Pakistan Academy of Letters

Pakistan Academy of Letters پاکستانی ادب کی ترویج اور ادیبوں کی بہبود کا قومی ادارہ
Govt body to promote Pakistani literature

پریس ریلیز(اسلام آباد):21اگست 2026ء،بروز جمعہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام جاری توسیعی خطبات کے سلسلے کی آٹھویں ...
24/08/2026

پریس ریلیز(اسلام آباد):

21اگست 2026ء،بروز جمعہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام جاری توسیعی خطبات کے سلسلے کی آٹھویں نشست زوم اور فیس بک لائیو کے ذریعے منعقد ہوئی۔ ۔ نشست کی صدارت ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ نے کی، جبکہ معروف دانشور ڈاکٹر گلزار جلال نے "پشتو ڈرامے کے سو سال: تاریخی و تحقیقی جائزہ"کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید حنیف رسول کاکاخیل نے انجام دیے۔ڈاکٹر گلزار جلال نے اپنے جامع اور تحقیقی خطبے میں پشتو ڈرامے کی ایک صدی پر محیط تاریخ، اس کے ارتقائی مراحل اور معاشرتی و سیاسی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پشتو ڈرامے کی ابتدائی بنیادیں انجمن اصلاح افاغنہ کی اصلاحی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ 1921ء میں شروع ہونے والی اس تحریک نے پشتو ادب، آزاد اسکولوں اور دیگر اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ڈرامے کو بھی معاشرتی بیداری کا مؤثر ذریعہ بنایا۔انھوں نے بتایا کہ عبد الاکبر خان اکبر کا ڈرامہ “تربور” پشتو کے ابتدائی ڈراموں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جسے اتمانزئی، چارسدہ کے آزاد اسکول کے طلبہ نے انجمن اصلاح افاغنہ کے سالانہ جلسے کے موقع پر پیش کیا۔ بعد ازاں 1927ء میں "تہذیب جدید اور تعلیم جدید" اور 1928ء میں "یتیم" جیسے ڈرامے بھی پیش کیے گئے، جن میں باچا خان کے صاحبزادوں عبدالغنی خان اور عبدالولی خان نے بھی کردار ادا کیے۔ڈاکٹر گلزار جلال نے پشتو ڈرامے کے ارتقائی سفر کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے 1930ء کے "خدائی خدمتگار"، عبد الخالق خلیق کے اسی عنوان سے تحریر کردہ ڈرامے، 1931ء کے "درد"، 1932ء کے ایک اور "خدائی خدمتگار"، "شہیدہ سکینہ"، "نئی روشنی"، " خوږژوند "، "میں باپ ہوں" اور "وطن کا شہید"، "د وینو جام" سمیت متعدد ڈراموں کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ پشتو ڈرامے نے ریڈیو اور بعد ازاں ٹیلی ویژن تک پہنچ کر اپنی اثر پذیری کو مزید وسیع کیا۔انھوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی پشتو ڈراموں کے بعض اصل مسودات دستیاب نہیں، تاہم سرکاری رپورٹس، آرکائیوز اور تحقیقی کتب میں موجود مواد ان ڈراموں کی تاریخی اہمیت کی تصدیق کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پشتو ڈرامہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح، سیاسی شعور اور فکری بیداری کا اہم وسیلہ رہا ہے۔صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ نے ڈاکٹر گلزار جلال کے خطبے کو انتہائی جامع، تحقیقی اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتو ڈرامے کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ایک قابلِ فخر ادبی و ثقافتی ورثہ ہے۔ اُنھوں نے پشتو ڈرامے پر ڈاکٹر افضل رضا کی 1964ء میں شائع ہونے والی تحقیقی کتاب کا بھی حوالہ دیا۔صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے اختتامی کلمات میں نشست کو نہایت عمدہ اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ ایک مؤثر عوامی میڈیم ہےپشتو ڈرامہ نے معاشرے میں سیاسی اور فکری بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ادب کی مختلف اصناف کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی اور شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ، مقرر ڈاکٹر گلزار جلال اور نظامت کے فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر سید حنیف رسول کاکاخیل کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔نشست میں ملک کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک سے ادب و ثقافت سے وابستہ افراد نے زوم اور فیس بک لائیو کے ذریعے شرکت کی۔ شرکاء میں شاہدہ رسول، شیراز دستی، سید حارث، ضیاء بلوچ، زاکر خان، اقبال حسین افکار، شمعہ، کرن سنگھ ،ساندیا کور، اسامہ، سلمان شاہ، اسلم میر، سلطان ناصر، اظہر سلیم مجوکہ، وقاص شاہ، عبد الکریم بریالی ،عمار علی یاسر، علی عرفان اور دیگر شامل تھے۔ نشست کے اختتام پر شرکاء نے پشتو ڈرامے کی تاریخ اور اس کے ادبی و سماجی کردار پر پیش کیے گئے تحقیقی خطبے کو سراہا۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

