Safe City Jhang

Safe City Jhang Established under the PSCA Act 2016, we integrate cutting-edge technology with law enforcement to create safer, more resilient communities.

Safe City Jhang Project is an initiative led by the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) to enhance public safety and security through technology and data-driven approaches. Smart Safe City Jhang | Punjab Safe Cities Authority
Transforming Urban Safety Through Technology

As Pakistan's pioneering smart city initiative, the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) leads the digital transformation of publ

ic safety and urban security across Punjab. Our Impact:
Operating state-of-the-art Police Integrated Command, Control & Communication Centers (PPIC3) across 18 major cities, with ongoing expansion to cover all districts of Punjab
Revolutionising emergency response through an upgraded 15-helpline system, ensuring rapid police assistance when citizens need it most. Deploying AI-powered traffic monitoring systems across 15 locations, significantly improving road safety and traffic management

Innovation at the Core:

We have launched several first-of-their-kind initiatives in Pakistan, including:
Virtual Women Police Station - Breaking barriers in law enforcement accessibility
Virtual Centre for Child Safety - Protecting our most vulnerable citizens
Meesaq Minorities Centre - Ensuring inclusive security services
PSCA Virtual Blood Bank - Contributing to public health infrastructure
Women Safety App 2.0 & Panic Button Safety Zones - Empowering citizens with immediate access to safety resources

Through our integrated network of surveillance systems, we monitor critical public spaces, securing high-profile events and ensuring citizen safety 24/7. Our commitment to technological innovation and public service continues to set new standards in urban security and quality of life improvement.

موسم کی تازہ ترین صورت حال
04/06/2026

موسم کی تازہ ترین صورت حال

جهنگ میں ٹریفک کی تازہ ترین صورت حال
04/06/2026

جهنگ میں ٹریفک کی تازہ ترین صورت حال

03/06/2026

#مریم نورین دختر محمد #ناصر، عمر تقریباً 5 سال، نند پور ہیڈ مرالہ #سیالکوٹ سے سال #2007 اپریل 27 سے لاپتہ ہے۔

مریم شام تقریباً 6 بجے اپنے والد کے ساتھ مارکیٹ کی طرف گئی تھی، لیکن اس کے بعد آج تک واپس نہ آ سکی۔ محض 5 سال کی عمر میں لاپتہ ہونے والی اس بچی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

مریم کے والدین نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں FIR بھی درج کروائی اور ہر ممکن کوشش کے باوجود اپنی بیٹی کو تلاش نہ کر سکے۔ میرا پیارا ٹیم نے بھی پاکستان بھر کے یتیم خانوں اور فلاحی اداروں سے معلومات حاصل کیں، مگر اب تک مریم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

جب مریم لاپتہ ہوئی، اس وقت اس کے دو چھوٹے بھائی تھے جن کے نام فصیح الحسن اور فرحان حیدر ہیں۔ والدہ کا نام روزینہ کوثر ہے۔ مریم کے والد گوجرانوالہ DPO Office میں بطور جونیئر کلرک فرائض سرانجام دیتے تھے۔

مریم کے ہاتھ پر انگوٹھے کے جوڑ کے قریب پیدائشی طور پر ایک کالا سا نشان موجود تھا، جو اس کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ مریم نورین کو جانتے ہیں، یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں، تو براہِ کرم میرا پیارا ٹیم سے فوری رابطہ کریں۔ آپ کی ایک اطلاع یا ایک شیئر مریم کو اس کے والدین تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Date: 03-06-2026

Case ID: 233096681

واللہ المستعانیہ کہانی ہے زینب طالب کی، ایک معصوم بچی کی جو سال 2022 میں تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے سے لاوارث حالت...
03/06/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی ہے زینب طالب کی، ایک معصوم بچی کی جو سال 2022 میں تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔
ابتدائی طور پر بچی اپنی مکمل شناخت، گھر یا اہلِ خانہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھی۔ بچی کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی سینٹر لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ محفوظ ماحول میں رہی، مگر اپنے گھر اور پیاروں سے دوری کا درد اس کے ساتھ رہا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس کو لیا۔ ٹیم نے ابتدائی طور پر مختلف ذرائع سے ورثاء کی تلاش شروع کی،
وقت گزرتا گیا، مگر ٹیم کی کوششیں جاری رہیں۔ بچی سے تفصیلی بات چیت کی گئی اور اس کی فراہم کردہ معمولی معلومات کو بھی انتہائی باریکی سے جانچا گیا۔ انہی کوششوں کے دوران بچی کی بتائی گئی معلومات کی بنیاد پر ٹیم اسے تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے میں لے کر گئی، جہاں مزید تحقیقات اور فیلڈ ورک کیا گیا۔ میرا پیارا ٹیم نے بچی کی دی گئی معلومات سے اس کے ورثاء کی تلاش جاری رکھی۔
اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص کرم فرمایا… دن رات کی محنت، مختلف ذرائع اور مسلسل رابطوں کے بعد آخرکار بچی کے اہلِ خانہ تک رسائی حاصل کر لی گئی۔ تصدیق کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ بچی زینب طالب ہی ہے، جو 2022 سے اپنے خاندان سے بچھڑی ہوئی تھی۔ یہ خبر اس کے خاندان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھی۔ برسوں کی بے چینی، انتظار اور دعاوں کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت میں بدل گئی۔ آخرکار وہ دن آیا جب زینب کو اس کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ ملاقات کا لمحہ انتہائی جذباتی تھا.
یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی مکمل ہونے والی کہانی تھی، ایک خاندان کی بکھری ہوئی دنیا کے دوبارہ جڑنے کا لمحہ تھا۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، “میرا پیارا” ٹیم کی مسلسل محنت اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کا نتیجہ ہے۔
الحمدللہ!

