24/04/2025
ہمارے بچوں کےلیے اللہ اور اللہ کے رسول کا نام ہی کافی ہے ۔
========================
کل بروز بدھ سبق پڑھانے اردو کلاس میں گیا ۔ طلبہ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تھے ، سب کا انداز جدا ، زبان مختلف ، مگر چہروں پر ایک ہی روشنی اور ایک ہی نیت یعنی "دین کی محبت" ۔ تعارف کے دوران ایک افریقی طالب علم سے بات چیت ہوئی ، شاید فرانس یا کسی ہمسایہ ملک کا نام لیا کہ وہاں رہتا ہوں ۔ میں نے ازراہِ مذاق پوچھا کہ شادی ہوئی ہے ؟ مسکرا کر کہا : "جی الحمدللہ" ۔ پھر میں نے مزید پوچھا کہ بچے ہیں ؟ کہنے لگا جی ہاں الحمدللہ چار بچے ہیں ، سب سے چھوٹا دو یا تین سال کا ہے ، بڑا آٹھ یا نو سال کا ۔ باتوں باتوں میں میں نے پوچھا کہ بیوی کہاں ہیں ؟ تو کہنے لگا : "میں اپنی بیوی کو بھی ساتھ لایا ہوں ، اور وہ جامعہ بنوریہ شعبہ بنات میں پڑھ رہی ہے" ۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ میں رہائش کی شدید قلت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے چونک کر پوچھا : اور آپ کے بچے ؟ کہنے لگا : ان کو اپنے دادا دادی کے پاس چھوڑ دیے ہیں ، ہمارے ساتھ ان کی ترتیب نہیں بن رہی تھی لیکن دین کے لیے یہ سب برداشت کرکے بچے چھوڑ کر ہم یہاں آگئے ہیں ۔
یہ سن کر ایک لمحے کو مجھے اپنی ساری مشقتیں اور تکلیفیں بے حقیقت لگنے لگیں ۔ کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جو اتنی محبت سے دین کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ آتے ہیں ؟ ہم تو چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چھوٹے چھوٹے جگر گوشوں کو روتا چھوڑ کر بھی مسکراتے ہوئے علم کی طلب میں نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔
اس طالب علم نے مزید بتایا کہ وہ جامعہ ازہر مصر میں الصف الرابع تک کی چار کلاسیں مکمل کر چکا تھا اور اب صرف اردو سیکھنے کے لیے پاکستان آیا ہے اور انتہائی جذباتی انداز میں کہنے لگا کہ یہ سب اس لیے تاکہ جب پاکستان کی تبلیغی جماعتیں ہمارے وطن میں آئیں تو میں ان کا مترجم بن سکوں ، ان کا پیغام اپنی قوم تک پہنچا سکوں ۔ اور میری بیوی بھی اسی نیت سے جامعہ بنوریہ عالمیہ شعبہ بنات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ اللہ اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر سوچنے لگا کہ یہ وہ قربانی ہے جو شاید ہمارے اکثر مقامی طلبہ یا عوام کے تصور سے بھی باہر ہے ۔
میری مادر علمی جامعہ بنوریہ عالمیہ کی فضا ، اس کی بین الاقوامی حیثیت ، اس کا جذبہ خدمت دین یہ سب صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں بلکہ یہ ان دلوں کو جوڑنے کا نام ہے جو ہزاروں میل دور سے صرف ایک مقصد لے کر آتے ہیں : "ہم نے پاکستان جانا ہے ، جامعہ بنوریہ عالمیہ میں پڑھنا اور سیکھنا ہے اور پھر دین کی اِس شمع کو لیکر اپنے ملک اور اپنی قوم میں روشن کرنا ہے"
میری ذاتی کوشش ہوگی کہ ایسے طلبہ کی داستانیں آپ حضرات کے ساتھ وقتاً فوقتاً شئیر کرتا رہوں کیونکہ یہ داستانیں نہ صرف ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں بلکہ ہمارے اپنے ایمان کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی کافی ہیں ۔ ان کے آنسو ، ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص ہمیں بہت کچھ یاد دلاتا ہے اور بہت کچھ سکھاتا ہے ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ آپ نے اپنے گھر میں کیا چھوڑا ہے ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور رسول کا نام کافی ہے ، گھر میں جو کچھ تھا وہ سب میں نے آپ کے سامنے اور اللہ کے سامنے پیش کر دیا ۔ تو اگر ہم اس طالب علم کی کہانی کو ، اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے چند الفاظ میں ترجمہ کریں تو یہی اس کا عنوان بنے گا کہ یا اللہ ! میں نے اپنے چھوٹے چھوٹے جگر گوشے آپ کے نام پر ، دادا اور دادی کے حوالے کر دیے اور میں اور میری بیوی ، ہم نے خود کو آپ کے دین کے لیے قربان کر دیا یعنی ہمارے بچوں کےلیے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی کافی ہے ۔ سبحان اللہ
نوٹ : یہ تحریر میں نے اپنی ذاتی حیثیت اور اپنی چاہت سے لکھی ہے ، اس میں کسی بھی کمی بیشی کا ذمہ دار میں خود ہوں گا ، ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا ❤️
ایڈمن