Copy Paste Chor

Copy Paste Chor دل کو چھُو دینے والے اردو اشعار، ناولز، کہانیاں، سبق ?

اسرائیلیوں کی جانب سے ریڈ ہیفر کی قربانی کی خبروں کے ساتھ انٹرنیٹ پر دھوم مچی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا کا کیا مو...
31/03/2024

اسرائیلیوں کی جانب سے ریڈ ہیفر کی قربانی کی خبروں کے ساتھ انٹرنیٹ پر دھوم مچی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا کا کیا موقف ہے۔

غافل مسلم یا حکمت الہی
8 اپریل مکمل سورج گرہن
7.8کے درمیان سرخ گاے کی قربانی
مسجد اقصی کی شہادت
ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا بہانہ
کھودائی کے بہانے وہ صندوق ڈھونڈنا جس میں سلیمان نبی کی انگوٹھی اور موسی نبی کا عصا پڑا
گلی گلی میں اعلان نئے قرآن پاک لیں لو پرانے اور شہید قرآن پاک کے بدلے ۔مطلب قادیانیوں کے لکھے ہوے قرآن کی مفت اشاعت اس حدیث مبارک کی طرف اشارہ کرتا کہ قرب قیامت قرآن پاک کے حروف اڑ جائیں گے
حدیث مبارک کے مطابق گھوڑوں پہ سوار ایمان والے مسجد اقصی کی محافظ ۔یعنی عراق کے ڈرون اٹیک اسرائیل کی تباہی
عرب کے بادشاہ کا قتل ۔یعنی صدرصدام کا پھانسی چڑھنا
بہت بڑی عالمی جنگ حدیث کے مطابق ۔یعنی اسرائیل اور فلسطین سے شروع ہونے والی جس میں ایران عراق اور یمن تک پھیل چکی
یہ سب کچھ تقریبا ہوچکا 80 %اور نیکسٹ رمضان میں یعنی عید تک 90%مکمل ہوجانا
عنقریب 12ویں امام کا ظہور اور عیسی نبی کا نازل ہونا اس فریب زدہ منافقت حق اور باطل کا ااختتام وانجام شروع ہوجاے گا
غالباً 29 مارچ کو اسرائیلی دجال (جھوٹے مسیحا) کو بلانے کے لیے ایک سرخ گائے کی قربانی دیں گے اور مسجد اقصیٰ کو منہدم کر دیں گے! اور 8 اپریل کو رمضان کے آخری دن یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہاں جعلی مسیحا بلائیں گے! اسی دن ایک تاریخی مکمل سورج گرہن ہوگا جو 375 سال سے نہیں ہوا۔

صدیوں پر محیط سرخ ہیفر کی قربانی

سرخ گائے کی قربانی یہودی روایت میں ایک اہم رسم ہے۔ یہودی قانون کے مطابق موسیٰ کے زمانے سے لے کر اب تک صرف نو سرخ گائے کی قربانی دی گئی ہے۔ سرخ گائے کی راکھ کو پاک کرنے کی رسم میں استعمال کیا جاتا تھا تاکہ لوگوں کو کسی میت کے ساتھ رابطے سے ہونے والی رسمی نجاست سے پاک کیا جا سکے۔ بنی اسرائیل کی طرف سے قربان کی جانے والی سرخ گائے کی فہرست یہ ہے:

1. پہلی سرخ گائے موسیٰ نے قربان کی تھی۔
2. دوسری سرخ گائے کی قربانی عزرا نے کی تھی۔
3. تیسری سرخ گائے سائمن دی جسٹ نے قربان کی تھی۔
4. چوتھی سرخ گائے یشمائل بن پیاوی نے قربان کی۔
5. پانچویں سرخ گائے کی قربانی مصری حنامل نے کی تھی۔
6. چھٹی سرخ گائے کی قربانی یشمائل بن پیاوی نے کی۔
7. ساتویں سرخ گائے ہانمل مصری نے قربان کی تھی۔
8. آٹھویں سرخ گائے کی قربانی مصری حنامل نے کی تھی۔
9. نویں سرخ گائے کی قربانی یشمائل بن پیاوی نے کی۔

