PTI Lovers

PTI  Lovers PTI Supporter
(1)

05/10/2025

I got over 100 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

😂😂😂😂😂
05/10/2025

😂😂😂😂😂

05/10/2025

خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان کی طرح عالمی میڈیا پر ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے گا۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مہدی حسن کے سوالات کی تپش کس قدر جھلسا دینے والی ہوتی ہے

پہلا وار تب ہوا جب مہدی حسن نے عام سے سوالات کے بعد اچانک کہا: "مسٹر آصف، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرایا ہے۔ آپ کی حکومت ایک چوری شدہ مینڈیٹ پر کھڑی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے آپ لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا۔"

یہ سنتے ہی خواجہ آصف کا چہرہ بجھ گیا۔ اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ چونک کر اینکر کی طرف دیکھنے لگا، جیسے کوئی طالبعلم امتحان میں مشکل سوال دیکھ کر گھبرا جائے۔ اس نے ہکلانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ سب الزامات ہیں، مگر اینکر نے اگلے ہی لمحے ویڈیو کلپ چلایا جس میں خواجہ آصف خود کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس فارم 45 موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ شکست تسلیم کر چکا ہے۔

ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ مہدی حسن نے ایک اور نشتر مارا۔ اس نے کہا: "عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ کیا یہ سیاسی انتقام نہیں؟" خواجہ آصف نے حسبِ روایت کہا کہ عمران خان کرپٹ ہیں۔ لیکن مہدی حسن نے فوراً پلٹ کر کہا: "کیا وجہ ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے یہ مقدمے ان کی حکومت کے دوران سامنے نہیں آئے؟ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں تو کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ آپ کی حکومت کے دوران تو سکینڈلز کی بھرمار ہو گئی۔ پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ عمران خان کرپٹ تھے؟"

خواجہ آصف نے عدالتوں کا ذکر کیا مگر مہدی حسن نے کمال مہارت سے جواب دیا: "کون سی عدالتیں؟ وہی عدالتیں جنہیں آپ نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کنٹرول کر لیا؟ وہی عدالتیں جن پر خود ججز نے خط لکھ کر اداروں کی مداخلت کا اعتراف کیا؟"

یہاں خواجہ آصف کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ پسینے میں شرابور ہونے لگا۔ پانی کے گھونٹ لیتا، مائیک کو دیکھتا اور بار بار گلا کھنکھارتا۔ لیکن مہدی حسن کہاں باز آنے والا تھا۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر اینکر نے کہا: "پاکستان میں تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر نکالا گیا جبکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ کیا یہ سب ریاستی اداروں کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن تھا؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیا۔ مگر مہدی حسن نے تیز لہجے میں کہا: "سپریم کورٹ نے صرف انٹرا پارٹی الیکشنز کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ کھیل نہیں تھا؟"

یہ سوال سنتے ہی خواجہ آصف کے ہاتھوں کی انگلیاں بے قابو ہو کر میز پر بجنے لگیں۔ اس نے سر جھکا کر کچھ مبہم سا کہا، لیکن جھوٹ کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ اس کے چہرے پر عیاں ہو گیا۔

اس کے بعد مہدی حسن نے انسانی حقوق کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ "پاکستان کی جیلوں میں خواتین قید ہیں، ہزاروں کارکنان بغیر مقدمے کے گرفتار ہیں، صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب آپ کی حکومت نہیں کر رہی؟" خواجہ آصف نے کہا کہ یہ سب نو مئی کے ملزمان ہیں۔ مہدی حسن نے فوراً وار کیا: "نو مئی کی تحقیقات کہاں ہیں؟ اگر تحقیقات ہی نہیں ہوئیں تو پھر کس بنیاد پر ہزاروں کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا؟"

یہاں تو خواجہ آصف کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ اس نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں ہوئیں۔ مگر مہدی حسن نے سوال کیا: "کیا واقعی پاکستان کی پولیس اتنی تیز ہے کہ دو دن کے اندر ہزاروں لوگوں کے شواہد حاصل کر لیے گئے اور پھر ان کی بنیاد پہ پندرہ ہزار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا؟ یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔"

یہ سن کر خواجہ آصف کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف جھلکنے لگی۔

پھر آئینی ترامیم کی بات آئی۔ مہدی حسن نے کہا: "26ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کی سیاہ ترین ترمیم کہا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے عدالتوں کو کنٹرول کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کے ذریعے آئیں۔ مگر مہدی حسن نے فوراً جواب دیا: "کیا یہ سچ نہیں کہ سینیٹرز کو اغوا کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور زبردستی ووٹ لیے گئے؟ اختر مینگل کے اپنے سینیٹرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں دھمکایا گیا۔ تو پھر یہ ترامیم کیسے آزادانہ طور پر منظور ہوئیں؟"

