Jamia Usmania Sher Sha

Jamia Usmania Sher Sha جامعہ عثمانیہ شیرشاہ دینی و دنیاوی علوم کا معیاری ادارہ. 1980 سے ترویج و اشاعت میں مصروف عمل

12/06/2026

دعا میں آداب کی رعایت کا بیان
اور حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت
**دعا عبادت کا مغز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء دعا کی قبولیت کا اہم ذریعہ ہے۔**

اس مختصر مگر نہایت اہم بیان میں **مفتی ابو عمار عبد المالک صاحب** قرآن و سنت کی روشنی میں یہ وضاحت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دعا کے آداب کے بارے میں کیا تعلیمات عطا فرمائی ہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہوں اور قبولیت کے زیادہ قریب ہوں، تو یہ بیان ضرور مکمل ملاحظہ فرمائیں۔

📖 **اس ویڈیو میں آپ جانیں گے:**
✔ دعا کے مسنون آداب
✔ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی
✔ دعا کی قبولیت کے اہم اسباب

🤝 اگر یہ بیان آپ کے لیے مفید ثابت ہو تو:
👍 ویڈیو کو لائک کریں۔
💬 اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں۔
📤 اسے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس علمِ دین سے فائدہ اٹھا سکیں۔
🔔 مزید مستند اسلامی بیانات کے لیے **M***i Abu Ammar Abdul Malik** چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن ضرور دبائیں۔

**جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء**

***iAbuAmmarAbdulMalik #دعاکےآداب #دعائیں #حمدوثناء #دعا #اسلامیبیان #اسلامیمعلومات #قبولیتدعا #اسلام #قرآنوسنت

بسم اللہ والحمدللہ. *معارف السنن میں ہے کہ وضو کے متعلق قوی روایات سے جو دعائیں ثابت ہیں وہ چار ہیں*  *تحریر: مفتی ابو ع...
11/06/2026

بسم اللہ والحمدللہ.
*معارف السنن میں ہے کہ وضو کے متعلق قوی روایات سے جو دعائیں ثابت ہیں وہ چار ہیں*
*تحریر: مفتی ابو عمار عبدالمالک*
نائب رئیس وصدر المدرسین
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
وضو کے شروع کی دعا: بِسْمِ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ اور ایک وضو کے درمیان کی اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي اور دو دعائیں وضو کے بعد کی ہیں۔
*پہلی دعا:*
بِسْمِ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ یہ ابتداء وضو کی دعا ہے
اس کا معنی ہے کہ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
*دوسری دعا:*
جو وضو کے درمیان کی ہے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي۔
*ترجمہ:* اے اللہ میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے گھر کے اندر وسعت عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
*تیسری دعا:*
يه وضو کے بعد کی دعا ہے
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ترجمه اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں
*اس دعا کی خصوصی فضیلت*
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وہ اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا پڑھے تو آپ ﷺ نے فرمایا إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے اس میں داخل ہو جائے۔
*چوتھی دعا:*
یہ وضو کے بعد کی دوسرى دعا ہے
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ، أَسْتَغْفِرُكَ اللَّهُمَّ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ:"اے اللہ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ و رجوع کرتا ہوں۔"
*اس دُعا کے پڑھنے کے مواقع اور فضائل*
فقہاء و محدثین نے کو اختتام مجلس، اسی طرح وضو سے فراغت پر، اور تلاوت قرآنِ کریم تکمیل پر بلکہ ہر عبادت کی تکمیل پر اس دعا کے پڑھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
*کفارہ مجلس:* اگر آپ کسی ایسی محفل میں بیٹھے جہاں فضول باتیں یا لغویات ہوئیں، تو اٹھتے وقت یہ دعا پڑھنے سے اس مجلس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور یہ دعا اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔
*مہرِ ذکر:* اگر آپ اسے کسی اچھی، ذکر و خیر کی مجلس میں پڑھتے ہیں، تو یہ ان نیکیوں پر ایسی مہر کی طرح لگ جاتی ہے جو قیامت تک توڑی نہیں جائے گی۔
اس دعا میں دو باتیں ہیں ایک یہ کہ عبادت کی توفیق اللہ تعالی کی طرف سے ہے اس پر ہم اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور جو کمی کوتاہی ہوئی ہے وہ ہماری طرف سے ہے لہذا ہم اس پر اللہ تعالی سے توبہ کرتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سنتوں اور دعاؤں کو ہماری عملی زندگی کا حصہ بنا دیں۔
*قارئین کو ان تحریروں سے جس قدر بھی فائدہ ہو تو وہ مجھے، میرے والدین اور میرے اساتذہ کرام کو خصوصی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔*

