05/07/2023
جنت نظیر وادی کو کیسے جایا جائے؟؟
سوپٹ ویلی کوہستان جانے کےلیے دو رستے مشہور ہیں ایک سب سے پہلے آپ مانسہرہ Mansehra سے Naran & Kaghan Valley پہنچیں اور وہاں سے آپ اپنی فور باے فور گاڑی پہ سوپٹ پہنچ سکتے ہیں، جبکہ دوسرا رستہ آپ باب چلاس سے بابوسر کی سیر کرکے ٹاپ عبور کرکے جلکھٹ کی طرف اتریں اس کےلیے آپ کو فور بائی فور گاڑی کا سہارا لینا پڑے گا، سوپٹ وادی داسو کوہستان کا بڑا قصبہ ہے، جہاں ہر قسم کی سہولیات موجود ہیں، ناران بازار سے 5 گھنٹے کا جیب ٹریک سینٹر آف سوپٹ داٹ تک لے جاتا ہے، پہلے 2 گھنٹہ میں مشکل ترین چڑھائی ہے، ٹریک کے دونوں اطراف برف کے تودے خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں، یہ روڈ اصل میں دور دراز سے انے والے سیاحتی مقام کو آسانی کیلے بنائے گئے ہیں، آدھا گھنٹہ بعد آپ ایک بار پھر تیز نالے کے برابری پہنچ جاتے ہیں جہاں درختوں کو لمبے رخ رکھ کر 20,15 فٹ کا پل بنایا گیا ہے ، اس پل کو پارکرنے کے بعد آپ پہاڑی کے بائیں ہاتھ ہوجاتے ہیں ادر رہنے کا انتضام کے ساتھ ساتھ سموسہ ۔پکوڑہ ۔بیسکٹ کھانہ وغیرہ بھی ملتے ہے ، تھوڑے سے فاصلے پہ ندی پر بنایا گیا روڈ آتا ہے اسکے بعد آپ آگے بڑھیں تو وادی اپنے حسن کے جلوے بکھیرنا شروع کردیتی ہے، جام تھوروٹھ اور شمیس سے ایک گھنٹہ بعد آپ ابوم ،لمبابیلہ، کوٹگلی ،تھوریگاہ گاوں پہنچ جاتے ہیں، یہ علاقہ بہت زیادہ خوبصورت ہے، جہاں قدرت کی خوبصورتی عروج پہ دکھائی دیتی ہے، ہر طرف گھنے اشجار ، جڑی بوٹیاں، رنگ برنگے پھول اور بہتے چشمے دکھائی دیتے ہیں، 2 گھنٹہ جیپ کے سفر کے بعد ایک روایتی کام دکھائی دیتی ہے، جہاں پهتر کے گھر بنایا گیا ہے، یہ علاقہ کسی کے جاگیر نہیں اپنی مدد آپکے تحت پراٹوٹ پھتروں کا کام ہو رہا ہوتا ہے ، یہاں سے آگے یکدم اترائی کی جانب جانا شروع ہوجاتے ہیں، اس اترائی پہ ماہر جیپ ڈرائیور کے ساتھ جانا ہی دانشمندی ہے، اس مکمل پتھریلے ٹریک پہ جاتے ہوئے بلندو بالا پہاڑ آہستہ آہستہ نیچے جاتے دکھائی دیتے ہیں، ہر موڑ پہ گاڑی والے کو بہت احتیاط سے گاڑی چلانی پڑتی ہے، آدھ گھنٹے بعد آپ اترائی سے ہموار کی جانب چل دیتے ہیں، یہاں درخت قدرے کم ہوجاتے ہیں، پانی بالکل قدموں کے برابر آجاتا ہے، وادی کھل سی جاتی ہے، لکڑی کا پل استقبال کرتا ہے ۔جیب پر آپ کھڑے ہوکر وادی کا نظارا کرسکتے ہیں، گاڑی سے اتر کر آپ 2،1 کہنٹے پتھروں پہ پیدل چل کر سروگاہ جھیل کنارے پہنچتے ہیں، میری زندگی میں دیکھی گئی جھیلوں میں یہ واحد جھیل تھی جس کے کناروں پہ میں نے پتھروں کی بہتات دیکھی، اسکے کناروں پہ دور دور تک گھاس کی چادر کے نشان نہیں ملتے، جھیل کا آس پاس کا علاقہ کافی کھل جاتا ہے اسلیے تیز ہوا کی وجہ سے جھیل کے پانیوں میں لہروں کا احساس کسی بھی جھیل سے زیادہ محسوس ہوتا ہے، پانی کی آواز کانوں میں رس سا گھول دیتی ہے، مجھے اس جھیل کا پانی لولوسر جھیل جیسا لگا، آسمان پہ بدلتے موسم سے جھیل کے پانی کے رنگ پہ گہرا اثر ہوتا ہے، سورج کے نکلنے، آسمان پہ بادل آجانے کی وجہ سے جھیل کا پانی کبھی نیلگوں سا دکھائی دیتا تو کبھی سبز رنگ نمایاں نظر آتا، جھیل کا پانی بائیں طرف سے چٹانوں کے اندر سے ہوتا ہوا چھپتا چھپاتا نیچے غائب ہوجاتا ہے اور کچھ آگے جاکر ایک ندی کی صورت اختیار کرلیتا ہے، یہی وہ نالہ ہے جو تمام سفر آپ کے ہمراہ رہتا ہے جس کو نام دیتے ہے سوپٹ نالہ۔ لیکن خدارا یہ جھیل ابھی تک قدرے صاف ستھری ہے اسکی صفائی کا ہمیشہ خیال رکھیں،