یہ قربانیاں صدیوں پر محیط ہوئیں، ان کے درمیان اہم فرق تھا۔ دسویں سرخ گائے کا یہودی روایت کے مطابق انتظار کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یروشلم میں تیسرے ہیکل کی تعمیر نو سے منسلک پاکیزگی کی رسومات کے لیے ضروری ہے۔

جیسے سرخ گائے کی قربانی کے بارے میں افواہیں پھیل رہی ہیں۔
اس کی منصوبہ بندی بیک اپ کے ساتھ کی گئی ہے (وہ 1 سرخ گائے کی قربانی نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن 5)
اصل میں 5 سرخ گائے ہیں جن میں درج ذیل پر مشتمل کوالیفائنگ خصوصیات ہیں۔
- وہ خالص سرخ ہونا چاہئے (ایک بھی سیاہ یا سفید بال بھی نہیں)
- ایک کنواری ہونا چاہئے
- عمر 34 ماہ سے 38 ماہ کے لگ بھگ ہونی چاہئے۔
اور قربانی کے وقت عمر 3 سال کے لگ بھگ ہونی چاہیے۔
جو غالباً مارچ سے جولائی کے درمیان ہے۔

وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
یہ یہودیوں کی روایت ہے کہ وہ سرخ گائے کو مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ قربان کرتے ہیں۔ اور صرف اس لیے کہ شرائط کا درست ہونا ضروری ہے یہ قربانی 2000 سال کے بعد ہو رہی ہے۔ بنیادی طور پر جب یہودی مقدس ہیکل کی تعمیر کرتے ہیں تو وہ تعمیر کے آلات کو پاک کرنے کے لیے سرخ گائے کی راکھ کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ کیا سبب بن سکتا ہے؟
یہ مقدس تورات کے مطابق اختتامی اوقات کا آغاز ہے۔ سلسلہ ایسے چلتا ہے....
1. سرخ گائے کی قربانی
2. اوزار کو صاف کریں۔
3. الاقصیٰ کو مسمار کرنا
4. تیسرے مندر کی تعمیر
5. جھوٹے مسیحا کی آمد
6. امام مہدی کی آمد
7. ESSA کی آمد
8. قیام۔

سرخ گائے کی 10ویں قربانی اس سال کے وسط تک ہو گی (مارچ کے آخر تک جون تک) اس کی جلد، گوشت، خون اور ہڈی سمیت تمام سامان کو جلا کر پاک پانی میں ملا دیا جائے گا اور پھر وہ پانی جسم کو پاک کر دے گا۔ پادری قربانی کر رہا ہے جس کے بعد اسے تیسرے ہیکل کی بنیاد کے ارد گرد سات بار چھڑکایا جائے گا یہ مسیح کے دور (دجال کے دور) کا استقبال کرے گا۔

یہ قربانی زیتون کے پہاڑ پر کی جانی ہے جو کیدور وادی کے راستے مندر میں شامل ہوتی ہے۔

جیسے ہی یہ ہوگا الاقصیٰ کو منہدم کردیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں مہدی کا ظہور ہوگا۔

قربانی کی جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے اور گائے (بے داغ، خالص، کنواری) کو ٹیکساس سے اسرائیل پہنچا دیا گیا ہے۔

"دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا، اس کا تعلق یہودی خاندان سے ہو گا، اسے عام طور پر ایک آنکھ کا اندھا بتایا جاتا ہے، اور اس کی پیشانی پر لفظ "کافر" لکھا جائے گا، وہ یروشلم کو فتح کر کے پوری دنیا کا سفر کرے گا۔ مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر۔

ایک جھوٹے مسیحا کے طور پر، بہت سے لوگ اس کے فریب میں آ کر اس کی صفوں میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کی مدد شیاطین کی فوج کرے گی۔ اس کی مرضی کے سب سے زیادہ قابل اعتماد حمایتی یہودی ہوں گے، جن کے لیے وہ خدا کی مانند ہوگا۔ اس کی واپسی پر بہت سے کمزور ایمان والے لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔ اس کے آنے کے بعد ہماری بیٹیوں اور بیویوں کو گھر میں رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ (یہ کیام کی نشانیاں ہیں)۔