10/06/2026

وضو کی چار مسنون دعائیں | سنت کے مطابق وضو مکمل کریں

وضو صرف ظاہری پاکیزگی ہی نہیں بلکہ روحانی طہارت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ اس ویڈیو میں وضو کے دوران پڑھی جانے والی چار مسنون دعاؤں کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر مسلمان انہیں سیکھ کر اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر سکے۔ ویڈیو کو مکمل دیکھیں، اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ سنتِ نبوی ﷺ عام ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

📌 مزید اسلامی رہنمائی، فقہی مسائل، مسنون دعاؤں اور اصلاحی بیانات کے لیے ہمارے چینل *M***i Abu Ammar Abdul Malik* کو ضرور سبسکرائب کریں اور نوٹیفکیشن بیل آن کر دیں۔

***iAbuAmmarAbdulMalik #وضو

*طہارت اور دعا میں آداب کی رعایت اور حد سے تجاوز کی ممانعت: ایک علمی و اصلاحی جائزہ* تحریر: مفتی ابو عمار عبدالمالک(نائب...
08/06/2026

*طہارت اور دعا میں آداب کی رعایت اور حد سے تجاوز کی ممانعت: ایک علمی و اصلاحی جائزہ*
تحریر: مفتی ابو عمار عبدالمالک
(نائب رئیس وصدر المدرسین جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی)
دینِ اسلام ایک معتدل، جامع اور فطری دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی اور حدود کے اندر رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ طہارت (پاکیزگی) جہاں ایمان کا حصہ ہے، وہاں دعا مومن کا اصل ہتھیار اور بندگی کا عروج ہے۔ لیکن اگر ان دونوں اہم ترین عبادتوں میں بھی شرعی حدود کو پامال کیا جائے یا من مانی روش اختیار کی جائے، تو یہ چیز اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔
زیرِ نظر تحریر میں سنن ابی داؤد کی ایک جلیل القدر حدیثِ مبارک کی روشنی میں طہارت اور دعا میں اعتدال کی اہمیت، اور حد سے تجاوز کرنے (اعتداء) کے نقصانات کا علمی و تربیتی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
*حدیثِ مبارک، ترجمہ اور پسِ منظر*
حدیبیہ کے بیعتِ رضوان میں شامل مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروان کے دور میں یہ واقعہ مروی ہے:
عربی متن
أنَّ عبدَ اللَّهِ بنَ مُغفَّلٍ، سمعَ ابنَهُ يقولُ: اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ القَصرَ الأبيضَ، عن يمينِ الجنَّةِ إذا دخلتُها، فقالَ: أي بُنَيَّ، سلِ اللَّهَ الجنَّةَ، وتَعَوَّذْ بِهِ منَ النَّارِ، فإنِّي سَمِعْتُ رسولَ اللَّهِ ﷺ يقولُ: إنَّهُ سيَكونُ في هذِهِ الأمَّةِ قومٌ يَعتدونَ في الطَّهورِ والدُّعاءِ. (سنن أبي داؤد، حديث 96)
*اردو ترجمہ*
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو (دعا مانگتے ہوئے) سنا، وہ کہہ رہا تھا: "اے اللہ! میں تجھ سے سفید محل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کی دائیں جانب ہو جب میں اس میں داخل ہوں۔"
اس پر حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے میرے پیارے بیٹے! اللہ سے جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: 'عنقریب اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز (اعتداء) کریں گے۔'"
*حدیثِ مبارک کی تشریح اور فقہی و تربیتی فوائد*
اس حدیثِ مبارک میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیوں میں سے ایک اہم پیش گوئی کا ذکر ہے، جس کا مشاہدہ آج کے دور میں واضح طور پر ہو رہا ہے۔ صحابیِ رسول کا اپنے بیٹے کو ٹوکنا ہمیں چند اہم علمی اور تربیتی اسباق سکھاتا ہے:
*1۔ اولاد کی تربیت اور فہمِ دین کی اصلاح*
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کی دعا سن کر خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ فوراً شریعت کے مزاج کے مطابق اس کی اصلاح فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی مادی ضرورتیں پوری کرنا نہیں، بلکہ ان کے عقائد، نظریات اور عبادت کے طریقوں پر بھی نظر رکھنا ہے۔
