کے مقابلے میں اصل جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں
ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات نے قدرتی آفات کی نوعیت بھی تبدیل کر دی ہے۔ گلیشیئر پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلیں اور پہاڑی ڈھلوانیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برفانی علاقوں نے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو دیا ہے۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کی بڑھتی ہوئی شدت کا سامنا کر رہا ہے۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ پہاڑوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ ایک گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریا کا راستہ—یہ سب مل کر چند منٹوں میں ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ عام موسمی پیش گوئی سے لگانا ممکن نہیں۔
ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں؛ یہ پورے خطے کے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
نیپال کا یہ سانحہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