17/09/2024
راولپنڈی کے ایک متوسط علاقے میں واقع فلاحی مرکز میں ایک ،23 سالہ لڑکی نومولود بچہ گود میں لیے داخل ہوتی ہے۔رسمی بات چیت کے بعد انچارج فلاحی مرکز کے پوچھنے پر لڑکی بتاتی ہے کہ اسکا ایک بیٹا 10 ماہ کا ہے اور دوسرا نومولود 5 دن کا ہے۔ پہلے بچے کے بعد کسی نے منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئئ رہنمائ نہیں کی جس کی وجہ سے وہ اپنے بڑے بچے کو اپنا دودھ بھی نہیں پلا سکی اور اسکی اپنی صحت بھی یکے بعد دیگرے حمل اور زچگی کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہے۔ اب وہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہے جس کے لیے وہ خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق مستند معلومات چاہتی ہے ۔ انچارج فلاحی مرکز نے وقفے کے تمام طریقوں کی بارے مکمل رہنمائ فراہم کی اور دوبارہ أنے کا وقت بھی بتایا۔
ذرا سوچیے ایسی کتنی کم عمر لڑکیاں مناسب رہنمائ نہ ملنے کی وجہ سے باربار حمل اور زچگی کی تکلیف سے گزرتی ہیں۔جو ناصرف انکی صحت کے لیے بلکہ انکی اگلی نسل کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسلیے والدین اپنے بچوں کو شادی کی وقت خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں مناسب رھنمائ دیں۔ کیونکہ بات کریں گے تو بات بنے گی. Pwd Kahuta