02/06/2026

ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ

02/06/2026

#ماں تم کہاں تھی؟ یہ الفاظ اس معصوم اسپیشل بچے چانڈیو کے تھے جب میرا پیرا ٹیم نے اس کی ماں سے واپس ملوایا ۔۔۔۔
یہ وہ معصوم سوال تھا جو دو سال بعد اپنی ماں سے ملنے والے سپیشل بچے چانڈیو نے بھرائی ہوئی آواز میں کیا۔ چند لفظوں پر مشتمل یہ سوال اپنے اندر جدائی کے دو طویل سال، ایک بچے کی بےبسی اور ایک ماں کے کرب کی پوری داستان سموئے ہوئے تھا۔
چانڈیو دو سال قبل اپنے گھر سے بچھڑ گیا تھا۔ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں، مگر ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کی واپسی کی امید کبھی مدھم نہ پڑی۔ ہر گزرتا دن اس کے لیے ایک نئی آزمائش تھا اور ہر رات اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی تھی۔
جب چانڈیو "میرا پیارا" ٹیم کی تحویل میں آیا تو اس کی شناخت معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تاہم اپنی ذہنی کیفیت اور معصومیت کے باعث وہ اپنے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکا۔ گفتگو کے دوران وہ بار بار صرف ایک لفظ دہراتا رہا:
"چانڈیو"
یہی لفظ اس کی شناخت تک پہنچنے کا پہلا سراغ ثابت ہوا۔
محدود معلومات کے باوجود "میرا پیارا" ٹیم نے تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ بچے کی ویڈیو اور دستیاب معلومات کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا گیا تاکہ شاید کوئی اس معصوم چہرے کو پہچان سکے۔ بظاہر امکانات کم تھے، لیکن کوشش جاری رہی۔
اسی دوران یہ ویڈیو ایک ایسی ماں تک پہنچی جو گزشتہ دو برس سے اپنے بیٹے کی جدائی کا دکھ سہہ رہی تھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس نے اپنے بچے کو پہچان لیا۔ اس ایک لمحے نے امید، انتظار اور بے یقینی کے درمیان کھڑی طویل مسافت کو سمیٹ دیا۔
ضروری تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تو جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہ رہا۔ ایک طرف ماں تھی جس کی دعائیں رنگ لا چکی تھیں اور دوسری طرف ایک معصوم بچہ تھا جسے برسوں بعد اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ واپس مل گئی تھی۔
ماں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا تو آنکھوں سے بہنے والے آنسو دو سالہ جدائی کی خاموش داستان سنانے لگے۔ اسی لمحے چانڈیو نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور معصومیت سے پوچھا:
"تم کہاں تھی؟"
یہ سوال سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ نم ہو گئی، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ ماں کہیں نہیں گئی تھی؛ وہ تو دو سال سے اپنے بچے کی واپسی کے انتظار میں ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
یہ محض ایک گمشدہ بچے کی بازیابی کی کہانی نہیں، بلکہ امید، مسلسل کوشش، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی مثال ہے جو اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ مخلصانہ کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
الحمدللہ، ایک اور بچھڑا ہوا بچہ اپنے خاندان تک پہنچ گیا۔
“میرا پیارا ٹیم” کا مشن ہے کہ کوئی بھی گمشدہ بچہ تنہا نہ رہے۔
ہر ماں کو اُس کا بیٹا، ہر بہن کو اُس کا بھائی،
اور ہر گھر کو اُن کا پیارا دوبارہ مل سکے

ان شاء اللہ، واللہ المستعان
Case ID: 185061206

واللہ المستعانیہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو...
02/06/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔
فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔

فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

Address

Smart Safe City, DPO Office
Jhang

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safe City Jhang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share