یہاں خواجہ آصف کی حالت اس قیدی جیسی تھی جو قاضی کے سامنے جھوٹ بولنے کی کوشش کرے اور قاضی اس کے سامنے ہر ثبوت رکھ دے۔ وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرتا رہا مگر مہدی حسن بار بار اصل سوال کی طرف لے آتا۔

انٹرویو کے آخری لمحات میں خواجہ آصف مکمل طور پر ہار چکا تھا۔ اس کی آواز بیٹھ گئی تھی، الفاظ ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ وہ بار بار "یہ عدالتوں کا کام ہے" دہراتا رہا یہ جملہ اب ایک بے بسی کی چیخ بن چکا تھا۔ دوسری طرف مہدی حسن فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا، جیسے شکاری اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر مسکرا رہا ہو۔

05/10/2025

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں“ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا‘ ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ”ہیلو ہنری آر یو اوکے“ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا‘ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ”یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے“ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ” یہ شخص کیاکرتا ہے؟“ فورڈ نے جواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے“ ۔
صحافی نے پوچھا ”آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں“ فورڈ نے جواب دیا ”کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے“ فورڈ کا کہنا تھا ”میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔
میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں“ ہنری فورڈ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے“ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔
آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔
بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں‘ یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائین میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے۔
ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا، چنانچہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔

05/10/2025

جب 2020 میں کرونا لگا تو ایک دم کاروبار بند ہوگیا ۔۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کل موت آجائے گی ۔۔۔۔ گھر والے کہتے کہ شاپ پہ نہ جاؤ ۔۔۔۔ جب شاپ پہ جاتے تو کسٹمر نہیں تھا ۔۔۔۔۔ دوکان کا کرایہ گھر کے خرچے ۔۔۔۔۔ خیر تب ایک جاب کی آفر آئی کہ 25 ہزار حارث بھائی آپ کو pay کریں گے آپ آرٹیکل لکھ کر ہمیں بھیجیں گے ہر دن 7 آرٹیکل لکھنے ہوتے تھے۔۔۔ جرمنی کا چائنل تھا ۔۔۔۔۔ وہاں کرونا کاروبار کو ختم کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ یہ جاب سیلری کے اعتبار سے زیادہ ٹف تھی ۔

اب حالات یہ ہوگئے کہ لوگ بھوکے مر رہے تھے تازی والوں کے گھر فاقہ تھا ۔۔۔۔ میں نے ایک شخص کو کہا کہ آپ ایک شخص کو راشن دے دیں اس نے کہا کیا شجاع آباد میں کوئی ایک انسان نہیں جو کسی کو راشن دے ۔

یہ بات اس کی دل کو لگ گئی ۔۔۔۔ میں نے اگلے دن اپنی جیب سے 28 گھروں کا راشن تیار کیا ۔۔۔۔۔ نیت صاف تھی وہاں کرونا تھا ۔۔۔۔۔ پہلے تنقید ہوئی ۔۔۔۔ کہ کیوں لوگوں کے معاملات ظاہر کرتے ہو ۔۔۔۔ اور جب کرونا ختم ہوا تو اللہ کے کرم سے 28 لاکھ کا راشن لوگوں تک چلاگیا ۔

لیکن میرا کاروبار صفر ہوگیا ۔۔۔۔۔ اب پورے شہر میں مجھے ہر غریب انسان اور بیوائیں جانتی تھیں ۔

سوشل میڈیا کے لوگوں نے بہت ساتھ دیا ۔۔۔۔۔ میرے پاس جمع پونجی اب تھی کہ مجھے کسی نے کہا کپاس کا بیج لے لو ۔
جس کمپنی سے بات کی اس نے کہا ہم شجاع آباد پہ ٹرسٹ نہیں کرتے خیر میں نے ان سے ڈیل کی اور بیج لے لیا

مجھے لوگوں نے بے لوث خدمت کی وجہ سے اتنی دعائیں دیں کہ اس سال کپاس کا بیج شارٹ ہوگیا۔۔۔۔ میرے پاس رش لگا رہتا تھا اللہ پاک نے اتنا نوازا کہ میں صاحب استطاعت ہوگیا ۔
تب سے میں نے اپنا ہاتھ نہیں روکا ۔۔۔۔ اپنے مال کو پاک کیا ۔

یہ وہ رب کریم ہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے انسان سوچتا نہیں ۔

