24/08/2026
*سیرت النبی ﷺ سیریز*
قسط: 4
وہ یتیم جسے کوئی لینا نہ چاہتا تھا حلیمہ سعدیہؓ کے گھر برکتوں کی آمد
صحرا سے چند عورتیں مکہ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
راستہ طویل تھا، ہوا خشک تھی اور سواریوں کی رفتار دھیمی۔
یہ بنو سعد کی عورتیں تھیں۔
عرب کے معزز خاندانوں میں دستور تھا کہ اپنے نومولود بچوں کو کچھ عرصے کے لیے صحرا میں بھیج دیتے، تاکہ وہ کھلی فضا میں پرورش پائیں اور خالص عربی زبان سیکھیں۔
یہ عورتیں انہی بچوں کو لینے مکہ آئی تھیں۔
ان کے درمیان ایک خاتون ایسی بھی تھیں جن کے حالات دوسروں سے کہیں زیادہ سخت تھے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا۔
وہ اپنے شوہر حارث اور اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ آئی تھیں۔
وہ سال قحط کا تھا۔
ان کی گدھی اتنی کمزور تھی کہ قافلے سے پیچھے رہ جاتی۔ اونٹنی کے تھنوں میں دودھ نہ تھا اور خود حضرت حلیمہؓ کے پاس بھی اتنا دودھ نہ تھا کہ ان کا بچہ سیر ہوکر سو سکے۔
رات کو بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی۔
اور ایک بے بس ماں کے پاس اسے دینے کے لیے کافی دودھ نہ ہوتا۔
وہ اسی امید پر مکہ پہنچی تھیں کہ شاید کوئی بچہ مل جائے اور اس کے خاندان کی طرف سے ملنے والی اجرت گھر کے حالات کچھ بہتر کردے۔
مکہ پہنچ کر عورتوں نے بچوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔
ایک نومولود کا ذکر بار بار سامنے آتا:
محمد بن عبداللہ ﷺ
لیکن ساتھ ہی ایک بات بھی بتائی جاتی:
یہ بچہ یتیم ہے۔
والد موجود نہ تھے کہ دایہ کو اچھا معاوضہ دے سکیں۔
اسی امید میں عورتیں دوسرے بچوں کو لیتی گئیں۔
اور محمد ﷺ رہ گئے۔
حضرت حلیمہؓ کو بھی آپ ﷺ پیش کیے گئے، مگر انہوں نے ابتدا میں کسی دوسرے بچے کی امید کی۔
وقت گزرتا گیا۔
ساتھ آنے والی تقریباً ہر عورت کو بچہ مل گیا، مگر حضرت حلیمہؓ خالی ہاتھ رہ گئیں۔
واپسی کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے شوہر سے کہا:
اللہ کی قسم! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساتھی عورتیں بچے لے کر واپس جائیں اور میں خالی ہاتھ لوٹوں۔ میں اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔
شوہر نے کہا:
اس میں کوئی حرج نہیں، شاید اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت رکھ دے۔
انہیں کیا خبر تھی۔
وہ ایک ایسا جملہ کہہ رہے ہیں جسے آنے والے لمحے حقیقت میں بدلنے والے تھے۔
حضرت حلیمہؓ اس ننھے یتیم کے پاس پہنچیں۔
آپ ﷺ کو اپنی آغوش میں لیا۔
اور پھر حالات بدلنے لگے۔
حضرت حلیمہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا تو دودھ اتنا ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سیر ہوکر پیا اور ان کے اپنے بچے نے بھی۔
وہ بچہ جو راتوں کو بھوک سے روتا تھا۔
اس رات سکون سے سو گیا۔
شوہر اونٹنی کے پاس گئے تو حیران رہ گئے۔
وہی اونٹنی جس کے تھن خالی تھے، اب دودھ سے بھرے ہوئے تھے!
دونوں نے دودھ پیا، یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔
شوہر نے حضرت حلیمہؓ کی طرف دیکھا اور کہا:
حلیمہ! اللہ کی قسم، تم ایک بابرکت جان لے آئی ہو!
حضرت حلیمہؓ نے جواب دیا:
مجھے بھی یہی امید ہے۔
لیکن برکت ابھی شروع ہوئی تھی۔
صبح قافلہ مکہ سے واپس روانہ ہوا۔
وہی کمزور گدھی جس نے آتے ہوئے سب کو تھکا دیا تھا، اب اس تیزی سے چلنے لگی کہ دوسری عورتیں حیران رہ گئیں۔
وہ پکارنے لگیں:
حلیمہ! ذرا ہمارا انتظار کرو! کیا یہ وہی گدھی نہیں جس پر تم آئی تھیں؟
حضرت حلیمہؓ کہتیں:
ہاں، اللہ کی قسم! یہ وہی ہے۔
مگر اصل تبدیلی بنو سعد پہنچنے کے بعد دکھائی دی۔
وہ قحط کا زمانہ تھا۔
زمین خشک تھی۔
دوسروں کی بکریاں شام کو بھوکی واپس آتیں۔
مگر حضرت حلیمہؓ کی بکریاں چراگاہ سے واپس آتیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے۔
لوگ اپنے چرواہوں سے کہتے:
جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں، تم بھی وہیں لے جایا کرو!
وہ لے جاتے۔
مگر پھر بھی ان کی بکریاں ویسی ہی واپس آتیں۔
حلیمہؓ کا گھر جو کل تک تنگ دستی کا گھر تھا، اب ایک عجیب برکت کا مرکز بنتا جارہا تھا۔
وہ ننھا یتیم خاموشی سے ان کے گھر میں پرورش پا رہا تھا۔
اور حلیمہؓ کا دل ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بچے سے ایسا جڑتا جارہا تھا کہ اب اسے واپس کرنے کا تصور بھی مشکل ہونے لگا تھا۔
مگر بنو سعد کے صحرا میں ایک دن ایسا واقعہ پیش آنے والا تھا۔
جو ننھے محمد ﷺ کے رضاعی بھائی کو خوف سے دوڑتا ہوا گھر لے آئے گا۔
وہ چیخ کر کہے گا:
میرے قریشی بھائی کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے۔
حضرت حلیمہؓ گھبرا کر دوڑیں گی۔
اور وہاں جو منظر دیکھیں گی، وہ انہیں محمد ﷺ کو مکہ واپس لے جانے پر مجبور کردے گا۔
جاری ہے۔۔۔
اگلی قسط:
صحرا میں وہ پراسرار دن شقِ صدر کا حیرت انگیز واقعہ