PAGE HOLDER AND ADMIN
��THIS PAGE HOLDER MOHAMMED IMTIAZ MUNAWAR JOYIA. HE IS JOBLESS AND STUDY GONE STUDENT, NOW HE READ BS IT(INFORMATION TECHNOLOGY)
STUDENTS IN NAROWAL UNIVERSITY. HIS NICKNAME HAPPY HAPPY JOYIA ALL FRIENDS AND KNOWN PERSON CALLS HAPPY HAPPY JOYIA �
قلعہ سوبھا سنگھ (موجودہ نام قعلہ احمد آباد) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقعہ ایک بڑے قصبے کا نام ہے، 8 مارچ 1991
کو اسکے باسیوں کی خواہش کے مطابق قصبے کا نام تبدیل کر کے احمد آباد رکھ دیا گیا۔ یکم جولائی 1991 سے قبل یہ ضلع سیالکوٹ کا حصہ تھا مگر اسی دن نارووال شہر کو ضلع کا درجہ ملنے کی وجہ سے اس قصبے کو ضلع نارووال میں شامل کر دیا گیا۔ یہ قصبہ 60 '16°32 جانبِ شمال، 0'46°74 جانب مشرق اور سطح سمندر سے 240 میٹر(سات سو ستاسی فیٹ) بلندی پر واقع ہے !!
#تاریخ
کہا جاتا ہے کہ سردار بھاگ سنگھ نامی سردار کے چار بیٹے تھے,سوبھا سنگھ، میاں سنگھ، دیدار سنگھ۔ صوبہ سنگھ ان چاروں بھائیوں نے اپنے اپنے نام سے شہر آباد کیے۔ سب سے بڑے بیٹے کا نام سوبھا سنگھ تھا۔ اس کے نام کی مناسبت کی وجہ سے یہ شہر قلعہ سوبھا سنگھ کہلایا۔ شہر میں اب بھی ایک قلعہ کے نشانات ملتے ہیں، اس جگہ آجکل پرائمری سکول واقع ہے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں یہ شہر موجود تھا۔ اس شہر کے چار بڑے دروازے تھے،جنکے نام اکبری دروازہ، امرتسری دروازہ، پسروری دروازہ، جموں دروازہ تھے۔ امرتسری دروازہ 1920 تک موجود تھا مگر یہ دروازہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ آج کل صرف اکبری گیٹ کے آثار ملتے ہیں۔ جو کہ لاری اڈاہ سے سیدھا ریلوے بازار(پرانا نام ٹھٹھیاری بازار) کے داخلی مقام پر واقع ہے۔
1857 کی جنگ آزادی کے بعد یہ شہر انگریزوں کی عملداری میں چلا گیا۔ آزادی سے پہلے شہر میں بیشتر سکھ اور ہندو گھرانے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد تمام سکھ اور ہندو یہاں سے ہجرت کر کے ہندوستان چلے گئے۔ اور مشرقی پنجاب سے آنے والے کئی مہاجر خاندان اس شہر میں آ کر آباد ہوئے !!
#جغرافیہ
جغرافیائی حوالے سے یہ قصبہ پاکستان کے مشرق کی جانب واقع ہے۔ قصبے کے بیچوں بیچ ایک نالہ گزرتا ہے، جو شہر میں نکاسی آب کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس قصبے سے نارووال اکیس کلومیٹر جانب شمال( بشمول ریلوے اور سڑک) واقع ہے ۔ پسرور شہر گیارہ کلو میٹر کے فاصلے پر جانب جنوب( بشمول ریلوے اور سڑک)، سیالکوٹ تقریبا اڑتیس کلو میٹر اور لاہور شہر ایک سو ستائیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ مشہور نالہ ڈیک بھی شمال مغرب کی جانب چار کلو میٹر کے فاصلے پر بہتا ہے,قلعہ سوبھا سنگھ ریلوے اسٹیشن انگریز دور کی بنی ہوئی خوبصورت روائتی عمارت کے ساتھ لاری اڈا احمد آباد سے تقریبا" ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے !!
