26/05/2026
ناول: دھوپ،عید اور تم
رائٹر: مومنہ الیاس
آخری قسط نمبر 04
گرمی اپنے عروج پر تھی۔
لاہور کی دوپہریں ویسے بھی جان لیوا ہوتی ہیں، مگر اس سال کی گرمی جیسے الگ ہی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔ ہوا تک گرم سانسوں جیسی لگتی تھی۔ سڑکیں تپتی تھیں، دیواریں گرم رہتی تھیں اور راتوں کو بھی پنکھے صرف آواز دیتے تھے، سکون نہیں۔
ان دنوں اشمل کی ہاؤس جاب چل رہی تھی۔
صبح سے شام تک اسپتال کی بھاگ دوڑ، ایمرجنسی کی کالز، مریضوں کے لواحقین کے سوال، سینئرز کی سختی… سب کچھ اسے اندر سے تھکا دیتا تھا۔ مگر پھر بھی اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک عجیب سا سکون رہتا۔
وہ پہلے والی اشمل نہیں رہی تھی۔
وہ اب خاموش زیادہ رہتی تھی۔
کم بولتی تھی۔
اور دل میں چیزیں دفن کرنا سیکھ چکی تھی۔
اس دن بھی جب وہ اسپتال سے واپس آئی تو عصر کا وقت ہو رہا تھا۔
سفید کوٹ اس کے ہاتھ پر پڑا تھا، بال ڈھیلے سے بندھے ہوئے تھے اور چہرے پر تھکن واضح تھی۔
جیسے ہی وہ گیٹ کے اندر داخل ہوئی، اچانک اس کے قدم سست پڑ گئے۔
سامنے باغ میں زرار کھڑا تھا۔
دو سال بعد۔
اشمل کا دل ایک لمحے کو جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
زرار پہلے سے کہیں زیادہ بدل چکا تھا۔
اس کی شخصیت میں اب عجیب سا رعب تھا۔
کھڑی وردی، مضبوط انداز، سنجیدہ چہرہ… اب وہ صرف زرار نہیں تھا۔
وہ لیفٹیننٹ کرنل زرار تھا۔
وہ بھی اشمل کو دیکھ کر ساکت رہ گیا۔
اشمل نے صرف ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا… پھر ایسے نظریں ہٹا لیں جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔
نہ سلام۔
نہ حیرت۔
نہ شکوہ۔
بس خاموشی۔
وہ پرسکون قدموں سے اندر چلی گئی۔
زرار دیر تک اسے جاتا دیکھتا رہا۔
اس کے چہرے کی تھکن… اس کی واک کا اعتماد… اور وہ بےنیازی… سب کچھ زرار کے دل پر عجیب اثر ڈال گیا تھا۔
---
آئرہ کی منگنی کو تین سال ہو چکے تھے۔
مگر اب بھی وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھی۔
شروع میں سب نے سوچا وقت چاہیے ہوگا، پھر پڑھائی، پھر حالات… مگر اب دونوں خاندانوں کو شک ہونے لگا تھا کہ بات کچھ اور ہے۔
اور جس بات کا ڈر تھا… آخر وہی ہو گیا۔
آئرہ نے ایک دن سب کے سامنے اریب کے بارے میں بتا دیا۔
گھر میں قیامت آ گئی تھی۔
چیخیں، سوال، غصہ، آنسو…
اشمل خاموش کھڑی سب دیکھتی رہی۔
زرار کو جب آئرہ نے سب کچھ بتایا تو وہ کافی دیر خاموش رہا تھا۔
اسے دکھ ہوا تھا۔ بہت زیادہ۔
مگر اس نے صرف ایک بات کہی تھی۔
"اگر وہ اریب کے ساتھ خوش ہے… تو شادی وہیں ہوگی۔"
سب جانتے تھے کہ آئرہ ضد میں کسی بھی حد تک جا سکتی تھی۔
وہ نکاح بھی کر چکی تھی۔
اسی لیے آخرکار سب نے مان لیا۔
چند ہفتوں بعد آئرہ اور اریب کی شادی ہو گئی۔
اور پھر دونوں بیرونِ ملک چلے گئے۔
ان سب حالات کے باوجود زرار کے گھر والوں کے اشمل کے خاندان سے تعلقات خراب نہیں ہوئے۔
بلکہ پہلے سے بہتر ہو گئے تھے۔
جب وہ لاہور منتقل ہوئے تھے تو آئرہ اور اشمل کے گھر والوں نے ان کی بہت مدد کی تھی۔
وہ لوگ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے تھے۔
---
ایک شام زرار نے اشمل کو روک لیا۔
"اشمل…"
وہ رکی نہیں۔
"مجھے تم سے معافی مانگنی ہے۔"
اشمل نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
صرف ایک منٹ۔
ایسی نظر… جس میں خاموش شکوے تھے۔
پھر بغیر کچھ کہے وہ چلی گئی۔
زرار وہیں کھڑا رہ گیا۔
---
گھر میں کافی عرصے سے اداسی تھی۔
خاص طور پر آئرہ کے جانے کے بعد۔
اسی لیے سب نے سوچا کہ حنان کی شادی کی تیاریاں شروع کی جائیں۔
بقر عید کے فوراً بعد تاریخ رکھی گئی۔
گھر پھر سے بھرنے لگا۔
بچے شور مچاتے، خواتین کپڑوں اور جیولری کی باتیں کرتیں، رات گئے تک قہقہے گونجتے۔
ملک کے حالات کی وجہ سے بچوں کی تین دن کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور پھر گرمیوں کی چھٹیاں بھی شروع ہو چکی تھیں۔
بچوں کی وجہ سے بکرے بھی جلدی آگئے تھے۔۔۔
پورا دن گھر میں شور ہی رہتا تھا۔
اس دن اشمل کے سر میں شدید درد تھا۔
وہ تاریخ… وہ دن… وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔
آج ہی کے دن اس کی اور زرار کی دوستی ہوئی تھی۔
وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی جب اچانک باہر سے بچوں کی آوازیں آئیں۔
وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گئی۔
ساتھ والے باغیچے میں بچے اچھل کود کر رہے تھے۔
اور کار پورچ میں حنان کسی کو گاڑی سے باہر آنے میں مدد دے رہا تھا۔
اشمل نے غور سے دیکھا۔
زرار تھا۔
اس کی ٹانگ پر چوٹ لگی ہوئی تھی اور وہ اسٹک کے سہارے کھڑا تھا۔
اشمل کے دل میں بےاختیار تشویش ابھری۔
اسی لمحے زرار کی نظر اوپر اٹھی۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
اشمل گھبرا کر فوراً کھڑکی بند کرنے لگی۔
پردے درست کیے اور واپس بستر پر آ کر بیٹھ گئی۔
اس کا دل عجیب طرح دھڑک رہا تھا۔
---
پورا دن اور رات گھر میں بکرے کی بو پھیلی رہتی تھی۔
اشمل تو تنگ آ گئی تھی۔
کبھی روم اسپرے، کبھی پرفیوم، کبھی باڈی اسپرے…
وہ خود ہی اپنی حرکتوں پر پریشان ہو جاتی۔
اور جب زرار گھر پر ہوتا تو وہ وہاں جانے سے مکمل پرہیز کرتی۔
مگر اُس دن زرار کہیں گیا ہوا تھا، اس لیے وہ اپنی امی کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی۔
اتوار کا دن تھا۔
چائے پینے کے بعد وہ برتن رکھ کر واپس آ رہی تھی کہ اچانک سامنے زرار آ گیا۔
اس نے راستہ روک لیا۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے؟"
اشمل نے خفگی سے کہا۔
زرار نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
"ایک بات کرنی ہے۔"
"کس سے؟"
اشمل جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بنی۔
زرار ہلکا سا جھنجھلایا۔
"تم سے۔ اور یہاں کون ہے؟"
اشمل کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔
"لیکن میں نے تو آپ کو دھوکہ دیا تھا۔ آپ تو میرا منہ بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔"
زرار خاموش رہ گیا۔
اور اشمل تیزی سے باہر نکل گئی۔
زرار نے گہری سانس لی اور سر جھکا لیا۔
---
عید میں صرف دس دن باقی تھے۔
ابھی تک زرار لوگوں نے قربانی کا جانور نہیں لیا تھا، اسی لیے آج حنان اور زرار کو بکرہ منڈی جانا تھا۔
ان دنوں زرار بہت عبادت کر رہا تھا۔
وہ دل سے چاہتا تھا کہ اشمل مان جائے۔
اس کی امی پہلے ہی اشمل کی امی سے بات کر چکی تھیں۔
دونوں کو یقین تھا کہ اشمل کبھی انکار نہیں کرے گی۔
اور پھر ایک دن اشمل کی امی نے اسے بتایا کہ فیصلہ اس پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
سب کو اشمل پر فخر ہوا تھا۔
اور جب زرار کو پتا چلا کہ اشمل نے انکار نہیں کیا…
وہ چند لمحے ساکت رہ گیا تھا۔
جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔
---
اس دن سب لوگ زرار کے گھر تھے۔
اشمل ان کے فریج سے برف لینے گئی۔
دوپہر کے دو بج رہے تھے۔
شدید گرمی تھی۔
زرار ابھی ابھی اٹھا تھا۔
رات والی شرٹ پہنے وہ باہر آیا۔
اور پھر اشمل کو دیکھ کر رک گیا۔
اشمل جلدی سے باہر نکلنے لگی مگر زرار نے اس کا راستہ روک لیا۔
"ہٹو۔"
"پہلے میری بات سنو۔"
اشمل نے دوسری طرف سے نکلنا چاہا مگر اچانک زرار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
وہ سیدھی اس کے سینے سے آ لگی۔
اشمل کا دل زور سے دھڑکا۔
"کیا مسئلہ ہے آپ کا؟"
زرار نے جھک کر اسے دیکھا۔
"کبھی معاف نہیں کرو گی؟"
اشمل نے غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
زرار دھیرے سے بولا۔
"تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔"
اس کے لہجے میں عجیب سا اعتماد تھا۔
اشمل نے فوراً نظریں تنگ کیں۔
"اتنا بھی اوور کانفیڈنٹ نہیں ہونا چاہیے۔"
"ہاتھ چھوڑیں۔"
"نہیں۔ جب تک معاف نہیں کرو گی۔"
وہ جان بوجھ کر اس کے قریب کھڑا تھا۔
اشمل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"ہر بات میں زبردستی کیوں کرتے ہیں آپ؟"
زرار فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
اس نے نرمی سے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا۔
"میں واقعی بہت شرمندہ ہوں اشمل… میں پاگل ہو گیا تھا۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا رویہ رکھا۔"
اس کی آواز بھاری ہو گئی۔
"مجھے لگتا ہے میرے ساتھ جو ہوا… ٹھیک ہوا۔ میں نے تمہارا دل توڑا تھا۔ اللہ نے مجھ سے بدلہ لے لیا۔"
اشمل خاموشی سے روتی رہی۔
زرار نے آہستہ سے اس کا چہرہ اوپر کیا۔
"رو تو نہیں…"
اشمل فوراً پیچھے ہوئی۔
"کیسے نہ روؤں؟ بکرے کی اتنی بو آ رہی ہے!"
