Fazal waris khattak

Fazal waris khattak This page is used for social media, entertainment and for political purposes.

05/05/2026

کولمبیا یونیورسٹی کا ایک طالبعلم ریاضی کی کلاس میں سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو طلباء کی آوازیں آ رہی تھیں کہ لیکچر ختم ہو چکا تھا۔

اس نے دیکھا کہ پروفیسر نے تختہِ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا کہ یہ یقیناً ہوم ورک کے سوالات ہوں گے۔ اس نے جلدی سے دونوں سوال اپنی کاپی میں نقل کر لیے تاکہ گھر جا کر حل کرے۔

جب اس نے ان پر کام شروع کیا تو پایا کہ یہ سوالات انتہائی مشکل ہیں مگر وہ ہمت نہ ہارا۔ لائبریری گیا، کتابیں کھنگالیں، حوالہ جات دیکھے، اور مسلسل کوشش کرتا رہا، یہاں تک کہ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک سوال حل کر لیا۔

اگلی کلاس میں، اس نے حیرت سے دیکھا کہ پروفیسر نے پچھلے لیکچر کے ہوم ورک کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی!
اس نے پوچھا: "سر! آپ نے پچھلی کلاس کا ہوم ورک چیک ہی نہیں کیا جو آپ نے آخر میں بورڈ پر لکھا تھا؟"

پروفیسر نے حیرت سے کہا: "ہوم ورک؟ وہ ہوم ورک نہیں تھا۔ میں نے تو صرف چند ایسی مثالیں دی تھیں جنہیں ابھی تک دنیا کے بڑے بڑے ریاضی دان بھی حل نہیں کر سکے!"

طالبعلم حیرت سے بولا:
"لیکن میں نے ان میں سے ایک سوال چار صفحات میں حل کر لیا ہے!"

بعد میں اس سوال کا حل کولمبیا یونیورسٹی میں باقاعدہ رجسٹر کیا گیا اور آج تک وہ حل اس طالبعلم کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وہ چار صفحات آج بھی یونیورسٹی میں محفوظ ہیں۔

یہ طالبعلم بعد میں ریاضی کے عظیم ماہر بنے: "جارج دانتزِگ (George Dantzig)"

انہوں نے صرف اس لیے یہ مسئلہ حل کر لیا، کیونکہ انہوں نے یہ نہیں سُنا تھا کہ:
"یہ سوالات آج تک کوئی حل نہیں کر سکا!"

انہوں نے خود کو یہ یقین دلا دیا کہ ان کا حل ممکن ہے۔
اور جب مایوسی کے بغیر کوشش کی…
تو وہ انہیں حل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

کبھی کسی کی یہ بات نہ سنو کہ "تم نہیں کر سکتے!"

تم سب کچھ کر سکتے ہو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ان شاء اللہ۔

