SMT PMLN Havelli Kahuta AJK

Call Directions Contact the organization

SMT PMLN Havelli Kahuta AJK PMLN Social Media Wing District Havelli Kahuta AJK
Our Leader Ch Muhammad Aziz Ex Acting PM of AJK

جب مداری کے ہاتھ کی صفائی تماشائیوں پہ کھل جائے تو پھر اس کا کرتب کرتب نہیں رہتا بلکہ مداری خود تماشا بن جاتا ہے-پولنگ س...
14/08/2026

جب مداری کے ہاتھ کی صفائی تماشائیوں پہ کھل جائے تو پھر اس کا کرتب کرتب نہیں رہتا بلکہ مداری خود تماشا بن جاتا ہے-
پولنگ سٹیشن نمبر 55-56 جبی سیداں۔ تفصیل ملاحظہ کریں۔۔ فارم 24 کے رزلٹس دیکھٰیں۔۔ آر او کے رزلٹس دیکھیں اور دیکھیں کہ مداری کیسے ہاتھ کی صفائی سے کرتب دکھاتے ہوئے خود تماشا بن گیا۔

حویلی کے مینڈیٹ کے ساتھ کیا ہوا؟131 سے 1167۔۔!!!334 سے 1202۔۔!!!حویلی کی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اقتدار کی کشمکش ...
14/08/2026

حویلی کے مینڈیٹ کے ساتھ کیا ہوا؟

131 سے 1167۔۔!!!
334 سے 1202۔۔!!!
حویلی کی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اقتدار کی کشمکش نے کئی تلخ باب دیکھے ہیں۔ 2011 کے انتخابات میں فیصل راٹھور کی طرف سے کی گئی انتخابی دھاندلی اور 2016 میں پلنگی بازار میں سابق سینئر وزیر مرحوم چوہدری محمد عزیز صاحب پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اسی تلخ سیاسی تاریخ کے نمایاں واقعات ہیں۔
یہ ماضی اپنی جگہ، لیکن آج کا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہےکیا 2026 میں حویلی کے عوام کے ووٹ کے ساتھ انصاف ہوا؟

اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں، دستاویزات سے مانگا جا رہا ہے۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 55 اور 56، جبی سیداں کے پریزائڈنگ آفیسر کی جانب سے جاری کردہ فارم 24 سامنے موجود ہیں۔

ان کے مطابق:
پولنگ اسٹیشن 55
فیصل راٹھور: 135
چوہدری محسن عزیز: 96

پولنگ اسٹیشن 56
فیصل راٹھور: 199
چوہدری محسن عزیز: 107

یعنی دونوں پولنگ اسٹیشنز پر فارم 24 کے مطابق:
فیصل راٹھور: 334 ووٹ
چوہدری محسن عزیز: 203 ووٹ
یہ وہ نتیجہ ہے جو پولنگ کے اختتام پر ووٹوں کی گنتی کے بعد پریزائڈنگ آفیسر کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ آر او آفس میں جمع ہونے والے ریکارڈ میں یہی اعداد و شمار کہاں گئے؟

آر او آفس کے سامنے آنے والےجبی سیداں کے رزلٹ کے مطابق:
پولنگ اسٹیشن 55: فیصل راٹھور — 622 ووٹ
پولنگ اسٹیشن 56: فیصل راٹھور — 580 ووٹ

یعنی دونوں پولنگ اسٹیشنز سے:

فیصل راٹھور — 1,202 ووٹ
ایک طرف 334، دوسری طرف 1,202

لیکن معاملہ صرف فیصل راٹھور کے ووٹوں تک محدود نہیں۔ چوہدری محسن عزیز کے ووٹوں کا کیا ہوا آزاد امیدوار خواجہ طارق سعید صاحب کے ووٹوں کا کیا ہوا۔ جماعت اسلامی کے ووٹوں کا کیا ہوا۔۔ کہاں گئے وہ ووٹ؟
دوسری طرف جبی سیداں کے دونوں پولنگ سٹیشنز سے چوہدری محسن عزیز کو 203 ووٹ ملے جن کو کم کر کے صرف 35 ووٹ کر دیا گیا۔ خواجہ طارق سعید صاحب کو 20 ووٹ ملے جن کو صفر کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی کے امیدوار کو 23 ووٹ ملے جن کو صفر کر دیا گیا۔ اور ان ووٹوں کو فیصل راٹھور کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

صرف جبی سیداں سے دھاندلی کے بعد فرق:
1167 ووٹ!