اب جب سیلاب آیا تو میرے تمام کسٹمرز کی مکئی ، فصلیں ، گھر تباہ ہوگئے ۔
میری طبعیت خراب تھی کیونکہ میرے ساتھ حادثہ ہوا جس میں میرا موبائل ، پیسے گئے اور سر پہ اکیس ٹانکے آئے ۔
میں نے ٹھان لی تھی اب کسی کی مدد نہیں کروں گا جب میرے ساتھ واردات ہورہی تھی کوئی نہیں آیا تھا۔

لیکن جیسے میرے شہر شجاع آباد میں سیلاب آیا میں نے دوبارہ وہی جنون کے ساتھ لوگوں کی خدمت شروع کردی ۔
اب میرے ساتھ میرے پڑھنے والے ہزاروں افراد تھے ۔۔۔۔۔ ہم نے اپنی جیب سے اور دوسروں کی مدد سے ان کو کھانا فراہم کرنا شروع کردیا ۔

صبح سے رات ہوجاتی تھی تقریباً 18 دنوں میں 20 ہزار لوگوں تک یہ سلسلہ چلا گیا ۔۔۔۔ ایک 300 افراد کی رہائش کا کیمپ اب تک بستی مٹھو موجود ہے ۔۔۔۔۔ دوسرا 1 ہزار افراد اور 142 خاندانوں کو راشن فراہم کردیا ۔

جو کہتے ہیں کہ کیسے یہ سب ہوجاتا ہے ہم ہنس کر کہتے ہیں ایسے ایسے اور ایسے ۔

مجھے معلوم ہے میرے لاکھوں روپے اب پھنس چکے ہیں جب کسان ہی نہیں رہے گا تو ہم بھی نہیں رہیں گے ۔

لیکن کیسے میں اپنے شہر سے سفید پوش لوگوں کا اکیلا چھوڑ دیتا ؟؟؟؟

میرا ذاتی تجربہ ہے جو آپ کو گے وہ لوٹ کر آئے گا ۔۔۔۔۔ دوسرا اب سیلاب زدگان کی ڈونیشنز کو بند کردیا گیا ہے ۔

شکریہ ساتھ دینے کے لیئے ۔۔۔۔۔۔ یہ تحریر اس لیئے لکھی ہے جس جس نے تکلیف میں موجود بہن بھائیوں کا ساتھ دیا ہے وہ خود ایک سال کے اندر اندر اپنی آمدنی دیکھ لینا کہ اللہ پاک کہاں کہاں سے وسیلہ بنائے گا ۔

05/10/2025

ان لوگوں کا اہل غزہ سے رشتہ یی کیا ہے ؟ فقط انسانیت کا۔ ارے ساٹھ ستر ہزار معصوم مار دیے۔ باقی پانچویں درجے کے قحط کا شکار ہیں۔ دودھ کی ایک بوند تک میسر نہیں۔ اگر مشتاق احمد خان جیسے چند پاکستانی قافلہ صمود میں شامل نہ ہوتے تو ہم ڈوب کر مر ہی جانے کے قابل تھے۔ اور وہاں دیکھو قافلے کو رواں کرنے والیاں یورپ اٹلی کی خواتین ۔ حنظلہ نامی کشتی کے پاس جب ایک اطالوی خاتون کو مزاحمتی لوک گیت بیلا سیاؤ گاتے دیکھا تو دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ ہماری پاکستانی مسلمان بہنیں، حجابی ، لبرل ، فیمںسٹ اور مجھ جیسی کاہل کہانیاں لکھنے والی سب ان کے سامنے ہیچ ہیں ۔ یہ سمندر کے بیچ ہچکولے کھاتی چھوٹی چھوٹی کشتیاں دنیا کی سب سے بے رحم فوج کے مقابل نہتی ، دودھ چاول اور دوائیاں لیے رواں۔
قافلے کی حفاظت کو اٹلی اور سپین کی بحریہ کے جہاز ساتھ چل پڑے ہیں ۔ اور سامنے والے عفریت کے منہ کو ایسا بچوں کا خون لگا ہے کہ اب اس کے ہم ذات یہودہ کے بیٹے بھی چلا اٹھے ۔ مگر ہمارے سارے حکمران اور عوام بس دیکھتے رہے۔
رب العالمین بے نیاز ہے ۔ وہ کوئی ہمارا ضرورت مند نہیں۔ اس نے تو کہہ دیا تھا کہ اگر تم اس کی راہ میں نکلنے سے روگردانی کرو گے تو تمھیں دردناک عذاب پہنچے گا اور وہ تمھاری جگہ اور لوگ لے آئے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔
لو آ گئے ہیں وہ لوگ۔

