01/10/2026
“ایک دن ہزار سال، کہیں پچاس ہزار سال” — کیا قرآن واقعی زمانی پھیلاؤ بیان کرتا ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
وقت ہمیں دنیا کی سب سے سیدھی چیز محسوس ہوتا ہے۔ ایک سیکنڈ ہر جگہ ایک سیکنڈ، ایک گھنٹہ ہر جگہ ایک گھنٹہ اور ایک دن ہر جگہ چوبیس گھنٹے ہوتا ہے۔ ہماری گھڑیاں اسی یقین پر چلتی ہیں اور پوری زندگی اسی پیمانے میں بندھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن بیسویں صدی میں طبیعیات نے انسانی ذہن کو ایک ایسا جھٹکا دیا جس نے وقت کے اس سادہ تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا کہ وقت ہر جگہ اور ہر حالت میں ایک ہی رفتار سے نہیں گزرتا۔ انتہائی تیز رفتار حرکت اور کششِ ثقل کے مختلف حالات میں دو گھڑیاں واقعی مختلف مقدار میں وقت ناپ سکتی ہیں۔ جدید طبیعیات میں اسے زمانی پھیلاؤ یعنی ٹائم ڈائیلیشن (Time Dilation) کہا جاتا ہے، اور یہ اب محض نظری خیال نہیں بلکہ انتہائی درست ایٹمی گھڑیوں سے ناپا جا چکا ہے۔
اسی پس منظر میں قرآنِ مجید کی چند آیات غیر معمولی توجہ کھینچتی ہیں۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ﴾، مفہوم: “اور بے شک تمہارے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہے” (سورۃ الحج: 47)۔ دوسری جگہ فرشتوں کے عروج کے متعلق فرمایا: ﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ﴾، مفہوم: “فرشتے اور روح اس کی طرف ایسے دن میں عروج کرتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے” (سورۃ المعارج: 4)۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن چودہ سو سال پہلے یہ بتا رہا تھا کہ وقت مطلق نہیں؟ اور کیا یہ آیات آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کی طرف اشارہ ہیں؟ جواب دلچسپ ضرور ہے، مگر اسے سمجھنے کے لیے پہلے قرآن اور پھر طبیعیات—دونوں کو اپنی اپنی زبان میں سننا ہوگا۔
سورۃ الحج کی آیت کو اکیلا پڑھیں تو فوراً ایک سائنسی تناسب ذہن میں آ سکتا ہے کہ ایک دن برابر ہے ایک ہزار سال کے، لیکن اس سے پہلے کا جملہ نہایت اہم ہے جہاں فرمایا گیا: ﴿وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ﴾ یعنی “وہ آپ سے عذاب جلد لانے کا مطالبہ کرتے ہیں”۔ یعنی مخالفین کہہ رہے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، اور تمہارے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے ہزار سال کے برابر ہے۔ امام طبریؒ نے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد اس سیاق کو اللہ تعالیٰ کی طرف جلد بازی کی نفی اور انسان کے محدود زمانی پیمانے کے مقابلے میں الٰہی تدبیر کی وسعت سے جوڑا، اور ان کے مطابق انسان جس مدت کو بہت دور سمجھتا ہے، اللہ کے فیصلے میں وہ دور نہیں۔ امام ابن کثیرؒ بھی یہی بنیادی بات بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عذاب میں تاخیر اس لیے نہیں کرتا کہ وہ عاجز ہے؛ انسان کے نزدیک طویل مدت بھی اللہ کے حکم و تدبیر میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ یعنی آیت کا اصل موضوع طبیعیاتی گھڑیوں کا تجربہ نہیں بلکہ انسانی اور الٰہی پیمانوں کے فرق کا بیان ہے۔
