تحریک اصلاح گومل زام

تحریک اصلاح گومل زام تحریک اصلاح گومل زام کا صفحہ گومل زام اور اس کے کمانڈ ایریا کے حقائق کے بارے میں معلومات دینا ہیں

               🌀🌴🌴🌴🌀 #نوٹ۔۔زیر نظر خیالات میرے اپنے ذاتی ہیں۔ ہر ایک بندہ اپنے جسم ، صحت اور تواہیمات کے مطابق عمل کرے۔۔...
21/05/2026




🌀🌴🌴🌴🌀
#نوٹ۔۔
زیر نظر خیالات میرے اپنے ذاتی ہیں۔ ہر ایک بندہ اپنے جسم ، صحت اور تواہیمات کے مطابق عمل کرے۔۔

ہر سال جب تربوز کا سیزن اتا ہے تو بعض لوگ مارکیٹ میں قسما قسم کے افوا ہیں چھوڑ دیتے ہیں۔۔
ان افواہوں میں کئی قسم کے مکاتب فکر چھپے ہوتے ہیں کچھ کا مقصد کسی دوسرے پھل کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا ہوتا ہے کوئی ویسے گپ شپ میں اس طرح کی افواہیں پھیلا دیتے ہیں اور کوئی اپنے اوپر گزری ہوئی ہیضے کی کیفیت کو غلط رنگ دے کر ۔اس کو تربوز سے منسوب کر دیتے ہیں۔۔



1. تربوز میں سرخ کرنے اور میٹھا کرنے کیلئے کوئی انجکشن لگانا ابھی تک ثابت نہیں۔۔ افواہیں ہیں۔۔
2. لال تربوز کے چکر میں دکاندار کی گندی چھری سے تربوز میں جراثیم جا کر متلی اور دست کا باعث بن سکتے ہیں۔
3.تربوز میں 96 فیصد پانی ہوتا ہے۔ لہٰذا اسکو زیادہ پانی پینے کے بعد اور اسکے کھانے کے بعد پانی نہیں پینا چاہے۔
4. لوگ اکثر تربوز کھاتے نہیں اور کھانے پر آ جائیں تو بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ ایک دفعہ میں۔ یہ درست نہیں۔
4۔ تربوز کو نہ خالی پیٹ کھانا چاہیے اور نہ کھانے کے بعد بہت جلد۔۔ اکثر کھانے کے بعد ایک سے ڈیرہ گھنٹے بعد کھانا چاہیے۔۔
5. دودھ ، دہی اور سفید چیز اسکے ساتھ نہیں کھانی چاہیے ۔ یہ سب افسانے ہیں۔ سائنس اسکو درست نہیں سمجھتی۔۔ صرف ہمارے بڑے
بوڑھے ہماری نئی نسل کو تنبیہ کر کر کے انکے دماغ میں اسکا ڈر بٹھا دیتی ہے۔۔
6.دہلی میں لوگ تربوز اور دہی کو مشین میں بلینڈ کر کے اسکا جوس پیتے ہیں۔ اسکو پنک جوس یا گلابی جوس کہتے ہیں۔۔
#نوٹ۔۔۔۔ دہائیوں سے باپ داداؤں اور پھوپھیوں ، ماسیوں کی نصیحتوں اور وارننگ سے آپکے دماغ میں تربوز اور دودھ والی اشیاء کے خلاف ایک مضبوط خیال اپنی جگہ بنا چکا ہے۔
اسکے بعض اوقات کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی آپکی طبیعت خراب ہو سکتی ہے۔ اور متلی اور ہیضے جیسے حالات بن سکتے ہیں۔۔
جیسے۔۔۔
جس دین یا رات آپ بھوتوں ، جنات، چڑیلوں کی گفتگو فرما لیں ۔ اس رات اب ان جگہوں پر انکو محسوس کریں گے ۔ جن پر گزشتہ رات آپ نے محسوس نہیں کیا ہو گا۔
اور ہفتہ بعد بھی آپ محسوس نہیں کریں گے۔

7۔ اوپر کی تمام بحث کے بعد بھی اپنے دل کی سنیں اور اگر آپ دل و دماغ مطمئن نہیں تو علاقہ کی رواج کے مطابق تربوز کے 3 سے 4 گھنٹے بعد تک دودھ والی اشیاء نہ کھائیں۔۔
شکریہ

