16/12/2025
یہ ہیں پاکستان کے نام ور قوال ۔۔ واجد علی اور یاور علی جو مٹکے والے قوال کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ 1960ء کی دہائی سے 1990ء کی دہائی تک متحرک رہے اور ریڈیو پاکستان و پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ مختلف محافل میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے ۔ ان کا انداز روایتی درگاہی قوالی پر مبنی تھا جس میں سر اور سازوں کی بجائے الفاظ اور ان کے معنی پر ہی زور دیا جاتا۔ انھیں مٹکے والے کہنے کی وجہ ان کا قوالی کے دوران مٹکا بجانا بھی شامل تھا ۔
مٹکے والے قوال نے جہاں بے شمار قوالیاں پیش کیں وہاں انھوں نے جنگِ ستمبر کے فوراً بعد ریڈیو پاکستان ٹرانسکرپشن سروس پر اردو کے خاتم الشعراء استاد قمر جلالوی کے تحریر کردہ ملی ترانے بھی ریکارڈ کروائے جن میں پوربی لہجے میں بھارتی فوج کا منظر "اٹھ گوری برتن بھاڑے باندھ, بھاگ چل آگیو پاکستان " اور " اے مجاہد آج دنیا بھر میری تیری دھوم ہے" شامل تھے ۔ ان نغموں کو کولمبیا گراموفون کمپنی نے ونائل گراموفون ریکارڈ پر جاری کیا ۔ 1980ء کی دہائی میں انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے لیے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق نظم "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" بھی پیش کی ۔اس طرح واجد علی یاور علی نے ملّی نغموں گا کر خود کو قومی فنکار کے طور پر بھی منوالیا ۔
( ابصار احمد )