سورہ کہف کی پہلی 10 اور آخری 10 آیات ہمیں دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اسے روزانہ پڑھنے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ برائے مہربانی اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ ہماری امت کا سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور میں بہت سے لوگوں کو اس سے ناواقف دیکھتا ہوں۔ براہ کرم اس کے بارے میں جانیں اور اپنا ایمان بنانے کی کوشش کریں کیونکہ دجال ہمارے ایمان سے کھیلنے والا ہے۔

اللہ ہمیں دجال کے فتنے سے بچائے (آمین)
منقول

اصل جنگ کیا ہے؟بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔مسلمانوں کا قبلہ دوئمعیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادتیہودیوں کے لئے...
31/03/2024

اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔

Red heifer found
Mastery of Red heifer

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟
سوچ کر جواب ضرور دیجئے گا۔
اگر یہ معلومات آپ کو اچھی لگی ہیں تو شیئر لازمی کریں 🫡

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگ...
23/02/2023

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)
آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معمو لات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤں میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جس نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں درانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے کیھت سے نکلے اور کھسم(شوہر) کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی(بیلچا) تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھانا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکیے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا(تنازعہ) تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر طرف لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کانپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نہ پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پاس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجائے گی۔

کالے کپڑوں میں ملبوس، اک ہاتھ میں اپنے وفادار دوست (وولف ہاؤنڈ برِیڈ ) کو لیے اور دوسرے میں کلاشنکوف تھامےاک پاؤں پر پٹی...
28/05/2020

کالے کپڑوں میں ملبوس، اک ہاتھ میں اپنے وفادار دوست (وولف ہاؤنڈ برِیڈ ) کو لیے اور دوسرے میں کلاشنکوف تھامے

اک پاؤں پر پٹی بندھی ہوئی لیکن جوتوں میں جراب تک کا نشان نہیں

چہرے پر کمال کی طمانیت و سکون

نہ خوف کا شائبہ نہ ڈر کی رمق

کلاشنکوف کی بیرل سے اترا ہوا رنگ اسکے بکثرت استعمال کی چغلی کھا رہا ہے

لیکن یہ بچہ ہے کون؟

کہاں سے آیا

کس کا خون ہے

کس کا جایا ہے

کس نے اسکے کانوں میں شجاعت کی لوریاں بھری ہیں

کون اس کو اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیتا

کون ہے جو سب کچھ لٹ جانے پر بھی خفا نہیں

باپ و چچا کو آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا دیکھ کر بھی انکے سرہانے نوحہ کرنے کیوں نہیں بیٹھا

ارے یہ کس مٹی سے خمیر ہوا ہے

امریکی تو نہیں لگتا

شاید امارات کے شیوخ میں سے ہو؟

لیکن

نہیں لچّھن وہ پیدا گِیرے تو باتھ روم بھی گاڑی کے بغیر نہیں جاتے
اور کیا تو بھول رہا ہے کہ وہ اور غیرت آپس میں گوشت و چھری ہیں؟

چلو لچّھن میاں حقیقت کا سامنا کرو

سامنا کرو کہ

اک وقت تھا کہ اس بچے کی اک سسکاری پر صدام حسین جیسا سخت دل انسان بے چین ہوکر اسے گود میں لے کر چپ کرانے بیٹھ جاتا تھا

اسکے پاؤں کی تلیوں نے شاید کبھی زمین کا لمس بھی نہ چکھا ہوگا

گھٹنوں تک اپنے اندر سمو لینے والے دبیز قالینوں نے اس کے نازک وجود کی خوشبو کو کئی سال اپنے اندر سمیٹا ہے

کبھی کسی مکھی کی بھی جسارت نہ ہوئی تھی کہ اس خوبانی جیسے پکے ہوئے وجود کے کسی حصے پر بیٹھ سکے

اک نوالہ منہ میں ڈالنے کے لئے سو سو نوکر زرق برق لباسوں میں ملبوس سونے کے چمچ و طشتریاں لیے کھڑے ہوتے تھے

