09/09/2026
عدالتی احکامات، قوانین اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کے مطابق اراضی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آفتاب عالم
حقداروں کی حق تلفی کے بغیر قانونی و مالی معاملات کا شفاف اور قابلِ عمل حل نکالا جائے، صوبائی وزیر قانون
خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِصدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں صوبے کے مختلف ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضوں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد، قانونی واجبات اور دیگر مالی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان، وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب، وزیرِ آب نوشی فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، سی ای او بی آر ٹی، ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، ڈپٹی ڈائریکٹر پی کے ایچ اے، سولیسیٹر محکمہ قانون، وزیر قانون کے مشیر، پی ڈی اے کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مردان رنگ روڈ، بالخصوص شمال مشرقی اور مغربی بائی پاس کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے حوالے سے عدالتوں کی جانب سے طے شدہ معاوضوں اور واجبات کی ادائیگی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ قانون کی جانب سے معاملے کی ویٹنگ اور ایفیڈیوٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور واجبات کے تعین کے لیے اختیار کیے گئے فارمولے پر غور کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکشن 18 کے تحت مجموعی رقم 11.718 ارب روپے جبکہ سیکشن 151 کے تحت رقم 2.195 ارب روپے ہے، جس کے بعد قابلِ غور بنیادی رقم 9.523 ارب روپے بنتی ہے۔ 16 سال کی مدت کے لیے 2 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 3.047 ارب روپے بنتی ہے، جس سے مجموعی رقم 12.570 ارب روپے ہوجاتی ہے، جبکہ 3 فیصد رینٹ کے حساب سے رقم 4.571 ارب روپے اور مجموعی رقم 14.094 ارب روپے بنتی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ قانون کی جانب سے ویٹ کیے گئے اسی فارمولے کو پی کے ایچ اے سے متعلق اراضی کے واجبات کے معاملے میں بھی مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ یکساں، شفاف اور قانون کے مطابق طریقہ کار کے تحت مالی معاملات کو حتمی شکل دی جاسکے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ اراضی کے معاوضوں اور دیگر واجبات کے تعین و ادائیگی میں متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات اور محکمہ قانون کی ویٹنگ کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے میں نہ عدالتی احکامات سے انحراف کیا جائے گا اور نہ ہی کسی حقدار فرد کی حق تلفی ہونے دی جائے گی۔
اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں کی اراضی کے بقایاجات اور ڈگری شدہ واجبات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، زرعی یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، باچا خان میڈیکل کالج مردان اور امیر محمد خان کیمپس مردان کے لیے حاصل کی گئی اراضی شامل ہے۔ متعلقہ اداروں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے قانونی و مالی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز پر غور کیا گیا۔
آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل قانونی اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں قانون اور عدالتی احکامات کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کے جائز قانونی حق کی قیمت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام معاملات میں قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے حقداروں کو ان کا جائز حق دیا جائے، سرکاری وسائل کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں جو قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد—تینوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