21/08/2026
شاعر اور ادیب معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اورنگزیب خان کھچیڈاکٹر انعام الحق جاوید بڑے ہلکے پھلکے انداز م...
21/08/2026

شاعر اور ادیب معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اورنگزیب خان کھچی
ڈاکٹر انعام الحق جاوید بڑے ہلکے پھلکے انداز میں معاشرتی برائیوں کو بیان کر جاتے ہیں ۔سید طاہر شہباز
ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، انور مسعو کے بعد سب سے بڑے مزاح نگار شاعر ہیں۔ ذوالفقار چیمہ

اسلام آباد(پ۔ر):
20 اگست 2026ء، بروز جمعرات، اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے بزمِ ادب اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ممتاز ماہرِ تعلیم، دانشور، شاعر اور مزاح نگار پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی کلیاتِ مزاحیہ شاعری کی تقریبِ پذیرائی ، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ایسی ادبی تقریبات معاشرے کی فکری و تہذیبی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ادب برائے زندگی کے مقصد کو تقویت دیتی ہیں۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کو قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ذیلی اداروں کا ایک اہم اور خوبصورت گلدستہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو کلیات کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور بزمِ ادب اسلام آباد اور اکادمی ادبیات پاکستان کو باوقار تقریب کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ مہمانِ اعزاز سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو شائستہ مزاج اور منفرد مزاح نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں تنوع، طنز اور معاشرتی مشاہدہ نمایاں ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی انتظامی صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ سید طاہر شہباز نے کہا کہ تصنیف اپنے مصنف کی شخصیت کی تصویر ہوتی ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے پیشہ ورانہ و ادبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی نو کتابوں پر مشتمل کلیات کو نو رنگوں کی قوسِ قزح قرار دیا۔ صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو کلیات کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ مزاح وہی شاعر لکھ سکتا ہے جو معاشرتی درد اور جبر کو محسوس کرتا ہو۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شاعری میں مزاح کے ساتھ معاشرتی شعور اور انسانی احساس نمایاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید خلوت میں صاحبِ مطالعہ شاعر اور جلوت میں بہترین منتظم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ مزاح زندگی کی مشکلات سہنے کا ایک قرینہ ہے اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شاعری کا سرچشمہ زندگی کا گہرا مطالعہ اور وسیع مشاہدہ ہے۔ انھوں نے مزاح اور مذاق کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کلیات کو ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی ادبی زندگی کے مختلف رنگوں کا مجموعہ قرار دیا۔ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر صفدر علی شاہ نے ان کی زبان پر گرفت، شائستگی اور بے باکی کو نمایاں خصوصیات قرار دیا۔ ڈاکٹر سید راغب علی نے کلیات میں شامل منتخب اشعار پیش کرتے ہوئے ان کی مزاحیہ شاعری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر امجد علی بھٹی نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی شخصیت اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اپنی ابتدائی دور کی شاعری اور کلیات میں شامل منتخب اشعار پیش کیے اور تقریب کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

پریس ریلیز(پ.ر)کراچی   ۔اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام۱۴اگست جشن آزادمی کی مناسبت سے " آزادی مشاعرہ"    کاانعق...
20/08/2026