سورۃ المعارج میں معاملہ مختلف ہے جہاں فرمایا گیا: ﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ﴾، یعنی یہاں فرشتوں اور روح کے عروج کا ذکر ہے۔ کلاسیکی مفسرین نے اس کے مختلف معانی بیان کیے۔ امام طبریؒ نے ایک قول یہ نقل کیا کہ یہ فرشتوں کے عروج کی ایک عظیم مسافت کا بیان ہے، جبکہ دوسرے معتبر اقوال میں اسے قیامت کے دن سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی یہی منقول ہے کہ یہ قیامت کا دن ہے جو منکروں پر انتہائی طویل ہوگا۔ امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کے تحت چار مختلف تفسیری اقوال نقل کیے ہیں جن میں قیامت کا دن بھی شامل ہے۔ یہاں ایک نہایت اہم تاریخی واقعہ بھی ملتا ہے کہ کسی شخص نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا کہ ایک جگہ ہزار سال اور دوسری جگہ پچاس ہزار سال کیوں ہے؟ تو انہوں نے قطعی قیاس آرائی کرنے کے بجائے فرمایا کہ یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی حقیقت کیا ہے، اور میں اللہ کی کتاب میں وہ بات کہنا پسند نہیں کرتا جس کا مجھے علم نہیں۔ یہ رویہ ہمارے موجودہ تحقیقی اصول کے لیے بھی غیر معمولی سبق رکھتا ہے کہ جہاں نص ایک حد پر رک جائے، وہاں ہماری قیاس آرائی بھی رکنی چاہیے۔
اب قرآن سے الگ ہو کر سائنس کو دیکھیے۔ 1905 میں آئن اسٹائن کے نظریۂ خصوصی اضافیت نے بتایا کہ دو مشاہدہ کرنے والے اگر ایک دوسرے کے مقابلے میں مختلف رفتار سے حرکت کر رہے ہوں تو ان کے لیے گزرا ہوا وقت ایک جیسا نہیں ہوگا۔ اس کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنی زیادہ نسبتی رفتار ہوگی، اتنا ہی حرکت کرنے والی گھڑی کا وقت دوسرے مشاہدہ کرنے والے کے مقابلے میں آہستہ گزر سکتا ہے۔ پھر 1915 میں نظریۂ عمومی اضافیت نے ایک اور حیرت انگیز بات دکھائی کہ کششِ ثقل بھی وقت کی رفتار بدلتی ہے۔ زیادہ مضبوط کششِ ثقل میں موجود گھڑی نسبتاً آہستہ چلتی ہے، جبکہ کم مضبوط کشش والے مقام پر گھڑی نسبتاً تیز چل سکتی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) نے اس فرق کو صرف پہاڑ اور سطحِ سمندر کے درمیان ہی نہیں بلکہ ایک میٹر سے بھی کم اونچائی کے فرق پر ایٹمی گھڑیوں سے ناپا ہے۔ یعنی جدید سائنس میں وقت واقعی مطلق نہیں رہا۔
زمانی پھیلاؤ کوئی ایسی چیز نہیں جو صرف بلیک بورڈ پر مساوات بن کر رہ گئی ہو، بلکہ آپ کے موبائل کا جی پی ایس (GPS) بھی اس کے بغیر درست کام نہیں کر سکتا۔ جی پی ایس کے مصنوعی سیاروں کی گھڑیاں زمین کی گھڑیوں سے مختلف حالات میں ہوتی ہیں۔ ایک طرف ان کی تیز رفتار حرکت ان کی گھڑیوں کو نسبتی طور پر سست کرتی ہے، تو دوسری طرف زمین سے اوپر کم کششِ ثقل ان کی گھڑیوں کو نسبتاً تیز کرتی ہے۔ نسٹ (NIST) کے مطابق دونوں اثرات کو ملانے کے بعد جی پی ایس سیاروں کی ایٹمی گھڑیاں زمین کی گھڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 38 مائیکرو سیکنڈ روزانہ تیز چلتی ہیں۔ اگر اس فرق کی تصحیح نہ کی جائے تو مقام معلوم کرنے کے نظام میں بہت بڑی غلطیاں جمع ہونے لگیں۔ یہ انسانی تاریخ میں وقت کے متعلق ایک بہت گہری دریافت ہے کہ دو مختلف حالات میں موجود دو درست گھڑیاں حقیقتاً ایک ہی مقدار کا وقت نہیں ناپتیں۔
