31/01/2026
#رہنمائے دل
#ام-امامہ
#قسط نمبر 29
(Last Episode)
Don't copy paste without my permission
°°°°°
(پانچ سال بعد)
اپنا سامان اٹھا کر وہ باہر جانے لگا جب اسکے باہر جانے سے پہلے شایان اندر آگیا
"آپ گھر نہیں گئے سر"اسنے مشارب کو دیکھ کر پوچھا
"شایان اگر میں گھر گیا ہوتا تو تمہیں یہاں نظر آتا"
"نہیں مطلب میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا" اسکے انداز میں جھجک تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ شایان اس سے کوئی بات کرتے ہوئے جھجک رہا تھا
ان گزرے سالوں میں انکے عہدے تبدیل ہوچکے تھے جہاں پہلے وہ ایس پی مشارب راحم شیرازی تھا اب وہیں ایس ایس پی مشارب راحم شیرازی بن چکا تھا
لیکن اسکے باوجود بھی شایان کا رویہ اسکے ساتھ ہمیشہ کی طرح ہی رہا تھا پھر آج وہ کیا بات کرنے آیا تھا جس کے لیے اتنا جھجک رہا تھا
"شایان کیا کہنا ہے"
"وہ امی جان چاہتی ہیں کہ میں اب شادی کرلوں"
"تو تم کیا مجھ سے اجازت لینے آئے ہو" وہ بےساختہ ہنسا
"نہیں وہ دراصل مجھے ایک لڑکی پسند ہے لیکن امی جان کے سامنے اسکا ذکر کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں میں خود اس سے ملوں اس کی رائے جان لوں اور یہ سب آپ کی مدد کے بنا نہیں ہوسکتا"
"اچھا کون ہے وہ لڑکی" مشارب کے پوچھنے پر وہ اپنا گلا کھنکارنے لگا
"صالحہ"
"صالحہ حبیب" اسنے تصدیق کرنی چاہی
"جی"
"پوری دنیا میں تمہیں وہی ایک لڑکی ملی تھی"
"یہ تو دل کا معاملہ ہے سر میں کیا کرسکتا ہوں" اسنے دانتوں کی بھرپور نمائش کی
"خیر تمہاری زندگی ہے تم جس کے ساتھ گزارنا چاہو لیکن اس معاملے میں تمہاری مدد علیحہ ہی کرسکتی ہے میں اس سے بات کرلوں گا"
"تھینک یو سر" اسکے چہرے پر خوشی کے تاثرات آئے جسے دیکھ کر مشارب نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپایا اور وہاں سے چلا گیا
°°°°°
آج واپسی معمول کے مطابق دیر سے ہوئی تھی اسکا ارادہ سیدھا کمرے میں جانے کا تھا جب چلتے قدم لاونج میں بیٹھی دعا کو دیکھ کر رکے
جو اپنا سر ٹیبل پر رکھے سورہی تھی یقیناً اسکا انتظار کرتے کرتے ہی وہ یہاں سوگئی ہوگی
"دعا اٹھو" اسکے قریب جاکر مشارب نے اسکا بازو ہلایا جس پر وہ چونک کر اٹھی اور اسکے اٹھتے ہی وہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
دعا نے گہری سانس لے کر اسکی پشت کو دیکھا اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئی مشارب نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی یقینا اسکی ناراضگی ہنوز جاری تھی
"مشارب آپ اب بھی مجھ سے ناراض ہیں" اسنے مشارب کے پیچھے آکر کہا جو اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے گھورنے لگا
"یہ یہاں کیا کررہا ہے" اسنے بیڈ پر سوئے میکائیل کی طرف اشارہ کیا
"اسے میرے پاس سونا تھا اسلیے یہاں آگیا"
"دعا میں نے اسکا الگ کمرہ دیکھنے کے لیے نہیں بنوایا"
اسنے میکائیل کے لیے ایک الگ کمرہ بنوایا تھا لیکن پھر بھی وہ اسکے کمرے میں آکر دھمک جاتا جس کی وجہ سے مشارب نے اپنے کمرے میں ہی اسکے لیے ایک چھوٹا سا بیڈ رکھوالیا تھا لیکن پتہ نہیں اس لڑکے کو کیا مسلہ تھا
مشارب کی غیر موجودگی میں تو وہ اپنے کھیل میں مگن رہتا لیکن اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی میکائیل کو یاد آجاتا کہ اسکی ایک عدد ماں بھی ہے اور پھر اسکی گود میں چڑھ کر پتہ نہیں وہ کون سے جہان کی باتیں کرتا رہتا
