04/09/2026
ستمبر…
کسی انجان رستے پر کھڑی وہ آواز ہے
جو پلٹ کر دیکھنے سے پہلے ہی
دل کا سارا شہر ویران کر جاتی ہے!
دیکھو تو
اس بے نام شام کے لمبے سائے
اب دیواروں پر کیا کیا لکھ رہے ہیں؟
پرانے لمحوں کی دھندلی تصویریں،
کچھ ادھوری باتیں،
کچھ ادھورے وعدے،
اور وہ سبھی چہرے
جنہیں وقت نے دھول میں ملا دیا ہے۔
مگر ہم ہیں کہ…
آج بھی اسی دہلیز پر بیٹھے ہیں،
جہاں انتظار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔
ہمارے دل کے کواڑوں پر،
ستمبر دستک دیتا ہے اور پوچھتا ہے —
"بولو،
کیا پرانی یادوں کے یہ زرد پتے
ابھی تک سنبھال رکھے ہیں؟"
اور پھر…
ہم خاموش رہتے ہیں،
ہوا کے جھونکے ہماری بات ادھوری چھوڑ دیتے ہیں،
اور درد کی کوئی نئی لہر
آنکھوں کے راستے اترتی ہے کاغذ پر،
کسی ایسے شعر کی طرح،
جس کا کوئی عنوان نہیں ہوتا
#.......