01/02/2026
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا ’گن کیرج‘ میں سلطانوں والا سفر آخرت
از قلم: عامر محبوب
جب کسی شخص کے تابوت کو گن کیرج پر رکھا جاتا ہے تو یہ صرف ایک جنازہ نہیں ہوتا، یہ ریاست کی طرف سے ایک خاموش اعلان ہوتا ہے کہ یہ شخص عام نہیں تھا۔
آج بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو مکمل سرکاری اعزاز اور گن کیرج کے ساتھ سپردِ خاک کیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعزاز جو پاکستان کی تاریخ میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔
مظفرآباد کی جانب روانہ ہونے والی گن کیرج اس بات کی علامت ہے کہ یہ رخصتی ذاتی نہیں، قومی ہے۔ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں قائدِ کشمیر پانچویں شخصیت ہیں جن کی آخری رسومات گن کیرج میں ادا کی جا رہی ہیں، اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد وہ دوسری سیاسی شخصیت ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
اس سے قبل یہ اعزاز قائدِ اعظم محمد علی جناح، جنرل ضیاء الحق، عبد الستار ایدھی اور محترمہ رتھ فاؤ کو دیا جا گیا ہے۔
گن کیرج جنازہ محض ایک فوجی روایت نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے کسی فرد کی غیر معمولی قومی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ توپ والی فوجی گاڑی، قومی سلامی، فوجی دستہ اور مکمل پروٹوکول دراصل ان خدمات کی گواہی دیتے ہیں جو لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
میں نے بیرسٹر سلطان محمود کو ایک دوست کی حیثیت سے جانا۔ وہ منصب سے زیادہ مؤقف کے آدمی تھے۔ کشمیر ان کے لیے ایک سیاسی حوالہ نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری تھی، جس سے وہ زندگی بھر پیچھے نہیں ہٹے۔ اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی وابستگی اور استقامت سے انکار ممکن نہیں۔
آج جب ان کا تابوت گن کیرج پر آگے بڑھے گا تو یہ صرف ایک فرد کی تدفین نہیں ہو گی، بلکہ ایک ایسے سفر کی تکمیل ہے جو قوم اور تاریخ کے درمیان طے ہوا تھا۔ ریاست نے انہیں جو اعزاز دیا، وہ اس بات کی مہر ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو قومی ہیرو اور قوم کا اثاثہ سمجھا گیا۔
اللہ انہیں اپنی رحمت میں جگہ دے، کہ آج گن کیرج نے ایک شخص نہیں بلکہ ایک عہد کو رخصت کیا، اور اس کے پہیوں نے تاریخ کے صفحے پر ایک ناقابلِ فراموش سطر رقم کر دی