29/05/2026
ارجنٹ ٹکرز/ تنویر چوہدری چیف آرگنائزر
پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ضلع کورنگی
سندھ سرکار کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال Jinnah Postgraduate Medical Centre کے گائنی وارڈ میں ایک خاتون نے واش روم میں بچے کو جنم دیا۔
یہ واقعہ سندھ کے تباہ حال صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوام علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرتی ہے مگر وہاں انہیں عزت، سہولیات اور انسانی ہمدردی کے بجائے ذلت، بے بسی اور بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کراچی کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کا یہ حال ہے تو سندھ کے دیگر اسپتالوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کہیں بیڈز کی کمی، کہیں ڈاکٹرز اور عملے کی قلت، کہیں سیکیورٹی کے مسائل اور کہیں مریضوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔
شرم آنی چاہیے ان حکمرانوں کو جو صحت کے نام پر اربوں روپے کے دعوے کرتے ہیں مگر عوام آج بھی اسپتالوں میں ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ہے۔ مریضوں کی عزت محفوظ نہیں، قیمتی جانیں غیر محفوظ ہیں اور سندھ کے عوام کو بنیادی انسانی سہولیات تک میسر نہیں۔
پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اس غیر انسانی رویے اور ناقص نظامِ صحت کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
جاریکردہ!
انجنیئر ملک شاہ زین
ممبر آرگنائزنگ کمیٹی ضلع کورنگی
پاکستان مسلم لیگ فنکشنل