04/08/2026
تین برسِ اسیری… مگر نظریہ آج بھی آزاد ہے۔
تین برس گزر گئے…
تین برس ایک ایسے رہنما کی جدائی میں، جس نے اپنی آزادی پر قوم کی آزادی کو ترجیح دی، اور ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قید کو قبول کیا۔
مگر یہ صرف ایک لیڈر کی اسیری کی داستان نہیں، یہ اُن لاکھوں وفادار کارکنوں کی تاریخ بھی ہے جن کے کاروبار تباہ ہوئے، جن کے گھر اُجڑے، جو اپنے بچوں سے دور رہے، جنہوں نے قید و بند، مقدمات، تشدد، دھمکیوں اور ہر طرح کی آزمائش برداشت کی، مگر اپنے نظریے، اپنے عہد اور اپنے پرچم کو کبھی جھکنے نہ دیا۔
یہ اُن ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو سلام ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا اور دن رات محنت کر کے امید کی شمع روشن رکھی۔
اور سب سے بڑھ کر یہ خراجِ عقیدت اُس رہنما کے نام، جس کی تین برس کی اسیری نے ثابت کر دیا کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر نظریے، حوصلے اور عوام کی امید کو نہیں۔
یہ نظم اُن تمام ثابت قدم لوگوں کے نام ہے جنہوں نے حق، انصاف اور اپنے یقین کی خاطر ہر قربانی دی۔
وقت گواہ ہے کہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، اور قومیں اپنے وفاداروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