اتنا لاڈلا تھا کہ اس کا دادا اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اجلاس و میٹنگز میں چلا جایا کرتا تھا
اس کا دادا رات اسکو اپنے سینے سے لپٹا کر سویا کرتا تھا

لیکن اتنے ناز و نخروں سے پلے ہونے کے بعد تو اس کا حق تھا کہ ریگستان میں چل رہے لُو کے تھپیڑوں سے ہی مرجھا کر کہیں لاوارث قبر میں پہنچ گیا ہوتا؟

بلکل آپ نے درست سوچا لیکن ہوا اس کے بلکل بر عکس

جب شیخ نوَجفہ زیدان کے محل میں 400 کے لگ بھگ امریکی کمانڈوز دندناتے ہوئے داخل ہوئے تو وہاں ان کو انکی توقعات کے بلکل برعکس سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا

اس قبرستان بنے محل میں اک چھوٹا سا لڑکا جس کے پاؤں میں اس کے والد اور چچا اور انکے گارڈز (کَوسائی) کی لاشیں کسی ڈھیر کی مانند تہہ در تہہ پڑی ہوئی تھیں زندگی موجود ہونے کی چغلی کھا رہا تھا
جو امریکی کمانڈوز سے لڑتے ہوئے اسکی آنکھوں کے سامنے ہی شہید ہو چکے تھے

امریکیوں کو اس رد عمل کی قطعاً امید نہیں تھی کیونکہ جس طرح انہوں نے میزائل و آتشیں اسلحہ استعمال کر لیا تھا وہ کسی پوری چھاؤنی تک کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھا
اور یہی وجہ تھی کہ وہ بلا خوف و خطر تباہ شدہ محل کے باقی ماندہ حصے میں کلیرنس کی نیت سے داخل ہوئے تھے

کہ ان پر فائرنگ شروع ہو گئی

فائرنگ کا یہ تبادلہ چھ گھنٹے جاری رہنے کے بعد مخالف کی شہادت پر ختم ہوا

جن امریکی کمانڈوز نے اس آپریشن میں حصہ لیا انکے اک انٹرویو کے مطابق وہ مدمقابل کو دیکھنے کے لیے بے قرار تھے

لیکن وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے جب انہوں نے اک چودہ سالہ بچے کو اپنے سامنے مسکراتے ہوئے آخری سانسیں لیتے دیکھا
یہ بچہ مصطفیٰ صدام حسین تھا
اپنے دادا صدام حسین کی طرح ہی جری و دلیر

جنرل نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تاکہ اس کو ہسپتال پہنچایا جا سکے وہ ایسے بہادر بندے کو کھونا نہیں چاہتے تھے جس نے دنیا کے بہترین اسلحہ رکھنے والے چار سو امریکی کمانڈوز کو اکیلے ہی چھ گھنٹے تک نہ صرف روکے رکھا بلکہ ان میں سے سترہ کو جہنم واصل بھی کیا لیکن اس عزیمت کا پہاڑ بنے ہوئے بچے نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے رضا ہوا

دی نیویارک ٹائمز کے مشہور صحافی رابرٹ آئزک نے مصطفیٰ حسین کی شہادت پر اک شارٹ آرٹیکل لکھا جسے فرنٹ پیج پر جگہ ملی وہ لکھتا ہے کہ...
اگر مصطفیٰ حسین امریکہ میں پیدا ہوا ہوتا تو آج جگہ جگہ اس کے مجسمے لگے ہوتے اور اس کی بہادری کو نصاب کا حصہ بنایا جاتا اس کی داستانیں ہر زبان پر ہوتیں اور نئی نسل کو بتایا جاتا کہ بہادری کا مطلب کیا ہے،،

تعریف وہی سند کا درجہ رکھتی ہے جو دشمن کرے.. ہمارے حکمرانوں و نوجوانوں کو شاید اس بچے کا نام تک نہ پتہ ہوگا لیکن انکے یاد رکھنے نہ رکھنے سے کچھ نہیں فرق پڑتا کیونکہ تاریخ بہادروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے

منقول

آہ..... پڑھ کر الفاظ رہے ہی نہیں کچھ بھی لکھنے کو😭😭جب ایک کشمیری لڑکی نے ایک صحافی کے سامنے پوری دنیا کو دُعا دی اور کہا...
16/05/2020