اسکا مقصد بس اپنی ماں کو اپنے باپ سے دور رکھنا ہوتا تھا اس معاملے میں وہ بہت پوزیسو تھا یہ بات اسے بلکل برداشت نہیں ہوتی تھی کہ اسکی ماں اسکی موجودگی میں کسی اور کو پیار کرے لیکن مشارب سے وہ اس معاملے میں وہ لڑ نہیں سکتا تھا اسلیے اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی وہ ایلفی کی طرح دعا کے ساتھ چپک جاتا
رات بھی اسنے یہی کیا تھا اپنے کمرے کو چھوڑ کر اسکے کمرے میں آگیا اور مشارب کے منع کرنے کے باوجود بھی اسکے بیڈ پر ہی چپکا رہا
مشارب جانتا تھا کہ اگر دعا اسے کمرے سے جانے کا کہتی تو وہ چلا جاتا اسلیے اسنے دعا سے یہی کہا تھا لیکن وہ بھلا کچھ کیوں کہتی وہ تو اسکی بات کو اگنور کرکے میکائیل کو اپنے قریب کرکے سوگئی
اسکی اس حرکت پر مشارب غصے سے کمرے سے باہر چلا گیا اور تب سے ہی دعا سے اسکی ناراضگی چل رہی تھی
"مشارب کیا ہوگیا ہے بچہ ہے سونے دیں یہاں پر"
"ٹھیک ہے سونے دو اسے یہاں اور اب اسے ہی اپنے پاس سلانا"اپنا سامان ڈریسنگ پر رکھ کر وہ غصے سے باہر جانے لگا جب اسکا ہاتھ پکڑ کر دعا نے اسکا رخ اپنی جانب کیا اور اسکے سینے سے لگ گئی
"پلیز مشارب اب اپنی یہ ناراضگی ختم کردیں"
"اچھا تو تمہیں فکر ہے میری ناراضگی کی"
"بلکل ہے"
"تو پھر اسے اٹھا کر کمرے سے باہر پھینکو" اسکے کہنے پر دعا نے خفگی سے اسے دیکھا
"مشارب وہ بیٹا ہے آپ کا"
"میرے لیے میرے بیٹے کا ٹائم الگ ہے اور بیوی کا الگ اور یہ وقت میرا میری بیوی کے لیے ہے
اسلیے میں نہیں چاہتا کوئی اور اس میں دخل اندازی کرے"
بیڈ پر سوئے میکائیل کو اٹھا کر اسنے وہاں رکھے اسکے چھوٹے بیڈ پر لٹا دیا
"کھانا کھالیں"
"مجھے اس وقت صرف تمہیں کھانا ہے یہاں پر آؤ اور میری ناراضگی دور کرو" بیڈ پر بیٹھ کر اسنے دعا کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا
"میرے خیال سے آپ کی ناراضگی دور ہوچکی ہے" اسکے قریب بیٹھ کر دعا نے اسے بتانا چاہا کہ اپنی ناراضگی وہ ختم کرچکا ہے
"نہیں ہوئی ہے" اسکے بال ایک طرف کرکے اسنے نرمی سے دعا کی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا
"مشارب"
"چلو کس کرو مجھے"اسکے کہنے پر دعا نے مسکراتے ہوئے ہلکے سے اسکے لبوں کو چھو لیا
"یہ کس نہیں ہوتی"
"مشارب آپ آج کل کچھ زیادہ ہی بگڑتے جارہے ہیں"
"مجھے بگاڑنے والی تم ہی تو ہو" اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر مشارب نے اسے بیڈ پر لٹا دیا
اس وقت کمرے میں صرف ایک سائیڈ لیمپ جل رہا تھا جو کمرے میں روشنی کرنے کا سبب بن رہا تھا
لیکن مشارب ہاتھ بڑھا کر اسے بھی بند کرچکا تھا
°°°°°
واشروم سے نکلتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ پر بیٹھے میکائیل پر گئی جو اپنے ہاتھ میں گن لے کر بیٹھا ہوا تھا
"بڑے بابا دیکھو" وجدان کو دیکھتے ہی اسنے گن اسکی طرف کرکے دکھائی
"میکائیل ادھر دو کہاں سے آئی تمہارے پاس"
"عالی نے دی ہے" عالی کہنا علیحہ نے ہی اسے سکھایا تھا کیونکہ بڑی ماما پھوپھو خالا سننا اسے پسند نہیں تھا
"میکائیل ادھر دو یہ بچوں کے کھیلنے کی چیز نہیں ہے" وجدان اسکی جانب بڑھا جب اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ تیزی سے کمرے سے بھاگ گیا