23/04/2026

سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہترین کارکردگی بڑھانے کے حوالے سے چند ایسی زبردست باتیں بتائی جائیں گی جو عام طور پر سولر سسٹم انسٹال کرنے والے بھی نہیں بتاتے:
1: پینلز کی دھلائی کا بہترین وقت:
سولر پینلز کو کبھی بھی تپتی دھوپ میں ٹھنڈے پانی سے نہ دھوئیں، اس سے پینلز کے شیشوں میں مائیکرو کریکس آ سکتے ہیں جو وقتی طور پر تو نظر نہیں آتے پر جلدی ہی پینلز کی کارکردگی کو متاثر کر دیتے ہیں۔ صفائی کا بہترین وقت صبح سویرے یا سورج ڈھلنے کے بعد ہے جب پینلز مکمل ٹھنڈے ہوں۔
2: ڈش واشنگ مائع (Dish Soap) کا استعمال:
صرف پانی سے پینلز کی چکنائی اور جمی ہوئی مٹی صاف نہیں ہوتی۔ پانی میں تھوڑا سا برتن دھونے والا صابن ملائیں، اس سے پینل کا شیشہ بالکل شفاف ہو جائے گا اور بجلی کی پیداوار 10% سے 15% تک بڑھ جائے گی۔
3: بیٹری واٹر لیول اور ٹرمینلز:
اگر آپ بیٹری استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ٹرمینلز پر پٹرولیم جیلی یا تبت کریم لگا کر رکھیں تاکہ کاربن نہ جمے۔ کاربن بجلی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور بیٹری جلدی چارج نہیں ہوتی اور ہم سولر سے مکمل فائدہ نہیں حاصل کر پاتے۔
4: ارتھنگ (Earthing) کا جادو:
اپنے سولر اسٹینڈ اور انورٹر کو پراپر ارتھ کروائیں۔ یہ نہ صرف آسمانی بجلی سے بچاتا ہے بلکہ سسٹم میں موجود اسٹیٹک چارج کو ختم کر کے انورٹر کی لائف اور کارکردگی بڑھاتا ہے۔ جو کہ بہترین کارکردگی اور سولر لائف کیلئے اہم ہوتا اسے آج ہی کروائیں۔
5: شیڈو آڈٹ (Shadow Audit):
دن کے کسی بھی حصے میں اگر پینل کے ایک کونے پر بھی کسی چھوٹی سی تار یا انٹینا کا سایہ پڑ رہا ہے، تو وہ پورے پینل کی کارکردگی آدھی کر دیتا ہے۔ یقینی بنائیں کہ صبح 9 سے شام 4 بجے تک پینلز پر زیرو شیڈو ہو۔ کسی چیز کا ہلکا سا بھی سایہ نہ ہو۔ یہ بہت بڑی بات ہے اسے ذہن نشین کرلیں۔
6: ہیوی لوڈ کا ٹائم ٹیبل:
سولر سسٹم پر استری، موٹر یا اے سی چلانے کا بہترین وقت وہ ہے جب سورج سوا نیزے پر ہو یعنی صبح 11 سے دوپہر 3 بجے۔ اس وقت بجلی براہِ راست پینل سے استعمال ہوتی ہے اور بیٹری پر بوجھ نہیں پڑتا۔ اور بیٹریاں زیادہ لمبا عرصہ چلتی ہیں۔
7: انورٹر سیٹنگز (Load Management):
اپنے انورٹر کی سیٹنگز میں Battery Cut-off وولٹیج کو تھوڑا اوپر رکھیں۔ بیٹری کو کبھی بھی 100% خالی نہ ہونے دیں، اس سے بیٹری کی زندگی دوگنی ہو جاتی ہے اور وہ بجلی زیادہ تیزی سے اسٹور کرتی ہے۔ یہ بہت بڑی سیٹنگ ہے اس لازمی اپلائی کریں۔
8: تاروں کی لمبائی اور موٹائی:
سولر پینلز سے انورٹر تک کی تار جتنی لمبی ہوگی، اتنی بجلی ضائع (Voltage Drop) ہوگی۔ ہمیشہ کم سے کم فاصلہ رکھیں اور تار کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کریں، ہمیشہ Pure Copper کی تار استعمال کریں۔
9: انورٹر کی جگہ کا انتخاب:
اکثر لوگ انورٹر کو دھوپ میں یا بند الماری میں لگا دیتے ہیں۔ انورٹر جتنا ٹھنڈا رہے گا، اتنی بہتر کارکردگی دے گا۔ اسے ہمیشہ ہوادار اور سایہ دار جگہ پر لگائیں۔ اگر انورٹر بہت گرم ہو رہا ہے تو اس کے پاس ایک چھوٹا سا ایگزاسٹ فین لگا دیں۔
پرو ٹپ: اگر آپ کے پینلز کے نیچے بہت زیادہ گرمی جمع ہوتی ہے، تو اسٹینڈ کی اونچائی تھوڑی بڑھا دیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔ پینلز جتنے ٹھنڈے رہیں گے، اتنے زیادہ وولٹیج پیدا کریں گے۔
اگر آپ سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں تو ان باتوں کو لازمی فالو کریں انشاءاللہ دگنا فائدہ ہوگا سسٹم سے!
اس معلومات کو آگے ضرور شئیر کریں تاکہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ کسی کا فائدہ کرنا صدقہ جاریہ ہوتا۔

15/04/2026

جسکی کوئی گارنٹی نہیں اسکا نام (زندگی) ہے

اور جسکی فل گارنٹی ہے اس کا نام (موت) ہے
زندگی ایک کتاب ہے
پہلا صفحہ (پیدائش)
آخری صفحہ (موت)
درمیانی صفحات خالی ہیں
اس میں جو پسند ہو لکھیں
بس ایسا کچھ لکھیں
کہ اللّٰه کو دکھاتے ہوئے
شرمندگى محسوس نہ ہو.

اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین یارب العالمین

13/04/2026

1528ء کا ایک شاہی دسترخوان... ہندوستان کا بانی اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اپنے امراء کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دسترخوان پر بیٹھے ایک معمولی افغان فوجی پر پڑی۔ اس فوجی کے سامنے جب ایک ثابت اور سخت گوشت کا ٹکڑا رکھا گیا، تو اس نے پریشان ہونے کے بجائے انتہائی بے نیازی سے اپنا خنجر نکالا، گوشت کے ٹکڑے کیے اور سکون سے کھانے لگا۔ بابر، جو چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا، فوراً چونک اٹھا۔ اس نے اپنے وزیر خلیفہ سید نظام الدین کو قریب بلا کر سرگوشی کی:

"اس افغان پر کڑی نظر رکھنا، مجھے اس کی پیشانی پر بادشاہت کے آثار اور آنکھوں میں ایک طوفان نظر آ رہا ہے۔"

بابر کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو نہ صرف شکست دی، بلکہ اسے ہندوستان سے جوتے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے محض 5 سال حکومت کی، لیکن ان 5 سالوں میں ہندوستان کا وہ نقشہ بدل دیا جو بڑے بڑے بادشاہ 50 سال میں نہ کر سکے۔

یہ داستان ہے ایک ایسے لڑکے کی جو کبھی اپنے باپ کی توجہ کو ترستا تھا، لیکن اپنی تلوار اور عقل کے زور پر تاریخ کا عظیم 'شیر شاہ سوری' بنا۔

فرید خان سے 'شیر خان' بننے کا خونی سفر
شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ وہ بہار کے ایک چھوٹے سے جاگیردار کا بیٹا تھا، لیکن اس کی سوتیلی ماں اس سے شدید نفرت کرتی تھی جس کی وجہ سے اس کا باپ بھی اسے نظر انداز کرتا تھا۔ گھر سے مایوس ہو کر فرید خان نے جوانی میں ہی تلوار اور علم سے دوستی کر لی۔

اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ تب آیا جب وہ بہار کے حکمران بہار خان لوہانی کی ملازمت میں تھا۔ ایک دن شکار کے دوران ایک خونخوار اور دیوہیکل شیر نے اچانک حکمران پر حملہ کر دیا۔ جب سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، تو نوجوان فرید خان آگے بڑھا اور اپنی تلوار کے ایک ہی بھرپور وار سے اس شیر کو بیچ سے چیر کر رکھ دیا۔ اس کی اس دہشت ناک بہادری پر اسے "شیر خان" کا خطاب دیا گیا، اور یہی نام بعد میں اس کی پہچان بنا۔

مغل کیمپ میں جاسوسی اور ہمایوں کی دربدری
شیر خان صرف ایک طاقتور جنگجو نہیں تھا، بلکہ تاریخ کا ایک انتہائی شاطر دماغ تھا۔ اس نے جان بوجھ کر کچھ عرصہ بابر کی مغل فوج میں شمولیت اختیار کی تاکہ وہ ان کے جنگی طریقے، توپ خانے کا استعمال اور ان کی کمزوریاں سیکھ سکے۔ جب اس نے سب کچھ سیکھ لیا تو خاموشی سے الگ ہو کر اپنی افغان فوج بنانا شروع کر دی۔

بابر کی موت کے بعد جب ہمایوں تخت پر بیٹھا تو شیر خان نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ چوسا (1539ء) اور قنوج (1540ء) کے تاریخی میدانوں میں شیر خان نے مغل فوج کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ شہنشاہ ہمایوں کو اپنی جان بچانے کے لیے گھوڑے سمیت دریائے گنگا میں چھلانگ لگانی پڑی اور ایک نظام سقے (پانی پلانے والے) نے اس کی جان بچائی۔ ہمایوں ہندوستان چھوڑ کر ایران بھاگ گیا اور شیر خان دہلی کے تخت پر 'شیر شاہ سوری' کے نام سے براجمان ہوا۔

5 سالہ معجزہ: وہ کام جو آج بھی زندہ ہیں
شیر شاہ نے 1540ء سے 1545ء تک صرف پانچ سال حکومت کی، لیکن اس کی اصلاحات آج بھی برصغیر کے نظام کا حصہ ہیں:

روپے کا آغاز: آج پاکستان، بھارت، نیپال اور سری لنکا میں جو کرنسی 'روپیہ' (Rupee) کہلاتی ہے، یہ پہلی بار شیر شاہ سوری نے ہی متعارف کروائی تھی۔ اس نے چاندی کا ایک خالص سکہ جاری کیا جس نے معیشت میں انقلاب لا دیا۔