#شماریاتِ_آبادی_و_وسائل
2010 کے ایک مقامی سروے کے مطابق شہر کے آبادی 40000 نفوس کے لگ بھگ ہے۔یہاں پر افغان، کشمیری اور دوسری قوموں کے لوگ ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ اس شہر میں اکثریت بٹ،خواجہ،ڈار اور ملک خاندانوں کی ہے,جبکہ سادات خاندان بھی معقول تعداد میں آباد ہیں, شہر میں پنجابی زبان بولی جاتی ہے تا ہم اردو زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس شہر میں ستانوے فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، عیسائی آبادی 2.40 فیصد اور قادیانی 0.10 فیصد ہیں۔ یہ قصبہ دیہاتی اور شہری زندگی کا حسین امتزاج رکھتا ہے۔ لوگ فیشن کو پسند کرتے ہیں، نوجوان جینر اور شرٹ اور شلوار قمیض یکساں پہنتے ہیں، جبکہ بڑے بوڑھوں میں دھوتی کُرتے کا استعمال بھی اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔حبیب بنک, یونائیٹڈ بنک اور نیشنل بینک کی برانچیں موجود ہیں. ایک پولیس اسٹیشن بھی موجود ہے,پولیس اسٹیشن کی بلڈنگ انگریز دور کی تھی جو کہ بہت پرانی اور خستہ حال ہو چکی تھی چنانچہ اسے گرا کر اس کی جگہ کثیر سرمائے سے نئی اور شاندار بلڈنگ بنائی گئی ہے, جو کہ انتہائی خوبصورت ہے.
قصبے میں لڑکوں کے لئیے انتہائی خوبصورت عمارت کے ساتھ ہائی سکول موجود ہے, جسے ایک مثالی درسگاہ کہا جا سکتا ہے, تین عدد پرائمری سکول بھی ہیں, لڑکیوں کے لئیے انٹر تک کی تعلیمی سہولت میسر ہے, جبکہ چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئیے بہت سے اچھے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں !!
احمد آباد سے لاہور یا اسلام آباد جانے کے لیے ٹرین اور بس وغیرہ کی سہولت موجود ہے۔ کرایہ سواری پر منحصر ہے اگر آپ ائیر کندیشنڈ گاڑی میں سفر کریں گئے تو لا محالہ کرایہ بھی زیادہ ہو گا۔ اسلام آباد کے لیے گاڑیاں نارووال اور شکر گڑھ سے چلتی ہیں جبکہ لاہور جانے کے لیے گاڑیاں پسرور اور نارووال سے جاتی ہیں۔اسکے علاوہ سیالکوٹ، پسرور، ڈسکہ، گوجرانوالہ اور شکر گڑھ جانے کے لیے لوکل گاڑیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اسلام آباد جانے کے لیے آپ ائیر کنڈیشنڈ گاڑی میں سیٹ پہلے سے بک کروا سکتے ہیں۔ نمبر درج ذیل ہیں,1-ہائی ایس ٹیوٹا: 6722551 -0332 صبح سات بجے احمد آباد آمد روالپنڈی جانے کےلیے، واپسی 3:15 فیض آباد سے 2-ائیرکنڈیشنڈ بس حیدربرادارز ٹرانسپورٹ 7125078- 0300 دوپہر 3 بجے آمد احمد آباد، واپسی 12 بجے رات کوپیر ودھائی سے 3-ائیرکنڈیشنڈ بس بٹ ٹرانسپورٹ نارووال 1477233-0315 دوپہر 4:15 بجے آمد احمد آباد، واپسی 9:30 بجے رات کوپیر ودھائی سے بیرون ملک فضائی سفر کے لئیے سیالکوٹ انٹر نیشنل ائر پورٹ موجود ہے !!
شہر میں ایک بنیادی مرکز صحت ہے جہاں پر ڈاکٹر اور لیڈی ہیلتھ ورکر کی سہو لت موجود ہے، یہ مرکز صحت تھانہ روڈ پر ریلوے پھاٹک کراس کرتے ہی واقع ہے۔ علاوہ ازیں شہر بھر میں کئی پرائیوٹ کلینک موجود ہیں، جہاں جدید طبی علاج کی سہولت موجود ہے,ڈاکٹر عبدلعلی آصف, ڈاکٹر احمد علی افضل, ڈاکٹر محمد نواز ,ڈاکٹر کاشف عباس اور ڈاکٹر سید نوید حیدر کی خدمات اس حوالے سے قابل ذکر ہیں !!
