04/06/2026
کراچی۔(04جون2026)
سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس چیئرپرسن محترمہ فریال تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی مجموعی صورتحال، بالخصوص منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں، گٹکا و ماوا کے خاتمے اور عوامی تحفظ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار، وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول مکیش کمار چاؤلہ، وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، قائمہ کمیٹی کے اراکین سہیل انور سیال، قاسم سومرو، سادیہ جاوید اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں سینیٹرز ضمیر گھمرو , سرمد علی اور پونجو بھیل، اراکین قومی اسمبلی نبیل گبول، آغا رفیع اللہ، شرمیلا فاروقی، حکیم بلوچ سمیت دیگر معزز شخصیات بطور خصوصی مدعو شریک ہوئیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، تمام ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران سندھ پولیس، سی ٹی ڈی، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، محکمہ تعلیم اور پولیس ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس پر جامع بریفنگ دیتے ہوئے گرفتاری، برآمدگیوں، مقدمات کی تفصیلات، مجرمانہ ریکارڈ اور پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں متعدد مقدمات درج ہیں جبکہ اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور منشیات کی ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف وفاقی تحقیقاتی اداروں کے تعاون سے کارروائیاں جاری ہیں۔
اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کے درمیان سرحدی راستوں کی نگرانی، اسمگلنگ اور بین الصوبائی منشیات کی ترسیل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گٹکا، ماوا اور دیگر مضر صحت اشیاء کے استعمال اور فروخت کے خلاف جاری مہمات اور تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگراموں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کی جانب سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے کراچی میں تین جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں ایک ایک ری ہیبیلیٹیشن سینٹر فعال ہیں۔ ہر ایک سینٹر میں مجموعی طور پر 405 بیڈز کی سہولت موجود ہے اور منشیات کے عادی افراد کا مکمل طور پر مفت علاج اور بحالی کا عمل جاری ہے۔
اے این ایف حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2013 کے آخری سروے کے مطابق سندھ بھر میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ منشیات استعمال کرنے والے افراد موجود تھے، جس کے پیش نظر بحالی مراکز کی استعداد اور تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔
بریفنگ کے دوران شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں مزید ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ چیئرپرسن قائمہ کمیٹی محترمہ فریال تالپور نے ہدایت کی کہ محکمہ صحت سندھ کے تعاون سے صوبے بھر میں مزید بحالی مراکز قائم کیے جائیں جبکہ سکھر اور حیدرآباد میں موجود مراکز کو مزید فعال، مؤثر اور وسائل سے آراستہ بنایا جائے تاکہ منشیات کے عادی افراد کو علاج اور بحالی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور سیکریٹری تعلیم نے کمیٹی کو تعلیمی اداروں میں منشیات، گٹکا اور دیگر مضر صحت اشیاء کے استعمال کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات، آگاہی مہمات، اساتذہ اور طلبہ کی تربیت، اور اسکولوں و کالجوں میں محفوظ تعلیمی ماحول کے فروغ کے حوالے سے اٹھائے گئے عملی اقدامات سے آگاہ کیا۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی محترمہ فریال تالپور نے عوام کے جان و مال کے تحفظ، منشیات کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اداروں کے درمیان مزید مؤثر رابطہ کاری اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔
صوبائی وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سندھ منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر اور نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے والے نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات کے خاتمے، عوامی تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ محترمہ فریال تالپور نے کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو ایک پیج پر آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک منشیات فروش یا ایک ملزم کی گرفتاری یقیناً اہم کامیابی ہے، تاہم اصل مقصد منشیات کے پورے نیٹ ورک اور سپلائی چین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
فریال تالپور نے کہا کہ اگر منشیات بیرون ملک خصوصاً افریقی ممالک سے پاکستان پہنچ رہی ہیں تو یہاں موجود سہولت کاروں، سرپرستوں اور نیٹ ورکس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی اور کسی بھی بااثر یا غیر بااثر شخص کے ساتھ کوئی رعایت یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ فریال تالپور نے کہا کہ منشیات صرف افراد ہی نہیں بلکہ پوری نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں، لہٰذا اس ناسور کے خلاف اجتماعی اور مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