پریس ریلیز
(پ.ر)کراچی ۔اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام۱۴اگست جشن آزادمی کی مناسبت سے " آزادی مشاعرہ" کاانعقادکیا گیا۔جس کی صدارت فیروز ناطق خسرو نے کی مہمان خصوصی کھتری عصمت علی پٹیل تھے۔صدارتی خطاب میں فیروز ناطق خسرو نے کہا کہ پاکستان اللہ کی ایک نعمت ہے اس ذات نے ہمیں بہترین جغرافیہ، بہتے دریا، وسیع سمندر، بندرگاہیں، سر سبز کھیت، کھلے میدان، اونچے پہاڑ، لامتناہی صحرا، معدنیات کے خزانے اور غیور لوگ عنایت کیے ہیں۔اس وطن کے جوانوں کا ہر دور میں حب الوطنی کا جذبہ مثالی رہا ہے، ان جوانوں پر آزمائش کی کوئی بھی گھڑی آئی یہ ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔1965 ءکی جنگ کو ہی دیکھا جائے جب بھارت نے طاقت کے نشے میں چور ہوکر پاک فوج کی توجہ لاہور محاذ سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ فوج کے ساتھ سیالکوٹ کی سرزمین پر حملہ کیا۔تو اہلیان چونڈہ نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا غرور خاک میں ملا دیا یہاں تک کہ چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیاگیا۔ مہمانان خصوصی کھتری عصمت پٹیل نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں ٹینکوں کا یہ سب سے بڑا حملہ تھا، شہادت کا جذبہ رکھنے والے جوانوں نے سینے سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے پرخچے اڑادیے۔ چشم فلک نے آج تک اپنے وطن پر قربان ہونے کا یہ ایمان افروز منظر نہیں دیکھا، یہ سعادت انہی کے حصے میں آئی جن کی زبان پر لا الہ الا اللہ اور سینوں میں محمد رسول اللہ کاعشق سمویاہوا ہے۔ یہ ذوق خدائی دنیا کی کسی اور مخلوق کے حصے میں نہیں آئی یہ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے چونڈہ میں اس معرکے کے کئی شہداء کی قبریں اور بھارت سے چھینا گیا ٹینک آبدوز اور توپیں آج بھی موجود ہیں جو بھارتی فوج کی بزدلی اور پاک فوج کے تاریخی معرکے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ ہر میدان میں بدر کی روایات کے امین ہیں۔ حالات کی تیز آندھیاں اور دشمن کے ناپاک عزائم ان کے قدموں کو کبھی متزلزل نہیں کر سکے یہ ہمیشہ پرخطر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ " جشن آزادی ملی مشاعرے میں جن شعراء حضرات نے اپنا کلام سنایا ان میں وقار زیدی, زید پیرزادہ، رکیل مورائی، نصیر سومرو ، پروفیسر شائستہ سحر ،صاحب خان میمن، تنویر سخن عارف شیخ عارف، تاج علی رعنا، رفیق مغل،عبدالستار رستمانی ، شبانہ شیخ،ڈاکٹر آمنہ سومرو، قمر جہاں قمر شامل تھیں۔ انچارج ،اکادمی ادبیات پاکستان کراچی اقبال احمد ڈھراج نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے جانب سے شکریہ ادا کیا اور تمام شعراء اور سامعین کی ایک کثیر تعداد نے پروگرام کے اختتام پر احترام کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض تنویر سخن نے انجام دئے۔
اقبال احمد ڈھراج
انچارج ، اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی

پریس ریلیز(اسلام آباد پ۔ر) 19 اگست 2026ء، بروز بدھ: اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مقبول ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں ا...
19/08/2026

پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر) 19 اگست 2026ء، بروز بدھ:
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مقبول ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 96ویں نشست آج اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب منیر فیاض نے کی۔نشست میں حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تین روزہ نسل نو ادبی میلے کو سراہتے ہوئے اسے نوجوانوں کی ادبی و تخلیقی تربیت کے لیے ایک اہم اور ضروری اقدام قرار دیا گیا۔ شرکاء نے مسلسل تین سال سےنسل نو ادبی میلے کے انعقاد پر اکادمی کی صدرنشین پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے نوجوانوں کو نامور ادیبوں اور لکھاریوں سے براہ راست مکالمے اور سیکھنے کا موقع میسر آتا ہے۔ اس موقع پر امداد آکاش اور دیگر شرکاء نے تجویز دی کہ نسل نو ادبی میلے کو سال میں ایک مرتبہ اکادمی کے مستقل ادبی پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔منیر فیاض نے اکادمی کی جانب سے ادبی تقریبات کے انعقاد کے لیے بلامعاوضہ جگہ کی فراہمی اور شاعروں و ادیبوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنے کو انتہائی احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہل قلم کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پنجابی کے معروف افسانہ نگار اور ادیب ملک مہر علی نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر اکادمی کے سالانہ بجٹ میں ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈ میں نوجوان ادیبوں اور تخلیق کاروں کو شامل کیا جائے اور نسل نو ادبی میلے کے انعقاد کے لیے بھی مناسب فنڈ مختص کیا جائے تو یہ ایک خوش آئند اقدام ہوگا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں یہی نوجوان نسلِ نو ادبی میلے اور اکادمی کی دیگر ادبی سرگرمیوں کو اپنی ادبی زندگی کا قیمتی تجربہ اور اثاثہ سمجھ کر یاد رکھیں گے۔نشست میں منیر فیاض، امداد آکاش، ملک مہر علی، ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ، ذوالفقار علی بخاری، محمد ساجد قریشی، عمر اصغر، حنظلہ احسن، انصر گیلانی، ارم فاطمہ، یوسف خان، محمد عثمان اور دیگر اہل علم و ادب نے شرکت کی۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