غصے سے وجدان بھی اسکے پیچھے گیا جبکہ چلاتے ہوئے علیحہ کو پکارنا وہ نہیں بھولا تھا
°°°°°
کمرے سے نکلتے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا میکائل کے پیچھے گیا اور اسے بازو سے کھینچ کر پکڑ لیا ڈھائی فٹ کا تو تھا وہ کہاں تک بھاگ سکتا تھا
"علیحہ"
"کیا مسلہ ہے جج صاحب کیوں چلارہے ہو" اسکے چلانے کی آواز سن کر وہ کچن سے نکل کر اسکے پاس آئی
جب سے وہ جج کے عہدے پر فائز ہوا تھا تب سے علیحہ اسے بیرسٹر صاحب چھوڑ کر جج صاحب کہنے لگی تھی
"یہ چیز کوئی بچوں کے ہاتھ میں دیتا ہے" اسنے میکائیل کے ہاتھ سے بندوق لی جسے لیتے ہی اندازہ ہوگیا کہ میکائیل کے ہاتھ میں یہ چیز تھما کر علیحہ اتنے آرام سے کیوں گھوم رہی تھی
"خالی ہے یہ گن تمہارے دماغ کی طرح"
"تمہارے کچرے والے دماغ سے تو میرا خالی دماغ ہی بہتر ہے"
"بس کرو تم دونوں اب صبح صبح لڑنا مت شروع کردینا" ناز بیگم کی آواز سن کر ان دونوں نے اپنی بحث روکی
وہ دونوں اچھے خاصے سمجھدار تھے لیکن جب ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے تو بچوں کی طرح لڑنا شروع کر دیتے تھے
وجدان تو پھر بھی کبھی خاموشی ہو جاتا تھا لیکن علیحہ جب تک دل کی بھڑاس نہیں نکال لیتی تب تک خاموش نہیں ہوتی تھی اور جب بھی اسکی علیحہ سے بحث ہوتی تھی تب اسے بس ایک ہی لمحہ یاد آتا جب علیحہ پریگنینٹ تھی
اس وقت اسکی تکلیف دیکھ کر وجدان کو تکلیف ہورہی تھی لیکن اس لڑکی نے اپنی بحث ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی جاری رکھی تھی
"مشارب جلدی سے گاڑی نکالو" علیحہ کا وجود اپنی بانہوں میں اٹھائے اسنے چلاتے ہوئے کہا جسے سن کر مشارب جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا
"بس علیحہ کچھ نہیں ہوا ہے ہم ابھی ہاسپٹل پہنچ جائیں گے" گاڑی میں اسے اپنے ساتھ بٹھا کر اسنے علیحہ کا وجود اپنے سینے سے لگایا جس کے چہرے پر تکلیف دہ تاثرات تھے
"ت-تمہاری وجہ سے ہورہا ہے یہ سب"
"اچھا میری وجہ سے ہو رہا ہے"
"ہاں"
"مجھے اپنی ادائیں تم ہی دکھاتی ہو اور اب کہہ رہی ہو میری وجہ سے ہورہا ہے"
"ہاں تمہاری وجہ سے ہورہا ہے"
"زبان دراز لڑکی تکلیف میں ہو تم کچھ تو خیال کرلو ابھی بھی بحث کیے جارہی ہو چپ ہوجاؤ"
"تم کررہے ہو میری تکلیف کا خیال جو میں چپ ہوجاؤں"
ان دونوں کی بحث دیکھ کر گاڑی چلاتے مشارب نے چلا کر کہا
"بس کرو تم دونوں وجدان تم ہی خاموش ہوجاؤ اسکی حالت نہیں دکھ رہی ہے تمہیں" اسکی بات سن کر وجدان بھی خاموش ہوگیا کیونکہ پتہ تھا اس تکلیف میں بھی علیحہ میڈم نے اپنی بحث جاری ہی رکھنی تھی
علیحہ کے ساتھ گزرا لمحہ وہ جب بھی یاد کرتا تھا تو لبوں پر مسکراہٹ چھو جاتی لیکن یہ وہ واحد لمحہ تھا جسے وہ جب بھی یاد کرتا تو سمجھ نہیں آتا اس لمحے کو سوچ کر غصہ کرے یا پھر ہنسے
°°°°°
ناشتہ لگتے ہی گھر کے سارے افراد ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے جب ناز بیگم نے نظریں اٹھا کر مشارب اور دعا کو دیکھا
"ناراضگی ختم ہوگئی تم دونوں کی"
مشارب اس سے ناراض تھا اور یہ بات وہ کل سے نوٹ کررہی تھیں
"امان جان ہماری کوئی ناراضگی نہیں چل رہی تھی" مشارب نے انکی غلط فہمی دور کرنی چاہی
لیکن وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اور یہ بات وہاں بیٹھی دعا کے ساتھ ساتھ میکائیل بھی بخوبی جانتا تھا لیکن وہ اپنی ماں کی طرح اپنے باپ کے جھوٹ میں اسکا ساتھ ہرگز نہیں دینے والا تھا