*2۔ دعا کا نبوی اسلوب: جامعیت اور سادگی*
بیٹے کی دعا میں بناوٹ، تکلف اور غیر ضروری تفصیل تھی (جیسے سفید محل، دائیں جانب وغیرہ)۔ صحابیِ رسول ﷺ نے اسے آسان اور جامع ترین اسلوب سکھایا: "اللہ سے جنت مانگو اور جہنم سے پناہ چاہو۔" اگر جنت مل گئی، تو اس کے تمام محلات اور نعمتیں خود بخود مل جائیں گی، اس لیے دعا میں لفاظی اور تفصیلات کے پیچھے پڑنا پسندیدہ نہیں ہے۔
3- *حد سے تجاوز (اعتداء) کی مختلف صورتیں*
حدیث میں لفظ "يَعتدونَ" استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں "حد سے نکل جانا" یا "تجاوز کرنا"۔ طہارت اور دعا میں اس کی مختلف صورتیں درج ذیل ہیں:
*الف: طہارت (پاکیزگی) میں حد سے تجاوز*
طہارت میں اعتداء کی سب سے بڑی صورت "وسوسہ اور وہم" ہے۔ شرعی احکام کو چھوڑ کر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانا طہارت میں تجاوز کہلاتا ہے، جیسے: پانی کا بے جا اسراف: وضو اور غسل میں ضرورت سے زیادہ پانی بہانا۔ نبی کریم ﷺ نے دریا کے کنارے بیٹھ کر بھی پانی ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ- مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: مَا هَذَا السَّرَفُ؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ۔ کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ وضو کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "یہ اسراف کیسا ہے؟" حضرت سعد نے عرض کیا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اگرچہ تم کسی بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔"
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 425)
*اعضاء کو تین بار سے زائد دھونا*
وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونا سنت ہے۔ اس یقین کے ساتھ چوتھی یا پانچویں بار دھونا کہ اس کے بغیر وضو نہیں ہوگا، اعتداء اور بدعت ہے۔
*شک و شبہ کا شکار رہنا*
بار بار وضو ٹوٹنے کا وہم پالنا، یا کپڑوں کے پاک ہونے کے باوجود انہیں ناپاک سمجھ کر بار بار دھونا۔ یہ شیطان کا پھیلاایا ہوا جال ہے، جسے احادیث میں "وَلَهَان" (وضو میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان) کہا گیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".
*وضو اور غسل کے لیے پانی کی مناسبت مقدار*
اس کے متعلق فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کی تفصیل خود نبی کریم ﷺ کے عمل سے معلوم ہوتی ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ". کہ رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل کیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کیا کرتے تھے۔ سنن أبي داؤد حديث 93
اس حدیث میں جو مقدار بیان کی گئی ہے وہ تقریبی مقدار ہے۔ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ انسان جس قدر پانی کم سے کم استعمال کر سکتا ہے کرے۔ اسراف اور وسائل کو غلط استعمال کرنے سے بچے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے۔ کیونکہ یہ وسائل قومی اثاثہ ہیں انہیں اپنے لئے اور اپنی قوم کے لیے ضائع ہونے سے بچائیں۔
*ہماری مساجد میں پانی کے استعمال میں بے احتیاطی*
ہمارے ہاں خصوصاً مساجد میں بہت زیادہ بے احتیاطی سے پانی استعمال کیا جاتا ہے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اگر آپ نیچے کوئی ٹپ رکھ دیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم نے ایک صاع نہیں بلکہ ایک من پانی وضو کرنے پہ خرچ کر دیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالی ہمیں ہماری عبادات اپنی مرضیات اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

