Aftab Alam

Aftab Alam Minister for Law, Parliamentary Affairs and Human Rights Khyber Pakhtunkhwa | MPA PK-90 Kohat | President PTI Kohat

09/09/2026

عدالتی احکامات، قوانین اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کے مطابق اراضی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آفتاب عالم

حقداروں کی حق تلفی کے بغیر قانونی و مالی معاملات کا شفاف اور قابلِ عمل حل نکالا جائے، صوبائی وزیر قانون

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِصدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں صوبے کے مختلف ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضوں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد، قانونی واجبات اور دیگر مالی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب، وزیرِ آب نوشی فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، سی ای او بی آر ٹی، ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، ڈپٹی ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، سولیسیٹر محکمہ قانون، وزیر قانون کے مشیر، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران مردان رنگ روڈ، بالخصوص شمال مشرقی اور مغربی بائی پاس کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے حوالے سے عدالتوں کی جانب سے طے شدہ معاوضوں اور واجبات کی ادائیگی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ قانون کی جانب سے معاملے کی ویٹنگ اور ایفیڈیوٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور واجبات کے تعین کے لیے اختیار کیے گئے فارمولے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکشن 18 کے تحت مجموعی رقم 11.718 ارب روپے جبکہ سیکشن 151 کے تحت رقم 2.195 ارب روپے ہے، جس کے بعد قابلِ غور بنیادی رقم 9.523 ارب روپے بنتی ہے۔ 16 سال کی مدت کے لیے 2 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 3.047 ارب روپے بنتی ہے، جس سے مجموعی رقم 12.570 ارب روپے ہوجاتی ہے، جبکہ 3 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 4.571 ارب روپے اور مجموعی رقم 14.094 ارب روپے بنتی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ قانون کی جانب سے ویٹ کیے گئے اسی فارمولے کو پی کے ایچ اے سے متعلق اراضی کے واجبات کے معاملے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ یکساں، شفاف اور قانون کے مطابق طریقہ کار کے تحت مالی معاملات کو حتمی شکل دی جاسکے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ اراضی کے معاوضوں اور دیگر واجبات کے تعین و ادائیگی میں متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نہ عدالتی احکامات سے انحراف کیا جائے گا اور نہ ہی کسی حقدار فرد کی حق تلفی ہونے دی جائے گی۔

اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں کی اراضی کے بقایاجات اور ڈگری شدہ واجبات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی شامل ہے۔ متعلقہ اداروں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قانونی و مالی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز پر غور کیا گیا۔

آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل قانونی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں قانون اور عدالتی احکامات کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کے جائز قانونی حق کی قیمت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام معاملات میں قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا جائز حق دیا جائے، سرکاری وسائل کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں جو قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد—تینوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

عدالتی احکامات، قوانین اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کے مطابق اراضی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آفتاب عالمحقداروں کی ...
09/09/2026

عدالتی احکامات، قوانین اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کے مطابق اراضی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آفتاب عالم

حقداروں کی حق تلفی کے بغیر قانونی و مالی معاملات کا شفاف اور قابلِ عمل حل نکالا جائے، صوبائی وزیر قانون

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِصدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں صوبے کے مختلف ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضوں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد، قانونی واجبات اور دیگر مالی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب، وزیرِ آب نوشی فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، سی ای او بی آر ٹی، ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، ڈپٹی ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، سولیسیٹر محکمہ قانون، وزیر قانون کے مشیر، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران مردان رنگ روڈ، بالخصوص شمال مشرقی اور مغربی بائی پاس کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے حوالے سے عدالتوں کی جانب سے طے شدہ معاوضوں اور واجبات کی ادائیگی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ قانون کی جانب سے معاملے کی ویٹنگ اور ایفیڈیوٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور واجبات کے تعین کے لیے اختیار کیے گئے فارمولے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکشن 18 کے تحت مجموعی رقم 11.718 ارب روپے جبکہ سیکشن 151 کے تحت رقم 2.195 ارب روپے ہے، جس کے بعد قابلِ غور بنیادی رقم 9.523 ارب روپے بنتی ہے۔ 16 سال کی مدت کے لیے 2 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 3.047 ارب روپے بنتی ہے، جس سے مجموعی رقم 12.570 ارب روپے ہوجاتی ہے، جبکہ 3 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 4.571 ارب روپے اور مجموعی رقم 14.094 ارب روپے بنتی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ قانون کی جانب سے ویٹ کیے گئے اسی فارمولے کو پی کے ایچ اے سے متعلق اراضی کے واجبات کے معاملے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ یکساں، شفاف اور قانون کے مطابق طریقہ کار کے تحت مالی معاملات کو حتمی شکل دی جاسکے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ اراضی کے معاوضوں اور دیگر واجبات کے تعین و ادائیگی میں متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نہ عدالتی احکامات سے انحراف کیا جائے گا اور نہ ہی کسی حقدار فرد کی حق تلفی ہونے دی جائے گی۔

اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں کی اراضی کے بقایاجات اور ڈگری شدہ واجبات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی شامل ہے۔ متعلقہ اداروں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قانونی و مالی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز پر غور کیا گیا۔

آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل قانونی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں قانون اور عدالتی احکامات کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کے جائز قانونی حق کی قیمت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام معاملات میں قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا جائز حق دیا جائے، سرکاری وسائل کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں جو قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد—تینوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

بی آر ٹی پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ کے مالی واجبات کے معاملے پر اجلاس۔محکمہ خزانہ کی پیشگی منظوری کے بغیر کیے گئے کسی معاہد...
09/09/2026

بی آر ٹی پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ کے مالی واجبات کے معاملے پر اجلاس۔

محکمہ خزانہ کی پیشگی منظوری کے بغیر کیے گئے کسی معاہدے کی صوبائی حکومت ذمہ دار نہیں ہوگی، مزمل اسلم

تمام مالی معاملات میں قواعد و ضوابط اور محکمہ خزانہ کی منظوری کو یقینی بنایا جائے، آفتاب عالم

پی ڈی اے اور متعلقہ ادارے تمام سابقہ خط و کتابت اور معاہدوں کا قانونی و مالی جائزہ پیش کریں، اجلاس میں ہدایت

پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) پشاور اور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے درمیان مالی واجبات کے معاملے پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاملے کے قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، معاونِ خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، چیف ایگزیکٹو آفیسر بی آر ٹی، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں بی آر ٹی منصوبے کے سلسلے میں کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ مالی واجبات، سابقہ معاہدوں، ادائیگیوں اور دونوں اداروں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کے پس منظر، مالی ذمہ داریوں اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ محکمہ خزانہ کی پیشگی رضامندی (کنکرنس) کے بغیر کوئی بھی سرکاری ادارہ ایسا معاہدہ نہیں کرسکتا جس سے صوبائی حکومت پر مالی ذمہ داری عائد ہو۔ محکمہ خزانہ کی منظوری کے بغیر کیے گئے کسی معاہدے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مالی معاملات میں مقررہ قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور کسی بھی مالی ذمہ داری کو قبول کرنے سے قبل محکمہ خزانہ کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا کہ بی آر ٹی ایک اہم عوامی منصوبہ ہے، اس سے متعلق مالی اور قانونی معاملات کو باہمی مشاورت اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے سابقہ معاہدوں، فیصلوں اور خط و کتابت کا مکمل ریکارڈ پیش کریں تاکہ معاملے کی قانونی اور مالی حیثیت واضح ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ادارے کے جائز واجبات سے انکار نہیں کرتی، تاہم ادائیگی یا مالی ذمہ داری کا تعین قانون، معاہدے کی شرائط، دستیاب ریکارڈ اور محکمہ خزانہ کے قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا۔

اجلاس میں پی ڈی اے اور بی آر ٹی حکام کو ہدایت کی گئی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ ہونے والی تمام سابقہ خط و کتابت اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لے کر محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ کو فراہم کی جائیں، تاکہ معاملے کے حل کے لیے قانونی طور پر قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مشاورت کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھائیں گے اور کسی بھی مالی ادائیگی یا ذمہ داری کا فیصلہ مکمل قانونی و مالی جانچ پڑتال کے بعد کیا جائے گا۔

*ترقی کا انحصار روایتی ڈگریوں کے بجائے فنی تعلیم پر ہے* آفتاب عالم *نوجوان نسل کو فنی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ترجیح...
08/09/2026

*ترقی کا انحصار روایتی ڈگریوں کے بجائے فنی تعلیم پر ہے* آفتاب عالم
*نوجوان نسل کو فنی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ترجیح ہے* آفتاب عالم

