29/05/2026
جنوبی وزیرستان اپر|
جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل سرویکئی آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ سیلاب میں تحصیل کے دو اہم پل بہہ گئے، مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب تک ان کی تعمیر نو شروع نہ ہو سکی۔ عوام آج بھی شدید مشکلات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مریض، طلبہ، بزرگ اور عام شہری روزانہ اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پورا علاقہ موبائل سروس، تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف طلبہ کی تعلیم کو متاثر کیا ہے بلکہ کاروبار، روزگار اور عوامی رابطے کا نظام بھی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ مسافر اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں جبکہ عوام ڈیجیٹل دور میں بھی بنیادی مواصلاتی سہولتوں سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔
اگر صحت کے شعبے پر نظر ڈالی جائے تو پورے سب ڈویژن میں صرف ایک ہسپتال موجود ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک ماہ قبل ایمرجنسی تو کھول دی گئی مگر آج تک او۔پی۔ڈی فعال نہ ہو سکی۔ یہ عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بیمار عوام علاج کیلئے در بدر ہیں مگر حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
ایک ہی سکے کے دو رخ یعنی صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں نے جنوبی وزیرستان اپر کے عوام کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے اس علاقے اور یہاں کے مسائل سے خود کو مکمل ناواقف بنا لیا ہے۔ عوام کو کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔
آخر سوال یہ ہے کہ یہاں کے مظلوم عوام اپنی فریاد لے کر کس کے پاس جائیں؟ کون ان کے بنیادی حقوق کی آواز سنے گا؟
عوامی نیشنل پارٹی اپر وزیرستان کے جنرل سیکرٹری
جنید اللّٰہ محسود