کلاچی زون کے گنے کے معاملات اور کسان اتحاد کے فضائل🌴🌼🪻🪻🪻🌴 SHOBI News شوبی نیوز Dera News ڈیرہ نیوز Dera Web Newss Paharp...
28/04/2026

کلاچی زون کے گنے کے معاملات اور کسان اتحاد کے فضائل
🌴🌼🪻🪻🪻🌴

SHOBI News شوبی نیوز
Dera News ڈیرہ نیوز
Dera Web Newss
Paharpur Newss
JAAGO DERA
Dera Live Urdu
Apna Dera
Aman News
Tank Road
Apna Draban
Haji Gul Nawaz
Saleem Panwar
Arshad Gandapur
Shahab Ibrahimzai
Damaan News Tv دامان نیوز ٹی وی

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں چار مل
شوگر ملیں ہیں۔اس میں چشمہ شوگر مل سب سے پرانی مل ہے۔ دوسری جانب گومل زام ڈیم نے 2016 کے بعد پانی دینا شروع کیا۔اس لحاظ سے کلاچی زون ڈیرا اسماعیل خان کی سب سے نوزائیدہ زون ہے۔۔
پہلے چند سال تو یہاں کے کاشکار گنے کی فصل کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔اہستہ اہستہ اس زون کے کاشتکاروں میں گنا مشہور ہوا اور اس کی کاشت شروع ہوئی۔۔
ڈیرہ کے تمام زونز کو مختلف شوگر ملز قرضے۔ ٹیکنیکل اسسٹنٹ۔ مختلف قسم کے الات کے علاوہ اپنے مخصوص بندے بھیجتے تھے تاکہ ان کو گنے کی بہتر پیداوار کے بارے میں معلومات دے سکیں۔

ہم چند ساتھیوں کی کافی کوششوں کے بعد چشمہ شوگر ملنے کلاچی میں قرضے کی سہولت دینا شروع کی۔اس سے نہ صرف گنے کی پیداواری رقبے میں اضافہ ہوا بلکہ گنے کی پیداواری اوسط میں بھی کافی فرق پڑا اور زمیندار کو کافی سہولت میسر ائی۔۔

مگر سال 2026 میں حیرت انگیز طور پر چشمہ شوگر ملنے کلاچی زون کو قرضے کی سہولت دینا بند کر دی ہے۔یہ خبر یہاں کے کاشتکار طبقے پر بجلی بن کر گری ہے۔۔اور اس سال جو فصل کاشت کی گئی ہے۔ اس کو میچیور کرنا ان کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔۔
یاد رہے کہ اگلے سال چشمہ شوگر ملنے کلاچی زون کو ساڑھے تین کروڑ کا قرض دیا تھا۔اس سال گنے کی فصل پر تقریبا 98 پرسنٹ سے زائد یہ قرض یہاں کے کاشتکاروں نے ادا بھی کر دیا ہے۔اس لحاظ سے یہ فیصلہ حیرت انگیز ہے۔

اس کے برعکس ڈیرہ کے دوسرے زونوں کی ریکوری بہت کمزور رہی ہے اس کے باوجود بھی وہاں پر کردہ کی سہولت موجود ہے۔

گنے کی پیمنٹ میں تاخیر::: قرض نہ دینے کے علاوہ چشمہ شوگر ملنے اس سال گنے کی پیمنٹ میں بھی کافی تاخیر کی۔اور اب تک کافی زمینداروں کی پیمنٹ باقی ہے۔ لیبر اور ٹرانسپورٹ والے زمینداروں کے گلے پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ میل انتظامیہ اور ان کے زون کے اہلکار جھوٹ پر جھوٹ بول کر کسانوں کو تسلی دے رہے ہیں۔