Bella ciao bella ciao bella ciao
اے حسین صورت
اب مجھے رخصت دو
ایک دن جب ہم بیدار ہوئے
تو دشمن کے دستے دیکھے
در انداز شہر میں داخل ہو چکے
مجھے اپنے کندھے کا سہارا دو
کہ ہمیں مل کر لڑنا ہے
مجھے لگتا ہے
میرا آخری وقت آن پہنچا
اگر میں مزاحمت کرتا مارا جاؤں
تو اے حسین صورت مجھے رخصت دو
مجھے رخصت دو
اگر میں مزاحمت کرتا مارا جاؤں
تو مجھے وہاں اّس قبر میں دفنا دینا
پہاڑ کے دامن میں
جہاں پھول کھلتے ہیں
مجھے رخصت دو مجھے رخصت دو اے حسین صورت
پہاڑ کے دامن میں پھولوں کے درمیاں
جہاں دلیر سورما مدفون ہیں
کسی دن لوگ وہاں سے پھول چُنیں گے
مجھے رخصت دو مجھے رخصت دو اے حسین صورت
کسی دن لوگ پھول چُنیں گے
اور مجھے یاد کریں گے
کہ وہ گلِ مزاحم
جو آزادی کے لیے کھلا
گلِ مصلوب ہوا
الوداع
اے حسین صورت مجھے رخصت دو مجھے رخصت دو مجھے رخصت دو
تحریر و اردو ترجمہ
سبین علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Bella ciao
اٹلی کا لوک مزاحمتی گیت جو دوسری جنگ عظیم میں دھان کے کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں نے گایا۔ یہ گیت ان کی طرف سے جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔

05/10/2025

🇵🇸 🇵🇸 🇵🇸

لوگو تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے اگر آپ نے بوسنیا کو نہیں سمجھا، تو آپ غزہ کو بھی نہیں سمجھیں گے !!!

پہلے بوسنیا کو سمجھو تاکہ تم غزہ اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھ سکو تاکہ تمہیں تعجب نہ ہو۔

بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف سربوں کی جانب سے لڑی جانے والی نسل کشی کی جنگ میں
تین لاکھ مسلمان شہید کیے گئے
60 ہزار عورتوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
پندرہ لاکھ افراد کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔
کیا ہمیں یہ سب یاد ہے؟
یا ہم بھول چکے ہیں؟
یا ہمیں اس بارے میں کبھی کچھ پتہ ہی نہیں چلا؟

CNN کے ایک اینکر نے بوسنیا کی نسل کشی کی یاد میں مشہور رپورٹر کرسٹیانا امانپور سے سوال کیا

"کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟"

کرسٹیانا امانپور نے جواب دیا:

یہ ایک قرون وسطیٰ کی طرز کی جنگ تھی — مسلمانوں کا قتل، محاصرہ اور بھوکا رکھنا۔

یورپ نے مداخلت سے انکار کر دیا، اور کہا: "یہ ایک خانہ جنگی ہے" — جو کہ محض ایک جھوٹ تھا۔

یہ ہولوکاسٹ تقریباً چار سال تک جاری رہا۔

اس دوران سربوں نے 800 سے زائد مساجد کو مسمار کر دیا ، جن میں بعض 16ویں صدی کے تھے۔

انہوں نے سارایوو کی تاریخی لائبریری کو بھی جلا دیا۔

اقوام متحدہ نے مداخلت کی، مگر کیسے؟؟؟
انہوں نے صرف مسلم علاقوں جیسے گوراجدے، سربرینیتسا اور زیپا پر چوکیاں لگا دیں، لیکن ان پر گولہ باری اور محاصرہ جاری رہا — ایسی "حفاظت" کسی کام کی نہ تھی۔

سربوں نے ہزاروں مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید کیا، اذیت دی، بھوکا رکھا — یہاں تک کہ وہ انسان نہیں، صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے۔

جب ایک سرب کمانڈر سے پوچھا گیا:
تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟
اس نے جواب دیا: کیونکہ وہ سور کا گوشت نہیں کھاتے!

