28/02/2026
افغانستان شاید یہ حقیقت نظر انداز کر رہا ہے کہ پاکستان اپنے دشمن سے صرف بیزار نہیں رہتا بلکہ ہر لمحہ چوکنا، تیار اور اسٹریٹجک طور پر ایک قدم آگے رہتا ہے۔
چاہے 2019 کا آپریشن ہو یا مئی 2025 کی جھڑپیں—پاکستان نے ہر بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ میدان میں شروع نہیں کرتا، بلکہ ذہنی، انٹیلیجنس اور اسٹریٹجک سطح پر پہلے ہی جیت چکا ہوتا ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت براہِ راست حملہ نہیں بلکہ دشمن کی کمزوریوں کی نشاندہی ہے۔
پاکستان پہلے دشمن کے اندرونی تضادات، لاجسٹک مسائل، سفارتی تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کو سمجھتا ہے، پھر انہی کمزوریوں پر ایسا وار کرتا ہے جو فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے کسی بھی دشمن کو، چاہے وہ تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، زمین بوس کیا جا سکتا ہے۔
یہی اسٹریٹجی ہمیں اسلامی تاریخ کے عظیم سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی سوچ میں بھی نظر آتی ہے۔
وہ کبھی جذبات میں آ کر جنگ نہیں کرتے تھے، بلکہ میدان میں اترنے سے پہلے دشمن کی صفوں میں موجود کمزوریوں کو پہچانتے، ان پر گرفت کرتے اور پھر ایسی چال چلتے کہ دشمن سنبھلنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا تھا۔
آج پاکستان بھی اسی اصول پر چل رہا ہے—فرق صرف یہ ہے کہ اب ہتھیار جدید ہیں، مگر سوچ وہی آزمودہ ہے۔
اس پورے منظرنامے میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کا کردار بھی بہت اہم ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان یہ دعویٰ ضرور کرتا رہا ہے کہ اس نے بیس سال سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی، اور یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج وہی افغانستان دو دن میں کیوں کمزور نظر آ رہا ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا تھا۔
ایک طرف پاکستان نے مفادات کی بنیاد پر امریکہ کو بھی اپنا حامی بنائے رکھا—اسلحہ، انٹیلیجنس اور عالمی سفارتی کور کے لیے۔
دوسری طرف پاکستان زمینی حقائق، لاجسٹکس اور اسٹریٹجک سپورٹ کے ذریعے افغانستان کے ساتھ تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اُس وقت کی جنگ یکطرفہ ہو گئی اور سوویت یونین کو پسپا ہونا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اُس دور میں امریکہ چاہتا تو افغانستان کو سپر پاور ہوتے ہوئے ختم کرنے میں اسے زیادہ وقت نہ لگتا، اور اگر سوویت یونین پوری قوت سے جاتا اور پاکستان نیوٹرل رہتا تو تاریخ شاید کچھ اور ہوتی۔
یعنی اصل بیلنس پاکستان تھا۔
آج حالات بدل چکے ہیں۔
اب نہ وہ نان اسٹیٹ سپورٹ موجود ہے،
نہ علاقائی سفارتی توازن افغانستان کے حق میں ہے،
اور سب سے بڑھ کر پاکستان اب سامنے کھڑا ہے، ساتھ نہیں۔
پاکستان اب خالصتاً اپنی قومی سلامتی کے مطابق چل رہا ہے—
محدود مگر انتہائی مؤثر اسٹرائکس،
درست انٹیلیجنس،
اور ایسی ٹائمنگ جو دشمن کو ردِعمل کا موقع ہی نہیں دیتی۔
اسی لیے آج جب پاکستان اسٹرائک کرتا ہے تو دعوے، ماضی کی جنگیں اور پرانی کہانیاں کسی کام نہیں آتیں۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ:
تب افغانستان مضبوط تھا کیونکہ پاکستان ساتھ تھا،
اور آج کمزور ہے کیونکہ پاکستان سامنے ہے۔
پاکستان کم لڑتا ہے،
لیکن جب لڑتا ہے تو فیصلہ کر کے لڑتا ہے۔
Super Power Pakistan