انڈسٹری اور زمیندار :: زمیندار انڈسٹری کے لیے را مٹیریل پیدا کرتا ہے جس کو پراسس کر کے انڈسٹری پروڈکٹ یعنی چینی بناتی ہے جس سے اس گلشن کا کاروبار چلتا ہے۔۔ان دونوں میں کاشکار ہمیشہ سے ایک کمزور پارٹنر رہا ہے۔۔موجودہ موسمی حالات اور علاقے کی صورتحال کے پیش نظر اگر اس کی امداد نہ کی گئی تو اس کا اگے چلنا بڑا مشکل نظر آتا ہے۔۔
انڈسٹری دوست یا دشمن:: انڈسٹری کسی بھی کی بھی دوست یا دشمن نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے فائدے اور حالات کے مطابق عمل کرتی ہے۔ جہاں اس کو اپنا مفاد نظر اتا ہے وہ اس کے مطابق ہی سٹریٹجی بناتی ہے۔ یہ ایک کاروباری تعلق ہوتا ہے اس میں جذبات کا عمل دخل نہیں ہوتا۔
جب ان کو گنے کی ضرورت ہوتی ہے تو مل کے کارکنان اور ان کے مالکان تک ایک ایک زمیندار کے پاس جاتے ہیں اور گنے کے لیے درخواست کرتے ہیں۔
آخر کلاچی زون کو کیوں دیس نکالا ملا::
دراصل 2022 کہ سیلاب میں سی ار بی سی کو شدید نقصان پہنچا۔ اور کئی سالوں تک وہ اسی طرح پڑی رہی۔ جس سے ڈیرہ کے ایک وسیع علاقے میں گنے کی کاشت ممکن نہ ہو سکی۔۔ اپنے گیٹ میں اس خسارے کو کم کرنے کے لیے چشمہ شوگر ملنے دوسرے زون میں سرمایہ کاری کی۔ اب جب کہ سی ار بی سی کا کام دوبارہ مکمل ہو گیا ہے اور وہ پانی دے رہی ہے لہذا اب ان کو کلاچی زون کے گنے کی اتنی ضرورت نہیں رہی۔ اب وہ پرووا سرکل اور کچے کے علاقے میں اس سال دبا کر قرضہ دے رہے ہیں اور ان کی کوشش یہی ہے کہ اس علاقے میں گنا زیادہ سے زیادہ کاشت ہو۔

دوسری طرف المعیز شوگر مل نے گیٹ کے علاقے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ وہاں پر گنے کی پیداوار زیادہ ہو۔
مل گیٹ کا خاتمہ مگر ۔۔۔۔۔۔ : حکومت پاکستان نے گنے کو ڈی ریگولرائز کر دیا ہے یعنی کہ اب کوئی سرکاری قیمت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی مل کا گیٹ ہوگا۔ یعنی کہ پہلے ایک مل دوسرے مل کے گیٹ سے گنا نہیں خرید سکتی تھی۔ حکومت کے اس اقدام سے توقع تھی کہ مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور زمیندار اور کاشکار کو اپنی فصل کا اچھا ریٹ ملے گا۔
سیزن کے اغاز میں بالکل ایسا ہی ہوا۔اور گنے کے ریٹ میں کچھ اضافہ ہو گیا۔مگر جلد ہی مل کے ذہین انتظامیہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں اگئی۔ اور ان لوگوں نے اپس میں معاہدہ کر لیا کہ گنے کا ریٹ 400 روپے سے اوپر نہیں بڑھایا جائے گا۔ اور پھر اسی ریٹ کے اس پاس ہی تمام سیزن گنے کا ریٹ گھومتا رہا۔
کارٹیلایزیشن :: یہ حکومت وقت کا کام ہوتا ہے۔کہ جب وہ کسی چیز کو ڈی ریگولرائز کرتی ہے تو اس کی اس بات پر بھی نظر ہوتی ہے کہ انڈسٹری کوئی کارٹیل نہ بنائے جس سے فریق ثانی کا نقصان ہو۔ مگر یہ ہے اپنا پیارا پاکستان ہے لہذا اس میں ایسا کوئی نظام نہیں ہوتا۔
کسان اتحاد کا کردار :: اسی سیزن میں ڈیرہ اسماعیل خان کی دھرتی سے ایک نئی تحریک نے جنم لیا جس کا نام کسان اتحاد رکھا گیا۔یہ زیادہ تر سوشل میڈیا پر متحرک تھی۔اس کے واٹس ایپ گروپ نے بہت سارے زونز کے کسانوں کو ایک پلیٹ فارم دیا۔اس کے علاوہ اس کے فیس بک پر اکاؤنٹ بنے۔۔
اس کا صدر اکبر قیصرانی ایک چھوٹا زمین در تھا۔ اس کسان اتحاد نے کسانوں کو کچھ گائیڈ لائن دینا شروع کیں ۔۔
1. گنے کو مارکیٹ میں تھوڑا تھوڑا لاؤ۔
2. گنے کا ٹرول کراؤ ۔ یعنی پنجاب بھیجو
3. گڑ بناؤ۔
4. خود پرچون پر بولی دیکر بیچو۔
5. گنڈیریاں بناؤ۔
اوپر دیے گئے تمام سلوگن یہ وقتا فوقتا استعمال کرتے رہے۔ کچھ عرصہ میں بھی ان کا ممبر رہا۔ پھر میں نے چند سوالات اٹھائے مگر ان کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔

اعتراضات::
1.حضور والا گنے کا سیزن مختصر ہوتا ہے کبھی کبھار بارشیں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ اپ اگر ایک دفعہ لیبر کو لے ائیں اور اس کو پھر روکنے کا کہیں تو وہ چلی جاتی ہے۔اور دوبارہ ضد میں نہیں اتی۔ اور اگر گنا اخر میں رہ گیا تو پھر کیا ہوگا۔
• اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ یہ مل والے بہت بزدل ہیں اور جلد ہی یہ ہمارے پاؤں پر پڑیں گے مگر یہ میں ان کو کہتا رہا کہ یہ اپ کی خوش فہمی ہو سکتی ہے۔
2 ان کا دوسرا نکتہ تھا۔کہ گنے کی ٹریول کراؤ اور لوکل ملوں کو نو کین کرو۔۔اور وہ قیمت بڑھائیں گے اور زمینداروں کے پاؤں پر ائیں گے۔
• اس بارے میں میرا سوال ان سے ہوتا تھا کہ پنجاب چند علاقوں جیسے پرووا وغیرہ سے تو بہت نزدیک پڑتا ہے مگر کلاچی زون اور ٹانک سے بہت دور پڑتا ہے۔لہذا ڈیرہ غازی خان کی فیکٹو مل اور لیہ کی شیخو مل بہت زیادہ دور ہیں اور کرایہ اتنا ہے کہ وہاں جانے میں زمیندار کا فائدہ ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے ڈرائیور بھی اتنی مہارت نہیں رکھتے کہ وہ پنجاب میں ٹرالیوں کی ڈرائیونگ کر سکیں

سردیوں میں وہاں پر کہرا پڑتا ہے جس سے حادثات کا بہت خطرہ رہتا ہے
مریم نواز حکومت نے ٹریفک قوانین میں بہت سختی کر دی تھی جس سے بھاری جرمانے ہو رہے تھے۔
3. گڑ بناؤ:: اس بارے میں بھی میرا ان سے شدید اختلاف تھا کہ ہر ایک زمیندار گڑ نہیں بنا سکتا۔گڑ بنانے کی لاگت زیادہ ہو جاتی ہے اور زمیندار نقصان میں ہو جاتا ہے۔نہ ہر زمیندار کے پاس اتنے ماہرین اور عملہ ہے جو کہ گڑ بنا سکیں۔ہزاروں ایکڑ پر کاشت گنے کا گڑ بنانا قابل عمل چیز نہیں ہے۔ اور اگر اتنا گڑ بن بھی گیا تو مارکیٹ میں اس گڑ کو کوئی خریدے گا نہیں۔مارکیٹ کا اصول رسد اور طلب میں ہے۔اگر رسد اتنی زیادہ ہو جائے اور طلب نہ ہو تو یقینا اس کی قیمت کم ہوگی۔
4. پرچون پر سودے اور گندھیریاں بنانا::
کافی دن سوچ میں رہنے کے بعد اکبر قیصرانی ایک اور دور کی کوڑی ڈھونڈ لائے۔ایک تو ہر دوسرے دن سوشل میڈیا پر میسج دیتے تھے۔ کہ فلاں انڈینٹ پوائنٹ پر رات کو 400 کی جگہ ساڑھے سو پر سودے ہوئے ہیں پھر اگلے دن میں سے جاتا تھا کہ ایک س ٹرک بائی پاس سے فلاں شوگر میں لے گئی ہے۔مگر اس تمام باتوں کا وہ کوئی کنکریٹ ثبوت پیش نہیں کرتے تھے۔ جب یہ باتیں زیادہ ہو گئیں تو میں نے کہا اگر یہ بات ہے تو پھر تم سودے کراؤ ہم اپ کو مال سپلائی کریں گے۔اس بات پر ان کو غصہ اگیا۔
پھر وہ ایک نیا پوائنٹ لے ائے کہ گنڈیری یہاں بہت قیمتی ہوتی ہیں اور اس کے زمیندار بہت کچھ کما سکتا ہے۔اس پر بھی ایک اعتراض ہمارا یہ ایا کہ اتنے ہزار ایکڑ کی گھنڈیریاں اگر بن گئیں تو یہ گنڈیریاں تو لوگ خریدنے سے رہے۔اور اتنی زیادہ ریڑیاں لگ جائیں گی کہ کوئی خریدے گا نہیں اور صرف اگر ایک بھی ایک چکھنا شروع کر دے کہ میٹھی ہے یا نہیں ہے تو وہ اور اس کا سارا خاندان بھر سکتا ہے۔