اخبار "گارڈین" نے ان دنوں ایک مکمل صفحے پر نقشہ شائع کیا جس میں 17 بڑے ریپ کیمپس دکھائے گئے — کچھ سربیا کے اندر تھے۔

سربوں نے بچوں تک کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک چار سالہ بچی کے بارے میں "گارڈین" نے رپورٹ لکھی: "وہ بچی جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھی۔"

سرب جنرل ملادیچ نے زیپا میں ایک مسلمان رہنما کو بلایا، سگریٹ دی، باتیں کیں — اور پھر اچانک اس کا گلا کاٹ دیا۔

سب سے بڑی خونریزی: سربرینیتسا کا محاصرہ۔
اقوام متحدہ کے "امن فوجی" سربوں کے ساتھ ناچتے، پیتے تھے — کچھ مسلمان خواتین کو خوراک کے بدلے ان کے جسم کا سودا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔

دو سال محاصرہ رہا — امدادی سامان بھی سرب چراتے تھے۔

پھر اقوام متحدہ کی ڈچ بٹالین نے مسلمانوں کو اسلحہ چھوڑنے کا کہا، وعدہ کیا کہ "حفاظت کریں گے"۔
مسلمان تھک چکے تھے، مان گئے — اور پھر سربوں نے حملہ کر دیا۔

12,000 مرد و لڑکوں کو الگ کیا گیا، سب کو ذبح کیا گیا۔

ان کے چہروں پر صلیب کے نشان کندہ کیے گئے (نیوز ویک/ٹائم کی رپورٹ)۔

کچھ مسلمان درد کی شدت سے سربوں سے التجا کرتے کہ انہیں مار دو — مگر وہ اذیت دیتے رہے۔

ماں سرب فوجی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹے کی جان کی بھیک مانگتی — وہ پہلے ماں کا ہاتھ کاٹتے، پھر بیٹے کا گلا کاٹ دیتے۔

سرب جنرل کارادیتچ نے اعلان کیا: "سربرینیتسا ہمیشہ سے سرب کی تھی، اب واپس آ گئی ہے!"

سرب مسلمان عورتوں کو ریپ کرتے، پھر 9 ماہ قید رکھتے تاکہ وہ "سرب بچے" پیدا کریں۔

جب ہم بوسنیا، سارایوو، بانیا لوکا، سربرینیتسا کو یاد کرتے ہیں — ہم کہتے ہیں

ہم بلقان کو نہیں بھولیں گے۔

ہم غرناطہ کو نہیں بھولیں گے۔

ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے۔
ہمیں شرم کے ساتھ یاد رکھنا چاہئیے۔

لیکن 30 سال بعد بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا 💔💔💔

آخری بات : سرب خاص طور پر مسلمانوں کے علما، امام، دانشور اور تاجر کو نشانہ بناتے، انہیں قید کرتے، پھر ذبح کر کے دریا میں پھینک دیتے۔

تاریخ کی کہانیاں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں، مردوں کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔

اللّٰلہ اس تحریر کو پڑھنے اور پھیلانے والے کو جزائے خیر دے۔

اور آج بھی کچھ لوگ فلسطینیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، کہتے ہیں وہ ہتھیار ڈال دیں؟

ایسے لوگ حیوان سے بھی زیادہ کم عقل

اور خنزیر سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔

تــاریــخ کی سب سے بـــڑی نســـل کشـــی جـــاری ہے ، پلیــــز آواز اٹھــــاؤ غــــــــزہ کے بچــے بھــوک سـے مــررہے ہیــں۔۔۔۔پلــــیز
آواز اٹھــــــاؤ خـــــواہ تـــم اکیــــلے کیوں نہ ہو

Happy Birthday 🎉 🥳 💥💥💥🔥🔥🔥🎊🎂🎂🎂🎂🎂my skipper Imran KhanMay you live long
05/10/2025

Happy Birthday 🎉 🥳 💥💥💥🔥🔥🔥🎊🎂🎂🎂🎂🎂my skipper Imran Khan
May you live long

سالگرہ مبارک ہو اُس رہنما کو، جو قید میں ہونے کے باوجود کروڑوں دلوں پر راج کر رہا ہے۔ عمران خان آج آپ کی غیر موجودگی میں...
05/10/2025

سالگرہ مبارک ہو اُس رہنما کو، جو قید میں ہونے کے باوجود کروڑوں دلوں پر راج کر رہا ہے۔
عمران خان آج آپ کی غیر موجودگی میں بھی پوری قوم آپ کی سالگرہ منارہی ہے
کیونکہ آپ کا پیغام، آپ کی قربانی، آپ کی جدوجہد سب زندہ ہیں۔
ہم صرف آپ کی رہائی کی نہیں، سچ، انصاف اور خودداری کی آزادی کی دُعا کرتے ہیں۔
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے، حوصلہ دے، اور وہ دن جلد لائے جب آپ ایک بار پھر اس قوم کی رہنمائی کریں۔