"نہیں دادو ڈیڈ ناراض تھے ماما سے لیکن ماما نے رات کو انہیں منا لیا" اسکی بات سنتے ہی دعا اور مشارب نے ایک ساتھ سر اٹھا کر اسے دیکھا
"ڈیڈ نے کہا کہ میری ناراضگی دور کرو اور مجھے کس کرو پھر ماما نے انہیں کس کردیا" اسکی بات سنتے ہی دعا اپنا ناشتہ ٹیبل پر چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ مشارب تو اس وقت اسے گھور بھی نہیں پارہا تھا
"میرے خیال سے ماما کے کس کرنے سے ڈیڈ کی ناراضگی"
"بس بہت کھالیا" اپنی جگہ سے اٹھ کر اسنے جلدی سے میکائیل کو اپنی گود میں اٹھایا اور اسے لے کر وہاں سے چلا گیا جبکہ ٹیبل پر بیٹھے باقی افراد اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں لگے رہے
°°°°°
اسے کمرے میں لاکر مشارب بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کرلیا
وہ دکھنے میں دعا کی طرح تھا جبکہ چہرے پر موجود معصومیت تو دعا سے بھی زیادہ تھی اسنے اپنے باپ سے بس گہری سیاہ آنکھیں لی تھیں
لیکن انداز میں وہ کس پر گیا تھا یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا تھا وہ ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا
ایک دفعہ اسنے حیا کو تھپڑ مارا تھا جس کی وجہ سے مشارب نے اسے ڈانٹ دیا اسکے ڈانٹنے کر خفا ہوکر اسنے دعا سے یہ کہا کہ اسکے لیے نئے ڈیڈی لائے جائیں
پھر ہونا کیا تھا میکائیل شیرازی کا نرم گال تھا اور مشارب شیرازی کا بھاری ہاتھ
اسکے تھپڑ مارنے پر میکائیل رونا شروع ہوچکا تھا اور اپنے رونے سے وہ پورا گھر پر سر اٹھا چکا تھا
سب اسے چپ کروا کر تھی چکے تھے لیکن وہ تب تک چپ نہیں ہوا جب تک اسکا خود کا موڈ ٹھیک نہیں ہوا لیکن اس دن کے بعد سے ایک بات جو اسنے اپنے چھوٹے سے دماغ میں بھٹالی تھی وہ یہ تھی کہ اسکے نئے ڈیڈی کبھی نہیں آئینگے اسلیے اسے جو کام چلانا ہے انہی ڈیڈی سے چلانا ہوگا
"میکائیل جو پوچھوں گا اسکا صاف صاف جواب دینا'' اسکے کہنے پر میکائیل نے شرافت سے اپنا سر ہلایا
"رات کو جاگ رہے تھے تو بتایا کیوں نہیں"
"اگر میں بتادیتا کہ میں جاگ رہا ہوں تو آپ مجھے کمرے سے نکال دیتے اور پھر مجھے میرے کمرے میں بھیج دیتے"
"رات کو کیا دیکھا تھا"
"رات کو آپ کمرے میں آئے پھر ماما سے لڑنے لگے اور پھر ماما کو اپنے پاس بٹھایا"وہ تفصیل سے اسے ایک ایک بات بتانے لگا
"پھر کیا دیکھا" اسنے جلدی سے پوچھا اسے اس وقت بس یہ فکر ستا رہی تھی کہ میکائیل نے رات کو کیا دیکھا
"پھر آپ نے ماما سے کس کرنے کو کہا ماما نے آپ کو کس کیا"
"پھر"
"اس سے زیادہ کچھ دیکھ ہی نہیں پایا آپ نے لائٹ جو بند کردی تھی اور لائٹ بند ہوتے ہی میں بھی سوگیا تھا" اسکے کہنے پر مشارب نے سکون بھرا سانس لیا
دعا ٹھیک کہتی تھی اسکا بیٹا اب بڑا ہورہا تھا اسلیے اپنے بے لگام جذباتوں کو اسے تھوڑا لگام ڈالنے کی ضرورت تھی
°°°°°
مشارب کے کمرے سے نکلتے ہی وہ حیا کو ڈھونڈنے لگا جو اسے باہر لان میں بیٹھی نظر آگئی
لائٹ پرپل کلر کی فراک پہنے وہ دو پونیاں بنائے گھاس توڑ کر اپنے منہ میں ڈال رہی تھی
وہ ساڑھے تین سال کی تھی اور دکھنے میں وہ بلکل اپنے باپ کی طرح تھی اپنی ماں سے اسنے کچھ نہیں لیا تھا
اسکی گندمی رنگت تھی اور وجدان کی طرح بھورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں
کہنے کو وہ علیحہ کی بیٹی تھی لیکن اس سے بلکل مختلف تھی وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر گھبرا جاتی اور کسی تیز آواز پر وہ رونا شروع کر دیتی تھی
اسے ٹھیک سے ابھی بولنا نہیں آتا تھا اور وہ بولتی بھی بہت کم تھی اسلیے اسے کیا کہنا ہوتا تھا اسکے کہنے سے پہلے ہی میکائیل کہہ دیتا تھا
"یہ تم کیا کررہی ہو حیا" اسکے قریب جاکر میکائیل نے صدمے سے کہا جس پر وہ گھبرا کر اسکی طرف دیکھنے لگی جیسے اسنے کتنی بڑی غلطی کردی ہو لیکن غلطی کیا کی تھی یہ اسے نہیں پتہ تھا
"تم گھاس کیوں کھارہی ہو یہ کھانا اچھی بات نہیں ہوتی"
"کیوں"
"یہ گندے لوگ کھاتے ہیں اور جو اسے کھاتے ہیں وہ بھی گندے ہو جاتے ہیں" کمر کر ہاتھ رکھ کر وہ بڑے لوگوں کی طرح اسے سمجھانے لگا
جبکہ اسکے منہ سے اپنے لیے گندا لفظ سن کر اسکی بڑی بڑی آنکھیں پانی سے بھر چکی تھیں
اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر اس سے پہلے میکائیل کچھ کہہ پاتا وہاں پر وجدان آچکا تھا جس نے وہاں بیٹھی حیا کو اپنی گود میں اٹھا لیا لیکن اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر وہ خود بھی چونک گیا
"کیا ہوا حیا رو کیوں رہی ہو" اسکے پوچھنے پر حیا نے میکائیل کی طرف اشارہ کیا
"اسنے مجھے گندا کہا"وہ جملے تیزی سے نہیں بول پاتی تھی لیکن آسان لفظوں کی اردو اسے آسانی سے سمجھ آتی تھی
اسکے کہنے پر وجدان نے گھور کر میکائیل کو دیکھا
"تو نے رلایا ہے میری بیٹی کو"
"نہیں نہیں نہیں" اسکے گھورنے پر میکائیل نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا کہیں وجدان اسے غلط سمجھ کر مارنا ہی نہ شروع کردے
"یہ گھاس کھا رہی تھی بڑے بابا میں نے تو بس منع کیا تھا کہ یہ کھانا اچھی بات نہیں ہوتی" اسکی بات سن کر وجدان نے اپنی گود میں موجود حیا کو دیکھا
"حیا گھاس کیوں کھا رہی تھیں بھوک لگی تھی تو ماما سے کہتیں"
"مجھے اتھی(اچھی) لگتی ہے" اسکی بات سن کر وجدان اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ حرکت اسنے پہلی دفعہ نہیں کی تھی
"میکائیل ایک ذمیداری سونپ رہا ہوں تمہیں"
"کیا"
"آج کے بعد حیا کبھی بھی یہ حرکت کرے تو تم اسے روکو گے"
"اوکے"
اسنے جوش اور جذبے سے کہا یہ جوش اور جذبہ اسکے اندر اکثر جاگتا رہتا تھا کبھی مشارب کو پولیس یونیفارم میں دیکھ کر تو کبھی وجدان کو بلیک گاؤن میں دیکھ کر
اسلیے وجدان اسکے لیے اسکے سائز کے مطابق ایک پولیس یونیفارم اور بلیک کوٹ بھی لاکر دے چکا تھا تاکہ اپنا شوق وہ پورا کرسکے
"وجدان"
علیحہ کی آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا
"مام کا فون آیا تھا ہاسپٹل جانا ہے"
°°°°°
"ہائے کتنی پیاری ہے یہ" علیحہ نے اپنی گود میں موجود اس بچی کو دیکھتے ہوئے کہا جسے دنیا میں آئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہوئے تھے
فائنلی وہ پھوپھو بن ہی گئی تھی
ازہار جانتا تھا آیت کو پڑھائی کا کتنا شوق ہے اسلیے یہ عہد اسنے خود سے کیا تھا کہ جب تک آیت کی پڑھائی مکمل نہیں ہوجاتی تب تک وہ اس پر بچوں کی کوئی ذمیداری نہیں ڈالنے والا تھا
"شکریہ علیحہ تم نے بتادیا ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا یہ کتنی پیاری ہے" ازہار کی بات پر اسنے منہ بنا کر اسے دیکھا لیکن پھر اگنور کرکے دوبارہ اس بےبی کو دیکھنے میں مصروف ہوگئی
