Awami Workers' Party - Marxist

Awami Workers' Party - Marxist AWP party program:

The State will take the primary responsibility of organizing and planning the country's economy.

AWP-Marxist aims to bring together the struggles of workers, students, peasants, women and oppressed people against imperialism, exploitative capitalism, ecocide, gender, class and racial discrimination, and set up a socialist society. Major industries, including those run by the military, will be nationalized and placed under the control of a democratic state. The party will resist imperialist aggression against our people in all its manifestations: be they drone strikes, multinational capital or austerity measures imposed by the IMF and World Bank. The Privatization policy will be immediately stopped, all privatized industries will be re-nationalized and sacked employees will be re-instated. The democratic right of workers to form trade unions will be recognized and protected as part of the state's policy of democratizing the work place and improving working conditions. Radical land reforms will be immediately implemented and land will be redistributed among the peasantry in order to break the political and social power of big land owning families. Will fundamentally change the state’s hostile policy towards neighbouring countries, which has been used to justify the military establishment’s economic and political power. The party recognizes that the question of women liberation has received inadequate attention, even within Leftist circles. The party aims to fight against all forms of discrimination against women and considers women a vanguard of the revolution, without whom any fundamental change is impossible. The hollow ideology of religious fanaticism will be fully exposed and popular opinion will be mobilized to fight against such retrograde forces. Pakistan’s multinational essence will be recognized and a genuine federal system based on the right of self-determination for all nations will be established. The existing, oppressive state institutions will be replaced with those that provide for basic needs and are fundamentally democratic in their functions.

29/09/2026

Red Salute to Comrade President on his 4th Death Anniversary.

27/09/2026
شانگلہ خیبر پختونخواہ کی ضلعی کانگریس کا انعقادشانگلہ۔آج بروز اتوار 27 ستمبر 2026 کو عوامی ورکرز پارٹی مارکسسٹ ضلع شانگل...
27/09/2026

شانگلہ خیبر پختونخواہ کی ضلعی کانگریس کا انعقاد

شانگلہ۔

آج بروز اتوار 27 ستمبر 2026 کو عوامی ورکرز پارٹی مارکسسٹ ضلع شانگلہ کی پہلی مندوبین کانگریس لیلونئی میں ہوئی۔

کانگریس کی نگرانی پولیٹیکل کمیٹی کے رکن کامریڈ افتخار نے کی، اجلاس میں ضلعی کمیٹی اور کابینہ کا انتخاب ہوا، کابینہ کے ارکان درج ذیل ہیں۔
صدر: رحمان اللہ خان
سینئر نائب صدر: عالمگیر خان
جنرل سیکرٹری: کاشف رضا
ڈپٹی جنرل سیکرٹری: سعید الابرار
جائنٹ سیکرٹری: جعفر خان
انفارمیشن سیکرٹری: عقیل خانزادہ
فنانس سیکرٹری: عامر سہیل
آفس سیکرٹری: حضرت
لیگل ایڈوائزر: طارق احمد ایڈووکیٹ
یوتھ سیکرٹری: ضیاءاللہ
پبلک ریلیشنز سیکرٹری: سردار عمر زندہ ہیں۔

آخر میں کامریڈ افتخار حسین باچا نے نو منتخب کابینہ سے حلف لیا اور ان پر زور دیا کہ آج کے مشکل دور میں پارٹی کے نظریہ اور تنظیم کو پورے پختونخواہ سمیت ملک بھر میں پھیلانے اور نوجوانوں، محنت کشوں اور مظلوم طبقات اور قومیتوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے نئی سیاسی صف بندی اور ترقی پسند قوتوں کی ایک وسیع تر متحدہ محاذ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
قاضی حکیم
جنرل سیکرٹری عوامی ورکرز پارٹی(مارکسسٹ ) پختونخوا

26/09/2026

ڈائیگنوسس ہو چکا ہے کہ بھائی سماج کو یہ بیماری لگی ہوئی ہے، یہ یہ بیماریاں ہیں۔

ٹریٹمنٹ کیا ہے؟ علاج کیا ہے؟ کون کرے گا؟ کیسے کرے گا؟

“ہمیں مسئلوں کو ان کی ظاہری صورت سے صرف نہیں سمجھنا، ان کی جوہری بنیاد تک جانا ہے۔ سرمائے اور محنت کے تضاد میں ہمیں چیزیں سمجھنی ہیں کہ سرمائے کی سیاست کیا ہے اور محنت کے مفادات کس میں ہیں؟”

“انہی محنت کشوں کی محنت پہ آپ کا پورا نظام چلتا ہے۔”

عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کانگریس 2026 میں پارٹی کے وفاقی جنرل سیکریٹری کامریڈ بخشل تھلہو کی تقریر کا ایک حصہ۔

“ہم محنت کش، جگ والوں سے، سب جگ کا حساب مانگیں گے۔
کھیت نہیں، دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے!”