اسلام آباد، 19اگست 2026ء: صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نےمرحوم آغا نور محمدپٹھان، سابق ریجنل ...
19/08/2026

اسلام آباد، 19اگست 2026ء:
صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نےمرحوم آغا نور محمدپٹھان، سابق ریجنل ڈائریکٹر سندھ، اکادمی ادبیات پاکستان اورچیف کوآرڈی نیٹرIndus Cottage Libraries Network (ICLN) ، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آغا نور محمد ایک باصلاحیت ادبی و علمی شخصیت تھے جنھوں نے ادب، کتاب اور مطالعے کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان سے ان کی طویل وابستگی اور سندھ میں ادبی و علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کا انتقال ادبی اور علمی حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔صدرنشین نے مرحوم کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور احباب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔


(یوسف خان) اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ

اسلام آباد (پ۔ر) 18 اگست 2026ء، بروز منگل: اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام...
18/08/2026

اسلام آباد (پ۔ر) 18 اگست 2026ء، بروز منگل: اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام معروف ویتنامی انقلابی رہنما، شاعر اور جدید ویتنام کے بانی ہو چی من کی شعری کتاب قیدی کی ڈائری کے اردو ترجمے کی تقریبِ اجرا شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں تھائی لینڈ،ملائشیا،برونائی دارالسلام، کیوبا، انڈونیشیا اور میانمار کے سفیروں اور نمائندوں کے علاوہ پاکستان کے ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ نے کی۔تقریب کا آغاز پاکستان اور ویتنام کے قومی ترانے پیش کرنے سے ہوا۔صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مہمانوں اور سفارتی نمائندگان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قیدی کی ڈائری محض ایک انقلابی رہنما کی روداد نہیں بلکہ انسانی آزادی، امید، حوصلے اور عزم کا شعری اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کا اردو ترجمہ اکادمی ادبیات پاکستان اور ویتنام کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون کے فروغ کی اہم کڑی ہے۔ انہوں نے آسیان ممالک کے ساتھ ادبی روابط مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب کے اختتام پر گزشتہ رات انتقال کر جانے والے معروف ادیب، شاعر اور دانشور حلیم قریشی کے لیے فاتحہ خوانی کرائی اور مرحوم کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔پروفیسر منیر فیاض اور سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے کتاب قیدی کی ڈائری، ہو چی من کی شخصیت، شاعری اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا اور منتخب اشعار پیش کیے۔ صدرِ مجلس امداد اکاش نے ہو چی من کو مظلوم اقوام کے لیے حوصلے، مزاحمت اور آزادی کی علامت قرار دیتے ہوئے کتاب کے منتخب اشعار سنائے۔ویتنام کے سفیر عزت مآب جناب پھان آن تو آن نے ڈاکٹر نجیبہ عارف اور اکادمی ادبیات پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہو چی من کی شاعری کو ویتنامی قومی فکر، آزادی اور خودمختاری کا ترجمان قرار دیا اور کتاب کے اردو و انگریزی تراجم کو پاکستان اور ویتنام کے درمیان ادبی روابط کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔قیدی کی ڈائری بیسویں صدی کی اہم ادبی تخلیقات میں شمار ہوتی ہے، جس میں قید و بند، تنہائی اور انسانی کرب کے ساتھ آزادی، امید، حوصلے اور عزمِ صمیم کو شعری اظہار دیا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ محترمہ کوثر خانم نے جبکہ نظرِ ثانی محترمہ نجمہ ثاقب نے کی ہے،تقریب کے اختتام پر ویتنام کے سفیر عزت مآب جناب پھان آن تو آن نے صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان، مقررین اور منتظمین کو یادگاری تحائف پیش کیے، جبکہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معزز مہمانوں کو اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات پر مشتمل تحائف پیش کیے۔ تقریب کے بعد تمام سفارتی نمائندگان اور معزز مہمانانِ گرامی نے اکادمی ادبیات پاکستان میں ویتنامی سفارتخانے کی جانب سے کتب کی نمائش اور ثقافتی اسٹال کا دورہ کیا، جہاں انہیں ویتنام کے ادبی اور ثقافتی ورثے سے متعلق کتب اور ثقافتی اشیاء کا تعارف کرایا گیا۔ تقریب نے پاکستان، ویتنام اور آسیان ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کو مزید تقویت دی۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