"ماما نے مجھے تو اتنا تیار(پیار) نہیں کیا" مشارب کی گود میں چڑھی حیا نے خفگی سے اس نئے وجود کو دیکھا جو مزے سے اسکی ماں سے پیار لے رہی تھی
اسنے کہا تو آہستہ آواز میں ہی تھا لیکن علیحہ پھر بھی اسکی آواز سن چکی تھی
"ہائے میری جان ایسے مت بولو ادھر آؤ ماما پیار کریں تمہیں"اسے ازہار کی گود میں دے کر اسنے حیا کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے جو مسکراتے ہوئے بنا دیر کیے اسکی گود میں آگئی
"انکل ہمیں بھی دکھا دیں" میکائیل نے سر اٹھا کر ازہار کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر اسنے جھک کر اس بےبی گرل کو اسکے سامنے کردیا
"یہ بات نہیں کرتی"
"ابھی چھوٹی ہے نہ پہلے سیکھے گی"
"تو کھیلے گی بھی نہیں"
"جب سو کر اٹھے گی تو پھر کھیلے گی" اسکے کہنے پر میکائیل نے اپنے لب دانتوں میں دبائے اور اسکے گال پر تھپڑ مار کر اسے اٹھانے لگا اور اس کوشش میں کامیاب بھی ٹہرا کیونکہ اسکا تھپڑ کھاتے ہی وہ رونا شروع ہوچکی تھی اور اسے روتے دیکھ کر میکائیل گھبراتے ہوئے بھاگ کر وہاں کھڑی دعا کے پیچھے چھپ گیا
ورنہ ازہار کچھ کرے نہ کرے مشارب نے اسکا کان ضرور کھینچنا تھا
°°°°°
ہاسپٹل سے واپس آتے ہوئے کافی رات ہوچکی تھی جبکہ حیا اور میکائیل گاڑی میں ہی سوچکے تھے
اسلیے انہیں اپنی گود میں اٹھا کر مشارب اور وجدان خاموشی سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تاکہ انکی نیند خراب نہ ہو
°°°°°
میکائیل کو اسکے کمرے میں لٹا کر وہ اپنے کمرے میں آگیا جہاں دعا واشروم سے نکل رہی تھی اسنے نائٹ سوٹ پہنا ہوا تھا اور یقینا اب سونے کی تیاری تھی لیکن مشارب کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا
"دعا سونا مت"
"مشارب مجھے نیند آرہی ہے"
"میں کہہ چکا ہوں بعد میں نیند خراب ہو تو مجھ سے شکایت مت کرنا" اپنی بات کہہ کر اسنے وارڈروب سے اپنا ٹراؤزر اور شرٹ نکالا اور واشروم میں چلا گیا
دعا نے گھور کر واشروم کے دروازے کو دیکھا جیسے اسے نہیں مشارب کو دیکھ رہی ہو اور اسکی بات کو اگنور کرکے سونے کے لیے لیٹ گئی
جب تھوڑی دیر بعد نیند میں اسے اپنے چہرے پر مشارب کا لمس محسوس ہوا ہو
وہ نیند میں تھی لیکن اسکا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرکے اسکی لبوں پر مسکراہٹ بکھر چکی تھی
جسے دیکھ کر مشارب اسکے لبوں پر جھک گیا
"مشارب مجھے نیند آرہی ہے" اسکے دور ہٹتے ہی دعا نے منہ بنایا
"ہر وقت تو تمہارا ٹڈا ساتھ رہتا ہے ایسے موقع مجھے کم ہی میسر آتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان نہ ہو اور ایسے موقع میں ضائع نہیں کرنا چاہتا"
"آپ میرے بیٹے کو ٹڈا کہہ رہے ہیں"
"ہاں ٹڈا کہہ رہا ہوں پتہ نہیں کیا چیز ہے ایسا لگتا ہے اسنے تمہارے اندر کوئی الارم فٹ کیا ہے جب بھی میں تمہارے قریب آتا ہوں الارم بج جاتا ہے اور وہ ٹڈا اڑ کر ہمارے درمیان آجاتا ہے"
اسکی بات سن کر وہ بےساختہ ہنسی جس پر مشارب نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے
جب اسکے کانوں میں دروازے ناک ہونے کی آواز آئی
"دعا کیا یہ آواز تمہیں بھی آرہی ہے یا میرے کان بج رہے ہیں" اسنے تصدیق کرنی چاہی جس پر دعا نے اپنا سر ہلادیا
اسکا سر ہاں میں ہلتا دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور جاکر دروازہ کھول دیا جہاں اسکے اندازے کے عین مطابق وہ ٹڈا ہی کھڑا تھا