جدوجہد زندہ باد! 🚩

-1

26/09/2026
26/09/2026

"سنڌ بچايو - عوامي ريلي"
سنڌ جي ورھاڱي، درياءَ تي ڌاڙي، بدامني، قبيلائي جھيڙن ۽ عورتن جي قتلام ۽ مھانگائي خلاف عوامي ورڪرز پارٽي مارڪسسٽ ڪشمور ڪنڌڪوٽ ضلعي پاران "سنڌ بچايو عوامي ريلي" ڪڍي ويندي.

وقت: 27 سيپٽمبر آچر ڏھاڙي صبح جو 10 وڳي
ھنڌ: پراڻي نادرا آفيس کان پريس ڪلب ڪشمور تائين
_______________________

"سندھ بچاؤ - عوامی ریلی"

سندھ کی تقسیم، دریائے سندھ پر ڈاکے، بدامنی، قبائلی جھگڑوں اور عورتوں کے قتل عام اور مہنگائی کے خلاف عوامی ورکرز پارٹی مارکسسٹ ضلع کشمور کندھ کوٹ کی جانب سے "سندھ بچاؤ عوامی ریلی" نکالی جائے گی۔

وقت: 27 ستمبر بروز اتوار صبح 10 بجے
مقام: پرانے نادرا آفس سے پریس کلب کشمور تک



“The fact that official definitions of the national interest are completely unrelated to popular sentiment is not a new ...
25/09/2026

“The fact that official definitions of the national interest are completely unrelated to popular sentiment is not a new quandary for the powers that be. But in comparison to almost every other dispensation in Pakistan’s history, this regime is not bothered with gaining even a modicum of consent from the people, having liberally deployed the big stick in the country’s core regions to match what has always been the historical norm in the peripheries.
The current dispensation only secures fuel to keep government running the next day by extorting the masses through a levy, while its economic imagination is limited to FDI and a developmental logic revolving around resource grabs. It has shut down border trade with Afghanistan, which is a major supply of the everyday eco­­nomy. Mean­while, members of the Pakistani bourgeoisie itself lament its comp­rador character, the CEO of the Sentinel Group recently penn­ing a telling essay on ‘Pakistan’s missing multinationals’.
And where young and old working people alike demonstrate enterprise so as to make ends meet, the response of the state is to suppress, confiscate, even destroy. Look no further than the treatment of Islamabad’s katchi abadi dwellers and street vendors in recent months.
Containment of the political and economic freedoms of Pakistan’s teeming masses is what the militarised state apparatus knows best. But building container cities does not make acute contradictions disappear, they only magnify them.”
Aasim Sajjad Akhtar

https://www.dawn.com/news/2032518

Whether the latter’s "long march" even materialises is irrelevant, because the optics of a heavily contained population is the real story.

https://www.facebook.com/share/p/19TveRjgyq/عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کی سالانہ کانگریس منعقد، نئی قیادت منتخبکر...
21/09/2026

https://www.facebook.com/share/p/19TveRjgyq/

عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کی سالانہ کانگریس منعقد، نئی قیادت منتخب

کراچی کے مسائل کا حل لسانی تقسیم نہیں، محنت کش عوام کی منظم سیاست اور مشترکہ جدوجہد ہے: اوپن سیشن سے مقررین کا خطاب

کراچی، 20 ستمبر 2026: عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کی سالانہ کانگریس پی ایم اے ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی۔ کانگریس کے کلوزڈ سیشن میں گزشتہ سال کی سیاسی و تنظیمی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، آئندہ سال کے سیاسی و تنظیمی لائحہ عمل پر بحث ہوئی اور کراچی میں محنت کشوں، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کے درمیان تنظیم سازی کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کا عزم کیا گیا۔

کانگریس میں سال 2026-27 کے لیے نئی کراچی باڈی کا انتخاب کیا گیا، جس میں یونس راہو صدر، صدف تھلہو نائب صدر، مازن برڑو جنرل سیکریٹری، کامریڈ سونیا جوائنٹ سیکریٹری، منیبہ حفیظ ویمن سیکریٹری، منیر لغاری لیبر سیکریٹری، علی حسن لغاری اطلاعات و نشریات سیکریٹری، احسان کنبھار ایجوکیشن سیکریٹری، اقبال ابڑو فنانس سیکریٹری اور مقصود نبی برڑو یوتھ سیکریٹری منتخب ہوئے۔