عمران خان امید کا نام، قربانی کی مثال، پاکستان کا فخر۔


Skipper Imran Ahmad Khan

26/09/2025

*بہت ہی غور طلب تحریر*🪔🪔🪔
*ضرور پڑھیں*💐

■ مسلمانوں نے اپنی نفسیات کی روایت کیوں کھو دی اور ہم اسلام کے "حقیقی انسان" کو کیسے دوبارہ دریافت کر سکتے ہیں؟

مسلمانوں کے پاس دراصل علم النفس (نفس کا علم، یا نفسیات) کی ایک بہت ہی بھرپور روایت تھی۔ ہمارے پاس ابن سینا، امام غزالی اور مولانا رومی جیسے جنات تھے۔ یہ صرف اسکالرز ہی نہیں تھے، وہ اپنے زمانے کے "گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ" کی طرح تھے - پوری علمی صنعت کو خوش اسلوبی سے چلا رہے تھے! لیکن بعد میں ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ اللہ اکبر ہم مسلمانوں میں بعض اوقات یہ بری عادت ہوتی ہے: ایک بار جب ہم کسی چیز کی تعریف کر لیتے ہیں، تو ہم سمجھتے ہیں کہ کام ہمیشہ کے لیے ہو گیا ہے۔ ہم فائل بند کرتے ہیں، اسے محفوظ کرتے ہیں، اور پھر خوشی سے چائے پیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ زندگی اس طرح کام نہیں کرتی۔ دنیا بدلتی رہتی ہے، لیکن ہم اکثر اصرار کرتے رہتے ہیں، ❝نہیں، نہیں، ہم نے 500 سال پہلے ہی اس کی تعریف کر دی تھی، کیوں دوبارہ وضاحت کریں؟

چنانچہ جب تبدیلی نے دروازے پر دستک دی تو اسے کھولنے کے بجائے ہم نے کانوں میں روئی ڈال کر کہا، تبدیلی؟ معذرت، غلط پتہ!❞ اور نتیجہ کیا نکلا؟ اللہ اکبر ایک نئی ذہنیت سامنے آئی جس نے کہا کہ ❝اصولوں کو بھول جاؤ، جڑوں کو بھول جاؤ، صرف تبدیلی ہی حقیقی ہے!❞ چنانچہ چیزوں کا ایک بامعنی بہاؤ رک گیا، اور سب کچھ ایک واٹس ایپ گروپ کی طرح بکھر گیا جس کا کوئی ایڈمن نہیں تھا - ہر کوئی بے ترتیب چیزیں پوسٹ کرتا ہے، اور کسی کو اصل مقصد کا علم نہیں ہوتا۔

اب اصل بات یہ ہے کہ مذہب بھی متاثر ہوا۔ خوبصورتی، اخلاقیات، اور اندرونی ڈرائیو سے بھرپور ایک زندہ روحانی تعلق ہونے کی بجائے، یہ بہت سے لوگوں کے لیے صرف قانونی احکامات تک محدود ہو گیا — جیسے ٹریفک پولیس افسر آپ کو سگنل دیتا ہے۔ رکو، جاؤ، بائیں، دائیں! بے شک اصول ضروری ہیں لیکن اگر اسلام صرف اصولوں کا ہو جائے تو اخلاق، محبت اور روحانیت کی گہری مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔ پھر اچھا ہونا دل کی فطری خواہش نہیں رہی، ایسا ہو جاتا ہے کہ کریلا (کریلا) ہر روز کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے — صحت مند، ہاں، لیکن آپ اسے جھنجھوڑ کر کرتے ہیں!

یہیں ڈاکٹر محمد امین کی کتاب اسلام اور علم النفس کام کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: اسلام کا انسان کے بارے میں نظریہ ناقابل رسائی نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت میں بہت عملی ہے۔ آپ کو ایک سپر جینئس فلسفی یا راکٹ سائنسدان بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف وہی فیصلہ سازی کی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت ہے جو آپ پہلے ہی ہر روز استعمال کرتے ہیں — جیسے بریانی اور پلاؤ کے درمیان فیصلہ کرنا۔ (ٹھیک ہے، شاید یہ فلسفہ سے زیادہ مشکل ہے، لیکن پھر بھی!)

