Khanpur

Khanpur � Verified Official © ORIGINAL PAGE ® █║▌│█│║▌█║│█│█║▌║▌║?
(1)

خان پور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بہاولپور ڈویژن
ضلع رحیم یار خان کی تحصیل ہے.
یہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کے لحاظ
سے پاکستان کا 45 واں سب سے بڑا شہر ہے۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق ،
شہر کی آبادی 203،597 تھی.
جس کی سالانہ شرح نمو 2.6 فیصد ہے۔ 2009 تک خانپور کی ریکارڈ آبادی 156،152 تھی اور
2017 کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق تحصیل خان پور کی کل آبادی 983،415 ہے۔
خان پور میں گرم ریگستان

آب و ہوا جس میں گرمی اور ہلکی سردی ہے۔ بارش کم ہے ، لیکن مون سون کے موسم میں جولائی سے ستمبر تک کچھ بارش ہوتی ہے۔
یہ شہر گنے اور کپاس کی فصلوں کے مرکز کے طور پر زرعی طور پر معاشی طور پر ایک آمد ہے۔ یہ اپنے علاقے کے لحاظ سے ضلع رحیم یار خان کی سب سے بڑی تحصیل میں سے ایک ہے۔ صحرائے چولستان بنیادی طور پر خان پور کے علاقے میں واقع ہے۔ پاکستان میں بہت سے مقامات ہیں جن کا نام خان پور ہے. لیکن ان میں سے صرف دو کو تحصیل کا درجہ حاصل ہے اور ایک دوسری سرحد میں ہے۔ خان پور کو خان پور کٹورا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ضلع بننے کے لئے ایک مضبوط امیدوار بھی ہے ، کیونکہ اسے 1938 تک برطانوی دور میں ڈسٹرکٹ کا درجہ حاصل تھا۔
خان پور کو خان پور کٹورا بھی کہا جاتا ہے۔ اردو لفظ "کٹورا" کو انگریزی میں کٹوری کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ نام عام اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے کیونکہ خان پور میں مٹی کے پیالے تیار کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ شہر خاص طور پر اس کے "پیرے" "کھویا" "سون ہلواہ" مٹھائیاں کے لئے
بھی ملک بھر میں مشہور ہے۔
خان پور ایک بہت مشہور اولیا قدریہ کے لئے بھی مشہور ہے ،
جو دین پور شریف نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع ہے
یہ گاؤں خان پور ریلوے اسٹیشن سے 10 منٹ کی مسافت پر ہے۔ دو مشہور مذہبی شخصیات ولی اللہ ہیں جن کو حضرت مولانا میاں سراج احمد صحاب کہا جاتا ہے ، اور آپ کے فرزند حضرت مولانا میاں مسعود احمد صاحب اور میاں محمد انور ذیشان جو دین پور شریف کی تاریخ میں پہلے عالم ہیں.

Runway of Old Airport of Khanpur.........خانپور کے چھوٹے اور غیر استعمال شدہ ایئرپورٹ کا رن وے۔۔۔۔خان پور شہر میں قیام پ...
06/08/2026

Runway of Old Airport of Khanpur.........

خانپور کے چھوٹے اور غیر استعمال شدہ ایئرپورٹ کا رن وے۔۔۔۔

خان پور شہر میں قیام پاکستان سے بھی پہلے ایک ایئرپورٹ بنایا گیا تھا جہاں نواب آف بہاولپور بھی اترتے تھے۔
جنگی خطرے کے پیش نظر یہ رن وے ایک دو بار جنگی جہازوں کی لینڈنگ کے لیئے بھی استعمال ہوا تھا۔

خانپور کی پہچانکھویا اور پیڑےسرائیکی وسیب کا تاریخی شہر خانپور اپنی تہذیب، مہمان نوازی اور ذائقہ دار سوغاتوں کی وجہ سے ا...
04/08/2026

خانپور کی پہچان
کھویا اور پیڑے
سرائیکی وسیب کا تاریخی شہر خانپور اپنی تہذیب، مہمان نوازی اور ذائقہ دار سوغاتوں کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اسے خانپور کٹورا بھی کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کے بنےدھاتی کٹورے بہت مشہور تھے۔