ایک امیدوار کے ووٹ کہاں سے بڑھے اور دوسرے کے ووٹ کہاں گئے؟
کیونکہ انتخابی نتیجہ صرف ایک امیدوار کے ووٹ بڑھانے سے نہیں بدلتا؛ مخالف امیدوار کے ووٹ کم کرنے سے بھی نتیجہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اور جبی سیداں پولنگ سٹیشنز پر یہی ہوا ۔ 134 کی لیڈ کو 1167 کی لیڈ میں تبدیل کیا گیا۔

یہ صرف جبی سیداں کے دو پولنگ اسٹیشنز کی تفصیل ہے۔

یہ جبی سیداں کے وہ پولنگ اسٹیشن ہیں جہاں کے ووٹرز کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ ڈاکٹرز، وکلاء، انجینئرز، پروفیسرز، صحافی اور دیگر باشعور شہری اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے دور دراز علاقوں سے اپنے آبائی پولنگ اسٹیشن پہنچے۔

ان لوگوں نے صرف ووٹ نہیں ڈالا تھا؛ انہوں نے ریاستی انتخابی نظام پر اعتماد کیا تھا۔
اب اگر ایسے باشعور شہریوں کے ووٹوں کے نتائج میں بھی 334 اور 1,202 کا فرق سامنے آئے تو سوال صرف یہ نہیں کہ کون جیتا۔
سوال یہ ہے:
پھر عام ووٹر اپنے ووٹ پر اعتماد کیسے کرے؟
اگر جبی سیداں جیسے پولنگ اسٹیشن پر نتیجے کے بارے میں اتنا بڑا تضاد سامنے آ سکتا ہے تو ان پولنگ اسٹیشنز کے بارے میں کیا کہا جائے جہاں سیاسی دباؤ، دھمکیوں اور اثر و رسوخ کی شکایات موجود رہی ہوں؟
لوگ ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن کیوں جائیں، اگر انہیں اپنے ووٹ کے نتیجے پر ہی اعتماد نہ رہے؟
فیصل راٹھور!
اگر یہ جیت شفاف ہے تو پھر ایک ہی راستہ ہے:
اصل ریکارڈ عوام کے سامنے لاؤ۔
فارم 24 سامنے ہے۔
پولنگ ایجنٹس کی نقول سامنے لاؤ۔
آر او آفس کا ریکارڈ سامنے لاؤ۔
اور دونوں نتائج کا عوام کے سامنے تقابلی جائزہ کراؤ۔