یہاں اصل علمی امتحان شروع ہوتا ہے کہ کیا قرآن کا ہزار سال والا دن یہی ٹائم ڈائیلیشن ہے۔ بظاہر مماثلت موجود ہے کہ قرآن مختلف مقامات پر وقت کی ایسی مقداریں بیان کرتا ہے جو انسانی روزمرہ پیمانے سے بہت مختلف ہیں، اور جدید اضافیت بھی ثابت کرتی ہے کہ وقت ہر مشاہدہ کرنے والے کے لیے لازماً ایک جیسا نہیں گزرتا۔ یہ بات یقیناً تدبر کو دعوت دیتی ہے، لیکن مماثلت اور باہمی مطابقت ایک چیز ہے اور عین وہی ہونا دوسری چیز۔ آئن اسٹائن کے زمانی پھیلاؤ کا حساب لگانے کے لیے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ رفتار کتنی ہے؟ کون سا مشاہدہ کرنے والا کس کے مقابلے میں حرکت کر رہا ہے؟ کششِ ثقل کتنی ہے؟ اور دونوں گھڑیوں کا مقام کیا ہے؟ تب جا کر طبیعیات ہمیں ایک مخصوص عدد دیتی ہے۔ قرآن کی ان آیات میں ایسی کوئی طبیعیاتی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، نہ رفتار، نہ کششِ ثقل، اور نہ دو ایٹمی گھڑیوں کا تقابل۔ لہٰذا ایک دن برابر ہے ہزار سال کو آئن اسٹائن کی زمانی پھیلاؤ کی مساوات قرار دینا سائنسی طور پر ثابت نہیں۔
یہاں زیادہ محتاط اور زیادہ خوبصورت نکتہ سامنے آتا ہے۔ انسانی تجربے میں ایک زمانہ تھا جب وقت کو تقریباً ایک مطلق اور عالمگیر بہاؤ سمجھا جاتا تھا، مگر جدید طبیعیات نے یہ تصور توڑ دیا اور آج ہم تجرباتی طور پر جانتے ہیں کہ وقت کا گزرنا حالات کے ساتھ مختلف ہو سکتا ہے۔ قرآن بہت پہلے انسان کو کم از کم یہ ذہنی سبق ضرور دیتا ہے کہ تمہارا زمینی زمانی پیمانہ ہی ہر حقیقت کا واحد پیمانہ نہیں۔ لیکن یہ کہنا ایک بات ہے، اور یہ کہنا کہ قرآن نے اسپیشل ریلیٹیوٹی کی مکمل مساوات بیان کر دی، بالکل دوسری بات ہے۔ پہلی بات ایک قابلِ غور تدبر ہے، جبکہ دوسری بات شواہد سے آگے بڑھ جاتی ہے۔
بعض ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر ایک دن ایک ہزار سال ہے تو پھر دوسری جگہ پچاس ہزار سال کیسے ہو گیا؟ لیکن یہ اعتراض تب مضبوط ہوتا اگر قرآن صاف کہتا کہ ہر جگہ، ہر حالت اور ہر موقع پر ایک دن کی مقدار لازماً ایک ہزار سال ہے۔ قرآن ایسا نہیں کہتا۔ سورۃ الحج (22:47) کا سیاق عذاب میں جلدی مچانے والوں اور اللہ کی تدبیر سے متعلق ہے۔ سورۃ المعارج (70:4) فرشتوں کے عروج اور، ایک مضبوط تفسیری قول کے مطابق، قیامت کے دن کے بارے میں ہے۔ سورۃ السجدہ (32:5) میں بھی ایک اور مقام پر ہزار سال کے دن کا ذکر آتا ہے جہاں اللہ کے امر کے نزول اور عروج کا ذکر ہے، اور امام طبریؒ نے یہاں بھی متعدد تفسیری اقوال نقل کیے ہیں۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ تینوں مقامات ایک ہی دن، ایک ہی واقعہ اور ایک ہی پیمائش بیان کر رہے ہوں۔ اسی لیے حضرت ابن عباسؓ کا احتیاط والا جواب یہاں سب سے زیادہ علمی محسوس ہوتا ہے کہ اللہ ان دنوں کی حقیقت بہتر جانتا ہے۔
