08/05/2026
تپتے ہوئے صحرا کے عین درمیان، حُمیثرہ (Humaythra) مصر کی وہ خاموش خاک آج بھی کسی مقدّس خواب کی تعبیر محسوس ہوتی ہے۔ جہاں امام ابو الحسن شاذلی علیہ الرحمہ نے اپنے ظاہری سفرِ حیات کی آخری سانس لی، وہاں کی فضاؤں میں اب تک ایک ان دیکھی روحانی مہک بسی ہوئی ہے۔ یہ صرف ریت کا ایک ویرانہ نہیں، بلکہ معرفتِ الٰہی کا وہ آستانہ ہے جہاں پہنچ کر انسان اپنے وجود کو بھول جاتا ہے اور دل صرف ربِّ حقیقی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
وہ سنسان صحرا، جہاں نہ ظاہری رونق تھی نہ دنیاوی آبادی، آج عشقِ الٰہی کے متلاشی دلوں کے لیے ایک زندہ روحانی چراغ بن چکا ہے۔ وہاں کی خاموشی بھی ذکر معلوم ہوتی ہے، اور وہاں کی ہوائیں بھی گویا اہلِ دل کو کسی اَن کہی حقیقت کی خبر دیتی ہیں۔
امام شاذلیؒ نے اپنے آخری سفرِ حج سے پہلے فرمایا تھا:
فِي حُمَيْثَرَةَ سَوْفَ تَرَى
“تم حُمَیثرہ میں وہ کچھ دیکھو گے جو ابھی تمہارے گمان میں بھی نہیں۔”
یہ محض الفاظ نہ تھے، بلکہ ایک ولیِ کامل کی روحانی بصیرت تھی۔ آپ نے اپنی وفات سے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میرا وصال حُمَیثرہ میں ہوگا، حالانکہ اُس وقت وہ ایک خاموش اور بے آباد صحرا تھا۔ مگر آج وہی مقام لاکھوں عاشقانِ حق کے لیے سکون، محبت، نسبت اور روحانیت کا عظیم استعارہ بن چکا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حُمَیثرہ کی ریت میں آج بھی اُن قدموں کی تاثیر باقی ہے، اور وہاں کا ہر ذرّہ اہلِ محبت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ والوں کے اجسام مٹی میں جاتے ہیں، مگر اُن کی نسبتیں زمانوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