10/01/2020
کل جونہی میں عدالتی کمرے میں داخل ہوتے دروازہ کھولا تو باہر بنچ پر اپنے تین چھوٹے پھول جیسے بچوں کے ساتھ بیٹھی ایک خاتون نے اواز دی، بھائی میں عدالت کے اندر آ کر بیٹھ سکتی ہو۔
میں نے جواب میں کیس کا پوچھا۔ کیا اپکا کیس اس عدالت میں ہے؟۔ اور جواب ہاں میں دیا۔
اس بیچاری خاتون کا اپنےبھائیوں کے ساتھ حق وراثت کا کیس چل رہا ہے۔ جس کو عدالت نے پہلے بعدم پیروی خارج فرمایا تھا۔
اس خاتون نے اسی کیس میں مختیار نامہ کسی بندے کو دیا تھا جو کہ بقول اسکے، اسکے بھائیوں نے اس بندے کو پیسے کی لالچ دے کر کیس میں عدم دلچسپی کی وجہ سے عدالت سے غیر حاضر رہا او کیس بعدم پیروی خارج کیا گیا۔
اب آپ لوگ اندازہ کریں ایک خاتون اپنے تین کمسن بچوں، جس میں ایک شیر خوار ہے، صبح 8 بچے عدالتی کمرے کے باہر حاضر رہتی ہے جو کہ علاقہ باڈوان یعنی تقریباََ 50 کلومیٹردور سے آتی ہے، وہ اس سردی کے موسم میں کس وقت گھر سے نکلی ہو گی؟
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا ہے؟ اگر ہے تو کیا ہم مسلمان ہے؟
مزید یہ کہ اگر ایک خاتون انصاف کیلئے عدالت کے دروازے پر کھڑا ہو اور ایک نام نہاد مسلمان اتنا کمینگی کی حد کریں کہ وہ اپ کے مختیار خاص کو بھی خرید لیں۔
بہت افسوس۔
Yesterday, while entering to the court room, a woman called from behind, setting on the bench with her three kids outside court room. "Can I set and wait inside court room?" She asked.
"Is your case is in this court" I asked. Her reply was yes.
Then I get her inside the court room as it was severe cold outside.
She comes to attend the court for declaration of her share in inheritance with her brothers, from Badwan area, which is about 50 KM away from here.
I suggested her that why don't she give power of attorney to someone in her relatives, i.e. cousins etc. She told that it was given to someone, who was later on paid by her brothers to not to follow the case and then the case was dismissed in default.
RIP Musalmani. 😢
Sarbiland Khan