334 ووٹ اگر 1,202 بنے ہیں تو حویلی کو جواب چاہیے۔
اگر محسن عزیز کے ووٹ کم ہوئے ہیں تو حویلی کو جواب چاہیے۔
اگر معمولی فرق کو بڑے مارجن میں تبدیل کیا گیا ہے تو حویلی کو جواب چاہیے۔
اور اگر یہ سب غلط ہے تو پھر کھلی تحقیقات کراؤ اور اپنی جیت کو شفاف طریقے سے ثابت کرو۔ تمہارے پاس ایسا کوئی بھی عہدہ رکھنے کا اخلاقی جواز نہیں ہے جہاں عوام کے مینڈیٹ پہ ڈاکہ ڈالا گیا ہو۔
کیونکہ وزیراعظم کی کرسی کسی بھی انتخابی نتیجے سے حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن عوام کا اعتماد صرف سچ اور شفافیت سے حاصل ہوتا ہے۔
فیصل راٹھور!
تمہاری تقاریر گواہی دے رہی ہیں کہ تمہارا مقصد صرف وزیر اعظم کا ٹیگ لگوانا تھا۔ ۔۔ بڑے مان سے کہہ رہے تھے ناں ۔۔۔ کہ قبر کی تختی پہ بھی سابق وزیر اعظم لکھا ہو گا۔ تو سن لو ۔۔ تمہیں وزیراعظم کے عہدے کی تختی لگوانے کا شوق ضرور ہو سکتا ہے، مگر تاریخ میں اصل تختی سرکاری دفتر کے باہر نہیں لگتی۔
اصل تختی انسان کے کردار پر لگتی ہے۔
کرسی ختم ہو جاتی ہے۔
پروٹوکول ختم ہو جاتا ہے۔
سرکاری تختی اتر جاتی ہے۔
لیکن اگر عوامی مینڈیٹ سے خیانت ثابت ہو جائے تو اس کا داغ تاریخ کے صفحات سے آسانی سے نہیں مٹتا بلکہ قبر کی تختی پر بھی لکھا جاتا ہے۔
تم شاید سرکاری نتیجے میں جیت جاو لیکن ایک سرکاری نوٹیفیکیشن تمہارے کردار پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ حویلی کے عوام کے مینڈیٹ میں یہ ردوبدل ثابت کرتا ہے کہ تم دھاندلی سے جیت کر بھی سیاسی طور پر ہار چکے ہو۔
کیونکہ جمہوریت میں اصل کامیابی وزیراعظم بننا نہیں۔
اصل کامیابی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔
اور اصل شکست اپوزیشن میں بیٹھنا نہیں۔
اصل شکست عوام کے ووٹ پر سے اعتماد اٹھا دینا ہے۔
حویلی آج کسی سے احسان نہیں مانگ رہی۔
صرف حساب مانگ رہی ہے۔
334 سے 1202 تک کا حساب۔
135 سے 1167 تک کا حساب
13852 ووٹوں سے 33872 ووٹ تک کا حساب۔
حویلی کے ووٹ کا حساب۔
عوام کے مینڈیٹ کا حساب۔
اور یہ حساب دینا ہوگا۔
کیونکہ شکست قبول کی جا سکتی ہے، مگر عوام کے مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ فیصل راٹھور تم نے اپنے سیاسی کیرئیر پر وہ داغ لگوا لیا ہے جو شاید کبھی نہ مٹ سکے۔


#334 سے 1202


حلقہ 10 کوٹلی سٹی سے پیپلز پارٹی کے نام نہاد جمہوری اقدار کے نعرے لگانے والے لٹیرے چوہدری یسین نے سرکاری ملازمین کے ذریع...
26/07/2026

حلقہ 10 کوٹلی سٹی سے پیپلز پارٹی کے نام نہاد جمہوری اقدار کے نعرے لگانے والے لٹیرے چوہدری یسین نے سرکاری ملازمین کے ذریعے الیکشن سے قبل دھاندلی کی کوشش کی جس کو ن لیگ کے امیدوار فاتح محمود کے شیر دل کارکنان نے ناکام بنا دیا۔ جعلی ووٹوں کے بھرے ہوئے تھیلے برآمد ۔
ہم جانتے ہیں یہ جب عوام کی رائے کا احترام نہیں کر سکتے تو سندھی ڈاکو لٹیرے اپنی اصلیت پر اتر آتے ہیں۔
کم سے کم تھوڑی سی شرم کر لو۔

25/07/2026

پاکستان اور آزاد کشمیر کے ہر منصوبے پر
آپکو مسلم لیگ (ن) کی مہر نظر آئے گی

صرف کوٹلی میں نہیں
صرف بھمبر میں نہیں
پورے آزاد کشمیر میں شیر آرہا ہے

آزاد کشمیر انتخابی مہم کے حوالے سے میر پور میں مسلم لیگ ن کا تاریخی جلسہ
Engr Ch Mohsin Aziz
SMT PMLN Havelli Kahuta AJK

25/07/2026

الحمدللہ مسلم لیگ ن پر حویلی کے غیور عوام کا اعتماد ثابت کر رہا ہے کہ انجنئیر چوہدری محسن عزیز صاحب انشاء اللہ اس بار حویلی کے عوام کی ایک مظبوط آواز بنیں گے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے لوکل کونسلر چوہدری شبیر صاحب اور ایکسین لال صاحب نے پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہہ کر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔

ان کی شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔

Address

Kahuta

Telephone

+923557701414

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SMT PMLN Havelli Kahuta AJK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to SMT PMLN Havelli Kahuta AJK:

Shortcuts

Share