نیند میں ڈوبا ہوا جبکہ دونوں ہاتھوں میں اسنے اپنا چھوٹا سا تکیہ پکڑا ہوا تھا
"آپ مجھے اس کمرے میں اکیلا چھوڑ آئے ڈیڈ" اسنے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے لیکن وہ مشارب شیرازی کی ہی اولاد تھا جسکی وہ رگ رگ سے واقف تھا اسلیے اسکی معصومیت میں کم از کم وہ تو نہیں آنے والا تھا
"میرا بیٹا جب اکیلے کمرے میں سو گے تو ہی بہادر بنو گے"
"تو پھر آپ کیوں ماما کے ساتھ سوتے ہو" اسکے کہنے پر دعا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی دبائی جبکہ مشارب گہرا سانس لے کر رہ گیا
"کیونکہ تمہاری ماں اکیلے سونے سے ڈرتی ہے اسلیے مجھے اسکے ساتھ سونا پڑتا ہے"
"میں بھی بچہ ہوں اور میں بھی اکیلے سونے سے ڈرتا ہوں" تکیہ سینے سے لگائے وہ اندر کمرے میں داخل ہوا جب دروازہ بند کرکے مشارب نے اسے اپنی گود میں اٹھایا
"بچہ حرکتیں ہیں بچوں والی" اسکا تکیہ بیڈ پر پھینک کر وہ اسکے پیٹ پر گدگدی کرنے لگا جس کی وجہ سے کمرے میں میکائیل کی ہنسی گونجنے لگی
وہ ہنستے ہوئے اپنی ماں کو مدد کے لیے بلارہا تھا اور ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ دعا کو پکارتا اور وہ نہ جاتی اسلیے وہ اپنے معصوم بیٹے کو اسکے ظالم باپ سے بچانے کی جدو جہد میں لگ گئی
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ بھی مشارب کے شکنجے میں آچکی تھی جس کی وجہ سے میکائیل کے ساتھ ساتھ کمرے میں دعا کی بھی ہنسی گونجنے لگی
°°°°°
اپنے کمرے میں داخل ہوکر وجدان نے نے آرام سے اسے بیڈ پر لٹایا اور اٹھ کر خود چینج کرنے کے لیے چلا گیا
چینج کرکے وہ باہر نکلا جب نظر بیڈ پر حیا کے پاس بیٹھی علیحہ پر گئی جو گہری نظروں سے سوتی حیا کو دیکھ رہی تھی
"میری بیٹی کو نظر لگاؤ گی"
"میں سوچتی تھی کہ حیا کو بھی اپنے جیسا بناؤں گی مظبوط جو ہر طرح کے معاملے کو فیس کرنا جانتی ہو لیکن لگتا نہیں ہے یہ ایسی بنے گی"
"مجھے اسے بنانا بھی نہیں ہے میرے لیے ایک ہی علیحہ کافی ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ میری حیا عام لڑکیوں کی طرح رہے" اسکے کہنے کر علیحہ آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھور کر دیکھنے لگی
"کیا مطلب ہے میں لڑکی نہیں ہوں"
"نہیں یار میں نے تو یہ کہا ہے کہ یہ عام لڑکیوں کی طرح بنے شرمیلی سی معصوم سی تمہاری طرح زبان دراز نہ ہو"
"وجدان صاحب تم نے ہی کہا تھا کہ میری زبان درازی تمہیں ساری عمر خوشی سے قبول ہے"
ارے یار نیا نیا محبت کا خمار چڑھا تھا جب اترا تو پتہ چلا کہ اس وقت کیا کہہ دیا تھا"
اسکے کہنے پر علیحہ نے وہاں رکھا کشن اسکے اوپر پھینکا جو سیدھا اسکے منہ پر جا لگا جبکہ وجدان کی گھورتی نظریں اب اس پر ٹکی تھیں
"بچ کر دکھاؤ تم مجھ سے"کشن سائیڈ پر پھینک کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا جبکہ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ جلدی سے کمرے سے باہر جانے لگی لیکن اس سے پہلے ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر وجدان اسے صوفے پر گرا چکا تھا
"پہلے حساب تو چکاو"
"وجدان حیا اٹھ جائے گی"
"وہ اپنی نیند پوری کیے بنا نہیں اٹھتی ہے"
"میکائیل آجائے گا"
"وہ اس وقت مشارب کا دماغ کھا رہا ہوگا"
"اماں جان نے بلایا تھا"
"رات کے اس وقت وہ تمہیں نہیں بلانے والی"
