24/08/2026
پریس ریلیز(اسلام آباد):
21اگست 2026ء،بروز جمعہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام جاری توسیعی خطبات کے سلسلے کی آٹھویں نشست زوم اور فیس بک لائیو کے ذریعے منعقد ہوئی۔ ۔ نشست کی صدارت ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ نے کی، جبکہ معروف دانشور ڈاکٹر گلزار جلال نے "پشتو ڈرامے کے سو سال: تاریخی و تحقیقی جائزہ"کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید حنیف رسول کاکاخیل نے انجام دیے۔ڈاکٹر گلزار جلال نے اپنے جامع اور تحقیقی خطبے میں پشتو ڈرامے کی ایک صدی پر محیط تاریخ، اس کے ارتقائی مراحل اور معاشرتی و سیاسی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پشتو ڈرامے کی ابتدائی بنیادیں انجمن اصلاح افاغنہ کی اصلاحی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ 1921ء میں شروع ہونے والی اس تحریک نے پشتو ادب، آزاد اسکولوں اور دیگر اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ڈرامے کو بھی معاشرتی بیداری کا مؤثر ذریعہ بنایا۔انھوں نے بتایا کہ عبد الاکبر خان اکبر کا ڈرامہ “تربور” پشتو کے ابتدائی ڈراموں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جسے اتمانزئی، چارسدہ کے آزاد اسکول کے طلبہ نے انجمن اصلاح افاغنہ کے سالانہ جلسے کے موقع پر پیش کیا۔ بعد ازاں 1927ء میں "تہذیب جدید اور تعلیم جدید" اور 1928ء میں "یتیم" جیسے ڈرامے بھی پیش کیے گئے، جن میں باچا خان کے صاحبزادوں عبدالغنی خان اور عبدالولی خان نے بھی کردار ادا کیے۔ڈاکٹر گلزار جلال نے پشتو ڈرامے کے ارتقائی سفر کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے 1930ء کے "خدائی خدمتگار"، عبد الخالق خلیق کے اسی عنوان سے تحریر کردہ ڈرامے، 1931ء کے "درد"، 1932ء کے ایک اور "خدائی خدمتگار"، "شہیدہ سکینہ"، "نئی روشنی"، " خوږژوند "، "میں باپ ہوں" اور "وطن کا شہید"، "د وینو جام" سمیت متعدد ڈراموں کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ پشتو ڈرامے نے ریڈیو اور بعد ازاں ٹیلی ویژن تک پہنچ کر اپنی اثر پذیری کو مزید وسیع کیا۔انھوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی پشتو ڈراموں کے بعض اصل مسودات دستیاب نہیں، تاہم سرکاری رپورٹس، آرکائیوز اور تحقیقی کتب میں موجود مواد ان ڈراموں کی تاریخی اہمیت کی تصدیق کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پشتو ڈرامہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح، سیاسی شعور اور فکری بیداری کا اہم وسیلہ رہا ہے۔صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ نے ڈاکٹر گلزار جلال کے خطبے کو انتہائی جامع، تحقیقی اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتو ڈرامے کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ایک قابلِ فخر ادبی و ثقافتی ورثہ ہے۔ اُنھوں نے پشتو ڈرامے پر ڈاکٹر افضل رضا کی 1964ء میں شائع ہونے والی تحقیقی کتاب کا بھی حوالہ دیا۔صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے اختتامی کلمات میں نشست کو نہایت عمدہ اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ ایک مؤثر عوامی میڈیم ہےپشتو ڈرامہ نے معاشرے میں سیاسی اور فکری بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ادب کی مختلف اصناف کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی اور شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے صدرِ محفل پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابدؔ، مقرر ڈاکٹر گلزار جلال اور نظامت کے فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر سید حنیف رسول کاکاخیل کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔نشست میں ملک کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک سے ادب و ثقافت سے وابستہ افراد نے زوم اور فیس بک لائیو کے ذریعے شرکت کی۔ شرکاء میں شاہدہ رسول، شیراز دستی، سید حارث، ضیاء بلوچ، زاکر خان، اقبال حسین افکار، شمعہ، کرن سنگھ ،ساندیا کور، اسامہ، سلمان شاہ، اسلم میر، سلطان ناصر، اظہر سلیم مجوکہ، وقاص شاہ، عبد الکریم بریالی ،عمار علی یاسر، علی عرفان اور دیگر شامل تھے۔ نشست کے اختتام پر شرکاء نے پشتو ڈرامے کی تاریخ اور اس کے ادبی و سماجی کردار پر پیش کیے گئے تحقیقی خطبے کو سراہا۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)