16/04/2026
جانتے ہیں وَاجْبُرْنِي" کا مطلب کیا ہے؟"
جب ہم نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیں:
اللّهُمّاغْفِرْلِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي
ترجمه
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما،، مجھے عافیت عطا فرما، مجھے ہدایت دے , مجھے رزق دے اور میری کمیوں کو پورا فرما۔مجھے سربلندی عطا کر۔
حدیث
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو
سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
(سنن ابی داؤد (850)
( جامع ترمذی، 284)
اس دعا میں ایک لفظ آتا ہے "وَاجْبُرْنِي"۔
عربی میں جبر کا مطلب ہوتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دینا،
بکھرے ہوئے کو سمیٹ دینا اور زخم پر ایسا مرہم رکھ
دینا جو درد کو ٹھنڈک دے۔
سوچیں!
جب کہیں گہرا زخم لگ جائے، خون بہہ رہا ہو،
درد برداشت سے باہر ہو
اور کوئی آ کر اس زخم پر نرمی سے ٹھنڈا مرہم رکھ دے
تو اس عمل کو جبر کہتے ہیں۔
جب بنده دو سجدوں کے درمیان عاجزی سے بیٹھ کر
کہتا ہے:
"" وَاجْبُرْنِي"
تو وہ دراصل اللہ سے یہ مانگ رہا ہوتا ہے کہ
اے اللہ! میرے دل کی ٹوٹ پھوٹ جوڑ دے!
میرے زخموں پر مرہم رکھ دے!
میری کمیوں کو پورا کر دے!
اور میرے بکھرے ہوئے حال کو سنوار دے!
انسان کے دل کے زخم ہوں، روح کی تھکن ہو، یا زندگی کی ٹوٹ پھوٹ،
ان سب کا مرہم نماز میں ہی موجود ہے۔
MTشاہ