خان پور کی سوغاتوں میں سب سے نمایاں نام خانپور کے کھوئے والے پیڑوں کا ہے، جن کی شہرت نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک بھی پہنچی ہوئی ہے۔
اگرچہ یہاں کی اصل مشہور چیز کچا کھویا تھا لیکن وقت بدلا اور ان سے بننے والے پیڑوں کی دھوم سوشل میڈیا اور خصوصاً ہاجمولا کے ایک کمرشل کے ذریعے ملک بھر میں پہنچی، جس سے پیڑے فہرست میں اوپر آ گئے۔
#تیاری
خانپور کے پیڑے خالص دودھ کے کھوئے، چینی اور دیسی گھی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ پہلے خالص دودھ کو بڑی کڑاہی میں مسلسل پکا کر کھویا تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں چینی شامل کر کے مکس کیا جاتا ہے۔ ایک تھال میں نکال کر ٹھنڈا کر کے انہیں پیڑوں کی شکل دی جاتی ہے اور آخر میں میں کھوپرے/ناریل میں کوٹ کر کے سجا دیا جاتا ہے۔
کہیں کہیں کھوپرے کی بجائے اس میں پستہ اور بادام بھی ڈالا جاتا ہے۔
انہیں روایتی انداز میں ہلکی آنچ پر مسلسل پکایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا ذائقہ اور خوشبو برقرار رہتی ہے۔ چالیس کلو دودھ سے تقریبا بارہ کلو تک پیڑے بنائے جا سکتے ہیں۔
#پیکنگ
میرے بچپن میں انہیں کانوں اور تیلیوں سے بنی ٹوکری میں پیک کر کے دیا جاتا تھا۔ عیدوں پر پیڑوں کی ٹوکریاں عزیز و اقارب کو بھیجی جاتی تھیں۔ افسوس کہ اب یہ رواج ختم ہو گیا ہے۔
اس کی وجوہات میں ہنرمندوں کی کمی، لاگت اور اس پہ لگنے والا وقت ہے۔ اب گتے کے ڈبوں میں یہ پیک کیئے جاتے ہیں لیکن آنکھوں کو وہی ٹوکری بھلی لگتی تھی۔
آج بھی عیدین، خوشی کی تقریبات یا کسی عزیز کے لیے تحفہ لے جانا ہو تو خانپور کے پیڑے پہلی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ مسافر جب اس شہر سے گزرتے ہیں تو ان پیڑوں کا ذائقہ چکھے بغیر اپنی منزل کی طرف روانہ ہونا ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مٹھائی خانپور کی پہچان بن چکی ہے۔

خان پور میں اسٹیشن سے لے کر بائی پاس تک پیڑوں کی کئی دوکانیں ہیں لیکن ان میں سےچند ایک کا ہی ذائقہ اچھا ہے۔ اس ضمن میں بڑے میاں ٹال والے کا ذکر ناں کرنا یادتی ہو گی۔
سنا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بابا جی بڑے میاں کے ایک ہندو دوست جو حلوائی بھی تھے، انہیں کچے کھوئے اور پیڑوں کی خاص ترکیب دے گئے تھے جس کو انہوں نے آگے بڑھایا اور لکڑی والے ٹال کے سامنے پیڑوں کا کام شروع کیا۔
اللہ نے رنگ لگایا اور وہ دوکان بن گئی۔ ٹوکری میں پیڑے دینا بھی انہوں نے متعارف کروایا تھا۔ ان کی وفات کے بعد وہ دوکان ایک سے دو ہو گئی۔آج ان کے تین چار بیٹے الگ الگ جگہ پر کھوئے والے پیڑوں کا کام کرتے ہیں۔
اس کے بعد کھویا پیلس کا نمبر آتا ہے جنہوں نے ایک مختلف ڈیزائن کے پیڑے جدید پیکنگ میں متعارف کروائے اور خود کو ایک بڑے برینڈ کے طور پہ منوایا۔
ان کےعلاوہ اسٹیشن کی دوکانیں اوردیگر بیکریاں بھی ہیں جہاں کے پیڑے کچھ خاص نہیں۔

