30/07/2017
نواز شریف کے 13 سنگین جرم:
مبصرین کے مطابق نواز شریف کا پہلا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی راہ ہموار کی اور خطہ کے ممالک کے ساتھ مل کر اجتماعی ترقی اور منسلکی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے.
نواز شریف کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کے ساتھ مل کر چین کا گھیراو کرنے کے لیے امریکی مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔
نواز شریف کا تیسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے کی بدولت پاکستان کو خطہ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنا رہاہے ۔
نواز شریف کا چوتھا بڑا جرم یہ ہے کہ جون 2013میںڈیفالٹ ہونے والے پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
نواز شریف کا پانچواں بڑاجرم یہ ہے کہ اس نے چھیاسٹھ سالوں میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری سے زیادہ سرمایہ کاری ان چار سالوں میں لائی ہے جس کے باعث پاکستان آئندہ پانچ سے سات سالوں میں تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہو گا ۔
نواز شریف کاچھٹا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس اور چین کی قیادت میں بننے والے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے 80 سے زاہد ممالک کے اتحاد میں پاکستان کو شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے ۔
نواز شریف کا ساتواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی ہے ۔
نواز شریف کا آٹھواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے افغانستان سے نکلنے کے لیے امریکہ کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد نہیں کی ہے ۔
نواز شریف کا نواں جرم یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔
نواز شریف کا دسواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے ایک بڑی اسلامی ملک کو پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج دینے سے انکار کر دیا۔
نواز شریف کا گیارواں جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی پالیسیوں کے برعکس فیڈریشن کو مضبوط کیا اور سی پیک کے زریعے چاروں صوبوں کو ایک مضبوط زنجیر میں باندھ دیا ہے ۔
نواز شریف کا بارواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ کی قوم پرست قیادت کو ساتھ لیکر چلنے کی پالیسی اختیار کی جس سے ان صوبوں میں علحدگی کی تحریکیں کمزور ہوئی ہیں
نواز شریف کا تیرواں بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے امریکہ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برعکس بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کو پر امن بنیادوں پر حل کرنے کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔
ہر چند کے نواز شریف کے جرائم کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جن کے باعث مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ، ان مبصرین کا یہ موقف ہے کہ فوج سیمت تمام دوسرے اداروں کی یہ تاریخی زمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف ہونے والی سازش کو ناکام بنانے کے لیے فیصلہ کن کر دار ادا کریں،اس کے برعکس اگر یہ سازش کامیاب ہوتی ہے تو یہ حکومت کی نہیں ریاست کی ناکامی ہو گی جس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہو گی۔ اسی حوالے سے دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے ، نواز شریف کو یہ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے ،وہ اس سازش میں شامل تمام کر داروں کے بے نقاب ہونے تک کوئی جوابی حملہ نہیں کریں گے ،جب تمام سازشی کر دار بے نقاب ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ یہ کیس پہلے عوام کی عدالت میں لے جائیں گے، پھر دوسرے محاذوں پر لڑیں گے ،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ملک کو سازشیوں کے حوالے کر کے چلاجائے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہو گی۔