آہ..... پڑھ کر الفاظ رہے ہی نہیں کچھ بھی لکھنے کو😭😭

جب ایک کشمیری لڑکی نے ایک صحافی کے سامنے پوری دنیا کو دُعا دی اور کہا
اروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی۔

یورپین یونین نمائندوں کے کشمیر دورے پر، میں ان صحافیوں میں سے ایک تھا جن کو وہاں جانے اور کوّریج کی اجازت ملی تھی۔ تب میرا ایک قریبی دوست بلال احمد ڈار جو ماس کمیونیکیشن پی جی کے وقت کا دوست تھا،

اس سے ملنے کے لیے اس کے گھر جانے کی صرف پانچ منٹ کی اجازت ملی تھیv۔ بلال کے گھر سے واپسی کے وقت گلی کے نکڑ پر ایک گھر کی کھڑکی سے ایک خاتون کی اواز آئی۔

"اروند بھائی آپ بلال کے دوست ہو نا؟، دہلی والے! بلال آپ کی بہت تعریف کرتا ہے، کہتا ہے اروند بہت سمجھ دار انسان ہے، انسانوں کا درد سمجھتا ہے۔"

میں'نفیسہ عمر ہوں
'بلال کی کزن!
وقت کی کمی کو سمجھتے ہوئے اس نے جلدی جلدی مجھ سے جو باتیں کہی تھیں، وہ سن کر میں کئی دن سو نہ سکا تھا۔

نفیسہ نے کہا ۔۔۔۔
"کسی جگہ پر سات مہینے سے کرفیو ہو، گھر سے نکلنا تو دور، جھانکنا بھی مشکل ہو، چپے چپے پر آٹھ نو لاکھ آرمی تعینات ہو، انٹرنیٹ بند، موبائل بند ہوں، لینڈ لائن فون بند ہو، ہر گھر سے ہزاروں بے قصوروں کی گرفتاریاں ہوئی ہوں، ساری لیڈر شپ جیل میں ہو، اسکول، کالج، دفتر سب بند ہوں! کیسے زندہ رہیں گے لوگ؟

ان کے کھانے پینے کا کیا ہو گا؟ بیماروں کا کیا ہو گا؟ کوئی ہمارے لیے سوچنے والا بھی نہ ہو، آدھی سے زیادہ آبادی ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کی شکار ہو چکی ہو، بچے خوف زدہ ہوں، مستقبل اندھیرے میں ہو، ظلم و ستم کی انتہا ہو، اور روشنی کی کوئی کرن بھی نہ دکھائی دیتی ہو،

کوئی سدھ لینے والا نہ ہو اور ساری دنیا خاموش تماشا دیکھ رہی ہو"
نفیسہ روتے ہوئے بولتی رہی
"ہم نے سب سہہ لیا، اور سہہ بھی رہے ہیں، لیکن اُس وقت دل روتا ہے، تڑپتا ہے جب یہ سنائی پڑتا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا ہوا، یہی ہونا چاہیے تھا!"

"میں نے ان لوگوں کے لیے یا کسی کے لیے بھی کبھی بدعا نہیں کی، کسی کا برا نہیں چاہا بس ایک "دعا" کی ہے تا کہ سبھی لوگوں کو اور ساری دنیا کو ہمارا کچھ تو احساس ہو جائے!"

"اوروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی!"
جب میں نے پوچھا "کیا دعا کی بہن آپ نے؟"
تو نفیسہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے جو کہا تھا وہ ہر وقت میرے کانوں میں گونجتا رہتا تھا۔

آج آنکھوں سے دِکھ بھی رہا ہے، شبد شبد وہی لکھ رہا ہوں، اُس کا درد محسوس کرنے کی کوشش کیجئے گا!
نفیسہ نے کہا تھا

"ائے اللہ جو ہم پر گزری ہے کسی پر نہ گزرے بس مولا تو کچھ ایسا کر دینا، اتنا کر دینا کہ پوری دنیا کچھ دنوں کے لیے اپنے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہو جائے، سب کچھ بند ہو جائے، رک جائے! شاید دنیا کو یہ احساس ہو سکے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں!"

