24/08/2022
ان دو کتابوں کا سرورق پڑھ کے ایک عاقل اور بالغ انسان آسانی سے ھماری پستی اور ان کی ترقی کا راز جان سکتا ہے۔ سائینس ڈائیریکٹ نامی سائینسی تعلیمی تحقیقی ادارے کی مطابق
" پاکستان نے تعلیم کو چھوڑ دیا ہے، جو کہ ایک قوم کی ترقی اور کامیابی کے لئیے ایک حیاتیاتی عنصر ہے۔اس غفلت کی وجہ سے پاکستان شرح خواندگی کے اعتبار سے 120 ممالک میں سے 113 واں ملک ہے"۔
ویب سائیٹ مزید لکھتا ہے " معاشی اور شرمناک معاشرتی صورتحال کی وجہ سے تعلیمی پستی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لیکن ابھی پاکستان میں اس صورتحال کو سمجھنے، یا سدھارنے کے لئیے کوئی ارادہ بھی موجود نہیں ہے۔
ویب سائٹ کے بقول کراچی اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں شرح خواندگی75% ہے مگر قبائیلی اضلاع میں جہاں اعلے سائنسی تعلیم کو حرام قرار دیا جاتا ہے وہاں شرح خواندگی صرف 9٪ ہے۔
یونیسیف تو ملک میں تعلیمی صورتحال کو اس سے بھی کافی خراب بتاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے حساب سے 50% لیٹریسی ریٹ کے ساتھ 160 ویں نمبر پر آتا ہے۔
یونیسیف کے اندازے کے مطابق ملک میں پانچ اور سولہ سال کے درمیانی عمر کے تقریبا ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔ تعلیم کی اس پستی کا بڑا متاثرہ حصہ خواتین ہیں۔ اکیسویں صدی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود یہاں کی تہذیب روایات اور مذھب بچیوں کی تعلیم کو شرم مانتی ہے۔
اور ہماری میڈیا پر تذکرہ ہے شھباز گل کی گرفتاری اور ریمانڈ کا۔
مجھے غصہ ان اداروں پر آتا ہے جو ہمیں ہماری تعلیمی پسماندگی کے بارے میں بتاتی ہے۔ یہ کیوں ہمیں نہیں چھوڑتے؟ ہمیں تعلیم نہیں پسند۔ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ کیوں پیچھے پڑ گئیے ہو؟
رند خراب حال کو زاھد نہ چھیڑ تو۔
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تی۔