زرار ایک لمحے کے لیے خاموش رہا۔
تم اس شملہ کی وجہ سے روئی ہو۔۔۔ اس نے حیرت سے کہا ۔۔ تو اور کیا۔۔۔
اور اشمل جلدی سے برف اٹھا کر باہر بھاگ گئ
زرار حیران کھڑا رہ گیا۔
پھر اس نے اپنی شرٹ سونگھی۔
اور اگلے ہی لمحے عجیب سا منہ بنایا۔
"واقعی؟"
وہ فوراً واش روم کی طرف چلا گیا۔
-۔۔۔
آج چاند رات تھی۔
بچے بکرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
بڑے کل کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
حنان کی شادی کے ساتھ اب اشمل اور زرار کی شادی کی بات بھی طے ہو چکی تھی۔
گھر میں مدتوں بعد خوشی لوٹی تھی۔
اشمل بار بار اپنی کھڑکی سے باہر دیکھتی۔
اور ہر بار زرار کی نظریں اسے پکڑ لیتیں۔
اب وہ پہلے کی طرح فوراً پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔
دونوں عجیب سی خاموش خوشی میں تھے۔
اشمل نے ہاتھوں پر بہت پیاری مہندی لگائی تھی۔
گہری، خوبصورت مہندی۔
زرار نے جب اس کے ہاتھ دیکھے تھے تو دیر تک دیکھتا رہ گیا تھا۔
---
عید کی صبح۔
پورا گھر خوشبوؤں، آوازوں اور قہقہوں سے بھرا ہوا تھا۔
اشمل آج بےحد خوبصورت لگ رہی تھی۔
اس نے سفید رنگ کا سادہ مگر بہت نفیس شرارہ پہنا تھا۔
بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی بنائی ہوئی تھی۔
کانوں میں جھمکے اور ہاتھوں میں جیلی بینگلز۔۔
وہ بار بار لان کی طرف دیکھتی جہاں زرار سب کاموں میں مصروف تھا۔
شام کا ڈنر زرار کے گھر تھا کیونکہ ان کا لان بڑا تھا۔
اور آج وہاں بہت خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی۔
فیری لائٹس، پھول، ہلکی پیلی روشنیاں…
سب کچھ بہت حسین لگ رہا تھا۔
شام ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
باربی کیو کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
رات کو سب دوبارہ تیار ہوئے۔
بچے بھاگ رہے تھے۔
بڑے ہنس رہے تھے۔
اور کافی عرصے بعد دونوں گھروں میں حقیقی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
اشمل ابھی فریش ہو کر اندر سے باہر آنے ہی والی تھی کہ اچانک سامنے زرار آ گیا۔
وہ وہیں رک گئی۔
زرار ہلکا سا مسکرایا۔
"مجھے پتا ہے… تم آ رہی تھیں۔"
اشمل کا دل زور سے دھڑکا۔
زرار نے آہستہ سے اس کے ہاتھ پکڑے۔
اور اس کی کلائیوں میں گجرے پہنا دیے۔
اشمل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
اس کے ہاتھ ابھی بھی زرار کے ہاتھوں میں تھے۔
زرار نے دھیرے سے کہا۔
"عید مبارک۔"
اشمل نے نظریں جھکا لیں۔
"خیر مبارک…
۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔۔۔۔
❤️✨️💐
یہ میری پہلی تحریر ہے۔۔ امید کرتی ہوں۔۔آپ کو پسند آئے گی۔۔
مومنہ الیاس۔۔۔