Safwan

Safwan Content Creator....

02/10/2025

آج کا سوال

کیا اس بار بھی تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی؟
کیا پھر اسرائیل امن، انسانیت اور قربانی کے قافلے کو زبردستی روکے گا؟
کیا دنیا سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش بیٹھے گی؟

---

یہ وقت خاموشی کا نہیں ہے۔
یہ وقت دعا، صدا اور جدوجہد کا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کے لیے آواز بلند کیجیے۔ دنیا بھر کے ساتھ مل کر یہ دباؤ ڈالیے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور مظلوم عوام تک امداد پہنچنے دے۔

غزہ کی مظلوم عوام آج بھی ہماری نگاہیں اپنی طرف لگی دیکھ رہی ہے۔
ان کے لیے دعا کریں، ان کے لیے آواز اٹھائیں۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کو تحفظ دو! غزہ کو زندگی دو!

غزہ کے لیے سمندر کا راستہ اور بحری قافلوں کی قربانیوں کی تاریخغزہ کی مظلوم سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے محاصرے...
02/10/2025

غزہ کے لیے سمندر کا راستہ اور بحری قافلوں کی قربانیوں کی تاریخ

غزہ کی مظلوم سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے محاصرے میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ محاصرہ نہ صرف وہاں کی معیشت بلکہ انسانی زندگی کو بھی مفلوج کرچکا ہے۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں سے بہادر انسان بارہا سمندر کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ یہ صرف امداد لے جانے والے جہاز نہیں تھے بلکہ یہ قافلے انصاف، انسانیت اور آزادی کے پیغامبر تھے۔

ہر بار یہ قافلے نکلے، اور ہر بار اسرائیل نے انہیں روکنے کے لیے طاقت استعمال کی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ قافلے جھکے نہیں، بلکہ ہر قربانی کے بعد پہلے سے زیادہ حوصلے کے ساتھ نکلے۔
..........

2009 – Gaza Freedom March

قاہرہ سے نکلنے والے ہزاروں کارکنان کو غزہ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔

2010 – Gaza Freedom Flotilla / Mavi Marmara

چھ جہاز غزہ کے لیے نکلے مگر اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان پر حملہ کیا۔ اس بزدلانہ حملے میں ترکی کے 10 کارکن شہید ہوئے۔ یہ واقعہ عالمی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

2011 – Freedom Flotilla II

تقریباً 10 جہاز تیار تھے لیکن اسرائیل کے دباؤ پر یونانی حکومت نے ان جہازوں کو بندرگاہ سے نکلنے ہی نہ دیا۔

2012 – Ship to Gaza (Estelle)

سویڈن سے نکلنے والی کشتی "Estelle" کو اسرائیلی بحریہ نے زبردستی روک کر ضبط کر لیا۔

2015 – Freedom Flotilla III

جہاز "Marianne of Gothenburg" کو اسرائیلی نیوی نے حملہ کر کے عملے سمیت گرفتار کرلیا۔

2016 – Women’s Boat to Gaza

انسانی ہمدردی کی ایک انوکھی مثال تھی جب خواتین کارکنان کی دو کشتیاں "Zaytouna-Oliva" کے نام سے نکلیں۔ لیکن اسرائیل نے خواتین کو بھی نہ بخشا اور سب کو گرفتار کرلیا۔

2018 – Freedom Flotilla Alliance

ناروے اور سویڈن سے نکلنے والے کئی جہاز (Freedom, al-Awda, Mairead) بھی اسرائیل نے راستے میں روک لیے اور غزہ پہنچنے نہ دیا۔

2019–2023

اس دوران کئی چھوٹی کوششیں ہوئیں لیکن یا تو قاہرہ اور قبرص میں روک دی گئیں یا اسرائیلی بحریہ نے سمندر میں گھیر لیا۔

---

2025 – Global Sumud Flotilla

اب ایک نیا قافلہ "گلوبل صمود فلوٹیلا" نکل چکا ہے۔ یہ صرف امداد نہیں لے جا رہا بلکہ یہ گزشتہ تمام قربانیوں کا تسلسل ہے۔ یہ قافلہ پوری دنیا کو یاد دلا رہا ہے کہ مظلوم غزہ آج بھی اسرائیلی محاصرے میں قید ہے۔