نتیجہ:: اوپر کی تمام تحریر کا نتیجہ یہ ہے کہ صدر خیب کے پاس کوئی قابل عمل رہ نہیں تھی۔زمیندار تعداد میں زیادہ بکھرے ہوئے اور ان کے مفادات مشترک نہیں تھے۔دوسری طرف شوگر ملز کی تعداد چند تھی اور انہوں نے نزدیک کے پنجاب کے ملوں کو سے بھی رابطہ کر کے ایک کارٹل بنا دیا تھا۔کہ ہم پنجاب کا گنا نہیں خریدیں گے اپ خیبر پختون خواہ والوں کو زیادہ قیمت نہیں دیں گے۔ یوں ٹریول ٹریول کا منترا صفر ہو گیا۔
نتیجہ کسان اتحاد:::
صاف ظاہر ہے کہ جب مل قیمتیں کم کرنے پر امادہ نہ ہوئے اور ان کی خوش فہمی کے باوجود مل والوں نے اپنا اتحاد برقرار رکھا دوسری طرف ادھا سیزن گزر گیا۔تو کسانوں کے پاس اپنی فصل کاٹنے یا اس کو اگ لگانے کے سوا دوسرا چارہ نہیں تھا۔یوں جنوری کے درمیان میں ہر طرف سے کٹائی شروع ہو گئی۔شوگر ملز کے یارڈ بھر گئے اور ان لوگوں نے کوالٹی کے نام پر خوب وزن کاٹے۔اور جلد ہی اپنا مطلوبہ چینی کا ٹارگٹ پورا کر لیا۔تین ملیں تو عید سے پہلے بند ہو گئیں۔جن کسانوں کو لیبر نہیں مل رہے تھے وہ پریشان مارے مارے لیبر کے گھروں میں پھر رہے تھے۔
دوسری جانب کسان اتحاد کے گروپ سے اب گنے کی بجائے سی ار بی سی نہر میں بھل صفائی اور اس کی ریپیئرنگ کی باتیں ہونے لگیں۔کبھی موسم کا حال بتایا جانے لگا تو کبھی گندم کی قیمت کے بارے میں اندازے لگائے جانے لگے۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ اخر میں چندے کے لیے بھی مہم چلائی گئی کہ مل کے مالکان ایکسین صاحبان اور افسران سے ملنے میں ان کا خرچہ اتا ہے لہذا گروپ کا ہر ممبر ایک مخصوص چندہ جمع کرے ورنہ اس کو گروپ سے نکال دیا جائے گا۔یوں کسان اتحاد جو کہ بہت بڑے دعووں اور امیدوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اسکی تان چندہ پر ٹوٹ گئی۔۔

سیزن کے اخر میں میل انتظامیہ کے افسران کے چہرے درج ذیل تصویر سے واضح ہیں

Address

111
Kulachi
39050

Telephone

+923445465255

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحریک اصلاح گومل زام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share