15/05/2026
(مولانا ہماری ریڈ لائن )
تحریر :رشیداحمدخاکسار
ممبر مرکزی کونٹینٹ جنریٹ جمعیت علماء اسلام پاکستان
مجھے جو بھی قتل کرے میں اس سے بدلہ نہیں لوں گا میں اپنے قتل کا ذمہ دار ریاست کو سمجھوں گا
یہ جملہ کل رات سے ریاستی اداروں پر کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے مولانا صاحب پر ماضی میں پانچ خودکش حملے ہو چکے ہیں مگر انہوں نے کبھی اس نوعیت کا بیان نہیں دیا تو پھر وحدت امت کانفرنس کے موقع پر ایسا جملہ کیوں کہا گیا
مولانا صاحب ہمیشہ امن کے داعی رہے ہیں ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف وہ کھل کر بولتے رہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں بارہا نشانہ بنایا گیا مگر وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے چترال سے کراچی تک جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران اور کارکنان شہید کئے گئے باجوڑ کے ایک جلسے میں ایک ساتھ کئی جنازے اٹھے شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ ادریس رحمہ اللہ جو بیک وقت اٹھائیس سو طلبہ کو درس دیتے تھے اور صوبائی اسمبلی کے سابق رکن بھی رہے آخر انہیں کس جرم کی سزا دی گئی
کیا ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ایک بیان جاری کر دیا جائے کہ قاتلوں کا تعلق افغانستان سے تھا کیا اس ایک جملے سے ریاست بری الذمہ ہو جاتی ہے شیخ ادریس رحمہ اللہ کو کیوں شہید کیا گیا یہ پورا ملک جانتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے اور ریاست کے حق میں آواز بلند کی اسی جرم میں ان کی سفید داڑھی کو خون سے رنگین کر دیا گیا
اس سب کے باوجود مولانا صاحب نے کارکنان کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور کارکنان پرامن ہی رہے یہ حوصلہ اور ضبط انہی کی قیادت کا خاصہ ہے جمعیت علماء اسلام ملک میں پرامن سیاسی اور جمہوری نظام پر یقین رکھتی ہے
یہ بات یاد رکھی جائے اگر مولانا کی شخصیت کو میلی آنکھ سے بھی دیکھا گیا تو پھر اس ملک میں دمادم مست قلندر ہوگا کیونکہ مولانا ہماری ریڈ لائن ہیں
#خاکسار