*ب: دعا میں حد سے تجاوز*
دعا اللہ سے مانگنے کا نام ہے، لیکن اس کے بھی آداب ہیں۔ دعا میں حد سے تجاوز کی صورتیں یہ ہیں:
*غیر شرعی اور ناممکن چیزوں کا سوال کرنا*
ایسی چیز مانگنا جو سنتِ الٰہیہ اور کائنات کے اصولوں کے خلاف ہو (مثلاً یہ دعا کرنا کہ "اے اللہ مجھے نبی بنا دے" یا "مجھے ہمیشہ کی زندگی دیدے کہ کبھی موت نہ آئے")۔
تفصیلات میں حد سے بڑھنا: جیسا کہ صحابی کے بیٹے نے کیا کہ محل کا رنگ اور اس کی سمت بھی متعین کرنے لگا۔
*گناہ یا قطع رحمی کی دعا*
کسی کا حق مارنے، گناہ کرنے یا رشتہ داروں سے تعلقات توڑنے کی دعا کرنا شدید گناہ اور اعتداء ہے۔
*بے ادبی اور چلا کر دعا مانگنا*
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اُدۡعُوۡا رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ‌، تم اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو۔ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف: آیت 55). اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اس سے صراحتاً منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: أَيُّها النَّاسُ، ارْبَعُوا على أَنْفُسِكُمْ؛ فإنَّكم لا تَدْعُونَ أَصَمَّ ولا غَائباً، إنَّكم تَدْعُونَ سَمِيعاً قَرِيباً وَهْوَ مَعَكُمْ». صحیح البخاری حدیث 2992 ”اے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے۔“ لہٰذا، چیخ چیخ کر یا بناوٹی قافیہ بندی (سجع) کے ساتھ حد سے زیادہ لفاظی کرنا بھی ممنوع ہے۔
*موجودہ دور میں اس حدیث کی عملی تطبیقات*
آج کے سائنسی اور مادی دور میں اس حدیث کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے:
*پانی کی قلت کا عالمی بحران*
دنیا بھر میں پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ وضو اور غسل میں اسراف کر کے ہم نہ صرف گناہ گار ہو رہے ہیں بلکہ قومی و عالمی سطح پر پانی کے بحران میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مساجد میں نلکے کھلے چھوڑ دینا طہارت میں اعتداء کی بدترین شکل ہے۔
*نفسیاتی بیماریاں (OCD):*
طہارت میں وسوسے کا شکار لوگ دراصل ایک نفسیاتی بیماری"Obsessive-Compulsive Disorder" کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شریعت پر عمل کرنے کے بجائے اپنے وہم کے پیچھے چلنے سے انسان دین سے بیزار ہو جاتا ہے۔
*سوشل میڈیا اور بناوٹی دعائیں*
آج کل دعاؤں کو بھی ایک نمائش بنا دیا گیا ہے۔ اسٹیجز پر، ویڈیوز میں یا تحریروں میں ایسی لفاظی اور مقفیٰ و مسجع جملے بولے جاتے ہیں جن میں خشوع و خضوع کے بجائے بناوٹ زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سب دعا میں اعتداء کی جدید صورتیں ہیں۔
*طہارت اور دعا میں اعتدال کی اہمیت*
اسلام ہمیں "خیر الامور اوسطہا" (بہترین کام وہ ہے جس میں میانہ روی ہو) کا درس دیتا ہے۔
طہارت میں اعتدال یہ ہے کہ انسان سنتِ نبوی کے مطابق اعضاء کو اچھی طرح دھوئے، پانی کا اسراف نہ کرے اور وضو مکمل ہونے کے بعد ابھرنے والے شیطانی شکوک کو جھٹک دے۔
دعا میں اعتدال یہ ہے کہ انسان عاجزی، انکساری اور دھیمی گداز آواز میں، مسنون اور جامع دعاؤں (جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً...) کا انتخاب کرے اور قبولیت کے لیے جلد بازی نہ کرے۔
باقی رہا نبی کریم ﷺ کی بعض دعاؤں کا مسجع ہونا، جیسے حدیث میں ہے لَا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، اس اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔
تو یہ بات خوب سمجھ لیں کہ نبی کریم ﷺ کے کلام میں سجع کا پایا جانا بالقصد نہیں تھا بلکہ کمال فصاحت و بلاغت جو آپ ﷺ کو فطری طور پر عطا ہوئی تھی اس کے سبب سے مسجع الفاظ اور عبارتیں بلا تکلف زبان مبارک پر آجاتی تھی، ممانعت کا تعلق تصنع اور تکلف سے ہے بلا قصد اور بلا ارادہ سے اس ممانعت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
*اختتامی کلمات*
اے اللہ! ہمیں دین کی صحیح سمجھ (فقہ فی الدین) عطا فرما۔ ہماری عبادتوں، طہارتوں اور دعاؤں کو ریا کاری، بناوٹ اور حد سے تجاوز کرنے کی آفتوں سے محفوظ فرما۔ ہمیں ظاہر و باطن کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ دعا کا وہ مخلصانہ اور عاجزانہ اسلوب نصیب فرما جو تیرے محبوب ﷺ کا طریقہ تھا۔ اور ہمیں تمام تر آداب کی رعایت رکھتے ہوئے دعا مانگنے کی توفیق عطا فرما۔
22 ذو الحجہ 1447ھجری
مطابق 08 جون 2026 بروز پیر