*خواتین کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے* آفتاب عالم
خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی مستقل اور پائیدار ترقی کا اصل انحصار روایتی ڈگریوں کی بجائے ٹیکنیکی و فنی تعلیم پر ہے۔ نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ تکنیکی طور پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل نوجوان صوبے اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن محمد عثمان خان بیٹنی کے ہمراہ پشاور میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (جی سی ٹی) کوہاٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلٰی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایم ڈی ٹیوٹا میاں عبد القادر شاہ، ڈائریکٹر ٹیوٹا،ڈائریکٹر ایکیڈیمک ٹیوٹا، پرنسپل جی سی ٹی کوہاٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ آفتاب عالم نے کوہاٹ کا تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 25 سے 30 لاکھ کی آبادی والے اس اہم ضلع میں اگر فنی تعلیمی ادارے فعال نہ ہوں اور نوجوانوں کو جدید ہنر نہ سکھایا جائے، تو اس کا براہِ راست معاشی بوجھ صوبائی ہیڈکوارٹر پشاور پر پڑتا ہے جہاں روزگار کی تلاش میں نقل مکانی بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر انہوں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ترقی، بنیادی اصلاحات اور پبلک سیکٹر کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 99 کنال رقبے پر محیط جی سی ٹی کوہاٹ NAVTTC سے تسلیم شدہ ہے، جہاں بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی، ڈی اے ای (سول، الیکٹریکل، مکینیکل) اور ڈی آئی ٹی کے پروگرامز جاری ہیں۔ تعلیمی سال 2025-26 کے دوران ڈی اے ای میں 314 جبکہ بی ایس ٹیک میں 18 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارے کو ماڈل انسٹیٹیوٹ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور تمام ڈی اے ای ٹیکنالوجیز کے لیے CBT سلیکشن کا عمل جاری ہے۔
بریفنگ میں کوہاٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کی موجودگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کالج میں پٹرولیم ٹیکنالوجی کا نیا پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاکہ صنعت کے ساتھ روابط قائم کر کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو دی جانے والی مختلف اسکالرشپس ( KDDP، KCCL اور ZAMA) سمیت ہاسٹل کی سولرائزیشن، این ٹی ایس امتحانی مرکز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کریش کورسز کے اجرا سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔۔ اجلاس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی، طلبہ کی انرولمنٹ، سٹاف کی دستیابی، انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے انسٹی ٹیوشنل پروفائل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں اس وقت چار مختلف پروگرامز میں مجموعی طور پر 103 طالبات زیر تعلیم ہیں، جبکہ ادارے کی کل سٹاف سٹرینتھ 20 ہے۔ اجلاس میں ادارے میں انرولمنٹ کی کم شرح اور دستیاب وسائل کے باوجود مطلوبہ تعداد میں طالبات کو تربیتی پروگراموں کی جانب راغب نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی جانب سے ادارے کو بی گریڈ دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود ووکیشنل ٹریننگ سنٹر فار وومن کوہاٹ میں انرولمنٹ کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خواتین کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے میں انرولمنٹ بڑھانے کے لیے مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے اور مقامی سطح پر طالبات اور ان کے والدین کو فنی تعلیم کے فوائد اور روزگار کے مواقع سے متعلق آگاہ کیا جائے۔انہوں نے ادارے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، دستیاب سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طالبات کے لیے بہتر تعلیمی و تربیتی ماحول کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ادارے کا موجود ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے وسائل اور تربیتی پروگراموں سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو مستفید ہونا چاہیے تاکہ وہ ہنر حاصل کرکے باعزت روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔آفتاب عالم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے کی کارکردگی، انرولمنٹ اور سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کو خواتین کی فنی تربیت کا ایک مؤثر اور فعال مرکز بنایا جاسکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ جی سی ٹی کوہاٹ کے تدریسی عملے کی کمی، لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن، عملے کی رہائشی کالونی، امتحانی ہال اور لینگویج لیب کے قیام سمیت تمام پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر فوری اور قابلِ عمل اقدامات اٹھائیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور صنعت کے ساتھ مؤثر رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔

کوہاٹ ڈھوڈہ روڈ پر اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فنڈز سے ڈھوڈہ...
08/09/2026

کوہاٹ ڈھوڈہ روڈ پر اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فنڈز سے ڈھوڈہ روڈ پر اسفالٹ کا کام تیزی سے جاری۔ عوامی سہولت اور علاقے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری۔

کوہاٹ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری الحمدللہ! کوہاٹ کے عوام سے کیا گیا ایک اہم وعدہ آج عملی شکل اختیار کر گیا ہے۔صوبائی وز...
08/09/2026

کوہاٹ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری

الحمدللہ! کوہاٹ کے عوام سے کیا گیا ایک اہم وعدہ آج عملی شکل اختیار کر گیا ہے۔

صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم اور ایم این اے شہریار آفریدی کی کوششوں سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر 4 نزد کوہاٹ کیڈٹ کالج، پنڈی روڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جو کوہاٹ بالخصوص حلقہ پی کے 90 کی طالبات کے لیے ایک تاریخی اور خوش آئند پیش رفت ہے۔

اب ہماری طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ان شاء اللہ، انہیں اپنے علاقے کے قریب ہی معیاری تعلیمی سہولیات میسر ہوں گی۔

میرا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی علاقے کی حقیقی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے، اور ہماری بیٹیوں کو بہتر اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ کالج نہ صرف ہماری بیٹیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بنے گا بلکہ پورے علاقے کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

🌸 اہلِ علاقہ کو اس اہم منصوبے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ان شاء اللہ، PK-90 کی ترقی کا سفر اسی عزم، خدمت اور جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔

خیبر پختونخوا میں مختلف ریگولیٹری قوانین کے مؤثر، یکساں اور مربوط نفاذ کے لیے خصوصی ریگولیٹری فورس کے قیام کا مسودہ تیار...
07/09/2026

خیبر پختونخوا میں مختلف ریگولیٹری قوانین کے مؤثر، یکساں اور مربوط نفاذ کے لیے خصوصی ریگولیٹری فورس کے قیام کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین سلیکٹ کمیٹی و وزیر برائے قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلیکٹ کمیٹی کے اراکین و ارکان صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی، شیر علی آفریدی، احتشام علی ارباب، محمد عثمان خان، عدنان خان، محمد نثار باز اور معاون خصوصی برائے ہوم ڈیپارٹمنٹ طارق سعید نے شرکت کی، جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم، محکمہ قانون کے افسران، ایڈووکیٹ جنرل، اسپیشل پراسیکیوٹر اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس ایکٹ 2025 کے مجوزہ مسودے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قانون کے تحت ایک علیحدہ خصوصی ریگولیٹری فورس قائم کی جائے گی، جس کا ہیڈ آفس پشاور جبکہ اضلاع میں دفاتر ہوں گے اور اسے مرحلہ وار پورے صوبے میں فعال کیا جائے گا۔ فورس کی نگرانی محکمہ ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کے ذریعے صوبائی حکومت کرے گی، جبکہ سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے جن کی تقرری تین سال کے لیے ہوگی۔ ضلعی سطح پر چیف ریگولیٹری فورس آفیسر ڈپٹی کمشنر کے اختیارات کے تحت فرائض انجام دے گا، جبکہ فورس کو پولیس کے ساتھ بھی باہمی تعاون حاصل ہوگا اور مجاز افسران کو ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت پولیس کو حاصل بعض اختیارات تفویض کیے جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے شیڈول میں 19 اہم ریگولیٹری قوانین شامل کیے گئے ہیں، جن میں نہر و نکاسی ایکٹ 1873، بجلی ایکٹ 1910، خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2014، ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014، خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013، قیمتوں کے کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام سے متعلق قانون 1977، خیبر پختونخوا فارسٹ آرڈیننس 2002 اور خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 سمیت دیگر قوانین شامل ہیں۔ فورس کو ریگولیٹری جرائم میں استعمال ہونے والی جائیداد ضبط کرنے کا اختیار دینے کے ساتھ سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنے اور افسران کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ مسودے میں غیر قانونی داخلے، بلاجواز گرفتاری، تشدد اور قانونی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر پر افسران کے خلاف سخت سزائیں جبکہ وردی کے غیر مجاز استعمال اور جھوٹی یا ہراساں کرنے والی شکایت کے خلاف بھی کارروائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
اجلاس میں سلیکٹ کمیٹی کے اراکین نے مجوزہ بل کی مختلف شقوں پر اپنے تحفظات، آرا اور تجاویز پیش کیں۔ چیئرمین سلیکٹ کمیٹی آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ ارکان کی تجاویز اور آرا کو مسودے میں مناسب طور پر شامل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں ترمیم شدہ مسودہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بل کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ اور غور و خوض مکمل کرنے کے بعد حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا، جسے منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق مجوزہ ریگولیٹری فورس کے قیام سے خوراک کے معیار و تحفظ، ماحولیات، جنگلات، معدنیات، قیمتوں کے کنٹرول، عوامی املاک کے تحفظ اور دیگر ریگولیٹری شعبوں میں قوانین کے مؤثر اور یکساں نفاذ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
(07-09-2026)


خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاسخیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ 9 اور ...
07/09/2026

خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ 9 اور 10 مئی 2023 کا اہم اجلاس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی و صوبائی وزیرِ قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں 9 اور 10 مئی کے واقعات کے اصل حقائق، تفتیشی عمل، ریکارڈ اور قانونی پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

چیئرمین کمیٹی آفتاب عالم نے محکمہ پولیس اور محکمہ داخلہ کے حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی جانب سے طلب کردہ تمام تصدیق شدہ ریکارڈ، جوابات اور شواہد مقررہ مدت میں پیش کیے جائیں، جبکہ متعلقہ تفتیشی افسر کو آئندہ اجلاس میں لازماً شرکت کی ہدایت بھی کی گئی۔

آفتاب عالم نے واضح کیا کہ کمیٹی کا مقصد حقائق کو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق سامنے لانا ہے۔

07/09/2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام "قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی" کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں خطاب!

07/09/2026

صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ضمیر گل ڈیم کا دورہ کیا 🏞️

Address

Kohat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aftab Alam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Aftab Alam:

Shortcuts

Share