04/10/2025
صمود فلوٹیلا! انسانیت کی نئی لہر — مگر اسرائیل کی دیوارِ ظلم اب بھی قائم
*تحریر: ارسلان صدیقی، آن لائن جرنل ازم پاکستان اسپیشل رپورٹ*
کراچی — 4 اکتوبر 2025
دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اور رضاکاروں نے جب “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے نام سے ایک تاریخی قافلہ غزہ کی طرف روانہ کیا، تو مقصد صرف ایک تھا محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانا اور اسرائیل کی غیر انسانی ناکہ بندی کو عالمی ضمیر کے سامنے بے نقاب کرنا۔
لیکن بین الاقوامی پانیوں میں پہنچتے ہی اسرائیلی بحریہ نے اس پر دھاوا بول دیا، اور تقریباً 500 رضاکاروں کو گرفتار کر لیا، جن میں صحافی، وکلا، سیاستدان، ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کے کارکن اور نوجوان رضاکار شامل تھے۔
گرفتاری کیسے ہوئی؟
فلوٹیلا کی کشتیاں ترکی اور یونان کے ساحلوں سے روانہ ہوئیں۔ ان میں 40 سے زائد چھوٹی و درمیانی کشتیوں پر رضاکار موجود تھے۔
بین الاقوامی پانیوں میں پہنچنے پر اسرائیلی نیوی نے انہیں گھیر لیا، اور غزہ کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر سب کو حراست میں لے لیا۔
یہ تمام کارروائی اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قانونِ بحریات کی کھلی خلاف ورزی تھی کیونکہ کشتیوں پر کسی قسم کا اسلحہ یا خطرناک سامان موجود نہیں تھا۔
گرفتار شدگان کون ہیں؟
حراست میں لیے گئے افراد میں مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اسپین کی سابق میئر آڈا کولاؤ، یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن،پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق خان اور متعدد بین الاقوامی صحافی و طبی ماہرین شامل ہیں۔
گرفتار شدگان کو اسرائیل کے بندرگاہی شہر اشدود منتقل کیا گیا، جہاں سے بعض کو نیگیو کے حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔
*عالمی ردِعمل*
دنیا بھر کی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔
ملائیشیا، ترکی، اسپین، آئرلینڈ، ناروے اور جنوبی افریقہ نے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ترکی نے اپنے 137 شہریوں کو خصوصی طیارے کے ذریعے واپس بلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ "یہ کارروائی غیر قانونی ہے اور عالمی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"
پاکستان کا ردِعمل اور نئی پیش رفت
پاکستان میں بھی فلوٹیلا کی حمایت میں آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
سیاسی حلقوں نے اس اقدام کی کھل کر حمایت کی، جبکہ کئی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اسرائیلی کارروائی کو عالمی انسانی ضمیر کے لیے امتحان قرار دیا ہے
اسی تناظر میں، پاکستان سے سینئر صحافی ارسلان صدیقی بانی آرٹ این ایکٹ اور آن لائن جرنل ازم پاکستان صمود فلوٹیلا کی بین الاقوامی انتظامیہ سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وہ عالمی سطح پر صحافی برادری، وکلا، سماجی اور مذہبی رہنماؤں کو ساتھ ملا کر ایک “علامتی احتجاجی فلوٹیلا” تشکیل دینے پر مشاورت کر رہے ہیں جو غزہ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور بین الاقوامی پانیوں میں جا کر پرامن احتجاج کرے گا، جب تک کہ صمود فلوٹیلا کے تمام گرفتار شدگان کو رہا نہیں کیا جاتا۔
ارسلان صدیقی نے کہا:
"ہم کسی سیاسی مہم کا حصہ نہیں، بلکہ ایک انسانی جدوجہد کے داعی ہیں۔ صمود فلوٹیلا کے کارکنان انسانیت کے استعارے ہیں، اور ان کی آزادی عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔"
علامتی فلوٹیلا کا مقصد کیا ہوگا؟
پاکستان سے تجویز کردہ اس نئے قافلے کا مقصد غزہ پہنچنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی و انسانی دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ فلوٹیلا صرف بین الاقوامی پانیوں میں رک کر پرامن دھرنا دے گا اور دنیا بھر کے میڈیا کو پیغام دے گا کہ اسرائیل کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا کی سطح پر ایک نیا بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے۔
فنڈ ریزنگ اور بین الاقوامی تعاون
ذرائع کے مطابق، فلوٹیلا کی تیاری کے لیے ابتدائی طور پر فنڈ ریزنگ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
بحری جہاز، ایندھن، طبی امداد، میڈیا کور، اور قانونی مشاورت کے لیے مختلف تنظیموں، ڈائاسپورا کمیونٹیز، اور سماجی فاؤنڈیشنز سے تعاون مانگا جا رہا ہے۔
یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ فنڈز کا مکمل حساب شفافیت کے ساتھ آن لائن جاری کیا جائے گا۔
ایک عالمی نعرہ
"بحرِ عدل میں اٹھے گی ایک اور لہر انسانیت کے حق میں!"
یہ نعرہ تجویز کیا جا رہا ہے جو نہ صرف فلوٹیلا بلکہ عالمی یکجہتی کے لیے علامت بن سکتا ہے۔
صمود فلوٹیلا نے ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلایا ہے کہ غزہ صرف ایک خطہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا آئینہ ہے۔
اگر دنیا کے شہری خاموش رہے تو تاریخ ایک بار پھر ان سے سوال کرے گی۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی و ابلاغی قوت کو انسانیت کے حق میں استعمال کرے اور فلوٹیلا کی یہ لہر، انصاف کی ایک نئی جہت بن جائے۔