ڈاکٹر امین ہمیں یاد دلاتے ہیں: آپ کی شخصیت کو مکمل کرنے کا اصل اصول آسان ہے - وہ بنیں جو آپ مانتے ہیں۔ اگر آپ کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں تو اسے زندہ رکھیں! نہ صرف آپ کے سر میں، نہ صرف آپ کے الفاظ میں، بلکہ آپ کے جسم، اعمال اور روح میں۔ وہ کہتا ہے کہ "خود کو ماننے والے" کو عقلی خودی، عملی خودی، اور یہاں تک کہ فطری نفس کو بھی رنگ دینا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، اپنے ایمان کو صرف وزیٹنگ کارڈ کی طرح اپنی جیب میں نہ رکھیں۔ اسے اپنے پسندیدہ پرفیوم کی طرح پہنیں، تاکہ لوگ آپ کے ایک لفظ کہنے سے پہلے ہی اسے محسوس کر سکیں۔

مولانا رومی نے بہت خوبصورتی سے کہا: ایمان صرف یہ کہنے کا نام نہیں کہ میں مانتا ہوں، بلکہ یہ وہ بننا ہے جو آپ مانتے ہیں۔

جیسے کہ اگر کوئی کہے، ❝میں چائے پر یقین رکھتا ہوں، لیکن کبھی نہیں پیتا، کیا ہم اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ ہرگز نہیں! ایمان کا بھی یہی حال ہے۔ اگر آپ اسلام کے انسان کے وژن پر یقین رکھتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کو وہ وژن بننا چاہیے۔

لہذا، میرے پیارے قارئین، چیلنج واضح ہے: ہم مسلمانوں کو دین کی وہ تخلیقی، گہری اور زندہ طاقت واپس لانے کی ضرورت ہے جس نے کبھی پوری تہذیبوں کو جنم دیا تھا۔ مکینیکل مذہب نہیں، خشک نفسیات نہیں، بلکہ ایک گرم، خوشبودار، روحانی طور پر زندہ راستہ ہے۔ اور ڈاکٹر امین ہمیں ایک نرمی سے یاد دہانی کر رہے ہیں کہ یہ ممکن ہے — راکٹ سائنس جیسی غیر معمولی طاقتوں سے نہیں، بلکہ بہت ہی سادہ انسانی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے وہ زندگی گزارنے کے لیے جس پر ہم واقعی یقین رکھتے ہیں۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ: یہ راستہ کڑوا کریلا نہیں، حلوے کی طرح میٹھا ہے۔ یہ دل کو نورانی، دماغ کو تیز اور روح کو چمکدار بناتا ہے۔

محمد فرحان جمیل 25.9.25💐💐

26/09/2025

*🚨ڈپریشن/ اینزائٹی سے کیسے نجات حاصل کریں؟*

1) جو چیزیں اخیتار میں نہ ہوں اس کی فکر چھوڑیں۔ یاد رکھیں ڈر موت کو نہیں لیکن زندگی کو ضرور روک سکتا ہے۔

2) انسان خدا نہیں ہے نعوذوبااللہ کہ جو وہ چاہے وہی ہوگا۔ بعض اوقات بہت قابیلیت اور کوشش کے باوجود بھی وہ نہیں ہوتا جو انسان چاہتا ہے۔ یہ انسان کو تسلیم کرنا ہوگا۔

3) ورزش کریں۔ ضروری نہیں آپ جِم جائیں۔ واک بھی ایک ورزش ہے۔ غیر ضروری طور پر بائیک چلانے اور گاڑی چلانے کی بجائے پیدل واک کریں۔

4) مصروفیت بڑھائیں۔ حد سے زیادہ آرام اور ریلیکسیشن ذہنی سکون کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

5) اکیلے رہنا چھوڑیں لوگوں میں گھل ملیں جس کا ایک آسان طریقہ محلے کی مسجد میں پنج وقتہ باجماعت نماز بھی ہے۔

6) نماز اگر خشوع اور وضوع سے پڑھیں تو یہ ایک مڈیٹیشن یعنی مراقبہ ذہنی یکسوئی کا طریقہ بھی ہے۔

7) غمگین گانے سننا چھوڑیں۔ غمگین ڈرامے اور فلمیں دیکھنا بند کردیں۔ غمگین لٹریچر پڑھنا بند کردیں۔ پریکٹیکل لائف میں حقیقی غم ویسے بھی بہت سارے ہیں۔ مصنوعی طور پر اپنے اوپر غم مسلط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آبیل مجھے مار والی پریکٹیس ہے یہ۔

📍اہم ترین بات❗
اگر آپ فح+ش ویڈیوز اور مشت زنی وغیرہ جیسی عادات میں مبتلا ہیں تو سختی سے اس عادت کا سر کچل دیں۔
یہ زندگی میں شامل ہو تو پھر روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں خوشیاں محسوس ہی نہیں ہوتی۔

اس عادت سے دوسرے کام کرنے کی ساری موٹیویشن ختم ہوجاتی ہے۔
یہ انرجی ، توجہ اور وقت کو چوس لیتی ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے آپ کوئی دوسرا اہم کام سر انجام دے سکتے ہیں۔

