04/06/2026
کراچی، 3 جون 2026
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) میں گریڈ 19 کی حساس ترین سینئر ڈائریکٹر پے رول پوسٹ پر گریڈ 17 کے ایک ٹیکنیکل افسر کی تعیناتی نے سروس رولز، میرٹ اور ادارہ جاتی شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق انور سعید اپنی بنیادی پوسٹ Programme Officer (BPS-17) پر تعینات ہیں اور
اسی گریڈ کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ مزید برآں ان کا تعلق محکمہ فنانس کے کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ سے ہے، جبکہ ان کا تعلق نہ تو محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (Payroll) سے ہے اور نہ ہی پے رول کے انتظامی کیڈر سے۔
اس کے باوجود HRM کے جاری کردہ حکم نامے کے تحت انہیں "اسٹاپ گیپ" اور "لُک آفٹر چارج" کے نام پر سینئر ڈائریکٹر/ڈائریکٹر پے رول کے فرائض سونپ دیے گئے ہیں، جو ایک انتہائی حساس انتظامی اور مالیاتی عہدہ تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پے رول کا شعبہ ہزاروں ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، سروس ریکارڈ، پے فکسیشن، مالیاتی کنٹرول اور دیگر اہم معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے، لہٰذا اس عہدے پر تعیناتی کے لیے متعلقہ تجربہ، اہلیت اور قواعد کی پابندی ناگزیر ہے۔
قانونی حلقوں نے اس تعیناتی پر کئی بنیادی سوالات اٹھائے ہیں:
ایک Programme Officer (BPS-17) کو گریڈ 19 کی پوسٹ کا چارج کیوں دیا گیا؟
انور سعید کا تعلق محکمہ فنانس کے کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ سے ہے، تو انہیں پے رول انتظامیہ کی سربراہی کیوں سونپی گئی؟
کیا KMC میں گریڈ 18 اور 19 کے اہل افسران موجود نہیں تھے؟
کیا اس تعیناتی میں سروس رولز، سینیارٹی اور میرٹ کو مدنظر رکھا گیا؟
"اسٹاپ گیپ" انتظام کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیصلے 2015 SCMR 456 (Ali Azhar Khan Baloch vs Province of Sindh) میں واضح طور پر قرار دیا تھا کہ اسٹاپ گیپ، کرنٹ چارج اور لُک آفٹر انتظامات کو مستقل انتظام کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی غیر متعلقہ یا نان کیڈر افسران کو طویل عرصے تک اعلیٰ عہدوں پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
شہری حلقوں اور سرکاری ملازمین کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ KMC انتظامیہ اس تعیناتی کی قانونی اور انتظامی حیثیت عوام کے سامنے واضح کرے، متعلقہ قواعد و ضوابط جاری کرے اور میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔
جاری کردہ برائے عوامی آگاہی
کراچی
03 جون 2026