کانگریس کے کلوزڈ سیشن کے بعد اوپن سیشن منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی، سماجی، مزدور اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں، کارکنوں، وکلا، خواتین، طلبہ، محنت کشوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اوپن سیشن سے عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کے وفاقی جنرل سیکریٹری بخشل تھلہو، کراچی بار کے جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر، عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) سندھ کے صدر ضیاء بھٹی، سندھ کے جنرل سیکریٹری سینگار نوناری، عالیہ بخشل، پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے صدر زبیر سولنگی، کراچی بچاؤ تحریک کی فاطمہ زیدی، پورہیت مزاحمت کی ورثہ پیرزادو، انجمن ترقی پسند مصنفین کے نعیم شیخ، لیاری عوامی محاذ کے واحد بلوچ اور عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کے نو منتخب صدر یونس راہو سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کے وفاقی جنرل سیکریٹری بخشل تھلہو نے کہا کہ سماج کو درپیش بحرانوں کی تشخیص بہت ہوچکی، اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کا حل کیا ہے اور اس حل کے لیے درکار سیاسی قوت کیسے منظم ہوگی۔ انہوں نے جاگیرداری، مذہبی شدت پسندی، ریاستی جبر، قومی جبر اور ماحولیاتی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کی معاشی اور ساختی بنیادوں کو سمجھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ زبان، نسل، فرقے اور رنگ کی بنیاد پر نفرت کی سیاست محنت کش عوام کو تقسیم کرتی ہے۔ بائیں بازو کا کام نفرت کی اس سیاست کا حصہ بننا نہیں بلکہ محنت کشوں کو ان کے مشترکہ طبقاتی مفادات پر منظم کرنا ہے۔ انہوں نے کارپوریٹ فارمنگ اور ترقی کے نام پر زمینوں اور قدرتی وسائل سے مقامی آبادیوں کی بے دخلی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف لوگوں سے زمین اور ذرائع معاش چھینے جاتے ہیں اور دوسری طرف انہیں امدادی پروگراموں کا محتاج بنایا جاتا ہے، حالانکہ پورا معاشی نظام محنت کشوں کی محنت سے چلتا ہے۔

کراچی بار کے جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اور کراچی بار کا نعرہ ’’متحد سندھ، مضبوط پاکستان‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن، اضلاع، تعلقے، یونین کونسلیں اور وارڈ پہلے ہی انتظامی اکائیوں کی صورت میں موجود ہیں، اس لیے ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ نئی انتظامی اکائیاں بنانے کے بجائے موجودہ اداروں کی کارکردگی اور عوام تک سہولیات کی فراہمی کا ہے۔

محمد ارشد شر نے جمہوری عمل اور عوامی نمائندگی کے سوال پر گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کے ووٹ اور آزاد سیاسی عمل کو کمزور کرکے جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے طلبہ یونینوں کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں طلبہ یونینیں نچلی سطح سے نئی اور فطری سیاسی قیادت کے ابھرنے کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔ نوجوانوں کو سیاسی عمل میں جگہ اور نئی قیادت کو آگے آنے کے مواقع دینا ضروری ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی کے نو منتخب صدر یونس راہو نے کہا کہ ’’روشنیوں کے شہر کے اندھیرے مٹائیں‘‘ کا نعرہ کراچی کے اندر موجود طبقاتی تفاوت کو سامنے لاتا ہے۔ شہر کے خوشحال علاقوں کی چمک کے ساتھ مزدور اور عوامی بستیوں میں موجود بھوک، بے روزگاری، مہنگائی، بے دخلی اور بنیادی سہولیات سے محرومی کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے ملیر کی زرعی زمینوں اور مقامی آبادیوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نسلوں سے لوگوں کے روزگار، خوراک اور ماحول سے جڑی زمینوں کو منڈی کی جنس میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جیسے معاشی مسائل کا سامنا کرنے والے محنت کشوں کو زبان، فرقے، عقیدے اور شناختوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل محنت کش عوام کو مزید تقسیم کرنے میں نہیں بلکہ ان کے مشترکہ معاشی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد کو منظم کرنے میں ہے۔

خواتین کے سوال پر عالیہ بخشل نے کہا کہ عورت کی معاشی آزادی ضروری ہے لیکن محض معاشی خودمختاری پدرشاہی سے مکمل آزادی کی ضمانت نہیں۔ معاشی طور پر خودمختار اور پیشہ ور خواتین بھی مختلف شکلوں میں پدرشاہی اور گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے عورت کی آزادی کے سوال کو طبقے، ملکیت اور سماجی و معاشی رشتوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خواتین، محنت اور ماحولیات کے مسائل کو عارضی منصوبوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