جرنیلی سڑک (Grand Trunk Road): اس نے کابل سے لے کر چٹاگانگ (بنگلہ دیش) تک 2500 کلومیٹر طویل ایک شاندار سڑک تعمیر کروائی جسے آج ہم جی ٹی روڈ (GT Road) کہتے ہیں۔ ہر چند کوس پر سرائے، مسجد، کنواں اور ڈاک چوکیاں بنوائیں۔

بے رحم انصاف: شیر شاہ کا انصاف اتنا سخت تھا کہ تاریخ دان لکھتے ہیں: "اس کے دور میں ایک بوڑھی عورت بھی سونے کا ٹوکرا سر پر رکھ کر رات کے اندھیرے میں سفر کر سکتی تھی اور کسی ڈاکو کی جرات نہیں تھی کہ اسے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔"

کالنجر کا قلعہ اور آخری مسکراہٹ
موت کے فرشتے نے بھی اس عظیم فاتح کو میدانِ جنگ میں ہی چوما۔ 1545ء میں وہ کالنجر کے ناقابلِ تسخیر قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ جنگ کے دوران ایک بارود کا گولہ قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر واپس اس کے بارود کے ذخیرے میں آ گرا جہاں وہ خود کھڑا تھا۔

ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور شیر شاہ شدید جھلس گیا۔ اس کا جسم کوئلہ بن چکا تھا لیکن اس کی جان نہیں نکل رہی تھی۔ وہ شدید تکلیف میں خیمے میں پڑا تھا، یہاں تک کہ شام کے وقت اس کے جرنیلوں نے آ کر خبر دی کہ: "بادشاہ سلامت! قلعہ فتح ہو گیا ہے۔" یہ سنتے ہی اس جلے ہوئے اور درد سے کراہتے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری، اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

شیر شاہ سوری محض ایک بادشاہ نہیں تھا، بلکہ ایک چلتی پھرتی اکیڈمی تھا جس نے دنیا کو سکھایا کہ حکمرانی نسل سے نہیں، قابلیت اور انصاف سے کی جاتی ہے۔

12/04/2026
11/04/2026

پٹرول پہلے 55 روپے مہنگا کیا پھر 137 روپے۔
ٹوٹل ہوگئے 192 روپے
پھر 80 روپے کم کردیا اور اب 12 روپے ہوگیا 92 روپے۔
یعنی اب بھی 100 روپے مہنگا کر کے عوام پر احسان جتا رہا ہے

09/04/2026

ایک دن میں راستے سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک ننھے بچے پر پڑی جو گاؤں کے قبرستان میں ایک قبر کے پاس بیٹھا زار زار رو رہا تھا۔ اس کے کندھے پر اسکول کا بیگ تھا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے اس بیگ میں کتابوں کے بجائے غم بھرے ہوں۔
میں اس کے قریب گیا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے پوچھا:
"بیٹا! یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اسکول نہیں جاتے؟ کیوں اتنا رو رہے ہو؟"
بچے نے جب سر اٹھایا تو اس کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان ایسے تھے جیسے بارش کے قطرے مٹی پر لکیر بنا دیتے ہیں۔ وہ سسکیوں میں بولا:
، مجھے کسی نے نہیں مارا… مگر تقدیر نے بہت زور کی چوٹ ماری ہے۔ یہ میری ماں کی قبر ہے۔ پہلے وہ مجھے خود اسکول بھیجتی تھی، میرے سر پر ہاتھ رکھتی تھی اور دعائیں دیتی تھی۔ اب جب گھر جاتا ہوں تو گھر مجھے سنسان لگتا ہے۔"
پھر اس نے قبر کی طرف دیکھ کر کہا:
"میں ہر روز پہلے یہاں آتا ہوں، اپنی ماں کو بتاتا ہوں کہ میں اسکول جا رہا ہوں… مگر آج میرے بیگ میں کسی نے روٹی بھی نہیں رکھی۔"
یہ الفاظ سن کر میرا دل ٹوٹ گیا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ ماں کی کمی دنیا کا وہ خلا ہے جو کسی بھی چیز سے پورا نہیں ہو سکتا۔

07/04/2026

کرک علاقہ چونترہ میں رات سے بارش کا سلسلہ جاری ہے مکان گرنے سے دو خواتین شدید زخمی ۔اللہ تعالیٰ رحم کریں آمین

Address

Ahmed Khel
Karak
27900

Telephone

+923335952939

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazal waris khattak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Fazal waris khattak:

Share