خان پور آنے والے دوستوں کو میں پیڑے ضرور کھلاتا ہوں۔
میں چونکہ مستنصر حسین تارڑ صاحب کے حلقہ ارادت کا بھی حصہ ہوں سو ایک بار ان کے لیئے بھی لےگیا۔ وہ اس کے فین ہو گئے اور اپنے ایک مضمون میں ان پیڑوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا:
”خان پور سے ایک ڈاکٹر صاحب خصوصی طور پر آئے۔ میرے لئے خان پور کی سوغات پیڑے لائے۔
نہائت خستہ گچک کے پیکٹ سب کے لئے لائے ۔ اور ہوٹل کے کچن میں پہنچ کر تقریباً دس کلو تازہ مچھلی عملے کے سپرد کی کہ کل صبح اسے تل کر ناشتے پر تارڑ صاحب اور ان کے دوستوں کو پیش کی جائے۔ ویسے مجھے ایسے فین بہت پسند آتے ہیں۔
اور میرے دوست اتنے کمینے تھے کہ گچک اور اگلی صبح بہت ذائقے دار فرائی مچھلی پر بھی چنداں خوش نہ ہوئے کہ تارڑ صاحب نے وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے، خان پور کے پیڑے ہیں سنگھانے تک نہیں۔۔۔۔ میں نے بھی برابر کی کمینگی دکھائی اور پیروں کے ڈبے کو ہوا تک نہیں لگوائی ، سینے سے لگائے رکھا۔
میں متھرا کا وہ لالچی پانڈا پنڈت تھا جس کی جان کھوٹے کے پیڑوں میں تھی۔ بھلا کوئی اپنی جان سے بھی جاتا ہے۔“
یہ تحریر اپریل 2023 کےاخبار جہاں اور ان کی 2025 میں آئی کتاب کشمیر تصویر دونوں میں موجود ہے اور یقناً میرے اور خان پور کے لیئے ایک اعزاز کی بات ہے۔
یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ خانپور کے کھوئے والے پیڑے اس شہر کی شناخت اور فخر ہیں۔ ان کی منفرد مٹھاس، خالص اجزاء اور روایتی تیاری انہیں پاکستان کی بہترین سوغاتوں میں شامل کرتی ہے۔
جو شخص ایک بار خانپور کے اصل پیڑوں کا ذائقہ چکھ لے، وہ اس ذائقے کو مدتوں نہیں بھولتا۔
تحریر وتحقیق
ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

رحیم یارخان یونی لیور انڈر پاس کی موجودہ صورتحال
03/08/2026

رحیم یارخان
یونی لیور انڈر پاس کی موجودہ صورتحال

31/07/2026

ہیں تا پردیس نبھاؤ نی پمدی اے

30/07/2026

"ہمیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے کیا لینا دینا؟ ہمیں تو صرف اپنی انجلی کی فکر ہے۔"

28/07/2026

🚨 گمشدگی کا اعلان 🚨
اہلِ خان پور سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مقبول بی بی (بیوہ)، رہائشی ائیرپورٹ روڈ، خان پور، آج عدالت خان پور سے واپسی کے دوران اپنے مکان کی رجسٹری اور دیگر اہم دستاویزات رکشے میں بھول گئی ہیں۔
یہ تمام کاغذات مقبول بی بی کے نام پر ہیں اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہیں۔
اگر رکشہ ڈرائیور بھائی یا کسی بھی شخص کو یہ قیمتی کاغذات ملے ہوں تو براہِ کرم امانت سمجھتے ہوئے فوری طور پر درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں:
📞 رابطہ نمبر:
0305-2190135
0308-8442239
آپ کے ایک چھوٹے سے تعاون سے ایک بیوہ خاتون کی بڑی پریشانی دور ہو سکتی ہے۔
مہربانی فرما کر اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ جزاک اللہ خیراً۔

🚀 WE'RE HIRING!Join the Abdullah Creation Team📍 Location: On-Site – Rahim Yar KhanOpen Positions🎨 Graphic Designer🎬 Vide...
27/07/2026

🚀 WE'RE HIRING!
Join the Abdullah Creation Team
📍 Location: On-Site – Rahim Yar Khan

Open Positions
🎨 Graphic Designer
🎬 Video Editor

We Offer
✅ Full-Time Job Opportunities
✅ Internship Opportunities
✅ Professional Growth & Learning
✅ Friendly & Creative Work Environment

Requirements
Strong portfolio (Portfolio is Mandatory)
Good knowledge of Adobe Photoshop, Illustrator, Premiere Pro, or After Effects
Creative thinking and attention to detail
Ability to meet deadlines
Passion for learning and improving
How to Apply

📧 Send your CV & Portfolio:
[email protected]

📱 WhatsApp:
+92 304 2140021

📝 Apply Online:
Google Form: https://docs.google.com/forms/d/1DWf_MIKQTTHHwho41prYBHXk2ERfgctghYOUX_gvLEk/edit

⏳ Limited Positions Available – Apply Now!

26/07/2026

🚨 خان پور بائی پاس روڈ پر مبینہ اغوا کی کوشش ناکام

آج خان پور بائی پاس روڈ پر ایک تشویشناک واقعہ پیش آنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ موجود معلومات کے مطابق، ایک خاتون اپنی بچی کو مبینہ طور پر اغوا ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو گئی۔
متاثرہ والدہ کے مطابق، ایک خاتون بچی کو رحیم یار خان سے خان پور لے آئی تھی، تاہم بروقت کارروائی اور والدہ کی موجودگی کے باعث بچی محفوظ ہو گئی۔
اگر یہ واقعہ درست ہے تو متعلقہ اداروں کو فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔

26/07/2026

رحیم یار خان میں شادی میں ہونے والا واقعہ

Address

Khanpur
Khanpur Janubi
64100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share