آج ہم سب اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں! "اروند بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی!"
میرے کانوں میں نفیسہ کے وہ شبد ( الفاظ ) آج بھی گونج رہے ہیں۔

اروند مشرا دہلی ۔ انڈیا

وخشت..جانتے ہو کیا ہوتی ہے؟؟؟ جب کبھی بادل ایسے جوبن پر آئیںجیسے کسی دو شیزہ کی ابھرتی جوانی کا جوبن ہواور آسماں سے بجلی...
14/05/2020

وخشت..
جانتے ہو کیا ہوتی ہے؟؟؟
جب کبھی بادل ایسے جوبن پر آئیں
جیسے کسی دو شیزہ کی ابھرتی جوانی کا جوبن ہو
اور آسماں سے بجلی ایسے کڑکے
جیسے بس صور پھونک دیا گیا ہو
بادلوں کی گرج کانوں میں ایسی پڑے جو صرف کانوں کے نہیں دل کے سبھی پردے پھاڑ دے
ہوائیں جب چلیں تو ایسا لگے کہ بس آج یہ
اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو اڑا لے جائیں گی
تب ایسے موسم میں
دور کہیں دنیا و مافیہا سے گم
مورت نما بے حس انسانوں سے بے خبر
کسی ٹیرس پر بیٹھی یا کسی کھڑکی میں کھڑی
اپنے داغدار ماضی کا ماتم کرتی لڑکی
جب یہ سب دیکھے اور یہ سب دیکھ کر
اسکی آنکھوں سے نکلنے والا ہر آنسو
دل سے نکلنے والی ہر آہ
روح سے اٹھنے والا ہر پچھتاوا
اسے بس بے بس کر دے
اتنا بے بس کے اسے اپنے خالق تک پہنچنے کے لئیے کوئی وسیلہ تک نہ ملے
اور پھر بے اختیار اس کے لبوں سے ایک چیخ نکلے
جو بے حس دنیا میں کسی کو سنائی نہ دے
اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے
تو اسکی آنکھ سے نکلنے والا ہر ہر آنسو
تمھیں وخشت کی پوری تشریح سمجھا دے گا
کہ ہاں یہ ہے وخشت
اسے کہتے ہیں خوف.....

حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا ۔ جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں ا...
12/05/2020

حضرت خالد بن ولیدؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا ۔
جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا کہ آپؓ کا گھوڑا ’’اشجر‘‘ جس پر بیٹھ کے آپ نے تمام جنگیں لڑیں ، وہ بھی آنسو بہارہا تھا ۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار ، تلواریں ، خنجر اور نیزے تھے ۔
ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ،،اللہﷻ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے ۔
وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا، وہ اللہﷻ کی راہ میں خرچ کردیا۔
ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی ۔
صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح نہ کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔
بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضورؐ سے حضرت خالدؓ کے روحانی تعلق کی گواہی دی ۔

خالد بن ولیدؓ کا پیغام مسلم امت کے نام :

موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے ، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور
موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا ،،
دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدانِ جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولیدؓ کو موت بستر پر نہ آتی۔
رضی اللہ تعالٰی عنہُ

اس پیغام کو اس دور میں ہر مسلمان کو ضرور پڑھانا چاہیے، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قول کو وقتآ فوقتآ دہراتے رہنا چاہیے۔

بہت دیر کر دی😔میں نے تقریباً 1 سال بعد اسے انبلاک کیا تو دیکھا وہ آن لائن تھی ۔ میں بار بار اضطراب میں اسکا آن لائن سٹیٹ...
08/05/2020

بہت دیر کر دی😔

میں نے تقریباً 1 سال بعد اسے انبلاک کیا تو دیکھا وہ آن لائن تھی ۔ میں بار بار اضطراب میں اسکا آن لائن سٹیٹس دیکھ رہا تھا ۔ اس نے آج بھی بائیو میں میرا پسندیدہ شعر

زندگی تیرے تعاقب میں ہم......اتناچلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