📖 اسلامی رہنمائی اور مستند احادیث کے علم کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔مفتی ابو عمار عبدالمالک صاحب کی بیان کردہ احادیث، فق...
06/06/2026

📖 اسلامی رہنمائی اور مستند احادیث کے علم کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔
مفتی ابو عمار عبدالمالک صاحب کی بیان کردہ احادیث، فقہی مسائل اور اسلامی تعلیمات پر مبنی مختصر اور مفید معلومات روزانہ حاصل کریں۔

7 *حضرت عثمان عشرہ مبشرہ میں سے ہیں*
عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ أَبُو بَكْرٍ فِي الجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الجَنَّةِ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ فِي الجَنَّةِ.
سنن الترمذي حدیث 3748
*ترجمہ:* حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور ابوعبیدہ جنتی ہیں۔

مزید اسلامی معلومات کے لیے پیج کو Follow، Like اور Share کریں۔

***iAbuAmmarAbdulMalik

03/06/2026

امام کی مکمل پیروی لازم ہے | نماز میں امام سے آگے بڑھنے کی سخت ممانعت

: نماز میں امام کی اقتدا ایک بنیادی اصول ہے جس کا ہر مقتدی پر اہتمام کرنا ضروری ہے، اس ویڈیو میں اسی بات کو واضح کیا گیا ہے کہ نمازی کو ہر حالت میں امام کی پیروی کرنی چاہیے اور کسی بھی صورت میں امام سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے، کیونکہ اس سے نماز فاسد ہوتی ہے اور شریعت نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز میں سکون، توجہ اور مکمل پیروی کے ساتھ عبادت ادا کرے تاکہ نماز کا مقصد اور اس کی روح صحیح طور پر حاصل ہو سکے، یہ مختصر مگر اہم رہنمائی ہر نمازی کے لیے ضروری بھی ہے اور فائدہ مند بھی

#نماز #امام #نمازکےاحکام

آج 18 ذوالحجہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے تو اسی حوالے سے ان کے فضائل و مناقب پر مشتمل ایک سلسلہ شروع ک...
03/06/2026

آج 18 ذوالحجہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے تو اسی حوالے سے ان کے فضائل و مناقب پر مشتمل ایک سلسلہ شروع کیا ہےـ اللہ تبارک و تعالی ہمارے دلوں اصحاب رسول اللہ ﷺ اور اہل بیت رسول اللہ ﷺ کی محبت سے کو مزینہ اور منور فرمائیں۔ اور اللہ تبارک و تعالی ان حضرات کی سیرت اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔
اصحاب رسول ﷺ اور اہل بیت رسول ﷺ معیار حق ہیں اور ان کی اتباع اور ان کی سیرت کی پیروی دنیا و آخرت کی کامیابی اور کامرانی کا باعث ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی صفت حیاء اور صفت سخا کو اپنائیں۔
# #سخاوت ***iAboAmmarAbdulMalik

03/06/2026

اصلاحِ نیت | نیت کے بارے میں 3 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
نیت ہر عمل کی بنیاد ہے۔ اگر نیت درست ہو تو معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر کا سبب بن سکتا ہے، اور اگر نیت خراب ہو تو بڑا عمل بھی بے وقعت ہو سکتا ہے۔
#نیت ***iAboAmmarAbdulMalik

01/06/2026

تصحیح نیت کی اہمیت اور اس سے متعلق ضروری مسائل

Address

Jamia Usmania Sher Sha
Karachi

Telephone

+923482323285

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Usmania Sher Sha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamia Usmania Sher Sha:

Share