13/08/2021
آنکھ کو آنکھیں ترس گئیں
اس کا نام عمر عزیز ہے ۔ وہ ڈسکو بیکری کے چوک پر گاڑی صاف کرنے والے کپڑے بیچتا ہے ۔ کتنے بیچ لیتا ہوگا ۔ پھر بھی بیچتا ہے ۔
2020 کا ستمبر تھا کہ ستمگر ۔ آنکھ میں کچھ لگا ۔ تو اسے مسلنے کا پورا لطف لے لیا ۔ وہ کنکر تھا یا کوئی پھانس تھی ۔ جو بھی تھا مگر آنکھ کی رسائی میں رکاوٹ ڈال گئی ۔ اور آج وہاں اندھیرے کا راج مکمل ہو چکا ہے ۔
اکتوبر 2020 میں بہت نامی گرامی ڈاکٹروں کو دکھایا ۔ آپریشن ہوگا ۔ آنکھ بدلے گی ۔ 2 لاکھ ہم لیں گے اور 1 لاکھ کی سری لنکا سے آنکھ آئے گی ۔ یہ فیصلے سب نے ایسے لکھے جیسے بنیئے اپنے ٹھیئے پر بیٹھے ہوں ۔
ہمارے دل و دماغ کی کھڑکیاں ایک ساتھ کھلنے کیلئے ایک پیج پہ آ گئیں "بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں"
فون اٹھایا اور میسج کر دیا کہ "شام صاحب یہاں رات ہو گئی ہے" جواب آیا "اس ہسپٹل جائیں ۔ سب مفت ہو جائے گا ۔
ہم نے بکنگ تو آنکھ کی کی تھی مگر سفر کورونا نے شروع کر دیا ۔ یوں آنکھ کا سری لنکا سے آنا ممکن نہیں رہا ۔ آج گاڑی چلا رہا تھا۔ محترم شام صاحب کا فون آیا ۔ آپ نے خوشخبری دی کہ"اسی آزادی کے مہینے میں آنکھ سفری بندش سے آزاد ہو کر پوری 4 آنکھوں کی جھرمٹ میں آ رہی ہے ۔ تیاری کر لیں" ۔ ۔ ۔ گاڑی کو فورا ڈسکو بیکری کی راہ پر ڈال دیا ۔ ۔ ۔ وووووہ سامنے عمر عزیز کھڑے ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح مجھے دیکھ کر دوڑے آتے ہیں ۔ آنکھ کا پوچھتے ہیں۔ آج اسے تیاری کا کہہ دیا ۔ آنکھ اس کو لگے گی اور دیدے مشعل مشعل میرے ہو رہے ہیں ۔ والسلام
ہدایت اللہ سدوخانی
امام و خطیب جامع مسجد صدیق اکبر
گلشن اقبال کراچی
0333 3633363