وہ خاموش ہوگئی اسکے ہر ںےتکے سوال کا جواب وجدان کے پاس موجود تھا
"کیا کرنا ہے مجھے"
"تمہیں کچھ نہیں کرنا جو کرنا ہے مجھے کرنا ہے" اسکی بات سن کر علیحہ نے مسکراتے ہوئے اپنی نظریں جھکالیں جب وجدان نے کارپٹ پر پھکا کشن اٹھایا اور اس کے منہ پر مار دیا
اسکی اس حرکت کے باعث علیحہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی اسے تو لگ رہا تھا وجدان کوئی رومینٹک سی حرکت کرے گا لیکن یہ بندہ بھی نہ
صوفے سے اٹھ کر اسنے کشن اٹھا کر دوبارہ وجدان کے اوپر پھینکا
پھر کیا تھا شروع ہوگئی علیحہ اور وجدان کی لڑائی
°°°°°
"آیت میں کیا سوچ رہا ہوں"عادت کے مطابق وہ دھڑام سے بیڈ پر گرا جس پر آیت نے گھور کر اسے دیکھا
کیونکہ اسکی اس حرکت سے بےبی کی نیند خراب ہوسکتی تھی جسے اتنی مشکل سے مناہل سلا کر گئی تھی
"کیا سوچ رہے ہیں"
"ہم اسکا نام حرا رکھ دیں"
"کوئی ضرورت نہیں ہے اپنی سوچ اپنے پاس رکھیں"
"ارے یار اسنے بھی تو اپنے بیٹے کا نام ازہار رکھا ہے میں سوچ رہا تھا ہم بھی حرا رکھ لیتے ہیں"
حرا کی شادی یونیورسٹی لائف میں ہی ہوگئی تھی جس پر آیت نے شکر بھرا سانس لیا لیکن پھر حیرت کا شدید جھٹکا اسے تب لگا جب اسنے اپنے بیٹے کا نام ازہار رکھا تھا صرف اسلیے کیونکہ اسکی محبت کا نام ازہار تھا
"جی نہیں میں اپنی بیٹی کا نام حرا نہیں رکھنے والی اسکا تو میں کوئی پیارا سا نام رکھوں گی"
"جیسے"
"جیسے" وہ سوچنے لگی
"ایمان ازہار درانی"
"اچھا جی ٹھیک ہے تو پھر اب سے آپ ایمان ازہار درانی ہیں"وہ کمبل میں لپٹے اس ننھے وجود کو بتانے لگا جبکہ اسکا انداز دیکھ کر آیت بےاختیار ہسی
°°°°°
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے کمرہ خالی ملا
مناہل کی غیر موجودگی دیکھ کر وہ واپس باہر اسے دیکھنے کے لیے جانے لگا جب وہ اسے بیلکونی میں کھڑی دکھائی دی وہ خود بھی وہیں چلا گیا
"مناہل یہاں کیا کررہی ہو ٹھنڈ ہورہی ہے"
"میں کچھ سوچ رہی تھی سکندر"
"کیا سوچ رہی تھی" سکندر نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا
"میں نے آج تک آپ کا شکریہ ادا نہیں کیا"
"تمہیں میرا شکریہ کس بات کے لیے ادا کرنا تھا مناہل"
"ہر اس چیز کے لیے جو آپ نے میرے لیے کی تھی میں نے آپ کو برا بھلا کہا آپ کی بات نہیں سنی آپ نے پھر بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا میرے ماں باپ کے سامنے ہمیشہ میری عزت رکھی علیحہ کو قبول کیا مجھے عزت بھری زندگی دی" بولتے بولتے اسکی آواز رندھ گئی
"مناہل شکریہ ادا کرنا ہو تو ہمیشہ اللہ کا کرنا چاہیے سچ کہوں تو میں نے بھی تو اپنا ہی فائدہ دیکھا تھا محبت تھیں تم میری میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا تھا اسلیے تمہیں اپنانے کے لیے یہ سب کیا"
"محبت میں بھی ہر کوئی ساتھ نہیں دیتا سکندر اور جہاں تک بات ہے اللہ کا شکر ادا کرنے کی تو یہ کام میں ہر نماز میں کرتی ہوں اور ساری زندگی بھی شکر ادا کرتی رہوں تو بھی ٹھیک سے شکر ادا نہیں کر پاؤں گی کہ خدا نے مجھے آپ جیسا تحفہ دیا"
اسکے کہنے پر سکندر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی آج پہلی بار وہ اس طرح کھلے لفظوں میں اپنے جذبات کا اظہار کررہی تھی وہ کیسے خوش نہیں ہوتا
اسے اپنے قریب کرکے سکندر نے نرمی سے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگالیا
°°°°°
ختم شد