#معاشیات
لوگوں کی اکثریت دوسرے شہروں (سیالکوٹ وغیرہ) میں مزدوری اور نوکریاں کرتی ہے تاہم اکثر لوگوں کا اپنا کاروبار بھی ہے۔ یہاں پر ایک بڑا اور مرکزی بازار موجود ہے جو نا صرف شہر کے لوگوں کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ بھی یہاں سے خریدوفروخت کرتے ہیں,یہاں پر گندم اور چاول کی فصل زیادہ کاشت کی جاتی ہے۔ ایک سبزی منڈی بھی ہے جہاں پر نزدیکی دیہات کے لوگ سبزیاں فروخت کرنے کے لیے لاتے ہیں !! location and geography
ہمارا گاؤں کا نام کوٹلی سنگھے ہے یہ بہت قدیم ترین گاؤں ہے اس میں بہت ہی خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ آپ اس کو دیکھنے کے لیے یہاں سکتے ہیں یہ ضلع او تحصیل نارووال کے قریب ایک قصبے ے کے پاس واقع ہے ۔
culture and religion
ہمارے گاؤں کا رہن سہن بہت ہی بہترین اور آسان طریقہ ہے یہاں زیادہ تر گاؤں والے شلوار قمیض پہنتے ہیں اور اور سب بہت اچھے اخلاق والے ہیں یہ لڑائی جھگڑے سے دور رہتے ہیں اور تعلیم کی طرف زور دیتے ہیں۔
یہاں پر تمام لوگ مسلمان ہیں دوسرے مذاہب کے لوگ ب نہیں بالکل ہی نہیں نہیں ہمارے گاؤں میں دو مساجد اور ایک مدرسہ 1 پرائمری اسکول ہے ۔ اور یہاں تمام گاؤں کے بچے پڑھنے جاتے ہیں یہ بہت اچھی پڑھائی ہوتی ہے ہے استاد پڑھاتے ہیں ہیں اور خوب محنت کرتے ہیں ہمارے گاؤں کے لئے ٹیچر سر سر مشتاق احمد صاحب جو کہ ڈھولن گاؤں کے رہنے والے ہیں وہ بہت ہی نیک دل اور محنتی استاد ہیں۔
village kotli sanghy cast
ہمارے گاؤں کوٹلی سنگھے کی تقریبا پانچ ذاتوں کے لوگ رہنے والے ہیں ہیں جن میں دو جٹ برادران جوہیہ برادران اور گہمن برادرز ایک آرائیں یعنی کے میاں برادرز اور ایک بھٹی برادران ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سنگہا جٹ برادر رہتے ہیں ۔
سب ذاتی آپس میں صلح اور سلو کس کے ساتھ رہتے ہیں سب میں بہت ہی الحمدللہ سب ٹھیک ہے کوئی تفرقہ بازی نہیں ہے ہے سب پڑھے لکھے ہیں الحمدللہاللہ تعالی کا بہت شکر ہے یہاں پر دو تین پانی کے بور ہوئے ہیں فلٹر کے کے پانی کی کوئی قلت نہیں ۔
fertilizer and income source
الحمدللہ ہمارے گاؤں کوٹلی سنگھے میں بہت ہی اچھی کھیتی باری کی جاتی ہے اور تمام کسان پر خوب محنت کرتے ہیں۔اچھی خاصی انکم حاصل کرتے ہیں اور بہت اچھے بیج بویا بوتے ہیں اور اور فصل تیار کرتے ہیں ہمارے کسان دن رات محنت کرتے ہیں۔ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لوگ ملازم ہیں۔
WHATSAPP link
https://wa.me/qr/OGA7WI26ILI3P1
INSTAGRAM ACCOUNT
https://www.instagram.com/happyhappyjoyia?r=nametag
FACEBOOK OTHER PAGE
https://www.facebook.com/HappyHappyJoyia/?ti=as
Subscribe
YouTube
https://www.youtube.com/channel/UCscERwxw-jRBh4X_FxZO0Wg
Request sent
Facebooke:Id
https://www.facebook.com/happy.happy1.joyia
Like page
Facebook:page
https://www.facebook.com/HappyHappyJoyia/
Follow
Instagram:
https://www.instagram.com/happyhappyjoyia?r=nametag
Twitter:
https://twitter.com/Happyhappyjoyia?s=08
Likee: account
https://s.likee.video/user//?c=wn&b=562269319&l=en&t=0
Tik tok :
https://vm.tiktok.com/ZMJksxF4c/
WhatsApp:
https://wa.me/qr/OGA7WI26ILI3P1
Pinterest:
https://pin.it/37LiYVT
FOLLOW ME PLEASE