Islamabad (P.R.), August 18, 2026 (Tuesday): The Pakistan Academy of Letters (PAL), under the National Heritage & Culture Division, Government of Pakistan, organized a ceremony to launch the Urdu translation of Prison Diary, the poetic work of Ho Chi Minh, the renowned Vietnamese revolutionary leader, poet, and founder of modern Vietnam. The ceremony was held at the Sheikh Ayaz Conference Hall, Pakistan Academy of Letters, Islamabad. The ceremony was attended by diplomatic representatives of various ASEAN countries, along with writers, intellectuals, and literary figures. Ambassadors and representatives of Thailand, Malaysia, Brunei Darussalam ,Cuba, Indonesia, Myanmar were among the distinguished guests. The ceremony was moderated by Dr. Hamza Hassan Sheikh. Chairperson of the Pakistan Academy of Letters, Prof. Dr. Najiba Arif, welcomed the distinguished guests and diplomatic representatives and said that Prison Diary is not merely an account of a revolutionary leader, but also a poetic expression of human freedom, hope, courage, and determination. She said that the Urdu translation of the book had been undertaken under the Memorandum of Understanding signed between the Pakistan Academy of Letters and Vietnam, which represents an important milestone in promoting literary and cultural cooperation between the two countries. She also expressed her resolve to further strengthen literary ties with ASEAN countries. At the conclusion of her address, Dr. Najiba Arif led a Fatiha for the renowned writer, poet, and intellectual Haleem Qureshi, who passed away the previous day, and paid tribute to his valuable literary services. Prof. Munir Fayyaz and former Ambassador Salahuddin Chaudhry spoke about various aspects of Prison Diary, Ho Chi Minh’s personality, poetry, and struggle, and presented selected verses from the book. Presiding over the session, Imdad Akash described Ho Chi Minh as a symbol of courage, resistance, and freedom for oppressed nations and recited selected verses from the Ambassador of Viet Nam H.E. Mr. Pham Anh Tuan thanked Dr. Najiba Arif and the Pakistan Academy of Letters and said that Ho Chi Minh’s poetry represents Vietnamese national thought, freedom, and sovereignty. He described the Urdu and English translations of the book as an important development in promoting literary relations between Pakistan and Vietnam. Prison Diary is regarded as one of the significant literary works of the twentieth century. The book gives poetic expression to imprisonment, loneliness, and human suffering, while also highlighting freedom, hope, courage, and unwavering determination. The Urdu translation has been rendered by Ms. Kausar Khanum, while Ms. Najma Saqib carried out its revision. At the conclusion of the ceremony, Ambassador of Viet Nam H.E. Mr. Pham Anh Tuan presented commemorative gifts to the Chairperson of the Pakistan Academy of Letters, speakers, and organizers, while Dr. Najiba Arif presented the distinguished guests with gift packages comprising publications of the Pakistan Academy of Letters. Following the ceremony, all diplomatic representatives and distinguished guests visited the book exhibition and cultural stall arranged by the Embassy of Vietnam at the Pakistan Academy of Letters. They were introduced to books highlighting Vietnam’s rich literary and cultural heritage, as well as various cultural artifacts. The ceremony further reinforced the commitment to promoting literary and cultural cooperation, mutual understanding, and stronger ties among Pakistan, Vietnam, and the ASEAN countries.

(Yousuf Khan)
Assistant In-charge (P. R)

اسلام آباد: 18 اگست 2026ء: اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معروف شاعر، محترم حلیم قریشی کے انتقال ...
18/08/2026

اسلام آباد: 18 اگست 2026ء:
اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے معروف شاعر، محترم حلیم قریشی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حلیم قریشی 1940ء میں واہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایسوسی ایٹڈ سیمنٹ فیکٹری واہ سے بطور اسسٹنٹ مینیجر کیمیکل کیا اور سال 2003ء میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے بطور جنرل مینیجر پراجیکٹ ریٹائر ہوئے۔

حلیم قریشی ستر کی دہائی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ احمد ندیم قاسمی کے ادبی جریدے 'فنون' سے انہیں قومی و بین الاقوامی شہرت ملی۔ ان کا اصل کمال منفرد غزل گوئی اور جدید نظم نگاری تھا۔ وہ اپنے نپے تلے اندازِ گفتگو اور گہرے شعری شعور کی وجہ سے ادبی حلقوں میں خاص مقام رکھتے تھے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 2026 کو انھیں تمغہ امتیاز دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔

صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مرحوم حلیم قریشی کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

Address

Pitras Bukhari Road, H-8/1, Opp. Shifa International Hospital
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00

Telephone

+92519269718

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Academy of Letters posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Academy of Letters:

Shortcuts

Share