پورہیت مزاحمت کی ورثہ پیرزادو نے کہا کہ خواتین کو محض متاثرہ یا مظلوم کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں سیاسی اور سماجی جدوجہد کی فعال قوت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ خواتین زمین، پانی، رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کے حقوق کے ساتھ ہراسانی، تشدد اور بے دخلی کے خلاف بھی منظم ہوتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زمین اور ملکیت کے سوال کو نظرانداز کرکے کسان عورت کی خودمختاری، معاشی ناانصافی کو نظرانداز کرکے عورت کی آزادی اور قدرتی ماحول کی تباہی کو نظرانداز کرکے عورت کے روزگار اور تحفظ کی بات نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے دیہی خواتین کی تنظیم سازی اور بڑے ترقیاتی و توانائی منصوبوں کے نتیجے میں مقامی آبادیوں، بالخصوص خواتین پر پڑنے والے اثرات کو سیاسی جدوجہد کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

کراچی بچاؤ تحریک کی فاطمہ زیدی نے کہا کہ بائیں بازو اور مختلف فیمنسٹ رجحانات کو محنت کش خواتین کے ساتھ اپنے تعلق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ’’وکٹم ہُڈ کی سیاست سے نکل کر آرگنائزنگ کی سیاست‘‘ کی طرف بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محنت کش خواتین کو محض متاثرہ سمجھنے کے بجائے ان سے سیکھنا ہوگا کہ ان کی زندگی کے بنیادی مسائل کیا ہیں، وہ کن مسائل کو اہم سمجھتی ہیں اور کن حالات کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تنظیم سازی کو محنت کش خواتین کے حقیقی تجربات اور ترجیحات سے جڑنا ہوگا۔

لیاری عوامی محاذ کے واحد بلوچ نے کہا کہ ترقی پسند سیاست کو بدلتے ہوئے سماجی حالات کے مطابق اپنے طریقۂ کار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں میں مستقل سیاسی اور سماجی کام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سے محض انقلاب کی بات کرنا کافی نہیں؛ انہیں کھیل، موسیقی، تھیٹر، مصوری اور دوسری تخلیقی و سماجی سرگرمیوں کے مواقع دینے اور ان کے درمیان مسلسل تنظیمی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے لیاری اور ملیر میں پانی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل، زمین اور مقامی وسائل کے استحصال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند قوتوں کو لوگوں کی روزمرہ زندگی اور محلوں میں موجود حقیقی مسائل سے جڑنا ہوگا۔ انہوں نے پراجیکٹ اور فنڈنگ پر مبنی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے عوام کے درمیان مستقل سیاسی و تنظیمی کام کی ضرورت پر زور دیا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کے نعیم شیخ نے انسان دوستی، یکجہتی اور اجتماعی جدوجہد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں کو ان قوتوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا جو ان کا استحصال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، روشنی پھیلانا اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ترقی پسند قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اوپن سیشن کے دیگر مقررین نے بھی محنت کشوں، کسانوں، طلبہ اور خواتین کے حقوق، زمین، پانی اور قدرتی وسائل، معاشی بحران، نجکاری، قومی و جمہوری حقوق، طلبہ یونینوں کی بحالی اور کراچی میں لسانی تقسیم کے سوالات پر اظہار خیال کیا۔

کانگریس نے اپنے مطالبات میں تمام مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت اور قانونی تحفظ، ڈیجیٹل اور گیگ ورکرز کے حقوق، سوشل سیکیورٹی اور EOBI، خواتین مزدوروں کے لیے مساوی اجرت، طلبہ یونینوں کی بحالی اور مفت و معیاری تعلیم، کچی آبادیوں کے مالکانہ حقوق، مزدور یونینوں کی آزادی، زمین، پانی اور قدرتی وسائل پر عوام کے جمہوری حق، نجکاری کے خاتمے، کراچی میں لسانی نفرت اور تفریق کی روک تھام، بنیادی انفراسٹرکچر اور بہتر عوامی ٹرانسپورٹ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر زور دیا۔

کانگریس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی میں محنت کشوں، خواتین، طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان تنظیم سازی کو وسعت دیتے ہوئے نفرت اور لسانی تقسیم کے مقابلے میں طبقاتی یکجہتی، جمہوری آزادیوں اور عوام کے سیاسی و معاشی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا۔

آئیں! کراچی کو محنت کشوں کا شہر بنائیں۔
ہم نفرت نہیں، اتحاد چاہتے ہیں۔
ہم تقسیم نہیں، یکجہتی چاہتے ہیں۔
ہم استحصال نہیں، محنت کا احترام چاہتے ہیں۔
ہم خوف نہیں، جمہوری آزادی چاہتے ہیں۔

دنیا کے محنت کشو اور مظلوم قومو! ایک ہو جاؤ!

جاری کردہ:
اطلاعات و نشریات سیکریٹری
عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کراچی
20 ستمبر 2026

Address

Saidpur Plaza Second Floor, G-9 Markaz
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami Workers' Party - Marxist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Awami Workers' Party - Marxist:

Shortcuts

Share