02/10/2025
غزہ کے لیے سمندر کا راستہ اور بحری قافلوں کی قربانیوں کی تاریخ
غزہ کی مظلوم سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے محاصرے میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ محاصرہ نہ صرف وہاں کی معیشت بلکہ انسانی زندگی کو بھی مفلوج کرچکا ہے۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں سے بہادر انسان بارہا سمندر کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ یہ صرف امداد لے جانے والے جہاز نہیں تھے بلکہ یہ قافلے انصاف، انسانیت اور آزادی کے پیغامبر تھے۔
ہر بار یہ قافلے نکلے، اور ہر بار اسرائیل نے انہیں روکنے کے لیے طاقت استعمال کی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ قافلے جھکے نہیں، بلکہ ہر قربانی کے بعد پہلے سے زیادہ حوصلے کے ساتھ نکلے۔
..........
2009 – Gaza Freedom March
قاہرہ سے نکلنے والے ہزاروں کارکنان کو غزہ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔
2010 – Gaza Freedom Flotilla / Mavi Marmara
چھ جہاز غزہ کے لیے نکلے مگر اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان پر حملہ کیا۔ اس بزدلانہ حملے میں ترکی کے 10 کارکن شہید ہوئے۔ یہ واقعہ عالمی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
2011 – Freedom Flotilla II
تقریباً 10 جہاز تیار تھے لیکن اسرائیل کے دباؤ پر یونانی حکومت نے ان جہازوں کو بندرگاہ سے نکلنے ہی نہ دیا۔
2012 – Ship to Gaza (Estelle)
سویڈن سے نکلنے والی کشتی "Estelle" کو اسرائیلی بحریہ نے زبردستی روک کر ضبط کر لیا۔
2015 – Freedom Flotilla III
جہاز "Marianne of Gothenburg" کو اسرائیلی نیوی نے حملہ کر کے عملے سمیت گرفتار کرلیا۔
2016 – Women’s Boat to Gaza
انسانی ہمدردی کی ایک انوکھی مثال تھی جب خواتین کارکنان کی دو کشتیاں "Zaytouna-Oliva" کے نام سے نکلیں۔ لیکن اسرائیل نے خواتین کو بھی نہ بخشا اور سب کو گرفتار کرلیا۔
2018 – Freedom Flotilla Alliance
ناروے اور سویڈن سے نکلنے والے کئی جہاز (Freedom, al-Awda, Mairead) بھی اسرائیل نے راستے میں روک لیے اور غزہ پہنچنے نہ دیا۔
2019–2023
اس دوران کئی چھوٹی کوششیں ہوئیں لیکن یا تو قاہرہ اور قبرص میں روک دی گئیں یا اسرائیلی بحریہ نے سمندر میں گھیر لیا۔
---
2025 – Global Sumud Flotilla
اب ایک نیا قافلہ "گلوبل صمود فلوٹیلا" نکل چکا ہے۔ یہ صرف امداد نہیں لے جا رہا بلکہ یہ گزشتہ تمام قربانیوں کا تسلسل ہے۔ یہ قافلہ پوری دنیا کو یاد دلا رہا ہے کہ مظلوم غزہ آج بھی اسرائیلی محاصرے میں قید ہے۔
یہ فلوٹیلا انہی خطرناک پانیوں میں ہے جہاں پہلے اسرائیل نے جہازوں کو زبردستی موڑا، کارکنان کو قید کیا، اور معصوم انسانوں کی جانیں لیں۔ ترکی کے کارکنان کی شہادت آج بھی عالمی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