یہ فلوٹیلا انہی خطرناک پانیوں میں ہے جہاں پہلے اسرائیل نے جہازوں کو زبردستی موڑا، کارکنان کو قید کیا، اور معصوم انسانوں کی جانیں لیں۔ ترکی کے کارکنان کی شہادت آج بھی عالمی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

06/09/2025

پیار کی حقیقت بڑی نازک ہے…یہ کبھی زبان پر نہیں آتی، یہ کبھی اقرار کی صدا نہیں مانگتی۔یہ تو وہ احساس ہے جو دل میں پروان چ...
25/08/2025

پیار کی حقیقت بڑی نازک ہے…
یہ کبھی زبان پر نہیں آتی، یہ کبھی اقرار کی صدا نہیں مانگتی۔
یہ تو وہ احساس ہے جو دل میں پروان چڑھتا ہے،
خاموشیوں میں بولتا ہے،
اور قربانیوں میں اپنی صورت دکھاتا ہے۔

لیکن، سنو…
پیار کرنے والا اکثر یہ نہیں بتا پاتا کہ اس نے کتنا چاہا۔
اصل فیصلہ تو اُس دل کے ہاتھ میں ہوتا ہے
جس کے لیے سب کچھ کیا گیا۔
وہی دل بتاتا ہے کہ یہ قربانی پیار تھی،
یا عادت کا بوجھ…
یہ چاہت حقیقت تھی،
یا محض ایک خواب۔

پیار وہ راستہ ہے
جہاں دینے والا سب کچھ لٹا دیتا ہے،
مگر پہچان اُس کے نصیب میں نہیں ہوتی۔
پہچان تو اُس کے حصے میں آتی ہے
جو چاہا گیا ہو۔
اگر وہ دل کہہ دے کہ ہاں… یہ پیار تھا،
تو پھر لمحے امر ہو جاتے ہیں،
اور چاہنے والے کا وجود بھی ستاروں کی طرح
ہمیشہ جگمگاتا رہتا ہے۔

ورنہ…
ساری محبتیں، ساری دعائیں،
ساری خاموشیاں اور قربانیاں
یادوں کے اندھیروں میں
یوں گم ہو جاتی ہیں
جیسے سمندر میں پھینکی گئی
کسی موتی کی مالا—
جس کے ایک ایک دانے پر روشنی جمی ہو،
مگر وہ روشنی کسی کی آنکھ تک نہ پہنچ سکے۔

تحریر: حافظ محمد صفوان

یقین کا کھو جاناہم پر یقین کرنے والوں کا اعتبار ہم کبھی کبھی ایسے کچل دیتے ہیںجیسے نازک پھول کو مٹھی میں بے رحم ہاتھوں س...
09/08/2025

یقین کا کھو جانا

ہم پر یقین کرنے والوں کا اعتبار ہم کبھی کبھی ایسے کچل دیتے ہیں
جیسے نازک پھول کو مٹھی میں بے رحم ہاتھوں سے مسلا جائے۔
وہ دل کی بات کہنے سے ڈرنے لگتے ہیں،
ہمارے سامنے مسکرانے کے بجائے نظریں چرا لیتے ہیں،
اور ہم ان کی آنکھوں میں وہ ٹوٹا ہوا عکس دیکھتے ہیں
جو کبھی ہمارے لیے جگمگاتا تھا۔

پھر وہ خاموشی کو اپنا ساتھی بنا لیتے ہیں،
اور ہم اپنی ہی غلطیوں کے جنگل میں
اس اعتبار کی قبریں تلاش کرتے رہ جاتے ہیں…

لیکن ٹوٹا ہوا اعتبار
پھول کی وہ خوشبو ہے جو ہوا میں کھو جائے
اور لاکھ پکارنے پر بھی واپس نہ آئے۔

اور جب وہ لوٹ کر نہیں آتا…
تو ہمارے دل میں صرف ایک خالی پن اور ایک دیرپا پچھتاوا رہ جاتا ہے۔

تحریر: حافظ محمد صفوان

موت کی حقیقت — آنکھیں کھول دینے والی سچائیموت... ایک ایسی سچائی ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔نہ کوئی بادشاہ اس سے بچ سکا،...
05/08/2025

موت کی حقیقت — آنکھیں کھول دینے والی سچائی

موت... ایک ایسی سچائی ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
نہ کوئی بادشاہ اس سے بچ سکا، نہ کوئی فقیر۔
نہ کوئی عالم، نہ جاہل۔ نہ جوان، نہ بوڑھا۔
یہ زندگی کا وہ دروازہ ہے، جس سے ہر انسان کو گزرنا ہے۔

