11/07/2026
جھمپیر (کینجھر ) پروٹیکٹڈ رامسر سائٹ کو قبضہ مافیہ سے بچانا کیوں ضروری ہے؟
کمال پالاری سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب مجھے انڈین کرسر کے لیئے جھمپیر جانا پڑا، نام کی طرح کمال کا آدمی ہے، کچھ دیر میں مجھے گھر کا ہی احساس ہوا، کمال جھمپیر کمیونیٹی ریزرو کے بانی اور پوری کمیوٹی کے ملکر جنگلی جانوروں کو بچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، پر دسیوں بار جھمپیر گیا اس کی وجہ صاف ہے، جھمپیر جنگلی حیوانیات، چرند پرند کی جنت اور بین القوامی طور پر پروٹیکٹڈ سائٹس میں آتا ہے، نبی بخش پالاری گوٹھ میں بچہ بچہ اس ماحول کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان سے دسیوں فوٹوگرافر، ماحولیات پر کام کرنے والے دوست یہاں تک کہ کئی بین القوامی برڈ واچر یہاں کمال پالاری کی مہمان نوازی اور فطرت کا لطف لینے آتے رہتے ہیں۔ شکاریوں کے ساتھ جنگ اپنی جگہ اب اس پروٹیکٹڈ قدرتی سائٹ کو قبضہ مافیہ حملے کا سامنا ہے، گزشتہ دو دن سے قبضہ مافیہ بندوک بردار جعلی کاغزات کے ساتھ بلڈورز لیکر کینجھر کی جنگلی حیات کے مسکن کو بلڈوز کر رہے ہیں، جس کے لیئے آواز اٹھانے کی شدید ضرورت ہے۔ اگر کینجھر جیسے مسکن کو نہ بچایا گیا تو جنگلی حیات کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے، کیوں کے مچی مار بلی سے لیکر جوکر تتلی، انڈین کرسر سمیت بیشمار جنگلی حیات کے لیئے چند آخری مسکنوں میں سے ایک ہے، اس کوخدا نہ کرے نقصان ہوا تو بہت ساری جنگلی حیات کے نسل خطرے سے دوچار ہونگی۔
امید ہے دوست اس پوسٹ کو نہ صرف شیئر کریں گے بلکہ خود بھی اس انتہائی اہم جنگلی مسکن کو بچانے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے۔
شکریہ