ہر دوسری بار دماغ پہلے کے مقابلے میں نیا اور زیادہ شدید پو+رن دیکھنا پسند کرے گا جس کی تلاش میں گھنٹوں لگے رہنے سے بندے کا بہت وقت ضائع ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض لوگ اس نئے پن کی اور زیادہ سیٹسفیکشن کے لیے پہلے سے زیادہ شدید مواد تک رسائی کے لیے پو*ن سائٹس کے مہنگے سبسکرپشنز لے کر الگ پیسے اڑانے لگتے ہیں۔
کچھ کو جب توانائی میں کمی یا بیماری محسوس ہوجاتی ہے تو اسی حساب سے خوراک یا ڈاکٹر کی سروس لینے یا دوائیاں کھانے پر الگ پیسے لگانا شروع کردیتے ہیں اور کمانے لائق تو یہ ہوتے نہیں۔

بس گھر سے اٹھاکر اڑاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عادت آپ کو تنہا زندگی گزارنے یعنی لوگوں سے کٹ آف کرنے میں بھی بڑا تھگڑا رول ادا کرتا ہے ،
کیونکہ پو+رن دیکھنے کے لیے آپ کو اکیلا ہونا پڑتا ہے۔

9) آن لائن لائف کو بیلنس رکھیں۔ ہر وقت ڈیجیٹل ڈیوائس یعنی موبائل یا کمپیوٹر میں نہ گھسے رہیں۔
فیزیکل ورلڈ کا بھی مزہ لیا کریں۔ فزیکل ورلڈ کے ایکٹویوٹیز ، فزیکل گیم کھیلنے ،فزیکل محفلوں،یاروں دوستوں ، غمی خوشی میں شرکت کے محفلوں وغیرہ میں حصہ لیں۔ انسان معاشرتی جانور ہے۔ تنہا نہیں رہ سکتا۔

10) جو کام ہوجاتا ہے اس پر حد سے زیادہ اور مستقل طور پر پچھتائیں مت۔ ہاں کام غلط ہو تو توبہ ضرور کریں آئندہ نہ کرنے کی ٹھانیں ،ممکن ازالہ کریں لیکن اس کے باوجود بھی پچھتانا کوئی معقول رویہ نہیں ہے۔
انسان فرشتہ نہیں ہے کہ پرفیکٹ ہو۔ ہاں بس ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے۔ غلطی پر توبہ اور آئندہ نہ کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

11) ڈسپلنڈ رہنا سیکھیں۔ کچھ اصولوں کی پابندی۔ وقت کی پابندی۔ اس میں بھی پنج وقتہ باجماعت نماز بہت رول پلے کرتا ہے۔ باجماعت نہ بھی ہو لیکن کم سے کم وقت پر نماز۔

راجپوت 🍂

26/09/2025

"اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں"

کینیڈا کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر جارڈن پیٹرسن کا کہنا ہے:
“اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں، بلکہ ان کی پرورش ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کے طور پر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا حد سے زیادہ لاڈ پیار انہیں نرگسیت (Narcissism) کا شکار بنا دے۔”

بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں
بچہ جب غلطی کرے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ غلط رویے پر ٹوکنا اور اصلاح کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
صرف محبت اور تعریفیں ہی دینا کافی نہیں، بلکہ حدود اور اصول بھی سکھانا لازمی ہے۔
ایک کامیاب پرورش وہی ہے جہاں بچہ نہ تو خوف کا شکار ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ بگڑ جائے۔
کیوں ضروری ہے متوازن تربیت؟

پروفیسر پیٹرسن کے مطابق:
اگر والدین بچے کو صرف مرکزِ کائنات بنا دیں، تو بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر چیز اس کی خواہش کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ رویہ آگے چل کر خود غرضی، بدتمیزی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کی عادت پیدا کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، ایک متوازن تربیت بچے کو نہ صرف ذمہ دار انسان بناتی ہے بلکہ وہ معاشرے کا مثبت فرد بھی بنتا ہے۔

عملی نکات والدین کے لیے:
1. بچے کو محبت دیں مگر اصولوں کے ساتھ۔
2. غلطی پر پیار سے سمجھائیں اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کریں۔
3. بچے کو دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔
4. محنت اور صبر کی اہمیت بتائیں، تاکہ وہ حقیقی دنیا میں کامیاب ہو سکے۔

💡 یاد رکھیں:
بچے کو نکھارنا صرف اس کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار اور متوازن بچہ کل کو ایک اچھا شہری، والدین، اور لیڈر بن سکتا ہے۔

Address

Kasur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTI Lovers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share