جب کسی انسان کی روح نکلتی ہے، تو وہ جسم جسے کل تک ہم نام سے بلاتے تھے، "میت" کہلانے لگتا ہے۔
اسی لمحے سے ایک سفر شروع ہو جاتا ہے — ایک ایسا سفر جس کا آغاز "موت" ہے مگر انجام "ابدیت" ہے۔

قرآن کہتا ہے:

> قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ
کہہ دو: "جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تمہیں آ کر ہی رہے گی۔"
(سورۃ الجمعہ: 8)

مگر سوال یہ ہے:
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اسلام میں موت کے بعد میت کو اتنے مراحل سے کیوں گزارا جاتا ہے
کیا یہ سب رسومات ہیں؟
نہیں!
یہ ہر زندہ انسان کے لیے پیغام ہیں... بصیرت کے دروازے... غور و فکر کی صدا۔

پہلا مرحلہ: بے بسی کا آغاز

روح نکل چکی ہوتی ہے۔
میت سامنے پڑی ہوتی ہے، اور اُس کا جسم بالکل خاموش...
جو کبھی حکم دیتا تھا، اب دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
نہ زبان حرکت کرتی ہے، نہ ہاتھ پیر۔
صرف خاموشی، بے بسی، اور انتظار۔

سوچیں! اگر زندگی میں ہم پر کبھی بے بسی کا وقت آیا ہو، تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
اب ذرا سوچیں کہ قبر میں کیا ہوگا؟
جہاں کوئی زبان نہ بولے گی، نہ کوئی دوسرا سنے گا، نہ معافی مانگنے کا موقع ہوگا۔

غسل، کفن، جنازہ — دنیا سے مکمل جدا ہونا

میت کو غسل دیا جاتا ہے۔
پاکیزہ طریقے سے نہلایا جاتا ہے۔
پھر ایک سادہ سفید کفن پہنایا جاتا ہے —
وہی انسان جو دنیا کے مہنگے لباسوں کا دلدادہ تھا، اب ایک سفید چادر میں لپٹا ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میت کو اچھے طریقے سے غسل دو اور عمدہ کفن پہناؤ، کیونکہ یہ اس کی رخصتی کا موقع ہے۔"
(ابو داؤد: 3140)

پھر لوگ اُس کا جنازہ پڑھتے ہیں۔
بلند آواز سے کلمے کی صدائیں...
لیکن اب میت خود کچھ نہیں بول سکتی۔
بس خاموشی سے سُن رہی ہوتی ہے...

آخرکار وہ لمحہ آتا ہے جب میت کو قبر میں اتارا جاتا ہے۔
چھ فٹ گہرا، تنگ، اندھیرا گڑھا...
جہاں نہ بجلی ہے، نہ موبائل، نہ ایئرکنڈیشنڈ، نہ انسان۔

قرآن یاد دلاتا ہے:

> مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
"ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔"
(سورۃ طٰہٰ: 55)

اب کوئی ساتھ نہیں جاتا۔
نہ بیوی، نہ بچے، نہ والدین، نہ مال و دولت۔
سب آپ کو مٹی کے حوالے کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔

لیکن ایک چیز ساتھ جاتی ہے...

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "تین چیزیں میت کے ساتھ جاتی ہیں: اس کا مال، اس کے اہل و عیال اور اس کے اعمال۔ دو واپس آجاتی ہیں، صرف اعمال باقی رہتے ہیں۔"
(بخاری: 6514)

بس یہی آپ کی اصل دولت ہے:

اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت

نماز، روزہ، زکوٰۃ

لوگوں کا حق ادا کرنا

نیک اولاد

صدقہ جاریہ

علم جو فائدہ دے
اور وہ دعائیں جو لوگ آپ کے حق میں کریں

حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے:

> "لوگ سوئے ہوئے ہیں، موت آئے گی تو جاگیں گے۔"

امام حسن بصریؒ نے کہا
"اے ابنِ آدم! تو دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن جاتا ہے، تو تیرا ایک حصہ کم ہو جاتا ہے۔"

تو اب سوچیے!
کیا ہم اپنے دنوں کو ضائع کر رہے ہیں؟
یا سنوار رہے ہیں؟

ابھی وقت ہے... لوٹ آئیے!

