12/08/2024
آپ نے فٹ بال کے کھلاڑیوں کو ٹی وی سکرین پر میچ کھیلنے اگر غور سے دیکھا ہوگا تو یہ ایک بہت غیر مہذب سی حرکت کرتے ہیں. یہ پیاس میں پانی کی بوتل منگواتے ہیں بھر کر ایک گھونٹ منہ میں لیتے ہیں اور پھر اسے میدان میں تھوک کر بوتل واپس کر دیتے ہیں. ذہن میں سوال آتا ہے بھائی جب پینا ہی نہیں تھا تو تھوکنے کیلئے کیوں منگوایا.؟
لیکن کھلاڑی یہ اُس کیفیت میں کرتے ہیں جب انکا جسم جواب دینے لگتا ہے. یہ میٹھا شربت منگوا کر جب منہ میں لیتے ہیں تو دماغ کو ضروری ڈوپامائن مل جاتے ہیں. دماغ خوش ہو جاتا ہے. لیکن یہی مٹھاس معدے کیلئے وہ بوجھ ہے جو ان کی توانائی مزید نچوڑ لے گا. اس لئے یہ اپنے دماغ کو تو خوش کر دیتے ہیں لیکن معدے پر یہ بوجھ نہیں ڈالتے.
کسی بھی بڑے مقام کیلئے شہرت یہی امتحان ہے. کچھ لوگ اسے تھوک دیتے ہیں اور کچھ اسے تھوک نہیں پاتے. جو تھوک نہیں پاتے انکا نفس اسے اپنی ذات کا ویسے ہی بوجھ بنا لیتا ہے جیسے چربی چڑھا کوئی شخص اپنے ہی وزن سے ہانپ رہا ہوتا ہے. یہی نفس ہے جو پھر چوک چوراہوں پر اپنے بت سجاتا ہے. اور یہی بت پھر وقت گراتا ہے جیسے کل شیخ مجیب کے بت گرائے گئے. صدام اور لینن کے بت گرائے گئے.
انسان دل سے صرف انسانیت کی قدر کرتا ہے. بت چاہے جتنا بھی بڑا ہو اسکا طلسم ٹوٹ ہی جاتا ہے. کسی بھی انسان کا اصل مقام انسانیت میں ہے اسے بت نہیں بنانا چاہئے.
منقول