لکھا ہوا تھا ۔ میرے دماغ میں بہت سے خیالات آ کر چلے گئے ۔ کیا وہ مجھے بھول چکی ہے ۔ اگر نہیں بھولی تو رات کے اس پہر بھی آن لائن کس کے لیے ہے ۔ کیا میرا انتظار تھا ؟ یا وہ کسی اور کے حصول میں نکل پڑی تھی ۔ میری سوچیں بار بار میرے ذہن کو جھنجھوڑ رہی تھیں ۔ میں نے میسج ٹائپ کرنا شروع کیا ۔

کیسی ہو ؟ اب تک سوئی کیوں نہیں ۔ لیکن ایک خوف بھی تھا کہ وہ آگے سے کہہ دے کہ تم کون یا تمہیں اس سے کیا ؟ یا تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ۔ میں سارے حق تو کھو چکا تھا ۔ میں اسے اپنے ہی ہاتھوں تو بےعزت کر کے زندگی سے بےدخل کر چکا تھا ۔ اب کس منہ سے ٹیکسٹ کرتا لیکن پھر دوبارہ ایک بار اسکی آواز سننے کو اسکے لبوں سے اپنا نام سننے کو دل چاہ رہا تھا ۔ میں نے کئی بار یہی فقرہ "تم کیسی ہو" لکھ کر مٹا دیا ۔ میرے دل میں ماضی کا پچھتاوا تھا ۔ میری ذات میں موجود اکڑ کو آج ٹوٹے عرصہ گزر گیا تھا ۔

اب انا کی جگہ خوف نے لے لی تھی ۔ جب میرے سے کچھ نہ بن پڑا تو میں نے ایک سٹیٹس لگا دیا ۔ جسے ہمیشہ کی طرح اس نے سب سے پہلے سین کیا ۔ میری دھڑکن بےقابو ہو رہی تھی ۔ میری جان حلق میں اٹک چکی تھی ۔ میں شدت سے اسکے میسج کا منتظر تھا کہ اسکی جانب سے ایک سٹیٹس لگایا گیا ۔ "میں کسی اور کی امانت ہوں" ۔ اور میرے سین کرتے ہی وہ سٹیٹس ڈیلیٹ ہو چکا تھا ۔ میرا وہم یقین میں بدل گیا ۔ میں اس سے سوال کرنا چاہتا تھا اسے کہنا چاہتا تھا مگر کیسے؟ اسکے اس ایک سال کی اذیت کو میں اب محسوس کر رہا تھا ۔ اسکی حالت زار مجھے اب سمجھ آ رہی تھی ۔ وہ کس کرب سے گزری تھی میں محسوس کر پا رہا تھا ۔ میں نے دوبارہ اسے آن لائن دیکھنا چاہا مگر وہاں فقط سفید دھبہ موجود تھا ۔ اور بائیو بھی غائب ہو چکی تھی ۔ یقینا وہ بلاک کر چکی تھی ۔ میرے آنسو میرے ہاتھوں پہ گر کر خاموش ہو گئے اور درد کی ایک لہر میرے وجود میں اتر گئی💖

غازی ارطغرل کون تھاارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہے , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھ کتا...
08/05/2020

غازی ارطغرل کون تھا

ارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہے , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھ کتابیں 1281 بتاتے ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن خلافت کی بنیاد ارتغل غازی رحمتہ اللہ رکھ کر گئے تھے ….

اسکے بعد اسی خلافت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا...

اس کے ساتھ مسجد نبوی. گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہ کا مزار . مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر . آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار . مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے...

ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا…

آپکا قبیلہ سب س پہلے وسطہ ایشیا Central asia سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے..... جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Sultan Alap Arslan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..

اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان Oghuz khan رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں *سلطان صلاح الدین ایوبی* کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی.... جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا….

اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا Right hand تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا…

اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی…

اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت Sogut آئے بلکل قسطنطنیہ Contantinople کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے *سلطان محمد فاتح رحمتہ اللہ* تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا۔

تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے ۔

اللہ پاک ارتغل غازی Ertugrul Ghazi کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ہوں ان کی قبر پر۔

Address

نورشاہ چوک
Kot Addu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Copy Paste Chor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Copy Paste Chor:

Share

Category