زندگی ایک بار ملتی ہے — اور موت کسی کو خبر دے کر نہیں آتی۔
ابھی وقت ہے توبہ کا، ندامت کا، اصلاح کا، عبادت کا۔
اللہ کی طرف رجوع کا۔

> وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
"اور سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرو، اے مؤمنو! تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔"
(سورۃ النور: 31)

اے انسان!
موت تیرے بہت قریب ہے...
لیکن تیرا رب بہت مہربان ہے...

آج اگر پلٹ آؤ گے، تو وہ تمہیں معاف بھی کرے گا اور عزت بھی دے گا۔
کیونکہ... یہ زندگی ایک بار کی ہے...
اور موت بہت یقینی ہے۔

تحریر: حافظ محمد صفوان

تحریر: حقیقت اور خوش فہمی کے بیچکبھی کبھی کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس طرح آتے ہیں جیسے دل کی دعا پوری ہو گئی ہو۔ ہم ان سے...
05/08/2025

تحریر: حقیقت اور خوش فہمی کے بیچ

کبھی کبھی کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس طرح آتے ہیں جیسے دل کی دعا پوری ہو گئی ہو۔ ہم ان سے بے وجہ جُڑتے ہیں، ان کی ہر بات ہمارے لیے معنی رکھتی ہے، اور ہم انہیں اپنی زندگی کی وہ جگہ دے دیتے ہیں جہاں ہم خود کو بھی مکمل طور پر نہیں رکھتے۔

ہم دل سے مانتے ہیں، بھروسہ کرتے ہیں، اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ حقیقت کو صرف ظاہر میں تلاش کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک احساسات صرف تب قابلِ قبول ہوتے ہیں جب وہ آنکھوں سے نظر آئیں، اور جو دل میں چھپا ہو، وہ محض "خوش فہمی" سمجھا جاتا ہے۔

ایسے لوگ حقیقت کو دلیلوں سے تولتے ہیں، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ خلوص دلیل نہیں مانگتا۔ محبت حساب کتاب سے پاک ہوتی ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو لفظوں سے نہیں، نیت سے پہچانا جاتا ہے۔

کبھی کسی نے تمہیں بنا کسی لالچ کے چاہا ہو، تمہاری باتوں کو سنجیدگی سے لیا ہو، تمہیں اپنی دنیا کا حصہ بنایا ہو، تو اسے خوش فہمی نہ سمجھنا...
شاید وہ شخص صرف تم پر یقین کر رہا تھا، بغیر کسی ثبوت کے...
اور یقین وہی کرتا ہے، جس کا دل سچا ہو۔

دنیا اکثر سچائی کو تاخیر سے پہچانتی ہے، اور جو لوگ دل سے سوچتے ہیں... وہ دنیا سے نہیں، اللہ سے جُڑے ہوتے ہیں۔

حافظ محمد صفوان

کاش° — ایک پچھتاوا، ایک صدا، ایک موقعوقت ایک بے رحم مسافر ہے…نہ رکتا ہے، نہ پلٹتا ہے، بس گزرتا جاتا ہے۔اور ہم انسان…؟ہم ...
03/08/2025

کاش° — ایک پچھتاوا، ایک صدا، ایک موقع

وقت ایک بے رحم مسافر ہے…
نہ رکتا ہے، نہ پلٹتا ہے، بس گزرتا جاتا ہے۔
اور ہم انسان…؟
ہم اس کے پیچھے چلتے چلتے ایک دن مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہر موڑ پر ایک "کاش" کھڑا ہوتا ہے۔

بچپن کے دن جب ماں کی گود جنت تھی، باپ کا سایہ رحمت تھا، دل بےفکر اور روح مطمئن تھی…
پھر جوانی آئی — طاقت، وقت، خواب اور جذبے ساتھ لائی، مگر بچپن پیچھے رہ گیا… اور بس "کاش!" بن گیا۔

جوانی میں عبادت کو ٹالا، گناہوں کو معمول سمجھا، نیکی کو کل پر چھوڑا…
پھر بڑھاپا آیا تو جوانی ایک اور "کاش!" بن کر دل کو چیرنے لگا۔

صحت کے دنوں میں جن کاموں کو آسان سمجھ کر چھوڑ دیا، آج بیماری میں وہ سب ایک دکھتی یاد کی صورت دل کو تڑپاتے ہیں:
"کاش میں وقت کی قدر کرتا!"
"کاش میں اللہ کی عبادت کرتا!"
"کاش میں نمازوں کو سنبھالتا!"

