05/10/2025
🇵🇸 🇵🇸 🇵🇸
لوگو تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے اگر آپ نے بوسنیا کو نہیں سمجھا، تو آپ غزہ کو بھی نہیں سمجھیں گے !!!
پہلے بوسنیا کو سمجھو تاکہ تم غزہ اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھ سکو تاکہ تمہیں تعجب نہ ہو۔
بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف سربوں کی جانب سے لڑی جانے والی نسل کشی کی جنگ میں
تین لاکھ مسلمان شہید کیے گئے
60 ہزار عورتوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
پندرہ لاکھ افراد کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔
کیا ہمیں یہ سب یاد ہے؟
یا ہم بھول چکے ہیں؟
یا ہمیں اس بارے میں کبھی کچھ پتہ ہی نہیں چلا؟
CNN کے ایک اینکر نے بوسنیا کی نسل کشی کی یاد میں مشہور رپورٹر کرسٹیانا امانپور سے سوال کیا
"کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟"
کرسٹیانا امانپور نے جواب دیا:
یہ ایک قرون وسطیٰ کی طرز کی جنگ تھی — مسلمانوں کا قتل، محاصرہ اور بھوکا رکھنا۔
یورپ نے مداخلت سے انکار کر دیا، اور کہا: "یہ ایک خانہ جنگی ہے" — جو کہ محض ایک جھوٹ تھا۔
یہ ہولوکاسٹ تقریباً چار سال تک جاری رہا۔
اس دوران سربوں نے 800 سے زائد مساجد کو مسمار کر دیا ، جن میں بعض 16ویں صدی کے تھے۔
انہوں نے سارایوو کی تاریخی لائبریری کو بھی جلا دیا۔
اقوام متحدہ نے مداخلت کی، مگر کیسے؟؟؟
انہوں نے صرف مسلم علاقوں جیسے گوراجدے، سربرینیتسا اور زیپا پر چوکیاں لگا دیں، لیکن ان پر گولہ باری اور محاصرہ جاری رہا — ایسی "حفاظت" کسی کام کی نہ تھی۔
سربوں نے ہزاروں مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید کیا، اذیت دی، بھوکا رکھا — یہاں تک کہ وہ انسان نہیں، صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے۔
جب ایک سرب کمانڈر سے پوچھا گیا:
تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟
اس نے جواب دیا: کیونکہ وہ سور کا گوشت نہیں کھاتے!
اخبار "گارڈین" نے ان دنوں ایک مکمل صفحے پر نقشہ شائع کیا جس میں 17 بڑے ریپ کیمپس دکھائے گئے — کچھ سربیا کے اندر تھے۔
سربوں نے بچوں تک کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایک چار سالہ بچی کے بارے میں "گارڈین" نے رپورٹ لکھی: "وہ بچی جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھی۔"
سرب جنرل ملادیچ نے زیپا میں ایک مسلمان رہنما کو بلایا، سگریٹ دی، باتیں کیں — اور پھر اچانک اس کا گلا کاٹ دیا۔
سب سے بڑی خونریزی: سربرینیتسا کا محاصرہ۔
اقوام متحدہ کے "امن فوجی" سربوں کے ساتھ ناچتے، پیتے تھے — کچھ مسلمان خواتین کو خوراک کے بدلے ان کے جسم کا سودا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
دو سال محاصرہ رہا — امدادی سامان بھی سرب چراتے تھے۔
پھر اقوام متحدہ کی ڈچ بٹالین نے مسلمانوں کو اسلحہ چھوڑنے کا کہا، وعدہ کیا کہ "حفاظت کریں گے"۔
مسلمان تھک چکے تھے، مان گئے — اور پھر سربوں نے حملہ کر دیا۔
12,000 مرد و لڑکوں کو الگ کیا گیا، سب کو ذبح کیا گیا۔
ان کے چہروں پر صلیب کے نشان کندہ کیے گئے (نیوز ویک/ٹائم کی رپورٹ)۔
کچھ مسلمان درد کی شدت سے سربوں سے التجا کرتے کہ انہیں مار دو — مگر وہ اذیت دیتے رہے۔
ماں سرب فوجی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹے کی جان کی بھیک مانگتی — وہ پہلے ماں کا ہاتھ کاٹتے، پھر بیٹے کا گلا کاٹ دیتے۔
سرب جنرل کارادیتچ نے اعلان کیا: "سربرینیتسا ہمیشہ سے سرب کی تھی، اب واپس آ گئی ہے!"
سرب مسلمان عورتوں کو ریپ کرتے، پھر 9 ماہ قید رکھتے تاکہ وہ "سرب بچے" پیدا کریں۔
جب ہم بوسنیا، سارایوو، بانیا لوکا، سربرینیتسا کو یاد کرتے ہیں — ہم کہتے ہیں
ہم بلقان کو نہیں بھولیں گے۔
ہم غرناطہ کو نہیں بھولیں گے۔
ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔
ہمیں شرم کے ساتھ یاد رکھنا چاہئیے۔
لیکن 30 سال بعد بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا 💔💔💔
آخری بات : سرب خاص طور پر مسلمانوں کے علما، امام، دانشور اور تاجر کو نشانہ بناتے، انہیں قید کرتے، پھر ذبح کر کے دریا میں پھینک دیتے۔
تاریخ کی کہانیاں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں، مردوں کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔
اللّٰلہ اس تحریر کو پڑھنے اور پھیلانے والے کو جزائے خیر دے۔
اور آج بھی کچھ لوگ فلسطینیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، کہتے ہیں وہ ہتھیار ڈال دیں؟
ایسے لوگ حیوان سے بھی زیادہ کم عقل
اور خنزیر سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔
تــاریــخ کی سب سے بـــڑی نســـل کشـــی جـــاری ہے ، پلیــــز آواز اٹھــــاؤ غــــــــزہ کے بچــے بھــوک سـے مــررہے ہیــں۔۔۔۔پلــــیز
آواز اٹھــــــاؤ خـــــواہ تـــم اکیــــلے کیوں نہ ہو