24/04/2023
محترم بھائی و دوست ڈاکٹر مسرور سیال کی تحریر نظروں سے گزری دلی۔ اطمینان ہوا ایسے لوگ اس سیاہ دور میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں ۔اللّہ کامیابی نصیب فرمائے۔ زیر نظر ان کی تحریر ملاحظہ ہو۔
میرا ارادہ ہو رہا تھا کہ میں یہ سیاست و غیرہ چھوڑ کر کوئی مسجد یا خانقاہ وغیرہ بساؤں اور باقی عمر سکون کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے گذاردوں ،مگر میرا مرشد کہتا ہے کہ تو اگر یہ سب کچھ کرنا چاہتا ہے ،تو تو صرف اپنے لیے جینا چاہتا ہے ،اگر تیرے چاروں اطراف ظلم ،برائی اور ناانصافی ہو تو تجھے تسبیح اور مصلہ پکڑ کر گوشہ نشینی اختیار نہیں کرنی چاہیئے ،بلکہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر برائی اور ظلم کے خلاف میدان میں اترنا چاہیے ،بلاشک اس میں تکلیفیں ہیں،مگر ثواب زیادہ ہے ،اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بھی ہمیں یہی بتاتی ہیں کہ معاشرے سے برائی ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہیے،آپ کے معاشرے میں کسی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہو کسی کا حق غصب کیا جا رہا ہو, لوگوں کو ناحق قید کیا جا رہا ہو،ناحق قتل ہو رہے ہوں،لوگ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے بھوک میں مر رہے ہوں،کسی کی جان مال عزت محفوظ نہ ہو،یا سرےعام برائی ہو رہی ہو، معاشرے میں قانون ،انصاف ،برابری نہ ہو,یہ سب دیکھتے ہوئے تو آنکھیں بند کر کے عبادت میں مشغول ہو تو ایسی عبادت تمہارے کسی کام نہیں آنی،عبادت کرنی ہے تو اصل عبادت یہ ہے کہ ان تمام معاشرتی بیماریوں کے خلاف کھڑا ہوجا اور انسانیت کی خدمت کر،دونوں جہان کی کامیابی میں تمھیں لکھ کر دیتا ہوں،ظالم اگر آپ سے کہیں زیادہ طاقتور ہے گھبراؤ نہیں ، امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے کوئی تاریخ رقم کرو،مرنا ایک دن سب کو ہے،زندگی جتنی ہے اتنی ہی پوری کروگے،ڈر کر بیٹھ جانے سے زندگی بڑھ نہیں سکتی ،موت کا دن مقرر ہے اب آپ ہے منحصر ہےکہ موت کس طرح قبول کرتے ہو،شیر اسلام امیر حمزہ کی طرح یا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی طرح،ولید بن مغیرہ کی طرح یا سیف الاسلام خالد بن ولید کی طرح ،امام حسین کی طرح یا یزید کی طرح، حر کی طرح یا باقی ماندہ کوفی لشکر کی طرح ،باتیں بہت زیادہ ہوئیں ساری درج نہیں کر سکتا ،بس پکا ارادہ کر لیا کہ بقایا زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف ہے،اور معاشرے سے برائی، ظلم ،اور ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے کوششیں اور تیز کرنی ہوگی ۔
Masroor Ali Siyal Dr.Masroor Ali Siyal - PTI