یہاں ایک اور احتیاط بھی ضروری ہے کہ آیت ﴿يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ﴾ کو اس انداز میں بیان کرنا مناسب نہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ بھی کسی سیارے یا خلائی جہاز پر بیٹھے ہوئے ایک مختلف رفتار والی گھڑی سے وقت ناپ رہے ہیں۔ نظریۂ اضافیت مخلوق کے اندر حرکت، مکان، کششِ ثقل اور گھڑیوں کے باہمی تعلق کو بیان کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ مخلوق اور اس کے طبیعی قوانین کے تابع نہیں۔ اس لیے آیت کا موازنہ زمانی پیمانوں کی محدودیت سے کیا جا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو اضافیت کے کسی فریم آف ریفرنس میں رکھ دینا دینی اور سائنسی دونوں اعتبار سے غلط ہوگا۔
ہم یہ قطعی دعویٰ نہیں کر سکتے کہ یہ آیات نظریۂ اضافیت کی پیش گوئی ہیں۔ جدید اضافیت اور ان آیات میں ایک وسیع فکری مماثلت ضرور محسوس ہوتی ہے کہ انسان کا زمانی پیمانہ ہر حقیقت کا واحد ممکنہ پیمانہ نہیں، لیکن آیات کا بنیادی سیاق قیامت، الٰہی تدبیر، فرشتوں کا عروج اور انسان کے زمانی تصور کی محدودیت ہے۔ ان میں آئن اسٹائن کی طبیعیاتی مساوات براہِ راست موجود نہیں، اسی لیے انہیں نظریۂ اضافیت کا سائنسی فارمولا کہنے کے بجائے جدید علم کی روشنی میں وقت کی غیر مطلق نوعیت پر ایک قابلِ غور قرآنی تدبر کہنا علمی طور پر کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
قرآن ایک مقام پر فرماتا ہے: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ﴾ اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے: ﴿فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ﴾۔ کلاسیکی تفاسیر ہمیں دکھاتی ہیں کہ ان آیات کے سیاق اور تفسیری معانی مختلف ہیں اور انہیں ایک ہی طبیعیاتی دن کی دو متضاد پیمائشیں سمجھنا ضروری نہیں۔ جدید سائنس دوسری طرف ایک ایسی حقیقت ثابت کر چکی ہے جو کبھی انتہائی حیران کن سمجھی جاتی تھی کہ وقت مطلق نہیں، رفتار بدلنے سے گھڑی کی رفتار بدل سکتی ہے اور کششِ ثقل بدلنے سے بھی گھڑی کی رفتار بدل سکتی ہے۔ یہ فرق اب ایٹمی گھڑیوں سے براہِ راست ناپا جا چکا ہے، حتیٰ کہ معمولی اونچائی کے فرق پر بھی۔ لیکن یہی مقام تحقیق کی حد بھی متعین کرتا ہے کہ قرآن کی ہزار اور پچاس ہزار سال والی آیات کو آئن اسٹائن کے ٹائم ڈائیلیشن کا قطعی سائنسی فارمولا کہنا ہمارے پاس موجود شواہد سے آگے کی بات ہوگی۔ زیادہ دیانت دار اور گہرا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن انسان کو یہ احساس ضرور دلاتا ہے کہ اس کی گھڑی، اس کا دن اور اس کا زمانی پیمانہ پوری حقیقت کا آخری معیار نہیں، اور جدید طبیعیات بھی ایک مختلف دائرے میں ہمیں یہی حیران کن سبق دیتی ہے کہ وقت اتنا سادہ نہیں جتنا ہماری کلائی کی گھڑی ہمیں دکھاتی ہے۔ باقی ان قرآنی ایام کی مکمل حقیقت کیا ہے، تو یہاں حضرت ابن عباسؓ کی احتیاط ہمارے لیے بہترین رہنمائی ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
#تدبر
حوالہ جات:
• القرآن الكريم — سورۃ الحج: 47
• القرآن الكريم — سورۃ المعارج: 4
• القرآن الكريم — سورۃ السجدہ: 5
• امام طبری — جامع البيان، مذکورہ آیات کی تفسیر
• امام ابن کثیر — تفسير القرآن العظيم، سورۃ الحج: 47؛ سورۃ المعارج: 4
• NIST — Relativity and Optical Clocks
• NIST — Atomic Clocks and Gravitational Time Dilation
• NIST — Relativity Corrections in GPS