21/05/2026
تصویر میں نظر آنے والی ماں اور اس کی 11 سالہ بیٹی کو کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کر لیا۔ ڈاکوؤں نے پہلے ماں سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، کہ تیس لاکھ روپیہ لے کر او اور اپنی بیٹی کو لے جاؤ ماں نے منت کرکے 15 لاکھ میں بات طے ہوئی۔ ماں رقم لے کر کچے کے علاقے میں پہنچی۔
ڈاکوؤں نے ماں کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا، پھر 15 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد بچی کو ماں کے سامنے ہی 8 لاکھ روپے میں کسی دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔
یہ ظ ل م کی انتہا ہے۔ ایسی کہانی سن کر انسانیت کہیں دور تک نظر نہیں آتی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے:
کچے کے علاقے میں ڈاکو اتنے بااختیار کیوں ہیں کہ وہاں ریاست کے اندر ایک متوازی ریاست قائم کر چکے ہیں؟
حکومت ان کے خلاف بھرپور کارروائی کیوں نہیں کرتی؟
کچے کے ڈاکو اکثریت پشتونوں کو کیوں اعوا کر دیتا ہے؟
ریاست سے ہمارا مطالبہ ہے کہ
اگر ریاست خود یہ علاقہ کلیئر نہیں کر سکتی تو ہم پشتون عوام کو موقع دیا جائے ہم انشاءاللہ دو دن میں علاقہ کلیر کر دیگا اگر دو دن میں علاقہ صاف نہیں کیا تو ہم جرمانہ
لیکن
یہ گروہ اتنے طاقتور اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے بااثر عناصر کا ہاتھ ہے۔ اور یہ باتھ ریاست اور عوام دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
تمام پشتونوں اور انسانیت پسند لوگوں سے گزارش ہے کہ اس ماں کی آواز کو دبنے نہ دیں۔ یہ صرف ایک بچی کا معاملہ نہیں، ہماری عزت اور غیرت کا سوال ہے۔ اس ظلم کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں تاکہ ریاست اور متعلقہ ادارے مجبور ہو کر فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔
انصاف نہ ملا تو سماج کا اعتماد ریاست سے اٹھ جائے گا، اور یہ سب سے بڑا نقصان ہوگا۔