مگر اے انسان!
یہ سب کاشیں اس بڑے "کاش" کی جھلک ہیں… جو انسان کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا بن کر موت کے لمحے ظاہر ہوتا ہے۔
جب سانسیں ٹوٹنے لگتی ہیں، جب دنیا آنکھوں سے اوجھل اور آخرت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، تب روح چیخ کر کہتی ہے:

"کاش میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا!"
"کاش میں اپنی زندگی گناہوں میں نہ گنواتا!"
"کاش میں نیکیوں کا زادِ راہ تیار کرتا!"

مگر تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے…
نہ سجدے باقی ہوتے ہیں
نہ توبہ کی مہلت
نہ نیکی کا کوئی موقع
اور انسان، بس اپنی بےبسی اور شرمندگی کے ساتھ کفِ افسوس ملتا ہے۔

لیکن

اے نفسِ نادم، اے دلِ غافل…
ابھی وقت باقی ہے!
ابھی تمہارا "کاش" تمہارا "الحمدللہ" بن سکتا ہے!

کیسے؟

🔸 نماز کو اپنا سکون بناؤ
🔸 گناہوں سے توبہ کرو
🔸 قرآن کو اپنی روشنی بنا لو
🔸 والدین کی خدمت کو اپنا فخر سمجھو
🔸 جھوٹ، غیبت، حسد، غرور کو دل سے نکال دو
🔸 سچائی، نرمی، سخاوت اور عدل کو اپنی پہچان بنا لو

یاد رکھو

"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ"
(الزلزال: 7-8)

جو ایک ذرہ نیکی کرے گا، وہ اسے دیکھے گا
اور جو ایک ذرہ برائی کرے گا، وہ بھی اس کے سامنے آئے گی

انجام کیا ہوگا؟

اگر تم نے آج "کاش" کو عمل میں بدل لیا،
تو کل فرشتے تمہیں سلام کریں گے،
قبر تمہارے لیے باغ بنے گی،
اور جنت تمہارا انعام ہوگی — ایسی جنت جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی دل نے سوچا نہیں۔

اور اگر آج بھی غفلت کی چادر نہ ہٹی،
تو کل صرف حسرت، عذاب، اندھیری قبر، اور وہ دردناک "کاش" تمہارا مقدر ہوگا…
جس پر تم فریاد کرو گے:

"یَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا"
"کاش میں مٹی ہوتا!"
(النبأ: 40)

فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے!

کاش کو پچھتاوا بناؤ گے؟
یا بیداری کا چراغ؟
ابھی پلٹ آؤ…
ابھی توبہ کرو…
ابھی سنور جاؤ…
تاکہ کل جب دنیا چھوٹے،
تو تمہارا رب تم سے خوش ہو…
اور تم یہ کہو سکو:

"الحمدللہ! میں نے وقت پر سنبھلنے کا فیصلہ کیا!"

تحریر: حافظ محمد صفوان

03/08/2025

🌸 دل کا سکون کہاں ہے؟

جب دنیا شور مچاتی ہے، دل الجھتا ہے… تو بس ایک لمحہ رک کر قرآن کی طرف رجوع کریں۔

"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

آج تھوڑا وقت نکالیں… اور صرف ایک آیت دل سے پڑھیں، سمجھیں، اور دل پر اثر لینے دیں۔

🤲 دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن سے جڑنے کی توفیق دے۔

✍️ تحریر: حافظ محمد صفوان

#روحانیسکون #قرآنیسوچ

02/08/2025

🌙 آج کی قرآنی بات

"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"

ترجمہ: بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

اگر دل بوجھل ہو، دعائیں قبول نہ ہوں، تو مایوس نہ ہوں…
اللہ کی طرف سے ہر مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔

💬 آپ کو کس آیت نے زندگی کے مشکل لمحوں میں سہارا دیا؟
تبصرے میں ضرور شیئر کریں تاکہ کسی اور کا بھی ایمان مضبوط ہو جائے۔

✍️ تحریر: حافظ محمد صفوان

#روحانیسکون #قرآنیسوچ

03/06/2025

تکبیرات العید | اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ وللہ الحمد

Address

Khushab

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safwan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Safwan:

Share