Ghazzanfar Academy Garh Maharaja

Ghazzanfar Academy Garh Maharaja Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ghazzanfar Academy Garh Maharaja, Public School, Garh Maharaja, Jhang Sadar.

25/01/2024
اسلام وعلیکم !!!!‏جب اسکول اپنا نہیں ہوگا تو پھر یہی ہوگا ، شیطان جب ڈائریکٹ آپ سے آپ کا دین نہیں تبدیل کروا پاتا تو پہل...
04/01/2024

اسلام وعلیکم !!!!

‏جب اسکول اپنا نہیں ہوگا تو پھر یہی ہوگا ،
شیطان جب ڈائریکٹ آپ سے آپ کا دین نہیں تبدیل کروا پاتا تو پہلے آپ سے آپ کا کلچر تبدیل کرواتا ہے،
تو جب آپ کفر کو بطور کلچر قبول کرلیتے ہیں تو کفر کو بطور دین قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
جب آپ اسلام کے کلچر کو چھوڑ دیتے ہیں تو اسلام کو بطور دین چھوڑ دینا بھی آپ کے لیے آسان ہوجاتا ہے ۔







‏امریکا کے اس گھر میں ایک بہرہ بچہ رہتا ہے۔اس گھر کے آگے بلدیہ والوں نے یہ سپیشل بورڈ نصب کیا ہے تا کہ گاڑیوں کو یہاں سے...
28/11/2023

‏امریکا کے اس گھر میں ایک بہرہ بچہ رہتا ہے۔
اس گھر کے آگے بلدیہ والوں نے یہ سپیشل بورڈ نصب کیا ہے تا کہ گاڑیوں کو یہاں سے گزرنے میں تنبیہہ رہے کہ اگر بچہ یہاں باہر نظر آئے تو اسے ہارن سنائی نہیں دے گا۔

اسے کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے

‏عجیب ترین چوری کا واقعہایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے و...
27/11/2023

‏عجیب ترین چوری کا واقعہ

ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان میں چلا گیا۔

سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں۔

اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔

سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔

شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا:

"آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو"

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔

سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔

لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے *اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو؟

لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، "یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے کثرت علم، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔

انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں"

لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔

سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ،

"شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں۔ میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں، اس لیے
*اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا"

شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔

تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔

جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔

اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہو گئے۔

اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی "چور" شیخ تھا جس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی۔

سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔

ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا، "کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟" کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے"

سنار نے کہا، "کیوں نہیں؟ اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی"

پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، "تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ،

تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔

شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔

پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔

سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔ شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔

آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے۔ بھیس بدل بدل کر وہی چور نئے روپ میں آ کر ملک کو لوٹتے ہیں اور عوام کو بیہوش کر کے قومی خزانہ لپیٹ کر غائب۔ اللّه پاکستان کے حال پر رحم کرے۔ آمین۔



‏بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!"ایک شخص نے دو نوعمر بچوں کو لیاایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجااور دوسرے ک...
25/11/2023

‏بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!
"ایک شخص نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.

ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.

اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں.
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.

صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.
یاد رکھئے!
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے.
خیرات دیں،
منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
‏‎کسی بے روزگار کو سبزی کا اسٹال لگا دیں ، اگر صاحب استطاعت ہیں تو نوکری پہ رکھ لیں ، اگر مزید کچھ کرنا چاہتے ہیں تو قرض حسنہ دے دیں یا پھر کسی کو کوئی ہنر سکھا دیں تاکہ کل وہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوسکے۔



13/11/2023

‏*تقسیم ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب” نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،*

*ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : تمام مسلمان کافر ہیں ،*
*لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم
‏اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا
‏اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے!*

*اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟*

*جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور چیف ایڈیٹر ہوں تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ہے!*

*‏آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟*

*جی جب یہ جرم ہے ہی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ہوں، مجھے تو خود مسلمانوں نے ھی بتایا ہے جو میں نے چھاپ دیا ہے، صبح ہوتی ہے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ہوتے ہیں کہ سامنے والی مسجد واالے کافر ہیں، وہ ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں
‏تو عشاء تک ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ فلاں مسجد والے کافر ہیں اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ہیں کہ میں تو قائل ہوگیا کہ یہ واقعی کافر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی بس اگلی تاریخ پر فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے‏اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ھی تاریخ میں حل ہو جائے گا ,*
*اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا، باری باری کٹہرے
‏میں طلب کیا گیا۔ مجمعے میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ دیوبندی ، اہل حدیث اور بریلوی الگ الگ کھڑے ہوں!*
*بریلوی مولوی سے قرآن ہر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندوں اور اھل حدیثوں کے بارے میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا ؟*
*مولوی نے کہا کہ‏یہ دونوں توہینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں, پھر اس نے دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ہو گیا، جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر اہل حدیثوں اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باہر تشریف لے جائیں!*‏اس کے بعد دیوبندی اور اہلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواہی کے لئے کہا گیا، دونوں نے بریلویوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا،*
*،*
*پھر تینوں کو ایک ساتھ بلوایا اور کہا آپ تینوں کا شیعہ کے متعلق کیا خیال ہے؟*
*تینوں نے مشترکہ‏طور پر کہا جناب ہم تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ شیعہ ہماری نظر میں پکے کافر ہیں ،*
*پھر مجسٹریٹ نے سب کو عدالت سے باھر بھیج دیا ،*
*اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ مجسٹریٹ صاحب آپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دھل کہتے بھی ہیں اور کافر ہوکر عدالت سے‏نکل بھی گئے ہیں' اب عدالت میں جو لوگ بچتے ہیں ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں' لہذا یہ بھی کافروں میں سے ہی ہیں' باقی جو مسلمان بچا ہے اسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے؟
*مجسٹریٹ نے کیس خارج کر دیا‏اور پرتاب کو باعزت بری کردیا اور پرتاب اخبار کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ،*
*یہ دھندا تقسیم ہند کے ستر سال بعد بھی جاری وساری ہے!

Correction:
پرتاپ اخبار کا ملک اور مدیر وزیر آباد گجرانوالہ کا رہائشی مہیش کرشن تھا جو آریہ سماج تحریک کا ترجمان سمجھا جاتا تھا اور ہندو کمیونٹی سے پہلا مشہور کالم نگار تھا۔



Address

Garh Maharaja
Jhang Sadar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghazzanfar Academy Garh Maharaja posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category